سماجی رابطے اور سماجی ضابطے —– سعدیہ بشیر

0

ایک کہاوت ہے
سمانا راج کا راج میں، بیاج کا بیاج میں، ناج کا ناج میں، سماج کا سماج میں
گویا عشق کی طرح سماج میں رہنے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو انسان ثابت کرنے کے لیے کچھ ضابطے بھی ضروری ہیں۔ ظاہر ہے سماج انسانوں سے عبارت ہے تو انسانیت سے عاری نہیں ہو سکتا۔ گویا
درد دل کا جہاں رواج نہیں
ایک انبوہ ہے سماج نہیں

اس وقت پوری دنیا بالعموم اور وطن عزیز بالخصوص جن حالات سے گزر رہا ہے۔ اس میں لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے لیے کچھ ضابطے تشکیل دیے گئے ہیں۔ تا کہ خطرناک مرض کے پھیلاؤ پر بند باندھا جا سکے۔ اس عمل میں سب سے زیادہ اہمیت ہاتھوں کی صفائی کی ہے جس کے لیے بار بار ہاتھ دھونے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ ہاتھوں کی صفائی میں تو ہم اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ
قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہمارے ہاتھ صاف ہی نظر آتے ہیں۔ کچھ ایسا ویسا ہو بھی تو ہمارے اشتہارات دلاسے کا کام دیتے ہیں۔آخر داغ تو اچھے ہوتے ہیں ناں . ہم تو ہاتھ میں پتھر تھامے بھی مکر جانے کے عادی ہیں۔ تجوریاں بھر بھر کرپشن کرنے کے بعد ہاتھ گندے نہیں نظر آتے۔بھلے کیچڑ میں لوٹ پوٹ ہوں لیکن ہاتھ صاف ہی رہتے ہیں۔ دل کالا سیاہ ہو، حقوق العباد کی تجوری تالوں سے لدی ہو, ہاتھوں کی صفائی ہر طرح کے شکوک سے بالا ہے۔رہا ماسک تو ہماری پوری قوم کتنے ہی سالوں سے ماسک پہننے کی عادی ہے۔ ہم نے شاید ہی کبھی کسی کی اصل صورت دیکھی ہو۔ وہ سیاست ہو یا معاشرہ، دوغلا پن انسانیت کو کھا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم تو رشتوں کو بھی ان کی اصل صورت میں دیکھنا بھول بیٹھے ہیں تبھی تو درندگی گھات لگائے شکار تلاشتی ہے۔اسے نوچتی ہے، اسے قبر میں اتارتی ہے اور پھر سے انسان نما کا ماسک لگا کر معاشرتی حیوان کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔

کلیم عاجز کا یہ شعر شاید ہمارے ہی معاشرے پر طمانچہ ہے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ہمارے پاس رنگا رنگ ماسک ہیں۔
حکمرانی کرنا ہو تو ہم اقدار اور دیانت کا ماسک لگا لیتے ہیں اور بھیک مانگنا ہو تو مجبوری اور زخموں کے ایسےایسے ماسک ہیں جو اچھے بھلے انسانوں کو بڑی خوب صورتی سے اپاہج دکھاتے ہیں۔ یہ ماسک لگا کر ہم ایسا ہجوم بن جاتے ہیں جس سے بھیڑیے اور پاگل کتے بھی شرما جائیں۔ ایسی صفائی سے پتھر مارتے ہیں،آگ لگاتے ہیں، گولیاں چلاتے ہیں،لاٹھیاں برساتے ہیں کہ کسی ویڈیو میں ہمارا چہرہ پہچانا نہیں جا سکتا۔صرف مظلوم ہیں جن کو ماسک میسر نہیں اور صرف مرنے والوں کے ہاتھ صاف نہیں رہتے۔ماسک پہنے لوگ ہاتھ کی صفائی کیا ہی عمدگی سے دکھاتے ہیں۔پرت در پرت ماسک کھلنے میں نہیں آتے۔ صرف گھروں تک محدود رہنا ہمارے لیے بہت مشکل امر ہے۔ ہمارے لیے “شبیر تو دیکھے گا” کا نعرہ بہت پرکشش ہےاور سب ہی خود کو شبیر سمجھتے ہوئے مداخلت بے جا کے مرتکب ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ جس کا جی چاہتا ہے موبائیل کیمرہ آن کرتا ہے اور اپنی عدالت لگا لیتا ہے ہاتھوں کی صفائی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ایڈیٹنگ اور فلٹرز کے بعد گواہ وہی زبان بولتے ہیں جو ان کے منہ میں رکھی جاتی ہے۔ وہی تصویر سامنے آتی ہے جو من پسند رنگوں سے سجائی جاتی ہے۔ایسی تصاویر اور ویڈیوز چھ فٹ تو کیا رشتوں کے درمیان زمین کا گز بنا دیتی ہیں۔کئی بار تو یہ فاصلہ وقت کی حدود و قیود سے طویل ہو جاتا ہے۔یہ عمل دو طرفہ ہے۔ گھریلو معاملات بیچ سڑک پر کھلے پڑے ہیں۔

لگتا ہے گھر کے افراد کی آپس میں بات چیت پر پابندی ہے اور پابندی کھلنے تک اظہار محبت سے لے کرعلیحدگی کا عمل فیس بک پر ہی مکمل ہو گا۔ اللہ کو گواہ بنا کر، قران ہاتھ میں لے کر جھوٹ اور منافقت کے ماسک ہر بار نیا چہرہ دکھاتے ہیں۔ جام جمشید تو کیا ہمارے پاس تو ایسا کوئی آئینہ بھی نہیں جس میں ہم اپنی صورت دیکھ کر شرما سکیں۔

پتھر کہیں سے پڑے زخم کہیں اور نظر آتے ہیں۔گھر تو کیا ہم زمان و مکاں کی سرحد سے پار منصف بن کر موجود ہوتے ہیں۔ہمارا حال بھلے سلگتا رہے، ہم ماضی میں دیے جلانے کی بحث میں مصروف کار ہیں۔ وہ لوگ جو دنیا میں نہیں رہے ہم جنت اور دوزخ میں ان کے مقامات کا تعین کرتے ہیں۔ ان کی جگہ اور اعمال نامے تبدیل کروانے پر مصر ہیں۔فصلی بٹیرے فن کاروں اور گلوکاروں کی سالوں کی ریاضت پر ٹھٹھا لگا کر اپنے دستخط کرنے میں مصروف ہیں۔ اس امر میں زنانہ، مردانہ کا بھی کوئی اہتمام نہیں۔ زنانہ چہرے پر مردانہ آواز کو پہلے میں بدقسمتی سمجھا جاتا تھا اب ٹک ٹاکر کہتے ہیں۔ ٹک ٹاک پر کسی سانحہ، قیامت قلبی یا حادثہ کی بجائے لگائی بجھائی کا عمل جاری ہے۔ وہ شاعر جن کو کوئی نظر بھر کے نہ دیکھے خیر سے حسیناؤں کے جلو میں ہیرو اداکاری کر رہے ہیں۔ہمارے ایک کالم نگار نے 75 میں چرسی شاعر کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا جس میں انھیں trash can کا نام دیا تھا، اب چرسی شاعروں کی جگہ ٹک ٹاکروں نے لے لی ہے جس میں حکومتی نادانی جمع کی جارہی ہے۔ لیکن ہم بھی کیا کریں سچ کی تصویر میں لہو کا رنگ بھی شامل ہو، بے اثر رہتی ہے۔ ایسی تصاویر میں نہ ہیرو ہوتا ہے نہ ولن۔ جب کہ نقلی آوازوں اور مصنوعی ایکٹنگ پر ٹک ٹاکر سٹار کہلاتے ہیں اور میڈیا اور حکومت دونوں ہی ان کو نوکری پر رکھ لیتے ہیں۔ اب ماں باپ بچوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ بیٹا منہ ٹیڑھا مت کرو یا کسی کی نقل نہ اتارو یا چوک میں کھڑے گداگروں کی بھونڈی ایکٹنگ مت کرو۔ اب حکومتی اداروں میں داخلے کا یہی معیار ہے۔ یہی اطوار رہے تو آئیندہ تمغہ امتیاز ٹک ٹاک پر بھی ملا کرے گا۔

سب احتیاطی تدابیر سمجھتے ہیں لیکن عمل کے ضابطے نظر انداز کرنے کے عادی ہیں. بنک کے اندر تین لوگ جاتے ہیں لیکن باہر کندھے سے کندھا ملائے پچاس لوگ کرونا کو بائی بائی کہنے میں مصروف ہیں۔ فاصلوں کا تعین ہو ضابطوں کا اطلاق ہمارے پاس وہ عینک نہیں جس کو لگاتے ہی تمام منظر ذہنی غلاظت،اخلاق باختگی اور بے راہ روی سے پاک نظر آئے۔ وہ ترازو نہیں جو اندھوں کو تول میں مدد دے۔ کاش ہم فاصلے کی ضرورت و اہمیت کو سمجھ سکیں۔ اپنی اپنی جگہ پر موجود رہ کر دیا جلانے کی کوشش کریں۔ دوسروں کے چراغ جلتے دیکھ کر حسد اور جلن سے طوفان نہ اٹھائیں۔ روشنی تو پھیلتی ہے۔یہی قانون فطرت ہے سو فطرت تخلیق کرنےکی بجائے سوچ و فکر کی تربیت کی طرف متوجہ رہیں تا کہ ہر وبا سے بچا جا سکے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20