عینی شاہد —– یاسر رضا آصف کا افسانہ

0

میں ریل میں بیٹھا اُونگھ رہا تھا بچے اونچی آواز میں پیچھے ہٹتی چیزوں پر تبصرے کر رہے تھے۔ قہقہے لگا رہے تھے۔ اپنی بات منوانے کے لیے ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے۔ بیگم انھیں تہذیب یافتہ بنانے میں لگی تھیں اور مسلسل ڈانٹ ڈپٹ کرتی جا رہی تھیں۔ ریل کی چھک چھک میں جھولے لیتا میں خواب اور حقیقت کے درمیان میں کہیں تھا۔ کبھی مجھے لگتا میں سو رہا ہوں کبھی لگتا میں مکمل بیداری کی حالت میں ہوں۔ میں اسی مخمصے میں شاید مکمل سفر بِتا دیتا اگر ریل رینگتے رینگتے رک نہ جاتی۔

بریک سے اچانک لگنے والے جھٹکے نے مجھے اپنی سیٹ سے کافی آگے دھکیل دیا۔ میرے ہاتھ خود بخود میرے گھٹنوں پر آ گئے۔ میری آنکھیں چھتری کی نوک کو عین سامنے پا کر پوری طرح کھل گئیں۔ یہ سوچ کر بچوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا کہ چھتری کے الٹ پلٹ کرنے میں یقیناً انھیں کا ہاتھ ہے ورنہ وہ تو میرے پاس پڑی تھی۔ میں کبھی بھی چھتری نہ لاتا اگر بادل کی گھن گرج اور محکمہ موسمیات والے مجھے مجبور نہ کرتے۔ میری گھوری کا صرف اتنا اثر ہوا کہ چند لمحے کی خاموشی ہو گئی۔ پھر ان کی وہی اچھل کود دوبارہ شروع ہو گئی۔ میں بچوں کو کھیلتا کودتا اور بیگم کو چیختا چلاتا چھوڑ کر پلیٹ فارم پر اتر آیا۔

میں بھی ہر پڑھے لکھے شخص کی طرح جراثیموں سے خائف رہتا ہوں۔ اس لیے ہمیشہ صاف ستھرے واش روم کو ترجیح دیتا ہوں۔ چاہے اس کے لیے سفر میں مجھے دوگنے دام ہی کیوں نہ بھرنا پڑیں۔ بار بار پانی پینے اور ریل کے ہچکولوں کی وجہ سے مثانہ پھٹنے کے قریب تھا۔ میں دو مرتبہ اٹھ کر جیسے تیسے ریل کے واش روم تک گیا بھی تھا لیکن دونوں مرتبہ ہی بند ملا تھا۔ “شاید کوئی مجھ سے بھی زیادہ تکلیف میں ہے” ہر مرتبہ یہ بات سوچ کر مسکراتا ہوا میں اپنی سیٹ پر واپس آ گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آنکھ پوری طرح سے نہ لگ سکی تھی۔ میں پلیٹ فارم سے ملحقہ مسجد کی جانب چل دیا۔

“پلیٹ فارم زیادہ بڑا نہیں مطلب یہاں ریل زیادہ دیر نہیں رکے گی۔” یہ سوچنا تھا کہ میرے قدم تیزی سے اٹھنے لگے۔ مخالف سمت سے لمبا تڑنگا شخص سگریٹ ہونٹوں میں دبائے ماچس کی تیل کو رگڑتا ہوا چلا آرہا تھا۔ مجھے جلدی تھی اور اس کا دھیان سگریٹ سلگانے کی جانب تھا۔ وہ بالکل میرے سامنے آگیا۔ میں نے ترچھا کٹ مارا جیسے چنگ چی والے عین وقت پر کٹ مارتے ہیں۔ میں اسے مَس کیے بنا گزر بھی جاتا لیکن مجھے اس کے کندھوں کی چوڑائی کا اندازہ نہیں تھا۔ کندھے سے کندھا ٹکرایا اور اس کی ماچس پلیٹ فارم پر دور تک لڑھکتی گئی۔ میں نے لہجے میں ملائمت لاتے ہوئے “سوری” کہا۔ اس نے نخوت سے “ہونہہ” کہا۔ چند قدم چلا، ہاکی والی ماچس اٹھائی اور میرے طرف پلٹ کر دیکھے بنا ہی چلا گیا۔

میں نے منزل پر نگاہ مرکوز کی اور اپنے مثانے میں پھوٹتی چنگاریوں پر توجہ دی تو وہ ہونہہ کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔ میں لپک کر مسجد میں داخل ہو گیا۔ دروازے کے پہلو میں ہی واش رومز تھے۔ تینوں کے دروازے بند تھے۔ دو بندے بند دروازوں کے آگے پہلے سے حق جتائے کھڑے تھے۔ تیسرے دروازے کے پلر پر ہاتھ رکھ کر میں بھی منتظرین کی قطار میں کھڑا ہو گیا۔

واش رومز کے ساتھ وضو خانہ تھا۔ پھر چھوٹا سا صحن تھا آگے ہال کمرہ تھا۔ جس میں منبر اور محراب دکھائی دے رہے تھے۔ مجھے مسجد کا نقشہ پورے کا پورا یاد ہو گیا لیکن دروازہ نہ کھلا۔ میں نے پھر اپنی گردن ریڈار کی طرح گھمانی شروع کر دی۔ اس سے پہلے یہ عمل میں سہ بار دہراتا دروازہ کھل گیا۔ دروازے کا کھلنا تھا کہ اندر سے بھاری بھرکم آدمی کے ساتھ ناگوار بُو کا بھبھوکا بھی باہر آگیا۔ میری اندر جانے کی ہمت جواب دے گئی۔ ساتھ والے شخص نے جب مجھے جامد دیکھا تو فوراً اندر گھس گیا۔ میں دوبارہ انتظار کی سولی پر لٹکنے لگا۔

اس بار میں نے صحن میں لگے بند پنکھوں پر عطیہ کرنے والے اشخاص کے لکھے ناموں کا ورد شروع کر دیا۔ صحن میں لوہے کے پائپ لگے تھے جن کے ساتھ سبز پنکھے لٹک رہے تھے۔ وقت گزاری کے لیے کچھ تو کرنا تھا۔ واش روم کے سامنے موبائل کا استعمال ویسے بھی معیوب حرکت ہوتی۔ جب میں تینوں پنکھوں کے پروں پر جلی حروف میں لکھے نام چار سے پانچ مرتبہ پڑھ چکا اور وہ نام مجھے ازبر ہو گئے تو دروازہ کھل گیا۔ مجھے لگا کہ شاید دروازے کا کوڈ یہی نام تھے۔ میں اپنے اس خیال پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔

ایک نحیف و نزار شخص خشک چہرے پر جھریوں بھری مسکراہٹ سجائے باہر نکلنے لگا۔ ہر دروازے کے آگے چھوٹی سی اینٹوں کی تھڑی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ سے دہلیز تھامی اور کانپتے پاؤں کو تھڑی پر رکھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما اور اسے صحن میں پہنچا دیا۔ میں نے اب مزید رکنا گوارا نہ کیا اور اندر داخل ہو گیا۔ مجھے اس واش روم کی بو نسبتاً کم محسوس ہوئی یا میں نے خود کو ذہنی طور پر باور کروا لیا تھا کہ بو کم ہے۔ جراثیم سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدبیر کے طور میں نے واش روم میں لگی ٹوٹی پوری طرح کھول دی۔ تھوڑی دیر بعد جب میں باہر آیا تو طبیعت خاصی ہلکی پلکی ہو رہی تھی۔ میں نے گردن موڑ کر مسجد کے کھلے دروازے سے باہر دیکھا۔ ریل تصویر بنی کھڑی تھی۔ پہیے حرکت میں نہیں آئے تھے۔ یہ موقع غنیمت سمجھا۔ بوٹ اتارے، پینٹ کو تھوڑا اوپر کیا اور وضو خانے کی چوکی پر جم کر بیٹھ گیا۔ صابن کی کتر اٹھائی اور ہاتھ مَل مَل کر دھونے لگا۔ ریل کی سیٹی نے مجھے خبردار کیا۔ سیٹی کی آواز میرے لیے قیامت کے اعلان سے کم نہ تھی۔ میرے رگ و پے میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔

مسلسل پانی گرنے کی وجہ سے چوکیوں کی درمیانی جگہ گیلی ہو گئی تھی۔ میں نے ذرا بھی احتیاط سے کام نہ لیا اور پھلسن زدہ جگہ پر پاؤں رکھ دیا۔ میں اچانک سے ایک سو اسی ڈگری پر گھوم گیا۔ میں نے آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے دیکھے۔ اونچا مینار دیکھا۔ سیاہ دھند کا سیلاب چاروں طرف سے حملہ آور ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو ایک آدمی پانی کے چھینٹے میرے چہرے پر پے در پے مار رہا تھا۔ بالکل اسی انداز سے جیسے سبزی کو تازہ رکھنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ میرے چہرے پر چھینٹوں کی بمباری ہو رہی تھی۔ میرا چہرہ ہوری طرح بھیگ چکا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا تو اس نے اپنا چلتا ہوا ہاتھ روک لیا۔ میں نے لیٹے لیٹے ہی جیب سے رومال نکال کر چہرہ خشک کیا۔

پینٹ کی دائیں جیب میں مسلسل گھوں گھوں کی آواز نے مجھے متوجہ کیا۔ یہ میرا موبائل تھا جو وائبریٹ کر رہا تھا۔ نکال کر کال اٹینڈ کی تو بیگم کہہ رہی تھیں کہ ٹرین کب کی چل رہی ہے اور آپ دکھائی نہیں دے رہے۔ کہیں بھول کر کسی اور ڈبے میں تو سوار نہیں ہو گئے۔ ویسے صدا کے بھلکڑ تو آپ ہیں ہی۔ میں نے انھیں جیسے تیسے تسلی دی اور اپنی حالت سے بے خبر رکھنا ہی مناسب سمجھا۔ میں نے کھل کر جھوٹ بولا اور کہا کہ میں ٹرین میں ہی ہوں۔ اگلے اسٹیشن پر آپ سے ملتا ہوں۔ فون بند کر کے پچھلی جیب کو ٹٹولا پرس موجود تھا میں نے سکھ کا سانس لیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میرے گرد لوگ گھیرا بنا کر یوں کھڑے تھے جیسے میں کوئی مداری ہوں۔ میں بغیر سہارے کے اٹھ کر کھڑا ہوا۔ سر میں ہلکی ہلکی ٹیس ابھی بھی وقفے وقفے سے اٹھ رہی تھی۔ بوجھل پن کا احساس مجھے گھیرے ہوئے تھا۔ میں نے سبھی حضرات کا مناسب الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ صحن سے دروازے کی سمت چل پڑا۔ میں نے محسوس کیا کہ لوگوں کی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں اور مسلسل میرا تعاقب کر رہی تھیں۔ میں دبی دبی آواز میں ان کی چہ مگوئیاں صاف سن سکتا تھا۔ میں نے بوٹ پہنے اور مسجد سے نکل کر خالی پلیٹ فارم پر آ گیا۔

“مجھے جو بھی فیصلہ کرنا ہے جلد از جلد کرنا ہے میں اگر اسٹیشن کے باہر سے کوئی ٹیکسی لے لوں تو آسانی سے اگلے اسٹیشن پر پہنچ سکتا ہوں لیکن اس سے پہلے مجھے اگلے اسٹیشن کے فاصلے کا علم ہو” میں منصوبہ بندی کرتا اور طرح طرح کے حل سوچتا ہوا اسٹیشن سے باہر آ گیا۔ باہر کافی سارے رکشے کھڑے تھے۔ تھوڑا پرے ایک اکلوتی کار موجود تھی۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کار تک جا پہنچا۔ کار کا نمبر ایل ایچ آر سات سو چھیاسی تھا۔ میں مسکرایا۔ چھوٹے شہروں کے لوگ اکثر گاڑی کا نمبر کسی بڑے شہر کا لگواتے ہیں۔ اس کے عموماً دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک تو رعب بنا رہتا ہے پھر ٹریفک والا بھی جلدی ہاتھ نہیں ڈالتا۔

شیشم کے سائے تلے سفید کار بند دراوزوں اور چڑھے ہوئے شیشوں کے ساتھ پُر اسرار لگ رہی تھی۔ میں نے اردگرد دیکھا۔ کار کے پاس کوئی نہیں تھا۔ مجبوراً مجھے کار کے اندر جھانکنا پڑا۔ ایک شخص سیٹ کو لمبا کیے منھ کھولے غفلت کی نیند سو رہا تھا۔ میں نے شیشہ کھٹکھٹایا۔ اس نے کہنی اپنے بھدے چہرے پر سے ہٹائی اور اپنی بڑی مونچوں کی نمائش کرتے ہوئے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے شیشہ نیچے کھسکانے کا اشارہ کیا۔ اس نے پہلے سیٹ کو سیدھا کیا پھر شیشہ نیچے کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا۔ مجھے اس کے منھ کی اندرونی لالی اور آنکھوں کی سرخی نے فوراً پلٹ جانے کا مشورہ دیا لیکن میری مجبوری نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور میں اپنی جگہ سے انچ بھر بھی نہ ہل سکا۔ اس نے ڈرائیوری انداز میں جو کچھ پوچھا۔ اس کا لہجہ کرخت اور آواز بھاری تھی۔ چہرے کے خدوخال بھی دہشت زدہ کرنے والے تھے۔ چہرے پر جھاڑو نما مونچھیں اسے مزید خوف ناک بنا رہی تھی۔ میں نے ساری بات بتانے میں ہی عافیت سمجھی۔ میں بتاتا گیا اور وہ ہوں ہاں کر کے سنتا گیا۔

ڈرائیور سمجھدار شخص تھا اور سمجھدار کیوں نہ ہوتا۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پی رکھا تھا میری شک بھری نگاہ کو فوراً تاڑ گیا۔ اس نے لائسنس نکال کر دکھایا۔ ایک رکشے والے کو آواز دے کر پاس بلایا۔ وہ یقین دہانی کروانے لگا کہ پچھلے دس سال سے وہ اسی اسٹیشن سے کار چلا رہا ہے۔ کسی قسم کے کوئی خطرے کی بات نہیں آپ بلا وجہ خوف زدہ نہ ہوں۔ میرے اندیشے کچھ رفع ہوئے اور میں ڈرائیور کے ساتھ جس نے اپنا نام اسلم بتایا تھا فرنٹ سیٹ پر مالک بن کر بیٹھ گیا۔ اگلے اسٹیشن کا فاصلہ تیس پینتیس کلومیٹر تھا کرایہ ڈیڑھ ہزار روپے طے ہوا۔ میں بحث کرتا لیکن میرے پاس اس سب کے لیے وقت نہیں تھا۔ میں نے حامی بھر لی اور اسے گاڑی چلانے کا حکم دے دیا۔

اسلم کے بقول ریل گاڑی کو روانہ ہوئے دس سے پندرہ منٹ ہو چکے تھے لیکن ریل کے وہاں پہنچنے اور ٹھہرنے تک کل ملا کر ہمارے پاس پون گھنٹہ بچتا تھا۔ میں رفتار تیز رکھنے اور جلد پہنچنے پر زور دینے لگا۔ اس نے کہا کہ باؤ جی آپ بے فکر رہیں۔ ریل گاڑی سے پہلے ہم اسٹیشن پر ہوں گے۔ اس نے شہر کی بجائے باہر سے جانے کا فیصلہ سنایا اور ساتھ شارٹ کٹ کی بھی خوش خبری دے دی۔ گاڑی بھرپور رفتار سے سڑک پر دوڑنے لگی۔ میرے چہرے سے ہوا ٹکرائی تو ذہن مثبت سوچوں کی طرف چل پڑا۔ میں نے بیگم کو فون کیا اور سب سچ سچ بتا دیا۔ الف سے لے کر یے تک ہر بات تمام تر جزئیات کے ساتھ بتا دی۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے لاپرواہ کہے گی۔ کاہلی کا طعنہ مارے گی مگر وہ تو پریشان ہو گئی۔ میری صحت کے متعلق فکر مند ہونے لگی۔ میں نے تشفی کے لیے ایک دو مزاحیہ باتیں کیں اور اس کی فکر مندی دور کرنے کے بعد کال کاٹ دی۔

سڑک دو رویہ نہیں تھی بلکہ پتلی سی سیاہ لکیر کی صورت زمین پر بچھی ہوئی تھی۔ کسی بھی گاڑی کو اوور ٹیک کرتے سمے ہمیں اپنی گاڑی کچے پر اتارنی پڑتی۔ بار بار ایسا کرنے سے رفتار پر فرق آ رہا تھا۔ لیکن اس کے باوجود رفتار امید افزا تھی۔ اسلم نے لتا کا سندر سا گیت لگا دیا۔ لتا کے کومل سُروں اور ٹھنڈی ہوا نے پریشانی کو کچھ وقت کے لیے مجھ سے دور کر دیا۔ میں اب اپنے بیوی بچوں کی طرف سے بے فکر سا ہو گیا۔ میں نے آنکھیں بند کیں اور سر سیٹ کی پشت پر رکھ دیا۔ گاڑی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین سا ہو چلا تھا کہ میں بغیر کسی دقت کے ریلوے اسٹینشن پر گاڑی کو جا لوں گا۔ مجھے اس اطمینان کے باوجود پیاس محسوس ہونے لگی۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور اسلم سے پانی کا پوچھا تو اس نے خالی بوتل مجھے دکھاتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ صبر کرنے کا مشورہ دیا۔ راستہ سیدھا تھا۔ اردگرد لہلہاتی فصلیں تھیں۔ کہیں کوئی کچا گھر بھی دکھائی دے جاتا جس کے باہر ادھ ننگے بچے کھیل رہے ہوتے یا ڈھور ڈنگر بندھے ملتے۔ افسوس کا مقام یہ تھا کہ سڑک کے ساتھ کہیں کوئی درخت نہیں تھا۔ کالج دور میں جب ہم لوگ بس کی چھت پر بیٹھ کر جاتے تھے تو بس پر کھڑے ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ پیڑ سڑک پر چھاؤں کیے رکھتے۔ میں نے اسلم سے اس بات کا اظہار کیا تو اس نے وڈیروں اور جنگلات کے محکمے کو قصوروار ٹھہرایا۔

اسلم کے بقول پاس ہی اس کا گاؤں تھا۔ اسی سڑک پر دائیں طرف جو کچی سڑکی نکلتی تھی اس کے گاؤں کو جا رہی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے وہ سڑکی بھی دکھائی۔ سڑک کی چوڑائی بڑھنے لگی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ گاڑی کی رفتار بھی بڑھ گئی۔ اب کار سڑک پر فراٹے بھرتی جارہی تھی۔ میرے کانوں نے ٹھاہ کی آواز سنی۔ دھماکے کے بعد گاڑی اچانک سے لڑکھڑانے لگی اور بائیں جانب جھک گئی۔ اسلم نے کمال مہارت سے ریس سے پاؤں ہٹا کر گاڑی کو ایک طرف لگا دیا۔ میرا رنگ اڑ گیا۔ مجھے لگا میں اپنی بیوی بچوں سے کبھی نہیں مل سکوں گا۔ میں نے باہر نکل کر دیکھا۔ میری طرف کا بایاں ٹائر زمین سے چپکا ہوا تھا۔ میری پریشانی ایک دم عود آئی ۔ میری قسمت آج ایسی خراب تھی تو گھر سے نکلنا ہی نہیں چاہئیے تھا۔ میں نے خود کو قصور وار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ مجھے رہ رہ کر اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا۔ اسلم نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ دس منٹ کا سفر باقی ہے اور ہمارے پاس آدھا گھنٹہ ہے۔ آپ فکر مند نہ ہوں۔ وقت پر پہنچ جائیں گے۔ اسلم نے فٹا فٹ ڈگی سے سٹپنی نکال کر پاس رکھی اور ٹائر کو کھولنے لگا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کیا۔

گاڑی سے کچھ فاصلے پر لوہے کی سلاخوں والا زنگ آلود گیٹ تھا۔ جس کے پرے کچی پکی قبریں دور تک دکھائی دے رہی تھیں۔ اس نے ٹائر کھولنے کے دوران قبرستان سے پانی پینے کا مشورہ دیا اور بوتل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پانی ساتھ لانے کا بھی کہا۔ قبرستان میں کچی قبروں پر پانی چھڑکانے کے لیے ایک آدھ نل ہوا ہی کرتا ہے۔ لیکن میں شہر میں پلا بڑھا تھا۔ قبرستان کی سنسانیت سے جی ڈرتا تھا۔ کبھی کسی جنازے کے ساتھ گیا بھی تھا تو ہمیشہ لوگوں سے چمٹا رہا تھا۔ یوں اکیلے میں جانے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ بھی ایک ایسے قبرستان میں جو کسی ہارر فلم کے سیٹ جیسا لگ رہا تھا۔ لیکن انکار کی صورت میں ڈرپوک کہلایا جانا بھی مجھے بالکل پسند نہیں تھا۔ سو چار و ناچار میں نے بوتل اٹھائی اور دھڑکتے دل کے ساتھ گیٹ کی طرف چل دیا۔

گیٹ کی سلاخیں زنگ آلود تھیں۔ گیٹ کے دونوں پلڑے آپس میں ملے ہوئے نہیں تھے۔ ٹیڑھ پن کی وجہ سے ان کے درمیان خلا تھا۔ میں نے دائیں ہاتھ سے پلڑے کو پیچھے کھینچا اور قبرستان میں داخل ہو گیا۔ وقفے وقفے سے خود رو جھاڑیاں اور سرکنڈے اگے تھے۔ کہیں کہیں پیڑ بھی تھے۔ قبرستان کافی وسیع تھا دور تک قبریں پھیلی تھیں۔ میں پانی کے لیے ادھر ادھر نگاہ دوڑانے لگا۔ بائیں جانب شکستہ دیوار کے ساتھ نیم کے نیچے نلکا مل گیا۔ میں سہج سہج کر قدم رکھتا ہوا اس تک پہنچ گیا۔ میں زمیں پر آواز پیدا کیے بغیر چل رہا تھا جیسے میرے آواز کرنے سے مُردوں کے جاگ جانے کا اندیشہ ہو۔ میں نے بوتل بغل میں دبا لی۔ ہتھی کو چلانا شروع کیا اور پانی کی دھار کو دوسرے ہاتھ سے محسوس کیا۔ پانی حد درجہ ٹھنڈا تھا۔ میں نے اتنا پانی پیا جتنا پی سکتا تھا۔ جب پیاس پوری طرح بجھ گئی تو قبرستان کی سنسانیت جیسے دلکشی میں ڈھل گئی۔ بوتل میں پانی بھرا۔ منھ ہاتھ دھویا اور واپس چل دیا۔

میں ابھی گیٹ تک نہیں پہنچا تھا کہ گولی چلنے کی آواز سے جم گیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا پر قدم اٹھنے سے قاصر تھے۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر دیکھا جدھر سے آواز آئی تھی۔ ایک سفید شلوار قمیض میں ملبوس چھریرے وجود کا لڑکا قبریں پھلانگتا ہوا بھاگ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ریوالور صاف نظر آ رہا تھا۔ کپڑے گرد آلود تھے اور چہرے پر زخم کا نشان تھا۔ میں نے اس کا چہرہ واضح طور پر دیکھا۔ وہ ڈرا ہوا تھا۔ ماتھے پر بل پڑے تھے اور اس کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ میں بت بنا دیکھ رہا تھا۔ میں نے خود کو یقین دلایا کہ یہ سب سچ نہیں ہے بلکہ کوئی فلمی سین ہے۔

میں شاید ایسے ہی نہ جانے اور کتنی کھڑا رہتا کہ اسلم کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ وہ گیٹ سے اندر آ چکا تھا۔ سفید کپڑوں والے شخص کی اب کمر بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اسلم نے ہاتھ میں رینچ پکڑا ہوا تھا۔ اس نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میرا حوصلہ بڑھ گیا۔ میں نے آواز کی سمت اشارہ کیا۔ ہم دونوں اس طرف سر پٹ دوڑنے لگے۔ میں زندگی میں ایسی رفتار سے پہلے کبھی نہیں دوڑا۔ ہم دونوں قبریں پھلانگتے ہوئے دوڑ رہے تھے۔

میں نے پانی کی بوتل یوں پکڑی ہوئی تھی جیسے میرے ہاتھ میں کوئی خنجر ہو۔ ہم جلد ہی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔ کراہ کی آواز نے ہماری راہنمائی کی۔ ایک شخص قبر کی اوٹ میں لیٹا کراہ رہا تھا۔ خون کچی مٹی پر پھیلتا جا رہا تھا۔ اس کے سیاہ کپڑے مٹی اور خون سے لت پت تھے۔ وہ گٹھڑی سا بن گیا تھا۔ اسلم نے شانے سے پکڑ کر اسے سیدھا کیا۔ گولی سینے میں بائیں طرف شاید دل کے مقام پر لگی تھی۔ اس کی سانس الٹ رہی تھی۔ وہ منھ کھول کھول کر خود کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اچانک اس کی آنکھیں الٹ گئیں اور وہ لمبی ہچکی لے کر کھلے منھ کے ساتھ ساکت ہو گیا۔ سب کچھ آناً فاناً ہوا جیسے ریل گاڑی کسی جسم سے ٹکرانے کے بعد اس کے چیتھڑے دور تک بکھیر دیتی ہے میری سوچیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ اس گولی نے جیسے میرے دماغ کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ میں نے خود کو سنبھالا اور حالات کا جائزہ لیا۔

ہم دونوں ایک دوسرے کو خوف اور حیرت سے دیکھنے لگے۔ اسلم کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ وہ انور انور پکارنے لگا اور لاش کو خود سے چمٹا کر آہ و زاری کرنے لگا۔ میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اور اسے یہاں سے جلد از جلد نکلنے کا کہا۔ اس نے میرا ہاتھ بے اعتنائی سے جھٹک دیا۔ وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ میں ہکا بکا کھڑا یہ سوچنے لگا کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔ میں نے سوچا اگر یہ لاش کسی انور کی ہے بھی اور اسلم اسے جانتا بھی ہے تو یہاں رکنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ مجھے قبرستان کے طرف بھاگتے لوگ دکھائی دینے لگے۔ میں نے سر کو جھٹکا اور ایک بار پھر اسلم کو جھنجوڑا۔

اسلم نے رندھی ہوئی آواز میں مجھ پر یہ انکشاف کرتے ہوئے گویا بجلی گرا دی کہ مرنے والا اس کا سگا بھائی تھا۔ میں ایک دم سے ایسے اُچھلا جیسے مجھے کسی سانپ سے ڈس لیا ہو۔ اس نے مجھے کچی سڑکی دکھائی تھی اس کا گاؤں پاس تھا لیکن اس کے بھائی کی لاش وہ بھی قبرستان میں یہ سب کیسے ہو گیا۔ میں فکر اور غم کے دوراہے پر آ گیا۔ وہ رو رو کر مجھ سے التجا کر رہا تھا کہ باؤ جی کیا آپ نے قاتل کو بھاگتے دیکھا تھا۔ آپ گواہی دو گے ناں۔ میں ایک دم سے سُن پڑ گیا۔ بوتل میرے ہاتھ سے گر گئی اور لڑھکتی ہوئی خون میں لت پت ہو گئی۔ میری دائیں جیب میں موبائل وائبریٹ کرنے لگا۔ میں اپنی تمام قوت کو مجتمع کر کے صرف اتنا کہہ پایا “اسلم خدا کی قسم میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا اگر دیکھ لیتا تو ضرور گواہی دیتا۔ ” اسلم دھاڑیں مار رہا تھا اور میرے موبائل کے ساتھ میرا دل بھی مسلسل وائبریٹ کر رہا تھا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20