شِکوۂ ِ بے جا ۔۔۔۔۔۔ منیر احمد خلیلی

0

ایک شاعراللہ بخش آفریدی کی ایک طویل نظم بصورتِ ’شِکوہ‘ برقی ڈاک سے ملی۔ علامہ اقبال ؒ کے’ شکوہ‘ و ’جوابِ شکوہ‘ کے رنگ میں شاعر نے رسول اللہﷺ سے اُمت کی زبوں حالی پر ’شکوہ‘ کیا ہے۔شکوہ تو نبی مکرّم ﷺ کو اُمت سے ہونا چاہیے لیکن شاعر نے الٹا حضور ؐ سے شکوہ کیا ہے۔ مشقِ سخن اور اظہار ِ خیالات مبارک مگر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اُمت کی دگرگوں احوال پر اللہ اور اس کے رسولﷺ سے شکوہ کا کیا محل ہے؟ اللہ اور اس کے رسولؐ نے وہ اسباب کھول کر بیان فرمائے ہیں جن سے کوئی قوم ذِلّت و پستی اور زوال و ادبار کا شکار ہوتی ہے ۔پہلے تو اس امر پر غور ہونا چاہیے کہ یہ اُمت عقائد و اصول اور اعمال و افعال اور اخلاق و کردار سے اُمت کی تعریف پر پوری بھی اترتی ہے یا نہیں؟ یہ حرارتِ ایمانی اور روحِ دِین سے خالی مردم شماری کے رجسٹروں میں’ مسلمان ‘ کے نام سے درج ڈیڑھ پونے دو ارب انسانوں کی بھِیڑہے ۔یقین کی روشنی سے محروم اور دینی غیرت سے تہی ہے۔قُرآن مجید اور سُنّت و سیرتِ رسول ؐ سے نا آشنا ہے۔ جغرافیائی قومیّتوں اور مذہبی فرقوں میں بٹی ہوئی یہ بھِیڑ اُمت ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے۔ مسلمان ملک اپنے ہی ہم مذہب ملکوں کے حریف اور فرقے فرقوں سے بر سرِ پیکار ہیں۔اُمت کی سربلندی کے بجائے ساری جدوجہد قومیت کے افتخار اور فرقے کی بالا دستی کے لیے ہوتی ہے۔تفرق و تشتت، انتشار اور بے اتفاقی اِس پونے دو ارب کی بھِیڑ کی پہچان ہے۔ ہر طرف منافرتیں ہیں، رقابتیں ہیں، خود غرضی ہے، نفسانیت ہے، انا ہے اور ضد ہے، جاہلیت ہے اور جہالت ہے۔یہ بیج بو کر اس فصل سے اُمتِ واحدہ کا پھل کیوں کر مل سکتا ہے اور عزت اوروقار کیسے حاصل ہو سکتاہے؟جس ضعف و زوال کا یہ اُمت شکار ہے اس میں غیروں کا کردار کم اور اس کا اپنا قصور کہیں زیادہ ہے ۔ اس کے ذمہ دار اللہ اور اس کے رسول مقبول ﷺ ہر گز نہیں ہیں۔

اب تو معاملہ یہ ہے کہ اللہ بخش آفریدی جیسے کسی شاعر کے دل میں درد کی کوئی ٹیس اٹھتی ہو تو الگ معاملہ ہے ، اِس اُمت کے لیے تو موجودہ صورتِ حال ایک نشے کی کیفیت رکھتی ہے۔ یہ حال مست ہے۔کوئی احساسِ زیاں نہیں ، کوئی پچھتاوائے نقصاں نہیں۔وہ بنیادیں باقی نہیں ہیں جن پر اُمتِ واحدہ کا قصرِ رفیعُ الشّان تعمیر ہو۔مسجدوں اور مدرسوں میں جائیں،مزاروں، درباروں اور گدیوں پر جائیں، طاقت و اقتدار کے مراکز میں جھانکیں، عدل کے ایوانوں پر نظر ڈالیں، افواج کے ہیڈ کوارٹروں کو دیکھیں، جامعات اور درس گاہوں کا جائزہ لیں، شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں کی منڈلیوں کو تاکیں، پرائمری سے لے کر یونیورسٹیوں تک کے اساتذہ کے حلقوں کو پرکھیں، اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ارب پتی مالکان اور کالم نگاروں اور اینکروں کے چلن دیکھیں، کاروباری دنیا کی حالت پر نگاہ ڈالیں، سیاسی اور دینی تنظیموں کے لچھن پر غور کریں، وہاںسب کچھ ہے لیکن کہیں اسلام نہیں، کہیں اسلامی اخوت کی خوشبو نہیں، کہیں اسلام کی کامل تصویر نہیں ، کہیں دین کا پورا تصور نہیں۔ہر طرف بے حِسی کی بھاری سِلیں رکھی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں کیا اللہ سے اور اس کے رسول ﷺ سے شکوہ ، شکوۂ ِ بے جا نہیں؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: