ایس-او-پیز SOPs کس کیلئے بنتے ہیں؟ —- نعمان علی خان

1

گذشتہ تین ہفتے سے صوبوں کی اور مرکز کی حکومتوں کے مختلف عہدیداران عوام کو ٹی وی اور میڈیا کے ذریعئیے جو شدید ہیجان خیز پیغام دے رہے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ایس-او-پیز پر عمل نہ کیا تو تمہیں مرنے سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔

میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ملک کے ریڑھی بانوں، سبزی اور گوشت فروشوں، پرچون کے دکانداروں اور منڈیوں میں مال ڈھونے والوں میں سے کتنے ہیں جنہیں اِس لفظ ایس-او-پی کا مطلب اور مفہوم بھی پتہ ہے۔ تو انتہائی فکرمندانہ مایوسی ہوئی کہ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی کو ایس-او-پیز کے مطلب اور مفہوم کا علم ہی نہیں۔ تب میں نے مزید غور کیا تو محسوس ہوا کہ خود حکومتی ذمہ داروں کو بھی یہ نہیں معلوم کہ ایس او پیز کیوں بنائے جاتے ہیں اور ان پرکِس کو خود عمل کرنا ہوتا ہے اور کِس سے عمل کروانا ہوتا ہے۔ بس جو اصطلاح مغرب کی جانب سے اِن تک پہنچی، اِن سب نے، اپنی اپنی منصوبہ بندیوں کے بلنڈرز کا ذمے دار عوام کو ثابت کرنے کیلئیے، اس اصطلاح کی اندھادھند گردان شروع کردی۔

ایس او پی SOP مخفف ہے، سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا۔ دنیا میں کہیں بھی ایس او پیز جو تیار کئیے جاتے ہیں، وہ کسی نظام کی سسٹیمیٹک امپلیمینٹیشن کیلئیے اس کے مخصوص اصولوں اور اداروں کی ریگولیٹری کمپلائینس کے مطابق تیار کئیے جاتے ہیں۔ یعنی جو سٹینڈرڈز پہلے سے ریگولیٹری باڈی نے طے کرلئیے ہیں ان پر عمل کرنے کے طریقہ کار کو سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کہتے ہیں۔ ایس او پیز پر عمل کرنے کی بنیادی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ اس طریقہ کار پر عمل کرنے کیلئِے ماہرین کی سٹینڈرڈ ٹریننگ کی جائے اور پھر ان لوگوں کی ان ایس او پیز پر عمل کرنے کی صلاحیت کو مستند کرنے کے کسی طریقہ کار سے گذارا جائے۔ ٹریننگ دینے کا بھی الگ ایک ایس او پی ہوتا ہے۔ جب تک ان ایس او پیز پر کسی شخص کو ٹرین نہ کردیا جائے یا وہ پہلے سے سیٹ کی ہوئی کم از کم قابلیت پر پورا نہ اترتا ہو، وہ شخص اس شعبے میں “لے-مین” یعنی اناڑی تصور ہوگا۔

مثلاً سوِل ڈیفنس کے کارندے اپنے شعبے میں مہارت کا اطلاق سوِل ڈیفنس کے ایس او پیز کے مطابق کرتے ہیں۔ اگر انہیں کِسی عمارت میں لگی آگ بجھانا ہے تو وہ کسی بھی راہگیر یا اس بلڈنگ کے مکینوں سے توقع نہیں کریں گے کہ وہ لوگ خود آگ بجھا لیں بلکہ وہ تو راہگیروں اور دوسرے لوگوں کے دور ہٹائیں گے۔ یہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو دور کرنے کا عمل بھی ان کے ایس او پی کا حصہ ہوتا ہے۔ جس حفاظت اور سرعت کے ساتھ سوِل ڈیفنس کے لوگ آگ بجھاتے ہیں، آگ میں گھرے ہوئے لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں وہ تمام کارکردگی عام لوگوں کے بس میں نہیں ہوتی۔ دونوں میں فرق ہے تو صرف ایک چیز کا۔ اور وہ ہے تربیت اور اس کے ایس او پیز پر عمل کرنے کا۔

آج کے جدید دور میں ہر شعبے میں اس شعبے کے ماہرین ہوتے ہیں جو اپنے مخصوص ایس او پیز پر عمل کرتے ہیں۔ یہ آپریٹنگ پروسیجرز دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر[ایس او پی] اور دوسرا ایمرجنسی آپریٹنگ پروسیجر یعنی ای-او-پی۔ اِس دوسرے والے طریقہ کار پر تب عمل کیا جاتا ہے جب صورتحال نارمل نہ ہو بلکہ ہنگامی ہو۔ دنیا بھر کی ایمرجنسی سروسز مثلاً فائر فائٹنگ ڈیپارٹمنٹ، ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس، ماحولیات، دفاع، پولیس وغیرہ کی وزارتیں اپنے ایگزیکیوشن موڈ میں ای او پیز پر عمل کرتی ہیں جب کہ بیشتر کے ایس او پیز فقط ان کی آرگنائزیشن مینیجمنٹ سسٹم کو درست طریقے سے چلانے کیلئیے ہوتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مینیجمنٹ سسٹمز تو یقیناً ایس او پیز کے تحت چل رہے ہوں گے لیکن، کووِڈ پینڈیمک COVID-19 یا گذشتہ عالمی وباوں کے زمانے میں انہوں نے جو آپریٹنگ پروسیجرز جاری کئِے وہ دراصل ای او پیز ہی ہیں، خواہ وہ انہیں بھی ایس او پیز پکارتے ہوں۔

تو اب آتے ہیں کہ اناڑی عوام کی فہم و تربیت کے تناظر میں ہماری اتھارٹیز نے اِس لفظ کا یہ ناقابلِ فہم استعمال کیوں شروع کیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے جو گائیڈ لائنز اور “ایس او بیز” جاری کئِے وہ این جی اوز اور دوسری چیریٹی آرگنائزیشنز اور دنیا بھر کی ھیلتھ منسٹریز کیلئیے ہی ہوں گے کہ جن کے بارے میں علم ہے کہ وہ ان کے مطابق عوام سے حفاظتی شقوں پر عمل کرواسکیں گے۔ اب یہ وزارتیں اور سوشل گروپ ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز کی روشنی میں اپنا طریقہ عمل [ایس او پی] خود بناسکتے ہیں جو غالباً پاکستان کے سرکاری شعبوں نے بنا لیا ہوگا۔ یعنی اِس وبا پر کِن اقدامات کے ذریعئیے قابو پانا ہے۔ اورعوام سے اِس کے لائحہ عمل کی پابندی کروانےکیلئیے کیا قانونی طریقہ کار استعمال کیا جائے گا، ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈکس اور ٹسٹنگ لیبارٹریز کے ایس او پیز میں کون سی شقیں شامل کروانا اور ان پر عمل کروانا ہے۔ یہ اور اسی طرح کی بہت سی شقیں ہیں جو حکومت کے اِن وزارتی شعبوں نے اپنے طریقہ عمل کیلئِے ایس او پی میں لکھ لی ہوں گی۔

اگر یہ سب کیا گیا ہے تو جناب آپ کریں ناں عمل اپنے ایس او پی پر۔ آپ عوام سے یہ مطالبہ کیوں کررہے ہیں کہ آپ کے ایس او پیز پروہ عمل کریں؟ جب کہ عوام میں سے بیشتر کو ایس او پی کی الف بے کا بھی نہیں پتہ۔ عوام سےتو قانون پر عمل کروایا جاتا ہے۔ سوال ہے کہ آپ نے اِس سلسلے میں کیا قوانین بنائے ہیں؟

آپ عوام کو یہ نہ بتائیں کہ اگر ایس او پی پیزپر عمل نہ کیا تو تم میں سے اتنے مر جائیں گے اور اتنے بچ جائیں گے بلکہ عوام کو واضع طور پر بتائیں کہ اگر تم نے سوشل ڈسٹنسنگ پر، ماسک پہننے کی ہدایت پر عمل نہ کیا تویہ فلاں فلاں قانون کی خلاف ورزی ہوگی اور تمہیں اس کی سزا ریاست کی طرف سے ملے گی۔ یہ کوئی بات ہے عوام سے کہنے کی اگر احتیاط نہ کی تو تمہارا حشر اٹلی والوں سے بھی خراب ہوگا۔ آپ جب خود ہی کسی ڈسپلن، کسی طریقہ کار کو پوری قوت کے ساتھ لاگو کئیے بغیر اچانک راجہ بازار کو کھول دیتے ہیں۔ وہ راجہ بازار کہ جہاں دو گز تو کیا دو فٹ کا فاصلہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور پھر عوام سے سماجی فاصلے کی ہدایت پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس سے آپ اپنے خلوص کے حوالے سےعوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ پورے ملک میں راجہ بازار جیسے بازار کھولنے سے پہلے کوئی طریقہ کار، کوئی عوامی ایس او پی کیوں نہیں بنایا گیا؛ کوئی نگران قانونی ایجنسی کیوں تشکیل نہ دی گئی؟ اگر لاک ڈاوٰن مزید بڑھایا نہیں جاسکتا تھا تو کیا بازار کھولنے کیلئیے کوئی بہتر طریقہ کار بھی نہیں وضع کیا جاسکتا تھا؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعئے لوگوں کی تعداد اور سوشل ڈسٹنسنگ کو بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا تھا؟ جب یہ سب مسجدوں، سپر مارکیٹوں اور گلیوں محلوں میں کنٹرول ہوسکتا ہے تو بڑے بازاروں میں کیوں نہیں ہوسکتا تھا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ارشدمحمود on

    بہت عمدہ نشاندہی کی گئی. تاہم جن کو مخاطب کیا گیا انکا حال بھی عوام سے مختلف نہیں. انکے پاس فالتو دماغ ہے نہ وقت کہ یہ سب سیکھنے کے بدلے دیہاڑیاں لگانا چھوڑ دیں.
    جہاں تک کرونا کو ایس او پیز سےکنٹرول کرنے کا تعلق ہے تو اس پر الگ سے بہت باتیں ہو سکتی ہیں

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20