موت کے گھر سے دو گھر چھوڑ کر — اظہر عزمی کا افسانہ

0

صبح کا وقت (ساڑھے سات بجے)

ابھی صبح کے کوئی ساڑھے سات بجے ہوں گے۔ زیب النسا اپنے پوپلے منہ کے ساتھ پھلکے اور رات کے شوربہ سے ناشتہ کر رہی تھیں کہ مسجد کے لائوڈ اسپیکر کی ہلکی سی گرگراہٹ ہوئی۔ مسجد کا مائیک اگر نماز کے علاوہ بول اٹھے تو سمجھیں کہ کسی کے مرنے کی خبر ہے یا کسی کا بچہ کھو گیا ہے یا کسی دوسرے محلے کا کھویا بچہ محلے میں آگیا ہے۔ گڑگڑاہٹ سنتے ہی زیب النسانے منہ کا نوالہ حلق میں جہاں تھا وہیں رُکا رہ گیا، اعلان ہوا: ایک اعلان سماعت فرمائیں۔ قدیر احمد کی والدہ کا بہ رضائے الہی انتقال ہو گیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ مغرب پر ہوگی۔

یہ سننا تھا کہ زیب النسانے بمشکل تمام نوالہ حلق میں اتارتے ہوئے، اپنا برقع لیا اور بھرائی ہوئی آواز میں گھر کے گیٹ کی طرف جاتے ہوئے بولیں: اے لو بھیا، نَسو گذر گئی۔

بہو بھی اس دوران کچن سے نکل آئی : اماں رکیں تو، میں ساتھ چلتی ہوں۔

زیب النسا کو قرار کہاں تھا۔ جاتے جاتے بولیں: اے بی بی تمھارا انتظار کیا تو نَسو کا چہرہ بھی نہ دیکھ پائوں گی۔ میں اتنی احدی نہیں۔ وہ گئی تو کیا پیچھو ہٹ جائوں۔ آنکھیں ہوئیں اوٹ، دل میں آیاکھوٹ، میں وِن میںسے نہیں۔

بہو کا جواب سنے بناء وہ چل دیں۔ پوتا اور پوتی بھی کمرے سے باہر نکل آئے۔ پوتا کالج اور پوتی اسکول جانے کے لئے تیار تھے۔ زیب النساکے اکلوتے بیٹے قدرت اللہ ابھی سو رہے تھے۔ پوتے نے ماں سے پوچھا: دادی ماں تو رکی نہیں ہوںگی۔ اب تو سوئم کر کے ہی آئیں گی۔

بہو نے کہا : ہاں دیکھو میں روکتی رہ گی، پر وہ نہ رکیں۔ اب ایسی بھی کیا جلدی تھی۔ دو چار منٹ صبر کر لیتیں۔ جن کو مرنا تھا وہ تو مر گئیں۔ اب اماں کے جانے سے وہ اٹھ کر تو بیٹھنے سے رہیں۔
بیٹی نے بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوئے کہا: بس امی ان آپ نہ جائیں۔ دادی ماں چلی گئیں۔ بہت ہے۔

بیٹا مسکرا کر بولا: بیسٹ فرینڈ تھیں دادی ماں کی۔ اکیلے کیسے رہیں گی اب؟

بیٹی نے بھی ہاں میں ہاں ملائی: پرانی فائلیں کلوز بھی تو ہونی ہیں۔

ماں نے ڈانٹتے ہوئے کہا: چپ ہو جاؤ۔ جو منہ میں آتا ہے بکے چلے جاتے ہو۔ ابو نے سن لیا تو کھال ادھیڑ دیں گے۔

لڑکا چڑ گیا: کوئی ان کے سامنے تھوڑی کہہ رہے ہیں امی۔

بیٹا بیٹی دونوں ساتھ نکل گئے۔ ماں نے بھی واپس کچن کی راہ لی۔ ساتھ ساتھ کہتی جاتی: نماز جنازہ تو مغرب پر ہے۔ ابھی گھر کے کئی کام پڑے ہیں۔ ان کے ابو کو بھی تو آفس جانا ہے۔

زیب النسا کوئی 70سے اوپر کی ہوں گی مگر لگتی نہیں ہیں۔ اوپر تلے چار بچے ہوئے مگر خدا کی قدرت دیکھئے صرف قدرت اللہ ہی بچے۔ ناز و نخرے سے پلے تھے۔ اس لئے بس خود میں ہی مگن رہے۔ زیب النسا اُدھار کسی کا نہیں رکھتی ہیں۔ اگر بات بری لگ جاتی تو تڑاخ سے جواب منہ پر دے مارتی ہیں۔ یہ سب کچھ صحیح پر رکھ رکھائو بہت ہے۔ رشتے داری، محلے داری کیسے نبھائی جاتی ہے۔ سب طور طریقے جانتی ہیں۔ لہجہ ضرور سخت ہے لیکن دل کی بہت نرم ہیںمگر بہو کے بقول دل چیر کر کون دیکھتا ہے۔ ایک جملے سے کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ عام طور پر ہلکے رنگ کی آدھی آستین کی ڈھیلی قمیض اور سفید غرارہ پہنتی ہیں۔ سفید دوپٹہ ہمیشہ سر پر ہوتا ہے۔ سر کا ایک بال بال سفید ہے۔ رنگ گورا ہے اور شکل صورت کی بھی اچھی ہیں۔ اس لئے دیکھنے میں بارعب اور پُر وقار لگتی ہیں۔

موتیا کی خوشبو بہت پسند ہے۔ موتیا کا موسم آئے تو اس کے پھول کانوں میں بطور بندہ پہنتی ہیں۔ ایک دن پرانے ہو جائیں توپاندان میں رکھ لیتی ہیں۔ پہلے بالوں اور ہاتھوں پر گہری مہندی لگا لیا کرتی تھیں۔ پوتا پوتی نے کہا کہ اماں یہ کیا پرانے زمانے کی ہیروئن بن جاتی ہیں تو پھر یہ شوق ختم ہوگیا۔ پہلے تو خوب ہی پوتا پوتی سے لڑیں کہ تم کون ہووئے ہو مہندی سے روکنے والے۔ ارے ہمیں تو کبھی ہمارے شوہر نے نہ روکا۔ بس ایک پاندان پر زیب النسا نے کسی کی نہ مانی۔ ہر ہفتے پورا پاندان دھلتاہے۔ ایک ایک شکوری صاف ہوتی ہے لیکن کسی کی مجال نہیں کہ پاندان کو ہاتھ بھی لگا لے۔ پوتا کبھی کبھی چھپ کر تھوڑی سی تمباکو پھانک لیتا ہے۔ پان کھاتی ہیں تو پان کی ہلکی ہلکی سی لالی ان کے ہونٹوں پر آجاتی ہے۔ چھالیہ کی کٹر کٹر کے ساتھ بات کرتی ہیں تو جملہ اور کٹیلا ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی اکیلے میں ہلکا سا گنگنا بھی لیتی ہیں۔

پان کھائے سیاں ہمارو، سانولی صورتیا ہونٹ لال لال ہئے ہئے ململ کا کرتا، ململ کے کرتے پہ چھینٹ لا ل لال

دوپہر کا وقت(تین بجے)

دادی ماں نے برقع اتار کر اپنے نماز والے تخت پر رکھا ہی تھا کہ بہو آگئی: اماں کیا ہوا۔ آ کیسے گئیں؟

دادی ماں نے دوپٹے کو ہاتھ کا پنکھا بناتے ہوئے جھلنا شروع کیا اور بولیں: میں کاں آنے کو تھی۔ نسو کی بیٹی نے کہا۔ جرا کمر ٹِکا کے آجائیں۔ ایک گلاس ٹھنڈا پانی تو لادے بہو۔

بہو ٹھنڈا پانی اور ساتھ میں گولیاں لے آئی۔ تین گھونٹ میں پانی پی کر بولیں: بڑی جوروں کی پیاس تھی۔ حلک کھوشک ہوئے جاریا تھا۔
بہو نے گولیاں آگے بڑھائیں تو ہاتھ کے اشارے سے منع کردیں۔ بہو نے صرف ا تنا کہا کہ تین دن سے کوئی گولی نہیں کھائی ہے۔ زیب النسانے سنی ان سنی کردی۔

پوتا پوتی بھی کمرے سے نکل آئے۔ پوتا پوتی کو دیکھا تو بیٹے کا خیال آیا: جے قدرت اللہ نہ گیا واں۔ کتی بری بات ہے؟

بہو کو پتہ تھا کہ آگے سے کیا جواب آنا تھا، جھجھک کر بولی: وہ اماں انہیں ضروری کام تھا آفس میں۔

زیب النساکو تو جیسے آگ لگ گئی: وِس سے کہہ دینا میرے زنازے والے روز بھی دفتر چلا جاوئے۔ مرنا تو آئے دن کا ہے۔ جروری کام تو موا یہ دفتر کا جانا ہے۔ تو میں سمجھوں میرے وہ زنازے میں بھی نہیں آئے گا۔

بہو خاموشی سے سب سنتی رہی۔ زیب النسا کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر پھٹ پڑیں: اے بی بی چلو تمھارے میاں تو گئے دفتر، پر تم کو کاہے کی مزبوری تھی۔ کچھ دیر کو آزاتیں۔ اب کیا میت کے بھی دعوت نامے دیئے جاویں گے؟

بہو نے بات بناتے ہوئے کہا: وہ بچے دو بجے تک جو آجاتے ہیں۔ بس ان کو کھانا کھلا کر آرہی تھی۔

زیبالنسا پھر غصے میں آگئیں: ارے توبہ تلا کرو۔ جوان جہاں لڑکی ہے۔ کیا کھانا بھی نہ نکالا سکے ہے۔ ویسے اُدماد کرتی پھرے ہے۔

بہو اب پوتے کی طرف جا نکلیں: اور تو بتا۔ نسو کا پوتا تو تیرا دوست ہے تو نے منہ بھی دکھایا وِس کی طرف۔ ارے شرم کر شرم

پوتے نے بڑے یقین سے کہا: ہاں تو دادی ماں مغرب پر ہے ناں نماز۔ مسجد چلا جائوں گا۔

زیب النسابولیں: شادی نہ ہو گئی موئی بارات ہو گئی۔ وکت کے وکت چلے جاویں گے۔ مرنا زینا سب کے ساتھ ہے۔
اچانچک سے بلاوا آجاوئے ہے۔ اب بتا نسو کا پتہ تھا کسی کو۔ رات کو وِس نے کھانا کھایا۔ اچھی بھلی تھی۔ سُبھے بہو اٹھانے گئی پر نسو نہ اٹھی۔
یہ ہے زندگی۔

پوتی بول پڑی: دادی ماں۔ کچھ نیاتھوڑی ہے۔ سب ایسے ہی جاتے ہیں۔ انوی ٹیشن کس کو آتا ہے؟

زیب النسا انوی ٹیشن کا مطلب نہ سمجھ پائیں۔ اشارے سے پوتے سے پوچھا۔ اس نے بتایا کہ دعوت نامہ کہہ رہی ہے۔ زیب النسانے بہو کی طرف دیکھ کر کہا: اپنے حدادہ کھو دیا ہے اس نے، ذرا سمجھا کے رکھ۔

بہو نے ایک نظر بیٹی کو غصے سے دیکھا اور بات کا رُخ موڑنے کی کوشش کی: اماں یہ بتائیں۔ اتنی دیر سے کیوں دفنا رہے ہیں۔ انتقال تو صبح ہوا تھا۔

زیب النسانے پاندان سے پان کی ٹکڑی پر کھتا چونا لگا کر اس پر ہرن چھاپ تمباکو رکھتے ہوئے کہا: نسو کا چھوٹا بیٹا دوبی میں رہوئے ہے۔ وِس کا انتجار ہے۔ شام میں آریا ہے لیکن وہ قدیر احمدلاہور سے نہیں آریا ہے۔ کہہ ریا ہے ٹکٹ نہیں مل ریا، دفنا دو۔ لگے ہے خون کے رشتے دفنائے جا رہے ہیں۔

بہو نے مزید دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: یہ تو بہت بری بات ہے لیکن اماں گھر میں کہرام ہوگا؟بہو بیٹیوں کا توبرا حال ہوگا؟

زیب النساء کچھ لمحے بہو کو دیکھتی رہیں، پھرہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے گویا ہوئیں:دونوں بہوئیں دیدہ پھٹی کھڑی تھیں۔ میکے سے کوئی فون آجاوے کسی دور پرے کی غمی کا پھر دیکھو کیسے پلک موتنی بنتی ہیں۔ بس نسوکی بیٹیاں ہی رو رو کر ہلکان ہو جا ری تھیں۔ بہوئیں تو بس ایک طرف کو کھڑی تھیں۔ چھوٹی بیٹی تو ایک باری بے حوش بھی ہوگئی۔ اللہ قسم، پیچھو پکڑنے وِسے کوئی بھی نہ آیا۔ مجھ بڈھی نے نے بڑھ کر سنبھالا دیا۔ جس کا مرے ہے بس وہی رو رو مرے ہے۔ باقی تو بس دنیا داری ہے۔ ارے اب تو وہ دنیا داری بھی نہ رہی ہے۔

بہو پر براہِ راست حملہ تھا۔ منہ سے تو کچھ نہ بولیں اور کچن کو چلتی بنیں۔ اب زیب النسا رہ گئیں اور پوتا۔ زیب النساء اپنے تخت پر ہی لیٹتے ہوئے خود سے بولیں اے بھیا کچھ دیر کمر کو ٹِکالوں پھر جاتی ہوں۔ پوتا جانے لگا توروک لیا: کہاں چلا؟

ـ پوتا دادی ماں کی باتوں سے بری طرح بور ہوچکا تھا : کیا ہے دادی اماں جب سے آئی ہیں، ایک ہی بات کئے جا رہی ہو، وہیں بیٹھی رہتیں۔
لگتا ہے جیسے یہاں کچھ ہوگیا ہے۔

زیب النساجواب میں اپنی اپنی موت کو لے آئیں : ارے تو نہ آنا ہمارے زنازے پر۔ تجھ سے تو مجھے ایک فاتحہ کی امید نئی ہے

اب لڑکے کو ذرا تفریح سوجھ گئی: اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔ قرآن شریف تو آپ ہی نے پڑھایا ہے

زیب النسا تو جیسے تیار بٹیھی تھیں: تیرا تو شین قاف درست نا ہے۔ زیر زبر تو کھا جاوئے۔ نماز صحیح پڑھ لے تو بہت ہے

بہو نے کچن میں یہ سنا تو ہلکے سے بولی: ـ خود کو تو ولا الضالین صحیح طرح کہنا آتا نہیں۔ بچے کو کہہ رہی ہیں زیر زبر تو کھا جاوئے

زیب النسانے پوتے کو پیار سے اپنے پاس بلایااور بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑی چاہ سے کہا۔ صاف لگ رہاتھا کہ ان کے لہجے میں التجا ہے: تیرا باوا نہ جاوئے تو تو چلا آئیو۔ دو گھر چھوڑ کر تو نسو کا گھر ہے۔ محلہ بھی گھر جیسا ہووئے ہے۔ کوئی سنے گا تو کیا کہے گا۔ گھر سے دادی کے سوا کوئی نہ آیا۔ قبرستان بھلے نہ جائیو پر نماز تو پڑھ لیجو، میری قسم۔ دیکھ ابھی نسو کے شوہر کی چھ ماہی بھی نہ ہوئی اور اب نسو بھی چل بسی۔ لگے ہے موت کے فرشتے نے گھرویکھ لیا ہے۔

پوتے کو اس تقریر سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اپنے بالوں سے دادی ماں کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا: دادی ماںاب موت کا فرشتہ گھر نہیں پورا محلہ دیکھتا ہے۔

رات کا وقت (دس بجے)

زیب النسا گھر میں داخل ہوئیں تو سب گھر میں کھانا کھا رہے تھے۔ بیٹا اور بہو سہم گئے کہ اب ڈانٹ پھٹکار ہوگی۔ قدرت اللہ پلیٹ میں پڑی آخری بوٹی کو روٹی تلے دبانے میں لگ گئے۔ بہو بہانے سے سالن کا ڈونگا اٹھائے کچن کی طرف چل دی۔ پوتا پوتی نے تو دادی ماں کی طرف پلٹ کر دیکھا بھی نہیں۔ گلی کی موت تھی جنازے میں کوئی نہیں گیا تھا۔ زیب النسا ایک لفظ نہ پٹکیں، خاموشی سے برقع اتارا۔ وضو کیا اور نماز پڑھنے بیٹھ گئیں۔ بہو نے کھانے کا پوچھا تو اشارے سے منع کردیا۔ اللہ جانے کب تک نماز پڑھتی رہیں۔ کچھ دیر تو بہو جاگتی رہی کہ نماز ختم ہو تو کھانا دوں مگر آج تولگتا تھا زینب النسا ساری نمازیں پڑھ لیں گی۔

صبح پھر مسجد کا لاوڈ اسپیکر گڑگڑاہٹ سے کھلا اور ایک مختصر سا اعلان کر کے چُپ ہوگیا: ایک اعلان سماعت فرمائیں۔ قدرت اللہ کی والدہ کا کل رات بہ رضائے الہی انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ ظہر پر ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20