چنگ چی اور ہنر مند کے قتل کی کہانی —- خرم شہزاد

0

فیس بک اور دوسری سوشل میڈیا سائٹس پر گاہے بگاہے آنے والے دنوں کی کوئی نہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ دنیا ترقی کرتے ہوئے کہاں سے کہاں چلی جائے گی اور ہم انسانوں کو اس صورت حال کا کب تک اور کیسے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مستقبل کی یہ تصاویر بتاتی ہیں کہ آنے والے پندرہ سے بیس سالوں میں الیکٹرانک اور ہائبرڈ گاڑیوں کا زمانہ شروع ہو گا اور ڈیزل پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا خاتمہ ہو جائے گا جس کی وجہ سے سڑکوں پر کافی جگہ دستیاب ہو جائے گی اور پارکنگ کے مسائل کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ آنے والے دنوں میں دنیا سے بہت سے پروفیشن ختم ہو جائیں گے، بغیر ڈرائیو کی گاڑیوں کی آمد کے ساتھ ہی دنیا میں ڈرائیو نامی طبقہ ختم ہو جائے گا جس کا براہ راست اثر ٹریفک حادثات پر پڑے گا جو کہ کافی حدتک کم ہو جائیں گے۔ آئی بی ایم واٹسن کے بعدامریکہ میں نوے فیصد سے زیادہ وکیل بے روزگار نہیں بلکہ ختم ہو جائیں گے کیونکہ ہر مسئلے کا بہترین حل یہ سوفٹ وئیر فراہم کر دیا کرئے گا۔ آج بھی امریکہ میں طلاق کے کاغذات بنوانے کے لیے بہترین سوفٹ وئیر دستیاب ہیں جنہیں صرف اپنا نام پتہ دینا ہوتا ہے اور مکمل کاغذات پرنٹ کے لیے تیار ملتے ہیں۔ ہمیں مستقبل کی ایسی تصاویر دیکھانے والے اکثر کوڈک کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ کمپنی کچھ سال پہلے تک پونے دو لاکھ سے زیادہ کی افرادی قوت رکھتی تھی لیکن ڈیجیٹل کیمرے اس کمپنی کے ملازمین کو ہی سڑک پر نہیں لائے بلکہ کمپنی کو بھی تاریخ کے ورقوں میں گم کر دیا ہے۔ اس ساری بحث کا حاصل صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وقت اور ٹیکنالوجی بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اس لیے ہمیں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ خود کو تبدیل کرتے رہنا ہو گا یاں کم از کم نئی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھنا ہو گا اور ہر نئی تبدیلی کو قبول کرنا ہو گا ورنہ ہم کہیں پیچھے نہ رہیں گے بلکہ کہیں کے نہ رہیں گے۔

ٹیکنالوجی کی ذہنی غلامی قبول کر لینے اور ترقی کی خوش فہمی میں رہنے والے انسان کے لیے مستقبل کی کوئی بھی پیشگوئی حکم اور ایمان کا درجہ رکھتی ہے اور وہ کسی چوں چراں کے بغیر ہر طرح کی بات کو قبول کر لیتا ہے کیونکہ اس نے ٹیکنالوجی کی بہت سی ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ ہاں آنے والے دنوں میں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس ’کچھ بھی ممکن‘ کا حصہ کیوں بننا چاہتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر ہم ترقی کی دوڑ میں ذرا سا پیچھے رہ گئے تو اس سے دنیا کی باقی ترقی پر کون سا برا اثر پڑے گا؟ کون سا دنیا والے ہمارے بغیر آگے بڑھنے سے انکار کر دیں گے؟ مستقبل کی ساری تصویروں میں انسان، ان کے جذبات، احساسات، ہنسی مسکراہٹ وغیرہ ان سب کا کہاں ذکر ہوتا ہے؟ کیوں ہم سب کو چنگ چی ہی چلانا ہے؟ کیوں ہم کسی کو چنگ چی لینے سے نہیں روک پا رہے ؟ اور پھر یہ کس نے سوچا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی اس دوڑ کا اختتام کہاں ہو گا؟

بات دراصل یہ ہے کہ ہم مستقبل میں ختم ہونے والے کاموں کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس وقت جب کہ مستقبل کی صرف باتیں ہو رہی ہیں، تب بھی ہمارے اردگرد بہت سے ہنر اور ہنر مند اپنی موت آپ مر چکے ہیں اورہمیں ان کی کانوں کان خبر بھی نہیں ہے۔ یہ بالکل غلط ہے کہ نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے بعد بہت سے ہنر اور ہنر مند اپنی موت آپ مر جاتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم ان ٹیکنالوجیز کی پوجا شروع کرتے ہیں اور اس پوجا میں ہمیں کچھ بھی اور نظر نہیں آتا۔ ہمارے اسی نظر انداز کرنے کے بعد ہنر اور ہنر مند مرنے لگ جاتے ہیں لیکن ہمیں ان کی ذرا برابر بھی فکر نہیں ہوتی بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ اب آنے والے کسی سیمینار یا مذاکرے میں ان کے ذکر سے مزید داد اور ہمدردی سمیٹنے کو ملے گی۔

بہت زیادہ لوگوں کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو بچوں کے کھلونے بنانے والے بہت سے ہنر مند اپنی موت آپ مر گئے۔ پلاسٹک کے کھلونوں سے شروع ہونے والا سفر سیل اور میوزک والے کھلونوں سے ہوتا ہوا بالاخر بچوں کے ہاتھوں میں سمارٹ فونز پر آ کر ختم ہوا جس کی وجہ سے کاغذ اور کانے سے کھلونے بنانے والے ہنر مند ہر گزرتے دن کے ساتھ مرتے چلے گئے اور اب تو شہر بھر میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی نہیں ملتا۔ کمپیوٹرز جہاں بہت سے ہنر مندوں کو کھا گیا وہیں خطاط کی موت کا تو کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ ایک خوش نویس کب اور کیسے مر گیا۔ آج ہزاروں فونٹ کمپیوٹر میں دستیاب ہیں جس کے بعد کسی خطاط کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی لیکن ہاں اپنی لکھائی پڑھنے کے لیے ضرور ہمیں کمپوڈر کو بلانا پڑتا ہے کہ بھیا اگرچہ ہم نے یہ خود لکھا ہے لیکن پڑھا نہیں جا رہا، کچھ بتائیے کیا لکھا ہے؟ بازار میں ایک سے بڑھ کر ایک دستیاب ڈیزائن کے بعد کپڑوں پر ٹھپہ لگا کر دینے والی گلیوں میں پھرتی خواتین بھی ماضی کا حصہ بن گئی ہیں۔ مٹی کے برتنوں پر اپنی مہارت دیکھانے والے بھی اب ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔ سلور کے برتنوں پر گل بوٹے بنانے والوں کا تو آج کی نوجوان نسل کو شائد ہی پتہ ہو۔ بان کی چارپائیاں بننے والے اور برتن قلعی کرنے والے تو اب شہر بھرمیں کہیں دستیاب ہی نہیں کیونکہ آج ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

سوچنے کی بات یہ نہیں کہ کتنے ہنر اور ہنر مند مر گئے بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام ہنر اور ہنر مند کیسے اور کیوں مر گئے؟ ہم بہت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل نہیں کیا لیکن ایک خطاط کو مار کر ہم نے کمپیوٹر سے بہت اچھا پرنٹ تو نکال لیا ہے جبکہ ہماری اپنی لکھائی لال بیگ کا ڈانس شو پیش کرتی ہے اس کا کوئی حل ہمارے پاس نہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ کسی ہنر کو اختیار کرنے میں دو چار دن کی محنت نہیں لگتی بلکہ اپنی پوری عمر دینی پڑتی ہے تب کہیں کوئی ہنر انگلیوں میں آتا ہے۔ مقام افسوس یہ رہا کہ ان تمام ہنر مندوں کی نئی نسل نے ہنر کی بے قدری دیکھتے ہوئے ہر طرح کے ہنر سیکھنے سے معذرت کر لی اور شام کی روٹی کمانے کو ترجیح دی۔ دس میں سے چھے ہنر مند اب خود یا ان کی اولاد آج چنگ چی رکشے چلا رہی ہے کیونکہ مچھندر کو کسی طور کچھ تو کھانے کو چاہیے۔ ہم بطور معاشرہ اتنے بے حس ہیں کہ ہم کسی کو چنگ چی لینے سے روک نہیں پا رہے کیونکہ ہم بطور مجرم خود ٹیکنالوجی کی پوجا کرتے ہوئے اس ہنر مند کو اس مقام تک لے آئے ہیں کہ وہ اپنے ہنر کا گلہ گھونٹ دے یا پھر اپنے اہل خانہ کو فاقوں مرنے پر مجبور کر دے۔ آپ کو آج سڑکوں پر موجود چنگ چیوں کا شور سنائی دیتا ہے لیکن کاش آپ اس شور کو کسی ہنر اور ہنر مند کی موت کا ماتم سمجھ سکتے تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کچھ ہنر اور ہنر مند بچا لیتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20