زمین کی دوری و محوری گردش اور قران —- شہباز بیابانی

0

شاہ ولی اللہ رح کا قول ہے کہ یہ عقلیت پسندی کا زمانہ ہے دین کو معقولیت کی انداز میں پیش کرنا چاہئے۔ اسلام نے بار بار عقل سے کام لینے اور کائنات میں غور و فکر کی ترغیب دی ہے۔ ہمارا دین خرافات اور توہمات پر بنا نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اگر عشق کا مقابلہ عقل سے کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے نزدیک عقل بے کار محض چیز ہے۔ وہ عقلی اور سائنسی علوم پر از حد زور بھی دیتے ہیں۔

سب سے پہلے کلاڈیوس بطلیموس Claudius Ptolemy نے نظام شمسی کا زمین مرکزی Earth-centered نظریہ پیش کیا تھا۔ اس کا نظریہ تھا کہ زمین ساکت ہے اور سورج، چاند، ستارے اس کے گرد گردش کررہے ہیں اور یہ کہ چاند ستارے آسمان پر اس طرح ٹانکے گئے ہیں جیسے دوپٹے پر ستارے ٹانکے جاتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ سورج فلاں آسمان میں ہے اور ستارے فلاں آسمان میں۔ ۱۵۰ء تک یہ نظریہ چلتا رہا۔ پھر ۱۴۰۰ء میں پولینڈ کے ماہر فلکیات کوپر نیکس، گیلیلیو اور کپلر نے مشاہداتی اور تجربی سائنس کے ذریعے اس نظریے کو غلط ثابت کردیا اور یہ کہا کہ سورج، چاند، ستارے اور سیارے تمام کُرّے فضائے بسیط میں معلق ہیں اور ان کُرّوں کے درمیان کشش ثقل کارفرما ہے۔

اس کے بعد سائنس دانوں نے کہا کہ زمین گردش کررہی ہے اور سورج ساکن ہے۔ پھر جب مزید تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ سورج بھی حرکت کررہا ہے۔ چنانچہ انسائکلوپیڈیا آف بریٹانیکا میں لکھا ہے کہ سورج۲۰ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کررہا ہے بلکہ پورا نظام شمسی متحرک ہے۔ سورج اپنے سیاروں، جن میں زمین بھی شامل ہے، کے ساتھ مسلسل حرکت کررہا ہے۔ نظام شمسی کے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں اور ان سیاروں کے چاند ان سیاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔ زمین کا ایک چاند ہے اور دوسرے سیاروں کے چاند تعداد میں کم و زیادہ ہیں۔ ان سیاروں میں صرف زمین پر زندگی کا رونق ہے۔

آج سے تقریبا چودہ سو سال پہلے قران نے کہا تھا: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (یسین ۳۸)

ترجمہ: اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جارہا ہے۔ یہ سب اس ذات کا مقرر کیا ہوا نظام ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی کامل۔

لہذا قرآن کی رو سے بھی سورج جریان کررہا ہے اور اپنے مستقرکی طرف مسلسل چلا جارہا ہے۔

لا الشَّمۡسُ یَنۡۢبَغِیۡ لَہَاۤ اَنۡ تُدۡرِکَ الۡقَمَرَ وَ لَا الَّیۡلُ سَابِقُ النَّہَارِ ؕ وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿یسین۴۰﴾

ترجمہ: نہ سورج کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پر آگے بڑھ جانے والی ہے، اور یہ سب کُرّے( جیسے سیارے، ستارے، زمین، چاند) اپنے فلک یعنی مدار(orbit) میں حرکت کررہے ہیں۔

زمین کی محوری گردش ۲۳ گھنتے، ۵۶ منٹ اور ۴ سلکنڈ پر مشتمل ہے جبکہ اس کا سورج کے گرد گھومنے کا دورانیہ ۳۶۵ دن، ۵ گھنٹہ، ۴ منٹ اور ۴۶ سیکنڈ ہے۔ زمین کا مدار (سورج کے ارد گرد) ۵۹، ۹۰۱، ۸۴، ۰۰۰ یعنی تقریبا سات کروڑ میل طویل ہے۔ ہم سے زمین کی اوسط دوری ۲ لاکھ ۴۰ ہزار میل ہے۔ چاند زمین کے گرد ۲۹ دن، ۱۲ گھنٹے ۱۴ منٹ اور ۲۔ ۸ سیکنڈ میں گھومتی ہے۔ زمین کے گرد چاند کے مدار کی مسافت ۱۳، ۷۳، ۵۰۰ میل ہے۔

اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ سائنس اور مذہب میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ دراصل بائبل، جس میں تحریف کی گئی ہے، غیر سائسی ہے اس لیے مغرب میں سائنسدانوں کو سزائیں دی گئی تھیں۔ الزام یہ تھا کہ انھوں نے مذہب کی مخالفت کی ہے۔ بائبل میں ہے کہ زمین ساکن ہے جبکہ قرآن میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے بلکہ الٹا وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ سے ثابت ہوا کہ زمین بھی فضا میں تیر رہی ہے۔ کیونکہ لفظ کُلٌّ جمع کے لیے آتا ہے جبکہ اس آیت میں صرف سورج اور چاند کا ذکر ہے اور عربی میں دو چیزوں کے لیے تثنیہ کا صیغہ آتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ جمع کا صیغہ اس لیے آیا ہے کہ سورج اور چاند کے ساتھ رات اور دن بھی شامل کیے گئے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ دن رات تو خود فضا میں نہیں تیر رہے بلکہ زمین تیر رہی ہے جس کی حرکت سے دن رات بن رہے ہیں اس لیے لیل و نہار کا ذکر کیا ہے۔ اور دن رات کے ذکر کرنے اور زمین کی گردش کا ذکر نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اول تو قرآن سائنس کی کتاب نہیں، دوم یہ کہ قرآن عام انسانوں کی ذہن کے مطابق دلائل بیان کرتا ہے تاکہ ہر کوئی حق کو قبول کرسکے۔

جو لوگ زمین کو ساکت مانتے ہیں وہ مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتے ہیں:

۱۔ اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَاراً وَالسَّمَاءَ بِنَاءً (مومن ۶۴ )
ترجمہ: اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور آسمان کو گنبد۔
تفسیر: اي :جعل الأرض مستقرّةً بالدّحو و التـّسوية , و القرار هو الثبوت وعدم الحركة۔
ترجمہ: یعنی زمین کو پھلانے اور برابر کرنے سے قرار کی جگہ بنایا، اور قرار اس کا ثابت ہونا اور حرکت نہ کرنا ہے۔

۲۔ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ “(فاطر: 41)
ؔترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹلیں نہیں۔ اور اگر وہ ٹل جائے تو اس کے سوا کوئی نہیں ہو انھیں تھام سکے۔
تفسیر:قال ابن مسعود: “كفى بها زوالاً أن تدور”. [جامع البيان لابن جرير (22/ 145). المحرر الوجيز(4/ 442)].)
ترجمہ تفسیر: ابن مسعود رض فرماتے ہیں کہ اس کا بے ترتیبی سے گھومنا اس کا زوال ہے۔

۳۔ أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَاراً( – سورة النمل : 61)
ترجمہ: بھلا وہ کون ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ بنایا؟
تفسیر: قال ابن كثير في تفسيره (3/ 371): “أي قارةً ساكنةً ثابتةً، لا تميد، ولا تتحرك بأهلها، ولا ترجف بهم، فإنها لو كانت كذلك لما طاب عليها العيش والحياة، بل جعلها من فضله ورحمته مهاداً بساطاً ثابتةً، لا تتزلزل ولا تتحرك.
ترجمہ تفسیر: ابن کثیر رح اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس کو براعظم یا چٹان اور سخت بنایا جو کہ سکون سے ہے اور ثابت ہے، ڈگمگاتی نہیں، اور لوگوں پر ہلتی نہیں، اور نہ لرزتی ہے، اگر یہ اس طرح ہوتی تو اس پر زندگی خوش مزہ نہ ہوتی، بلکہ اس(اللہ) نے اس کو اپنے فضل و رحمت سے ثابت فرش بنایا کہ نہ ہلتی ہے اور نہ ادھر ادھرحرکت کرتی ہے۔

۴۔ أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ ( تضطرب ) – (الملك / 16)
ترجمہ: کیا تم آسمان والے کی اس بات سے بے خوف ہو بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، تو وہ ایک دم تھر تھرانے لگے؟
تفسیر : قال الشوكاني في فتح القدير (5/ 262): “أي: تضطرب وتتحرك على خلاف ما كانت عليه من السكون”.
ترجمہ: شوکانی رح فتح القدیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ کہ زمین اضطراب کرنے لگیں اور سکون کے بجائے حرکت کرنے لگے۔

۵۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الأَرْضَ مِهَاداً وَالْجِبَالَ أَوْتَاداً [النبأ 6و7]
ترجمہ: کیا ہم نے زمین کو ایک بچھونا نہیں بنایا اور پہاڑوں کو (زمین میں گھڑی ہوئی) میخیں؟
تفسیر: قال ابن كثير في تفسيره (4/ 463): “أي: ممهدةً للخلائق، ذلولاً لهم، قارةً ساكنةً ثابتةً، ﴿ والجبال أوتادا ﴾ أي: جعلها لها أوتاداً؛ أرساها بها، وثبتها، وقررها، حتى سكنت، ولم تضطرب بمن عليها

ترجمہ تفسیر: ابن کثیر رح اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ زمین اللہ کی مخلوق کے لیے بچھونا ہے، ان کی تابعدار، براعظم یا چٹان اور سخت ساکن اور ثابت، اور پہاڑوں کو (اس کو ارتعاشی حرکت سے روکنے کے لیے ) میخیں بنایا اور مخلوق کے لیے گاڑا کر دیا ہے، اور ثابت کیا ہے، یہاں تک کہ یہ سکون سے ہے، اور اپنے رہنے والوں پر مضطرب نہیں ہے۔

ان کے ان دلائل کا جواب:

ان دلائل سے زمین کی محوری اور دوری گردش کی نفی نہیں ہورہی صرف زلزلے کی طرح ہلنے اور چارپائی کی طرح جنبش کرنے اور ادھر ادھر بے تربیت حرکت کرنے کی نفی ہورہی ہے۔ اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ زمین انسانوں پر ہلتی نہیں اور نہ اپنے مدار سے دور بھاگ سکتی ہے بلکہ اللہ تعالی نے اس کو کنٹرول کردیا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوپر کی آیت إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ أَنْ تَزُولا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ (فاطر: 41)

کی شرح میں ابن مسعود رض نے تَدُور کا لفظ لایا ہے اور تدور کا معنی زلزلہ یا چارپائی کی طرح ہلنا نہیں بلکہ اس سے دوری حرکت ہی مراد ہے پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ زمین دوری حرکت کررہی ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ تدور بے ترتیب دوری حرکت کو کہتے ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں آنکھوں کی اس حرکت کا بیان ہے جو بدحواسی میں ہوتی ہے:

فَإِذَا جَاء الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ۔ ۔ ۔ (سورت احزاب 19)
ترجمہ: چنانچہ جب خطرے کا موقع آجاتا ہے تو وہ تمہاری طرف چکرائی ہوئی آنکھوں سے اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو۔

لہذا اس آیت میں ابن مسعود رض کی تفسیر میں تدور سے مراد زمین کا وہ دورہ ہے جو خدا کی قدرت سے بے قابو ہو۔ یہاں اللہ تعالی اس کی نفی کررہا ہے اور اعلان کرتے ہیں کہ زمین و آسمان میرے قبضے میں ہیں، بے قابو نہیں ہیں۔ اور جہاں تک نظام شمسی میں سیارہ زمین کی دوری حرکت ہے وہ اللہ کے کنٹرول میں ہے۔

زمین اور آسمان گول ہیں:

قرآن میں انسانوں اور جنات کو خطاب کیا گیا ہے: یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اِنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ اَنۡ تَنۡفُذُوۡا مِنۡ اَقۡطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ فَانۡفُذُوۡا ؕ لَا تَنۡفُذُوۡنَ اِلَّا بِسُلۡطٰنٍ (الرحمٰن 33)
ترجمہ :اے انسانوں اور جنات کے گروہ ! اگر تم میں یہ طاقت ہے کہ آسمانوں اور زمین کی اقطار میں نفوذ(سرائیت) کر سکو، تو کرو۔ تم زبردست طاقت کے بغیر نفوذ نہیں کر سکتے۔

اس آیت کا ایک مطلب تو عام ہے اور وہ یہ کہ اصول فقہ کے علماء نے اس کو ‘‘امر تعجیزی’’ کہا ہے اس لئے انہوں نے ‘‘تنفذوا من ’’ کا معنی ‘‘تخرجوا من’’ کا کیا ہے جس میں ایک سے زیادہ مجازات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایک تو نفوذ کو خروج کے معنی میں لینا اور دوسرا اقطار کو اطراف کے معنی میں لینااور پھر بسلطان کے لئے یا تو یہ تاویل کہ “لا تخرجون الا تکونوا بسلطان ای فی سلطان اللہ” کرنا پڑتی ہے۔ اب ان علماء کرام کی طرف سے جو تصور یہاں دیا گیا ہے اس تصور سے تو کسی کو انکار نہیں کہ اللہ کی سلطان سے نکلنا تو ممکن ہی نہیں۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ سلطان سے مراد قوت عشق ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ جن و انس زمین وآسمان کے اقطار میں سرائیت قوت عشق الہی سے کرسکتے ہیں جیسا کہ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرکے دکھایا۔ یہ مطلب مولانا رومی اور علامہ اقبال کے نزدیک ہے۔ گویا انسان قوت عشق سے تسخیر کائنات کرسکتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات

تیسرا مطلب سائنسی ہے اور وہ یہ کہ یہاں “مِن” “فی” کا معنی دیتا ہے۔ سرایت کرنا، اندر داخل ہونا، اثر کرنا۔ اثر ونفوذ اردو محاورہ میں بھی مستعمل ہے پس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تم زمین و سماوات کے اندر نفوذ وسرایت اور اثر کرنا چاہتے ہو تو کرو لیکن سلطان یعنی قدرت وقوت کے بغیر تم نفوذ اور سرائیت نہیں کرسکتے۔ اور یہ قدرت وقوت یہی طبیعیاتی علوم ہیں جس کے ذریعے انسان خلا میں پہنچا۔ پس اللہ نے انسان کو فری ہینڈ دیا ہے اور یہی تسخیر کائنات کا مطلب ہے. لہذا ثابت ہوا کہ انسان فزیکل قوت سے بھی اس کائنات کی تسخیر کرسکتا ہے۔

اقطار قطر کی جمع ہے اور قطر Diameter دائرہ کے ہوتے ہیں۔ تو زمین اور آسمان کے لیے اقطار کا لفظ لانے سے معلوم ہوا کہ زمین گول ہے اور گلوب کی شکل میں ہے جس کے اردگرد آسمان بھی گول ہیں اور پیاز کے چھلکے کی طرح زمین اور دیگر سیاروں، ستاروں، گیلکسیز، وغیرہ کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی کہہ دے کہ ٹھیک ہے زمین گول ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہورہا کہ گلوبل بھی ہوبلکہ زمین فلیٹ ہی ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر زمین فلیٹ ہوتی یا چوڑی (ring) کی طرح گول ہوتی تو آسمان بھی فلیٹ ہاتے یا رنگ ہی کی طرح گول ہوتے حالانکہ آسمان گلوبل شکل میں نظر آرہے ہیں اور زمین کو گھیرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ زمین سے آسمان تک ۵۰۰ سال کا فاصلہ ہے۔ پھر سات آسمان ایک دوسرے کے اوپر تہہ در تہہ پیدا کئے گئے ہیں۔

اگر ہم زمین کو ساکن مانیں تو پھر مندرجہ ذیل مشاھدات غلط ثابت ہوتے ہیں:

۱۔ سورج گرہن کا صحیح وقت پہلے سے بتا دینا، حالانک ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا جو وقت بتایا جاتا ہے عین اسی وقت سورج یا چاند گرہن ہوجاتا ہے۔

۲۔ عالمی وقت World Standred Time، وقت تو زمین کی محوری حرکت سے ہی وضع کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ظول بلد اور عرض بلد کے خطوط اور خط استواء وغیرہ کا حساب ہے۔

۳۔ موسموں کی تبدیلی، زمین کو ساکن اور گول ماننے سے پھر یہ ہوتا کہ موسم تبدیل نہ ہوتے۔

۴۔ یہ مصنوعی سیارے جو ہم ہر رات فضا میں دیکھتے ہیں، یہ گول زمین ہی کے گرد تو گردش کررہے ہیں۔

۵۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سسٹم بھی اسی گلوب کی وجہ سے کام کررہے ہیں۔

۶۔ نمازوں کے اوقات کے نقشوں اور رخ قبلہ معلوم کرنا بھی زمین کی گولائی اور حرکت ہی سے ممکن ہے۔

۷۔ عالمی تاریخ date میں فرق، براعظم امریکہ، جو زمین کے دوسری طرف ہے اور پاکستان جو زمین کے اس طرف ہے، کی تاریخ میں ایک دن کا فرق ہوتا ہے۔ یہ بات تو جماعت پنجم کے معاشرتی علوم کی کتاب میں بھی لکھا ہے۔

۸۔ رویت ہلال کے بارے میں جو تحقیق اور معلومات کی جاتی ہیں یہ زمین کی حرکت اور گولائی ماننے کے بغیر ناممکن ہے۔

۹۔ موسمیات اور بارش کی پیش گوئی سب زمین کے متحرک اور اس کے گلوب یونے کی دلیل ہے۔

۱۰۔ جو جہاز دھویں کی شکل میں گیس خارج کرکے اڑتے ہیں ان کے دھویں دار پٹی کو اگر آپ افق میں دیکھیں گے تو وہ بھی گول ہوتی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زمین گول ہے کہونکہ جہاز زمین سے متوازی فاصے پر اڑتے ہیں۔

اگرزمین کو ساکن اور فلیٹی مانی جائے تو پھریہ سب غلط ثابت ہوجائے گا۔ اور فضا سے تو دیکھا گیا بھی ہے کہ زمین گول ہے۔ اور کائنات میں جو چیز گول ہو وہ حرکت بھی کرتی ہے۔ ان کے درمیان کشش بھی ہوتی ہے۔

اس موضوع پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور سائنس دانوں نے کتابیں لکھی ہیں۔ جیسے

  1. An Introduction to Modren Cosmology by Andrew Liddle۔
  2. An Introduction to Mathematical Cosmology by J. N. Islam۔
  3. An Introduction to Science of Cosmology by D J Raine and E G Thomas.
  4. ASTROPHYSICS AND COSMOLOGY by J. Garcıa-Bellido
  5. Cosmology The Origin and Evolution of Cosmic Structure by Peter Coles
  6. GENERAL RELATIVITY & COSMOLOGY for Undergraduates by Professor John W. Norbury
  7. Neutrinos in cosmology by A.D. Dolgov

موجودہ دور کے مسلمان محققین علماء نے بھی کتابیں لکھی ہیں مثلا

۱۔ موسی روحانی بازی کی کتاب علم فلکیات
۲۔ شبیر احمد کاکاخیل کی کتاب فہم الفلکیات
۳۔ انجنئیر بشیر احمد بگوی کی کتاب فلکیات

ان تحقیقات کے باوجود بعض لوگ قرآن اور سائنس میں ٹکراؤ پیدا کرکے دین اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ اگر چہ سائنس ہر چیز کو ثابت نہیں کرسکتی جیسے روح، جنت و دوزخ، آخرت، دوبارہ زندگی، خیر وشر، فرشتے وغیرہ لیکن جن حقائق کا تعلق حواس خمسہ اور تجربہ سے ہے، جن کو سائنس نے ثابت کردیا ہےاور وہ قرآان و سنت کے خلاف بھی نہیں ہیں تو اس کے ماننے میں کیا حرج ہے؟

یہ کوئی ایسے مسائل بھی نہیں ہیں کہ جن کے ماننے سے کوئی مسلمان کافر ہوجاتا ہے۔ ہر فیلڈ کے اپنے ماھر ہوتے ہیں وہ جو کچھ دریافت کرتے ہیں ان کو ماننا چاہئے۔ بدقسمتی سے بعض دینی لوگ اپنے فیلڈ کے بر خلاف زمین کو ساکت نہ ماننے والوں پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں جیسے سعودی عرب کے ممتاز عالم ابن باز رحمہ اللہ تعالی کا فتوی دیکھنے کے قابل ہے، وہ لکھتے ہین:

إنَّ القول بأن الشمس ثابتة وأن الأرض دائرة هو قولٌ شنيعٌ ومنكر، ومن قال بدوران الأرض وعدم جريان الشمس فقد كفر وضل، ويجب أن يستتاب فإن تاب وإلا قتل كافراً مرتداً، ويكون ماله فيئاً لبيت مال المسلمين۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

ترجمہ: تحقیق یہ کہنا کہ سورج ثابت (ساکت) ہے اور زمین گھوم رہی ہے، ایک انتہائی غلط قول ہے، اور جس نے کہا کہ زمین گھوم رہی ہے اور سورج ساکت ہے وہ کافر اور گمراہ ہوا۔ اس کے لیے توبہ کرنا واجب ہے، اگر توبہ نہ کیا اور مرگیا تو کافر و مرتد مرگیا، اور اس کا مال و دولت مال غنیمت تصور کرکے بیت المال میں رکھ دیا جائے گا۔

شاید انھوں نے یہ فتوی سورج کو جاری اور رواں دواں نہ ماننے ولوں پر لگایا ہو، کیونکہ سورج کا جریان قرآن سے ثابت ہے جیسا کہ ہم نے اس بارے میں اوپرآیات لکھ دیں ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20