پی۔ ایچ۔ ڈی: آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک —- ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر

0

چچا غالب نے کہاہے ’آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک‘ وادی کشمیر جو کہ دہائیوں سے محرومیوں کی شکار ہے، میں زندگی کا ہر شعبہ “دستِ استعمار” کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں عزت و اقدار، تہذیب و شائستگی قصہ پارینہ ہوچکے ہیں۔ احساس، ضمیر اور انسانیت، تعمیرِ معاشرہ کے یہ سہ بنیادی عناصر کب کے تہہ خاک جاچکے ہیں۔ گزشتہ ستّر سال کی غلامی نے ہمارے مادی وجود کو جِلا بخشنے والی روح کی روشنی کو غُل کرکے رکھ دیا ہے۔ اکثر سننے اور پڑھنے میں آتا ہے کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ کوئی قوم بغیر وطن کے اورنہ کوئی وطن بغیر کسی قوم کے آبادہوتاہے۔ سننے میں آیا ہے کہ یہ لازم و ملزوم ہے۔ لیکن ہمارا کوئی وطن ہے اورنہ کوئی “قوم”۔ ۔ ۔ لکھاری کو جب کشمیرکے حدودِ اربعہ، یہاں کی زبان، تہذیب و تمدن، محرومیوں، زوال اور الم نصیب لمحوں کی عکاسی کرنا ہوتی ہے تو کبھی ان کا قلم بے قابو ہوکر کاغذ پر مذکورہ نقشے کھینچتے ہوئے “بے بسی” میں “کشمیری قوم” لکھ لیتاہے حالانکہ میرے خیال میں یہ ترکیب صحیح نہیں ہے۔ قوم کی ایک پہچان ہوتی ہے،ایک نعرہ ہوتا ہے،ایک لیڈر ہوتا ہے، ایک ترانہ ہوتاہے اور سب سے اہم ایک نصب العین ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جن کی خود کی کوئی پہچان نہ ہو، بانت بانت کی مختلف بولیاں ہوں، راہ چلتے ہر کہہ و مہہ کے ساتھ مشائیت کرتے ہوں، رہبر کی خبرنہ رہزن کی پہچان، زندگی بے معنی یوں ہی کٹ رہی ہو، اپنے مفاد زیادہ عزیز ہوں اور مستقبل کی کوئی پرواہ نہ ہو۔ ۔ ۔ وہ قوم نہیں،ایک “بھیڑ” ہوتی ہے۔ ایک !لاحاصل ہجوم۔ ۔ ۔

میری وادی ابھی اپنے تشکیلی دورسے ہی گزر رہی ہے۔ بھیڑ کو منظم و منضبط ہونے میں شائد ابھی صدیاں لگ جائے یا شائد اب صورِ اسرافیل ہی ہمیں منظم کرے اور تب ہم ایک “قوم” کی حیثیت سے اٹھ کھڑے ہوں۔ کشمیرمیں اکثریت مسلمانوں کی ہے اس لئے یہاں آباد شعبے اور دفاتر مسلمان ملازموں سے پُر ہے۔ اُن کا ایک کام تو سرکاری یانجی اداروں کے سربراہوں، اثر و رسوخ رکھنے والے “ساہوکاروں”، عوام کی “خدمت” پر معمور سیاست دانوں، نمبرداروں، سرپنچوں اور بیروکریٹس کے فرمودات و خواہشات کو من و عن پورا کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے “فرائض” میں یہ بھی شامل ہے کہ اُس عوام کو، جن کی جیب سے ان کے لئے تنخواہ نکلتی ہے۔ جن کے ہونے سے سرکار ہے، بیروکریسی ہے، تخت ہے،شاہ ہے، حکومت ہے، محکومیت ہے، ظلم ہے، مظلومیت ہے۔ ۔ ۔ انہیں جانوروں کی طرح نوچنا، در در کے ٹھوکر لگوانا، حیلہ و بہانوں کی “ٹوکری” اپنے دفتر میں سجا کر رکھنا تاکہ جب جب موقع ملے کام نکالنے کے مقصد سے آئے ہوئے اُسی عوام کے سامنے ٹوکری کے بار کو کم کرتے رہیں۔ جوتے گھسوانا تاکہ جوتا بیچنے والے بھی دعائیں دیتے رہیں، پیروں میں چھالے پڑوانا تاکہ ڈاکڑ صاحبان کے کلنک ویران نہ ہوں۔ خیر جس کو جہاں، جیسے موقع ملے بے چاری عوام کو تڑپاتے اور ستاتے رہتے ہیں۔ کرسی پر بیٹھنے والا کبھی “غلام رسول” ہوتا ہے۔ جن کو وہ بےجا ستاتے رہتے ہیں وہ رام لال، منوج ترپاٹھی یا گربچن سنگھ ہی نہیں بلکہ اکثر “غلام محمد” ہی ہوتاہے۔ وہ نمازیں بھی ادا کرتا ہے۔ کبھی کوئی نیاز، نذر یا صدقہ بھی کرتاہے۔ رمضان میں روزہ، تہجد، تراویح، عمرہ بھی ادا کرتا ہے اورشب قدر کی پُرکیف مجلس کاحصہ بن کر گناہوں کی معافی کے لئے اللہ کے سامنے گڑگڑاتا بھی ہے لیکن کیاہے کہ شیخ سعدیؒ نے کہا ہے کہ روئے زمین پراکثریت میں ایسے لوگ ہیں جو دکھ، تکلیف،اذیت، فریب اور دھوکہ توانسانوں کو دیتے ہیں اور معافی اللہ سے مانگتے ہیں۔ ذہنی تناﺅ، جسمانی تکالیف اور متنوع طریقہ ہائے ظلم یہ “قوم” آپس میں ہی روا رکھتی ہے۔ غلامی نے ہمیں “آدابِ غلامی” سے بھی صحیح طور آشنانہ کیا۔ ہم دکھنے میں “انسان نُما” ہیں لیکن حقیقت میں احترامِ آدمیت سے بے خبر۔ یہاں کے کاروباری اداروں، کالج اور جامعات میں جائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ مجموعی طور پر یہ ایک “بیمار” معاشرہ ہے۔ مسلسل غلامی اور تہذیبی شکست نے ہمیں آداب معاشرت اور انسانیت کے اسباق ہی بھلا دئے ہیں۔ ہمارے شباب آور قہقہے دراصل ہمارے آنسوﺅ ں کے پردہ دار ہیں۔

تعلیم گاہوں کے بارے میں بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں اور ہمارا حسنِ ظن بھی ہے کہ وہاں فہم کو ایک رُخ عطا ہوتا ہے۔ ادب کو ایک مقام دیا جاتا ہے۔ جہالت کو زیر کیا جاتا ہے۔ علم کے نور کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ تخریب سے تعمیر کا سفر طے کرایا جاتا ہے اورانسانیت کے اسباق ازبر کرائے جاتے ہیں۔ گویا اگر آپ “گدھے” بن کر جائیں گے تو انسان بنانے کی گارنٹی آپ کو دی جاتی ہے لیکن یہ تاثیر ضروری نہیں کہ دنیاکے ہرکالج یا جامعہ (یونیورسٹی) میں ہو۔ یہاں توکبھی کبھی شیخ سعدی ؒکا فارمولا بھی کام کرتاہے

چوں بیایدہنوزخرباشد             خرِعیسٰی گربمکہ رود

یہاں کی جامعات میں کرداربن رہانہ افکارکی صحیح تفہیم ہورہی ہے۔ سلیقہ مندی ہے نہ تہذیب و شائستگی کے گُر۔ تعمیر میں ہی ایک صورت خرابی کی مضمرہے۔ معاشرہ تشکیل نہیں پارہابلکہ تخریب کے نچلے سطح پرآن پہنچاہے۔ لمحہ مرثیہ ہے کہ ہمارے کالج اور یونیورسٹیاں “کرامات” اور “معجزے” کرنے سے قاصر ہیں۔ حالانکہ سُناہے کہ علامہ اقبال کو جرمنی کی میونخ یونیورسٹی نے صرف چھ مہینے کی قلیل مدت میںہی پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تھما دی تھی۔ ۔ ۔

میز پر کتابوں اورکاغذا ت کاپلندا بکھرا پڑا تھا۔ الماریوں میں کتابیں قرینہ سے رکھی ہوئی تھیں اور ٹیلی ویژن پر “کاشر” چینل پر مبنی بھر پروپیگنڈہ پروگرام “سرحد کے اُس پار” چل رہا تھا اور اسکرین پر سید منور حسن (اُس وقت کے امیر جماعت اسلامی پاکستان) جلوہ افروز تھے۔ جب میں دوپہر کو اپنے بھائی آصف جیلانی کے ہمراہ کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پروفیسر مجید مضمر مرحوم کے کمرے میں پہلی دفعہ داخل ہوا۔ اپنے کام میں مصروف مرحوم سے داخلہ کے بارے میں مختصر استفسار کے بعد ہم انہیں ان کے کاغذات کے ساتھ چھوڑ کر باہر قدم رنجہ ہوئے۔ کیا معلوم تھا کہ یہ مختصر تعارفی ملاقات مرحوم کے ساتھ آئندہ پانچ سالوں کی طویل مصاحبت کی تمہید ثابت ہوگی۔

2009ء کو ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ شعبہ میں رہ کر مرحوم مجیدمضمرصاحب کی انکساری و ملنساری کے جوہر دیکھے۔ مرحوم کم سخن تھے لیکن جب بولتے تھے تو سمندر بکوزہ کے مانند اختصارسے کام لے کر مقصد کی بات دل نشین انداز میں مخاطب کے گوش گزار کرتے۔ صحیح کہا گیا ہے کہ Privity is the sole of wit اختصار دانش مندی کی روح ہے۔

وادی میں قحط الرجال کے اس دور میں اردو ادب کے حوالے سے وہ واقعتاً ایک رجل عظیم تھے۔ کلاس میں اُن کے پڑھانے کا انداز بھی دلچسپ تھا۔ تصنّع اور بناوٹ سے مجتنب، مخاطب کے ذہنی استعداد کو ملحوظ نظر رکھ کر لیکچر دیتے، ایسے کہ الفاظ گوش سے ہو کر سیدھا دل پر دستک دیتے۔ سب طلباء چاہتے تھے کہ وقت طول کھینچے اور کلاس ختم نہ ہوتا کہ ہم زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔ موجودہ دورمیں جب کہ علم اور منصب گھمنڈ اور تکبّر کو بھی ساتھ لاتاہے، مرحوم اِن بری صفات سے کوسوں دور تھے۔ طلباء کو کبھی یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ مرحوم ایک بڑے عہدے کا حامل ہے، جس کی وجہ سے ایک خلاء رہنی چاہیے۔ برعکس اس کے وہ ہمیں بُلاتے، اپنے پاس بٹھاتے اور اردوزبان کے حوالے سے محو گفتگو رہتے۔ حق مغفرت کرے۔ ۔ ۔

ایم۔ اے کے بعد ایم۔ فل میں داخلہ لیا اور بعد ازاں پی۔ ایچ۔ ڈی کے لئے بھی منتخب ہوا۔ اِس وقت جبکہ میرے قلم کی سیاہی کاغذ کی ازلی پیاس کو بُجا رہی ہے، کیسے نالہ و فریاد کروں کہ میرے بالوں میں “سفید چاندی” اُتر چکی ہے۔ عزیزواقارب اسے قبل از وقت کاعمل قراردے رہے ہیں۔ اُن کی نشتر نمانظریں اور “بول کہ لب آزادہے تیرے” والا جذبہ مجھ سے استفسار کرتا رہتا ہے کہ آخریہ” آفت “کیونکرآن پڑی؟ کوئی غمگین ہوکر تو کوئی ازراہِ مزاح “فقرہ کستا” رہتا ہے۔ تو میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ “کیا آپ نے کشمیر یونیورسٹی “میں ایم۔ اے سے پی۔ ایچ۔ ڈی تک کے زینے طے کئے ہیں؟

جامعہ کشمیرمیں پی۔ ایچ۔ ڈی کی “زُلف سر” کرنے کے لئے، عمرِ نوحؑ، صبرِ ایوبؑؓ، کنجِ قارون اور بازوِ حیدرؓ درکار ہیں۔ انسان مضبوط اعصاب کاحامل نہ ہو تو یہاں کی جامعہ اسے ذہنی اورجسمانی امراض میں مبتلا کرنے کی “گارنٹی” دیتی ہے۔ حیراں ہوں کہ اس نظام کے چلتے”خودکشیاں” آخر کیوں نہیں ہورہیں۔۔ کالجز کے طلباء ہوں یا جامعہ کشمیر کے، اکثر چہروں پر آپ یاس، وحشت، اندیشے اوراضطراب محسوس کریں گے۔ یہاں اربابِ حل وعقد کو وقت کی قدرہے نہ مدبّرانہ حکمتِ عملی کی۔ ۔ ۔ کشمیر یونیورسٹی ایک ایسا “کارخانہ” ہے جس میں موجود مشین کے سبھی “پُرزے” زنگ آلود ہیں۔ ترقی و فعّالیت، تحرک و تبدّل یا حُرکی تصورکے پہیے یہاں جامدہیں۔ بس ہرسُو یک رنگی سی یک رنگی ہے، سکُوت ہی سکوت۔۔۔۔ سمسٹرز کا ایسا جال بچھایا ہے کہ کالج و یونیورسٹی کے طلبااُس میں بہت گہرائی تک “دھنسے” ہوئے ہیں۔ یوں نوکریوں پر برسوں کا” پہرہ” جماکر وہ خودنشاط آور محفلوں کے مزے لُوٹ رہے ہیں۔

اعلٰی عہدے دارسے لے کرادنٰی ملازم تک،نے قسم لی ہے مشاقانِ علم کونِت نئے طریقوں سے ستانے کی۔ وہاں اسکالرز کی کوئی عزت سے نہ توقیر۔ اساتذہ صاحبان تک کوبھی شعبوں میں”کام” کر رہے غیرتدریسی عملہ کے رویّے، ان کی تُند مزاجی کاخوف رہتاہے۔ اکثرپروفیسرصاحبان بھی اسکالرز و طلباء کی طرح اس وجہ سے ذہنی تناﺅتک کاشکار ہوتے ہیں الّا ماشاء اللہ۔ شیخ الجامعہ و متعلقہ ذمہ داران کو ان “چھوٹے” مسئلوں کو نپٹانے کی، طلباء، اسکالرز اور اساتذہ صاحبان کو عزت کا مقام دلانے کی فکرہے نہ وقت۔ “نشہ اقتدار” کے جراثیم رئیس جامعہ کے دفتر کے اگل بگل بھی پائے جاتے ہیں۔ ایک دستخط جسے کرنے میں ایک دو سیکنڈ ہی لگتے ہیں، اُس کے لئے بھی مانو جیسے سُوئی کے ناکے میں سے گزرنا پڑتا ہے۔

جامعہ کشمیرمیں داخلہ طلباءاپنے لئے بڑی فتح تصورکرتے ہیں۔ دل ودماغ میں کیاکیاخواب سجائے وہ آتے ہیں۔ امید کا دیا جلائے، آنکھوں میں چھپی خوشی اورچہرے پرسجی مسکراہٹ اس کی غماض ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوںوقت کاپہیہ حرکت کرتا جاتا ہے، اکثر طلباء سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وقت اُن پر”مہربان” نہیں تھا۔ وہ عزت کی تلاش میں یہاں کارُخ کرتا ہے لیکن جابجابے عزتی،ناقدری اوراحساسِ کہتری پیداکرنے والے ’نستعلیق ‘ فقروں کی بارش اسے شرمسار کرتی رہتی ہے۔ تب جاکے مذکورہ طالبعلم اس ساعت کو کوستا ہے جس ساعت اس نے منتخب ہوکر جامعہ میں داخلہ لیاتھا۔ وہ خوشیاں، وہ مسرتیں، وہ امیدیں سب ہوا ہوجاتی ہیں اور جو پیسہ تعلیم کے حصول پر صرف کیا ہوتا ہے وہ سب “پانی”۔۔۔

راقم کے مشاہدے میں ایسے طلباءواسکالرزبھی آئے جنہوں نے اپنے عزیزواقارب کوجامعہ کشمیرمیں داخلہ لینے سے منع کیا۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہم پرجوبیتی سوبیتی کوئی اپنااب اس”فیض”سے محروم ہی رہے تو وہی بہترہے۔ جب کشمیرمیں “جمہوری” حکومتیں ہواکرتی تھیں تب بھی جامعہ سیاست کا اکھاڑا تھا اور اب جبکہ اُس” اپاہچ جمہوریت” کاجنازہ نکل چکا ہے، وہاں”نشہ اقتدار”رکھنے والوں میں ہنوزانسانیت کافقدان ہے۔

ایسانہ سمجھیں کہ وہاںصرف منفی مناظر ہی ہیں، نہیں،بلکہ اطراف میں جابجاپارکزہیں۔ گُل وبلبل کی مہک و چہک ہے اور ان کے بیچ وبیچ مشامِ جاں کو معطر کرنے لئے طلباء و طالبات خالی وقت میں مٹرگشتی کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔ اعلٰی و کمتر قہوہ خانے ہیں۔ جدید آلات سے پُرشعبے ہیں۔ بندالماری کے شیشوں سے جھانکتی گرد آلود لاتعداد کتابیں ہیں۔ حسرت سے” تکتی” اینٹ، پتھر سے بنی پُرشکوہ بلند عمارتیں ہیں۔ NAACکادورہ ہو تو جامعہ کی درودیواریں شاد کام ہوتی ہیں کیونکہ وہ اُن کے سجنے کاوقت ہوتاہے۔ جامعہ کی “رسمِ حنابندی” کے دوران کبھی کبھی کلاسز بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کمی اگررہتی ہے تو بس “لباسِ عروسی” کی۔ ان کی دیکھا دیکھی وادی کے تقریبََا سبھی کالجز “قومی کونسل” کی میزبانی کے فرائض ایسے انجام دیتے ہیں جیسے کہ بارات کوآنا ہو۔

قد آور اساتذہ کرام کی بھی کمی نہیں ہے جو اپنے جگر کا لہو نچوڑ کر طلباء کا مستقبل سنوارتے ہیں۔ کچھ ایسے اساتذہ کرام بھی ملے جوطلباءکی ذاتی زندگی کی تکالیف، گوناگوں پریشانیوں کو دور کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے۔ دلِ مضطر کو فرحت بخش نصائح کے ساتھ ساتھ مالی و اخلاقی تعاون کرتے ہوئے بھی دکھے۔ جو اپنے فیلڈ میں علم کے بحرِبے کنار ہیں۔ خوشامدی سے مجتنب ہیں۔ ان کی معیت واقعی ہمارے لئے نعمتِ غیرمترقبہ رہی۔ عجزوانکساری نے ان کے حُسن کو دوبالا کر دیا ہے۔ ہاسٹل کرانا ہو یا اے۔ ڈی بلاک و ایکزامنیشن بلاک سے کوئی کاغذ دستِ بے رحم سے “رہا” کرانا ہو، کچھ شفیق اساتذہ ہمدردی و غمخواری میں آپ کے ہمرکاب ہولیتے ہیں۔ ایسے اساتذہ ہمیں تاعمر مقروض کردیتے ہیں اور ہمار افرض بنتاہے کہ ان کے لئے بارگاہِ ایزدی میں تاحینِ حیات دست درازبلندکئے رکھیں۔

زبان غرقِ ندامت ہے۔ دل جذبات کی “پوری” ترجمانی سے قاصر۔ ایک طرف چند مخلص اساتذہ ہیں لیکن دوسری طرف کچھ ایسے حضرات بھی ہیں جن کے ستائے ہوئے ہیں۔ پھر بھی قلم لکھنے سے عاجزنہیں کہ اللہ انہیں معاف کرے اورانسانیت کے راستے پر لگائیں۔۔۔ مجموعی طور پر ہماری روح کی قوس و قزح کے رنگ مرتے جارہے ہیں۔ استعمارنے ہوس کی کچھ ایسی غیرمرئی دیواریں تعمیرکی ہیں جن کے سائے میں دب کرانسانیت کاوہ رنگ جووجہِ تخلیقِ کائنات تھا، جو ترکیبِ نسلِ انسانی کابنیادی عنصر تھا، ہماری خواہشوں کی بھینٹ چڑھ کر خود اپنی موت مرتا جارہا ہے۔ احساس کی کوئی گرہ ہے جو کَستی جارہی ہے۔ انسانیت مر رہی ہے۔۔۔

بہرحال پی۔ ایچ۔ ڈی مقالہ سبمٹ کرنے کے سولہ مہینوں بعدخدا خدا کرکے راقم کا “وائ وا” ہوا،حالانکہ سبمشن کے سات ماہ بعدہی دلی وعلی گڑھ سے دوماہرین نے رپورٹ ارسال کی تھی۔ یہ اللہ کا بے انتہا احسان ہواکہ اس ذہنی تناﺅ سے”نیم رخصتی” ملی کیونکہ اس کے بعدبھی ڈیڈھ مہینے کاستانے کا ’کورس‘ ابھی باقی تھا۔ وائ وا کے ڈیڈھ ماہ بعد پی۔ ایچ۔ ڈی رزلٹ نوٹیفیکیشن ہاتھ میں لے کرایسا محسوس ہوا جیسے ہمالہ سر کیا ہو۔ اُن بے جان و “بے مروّت” در و دیواروں سے نکل کر شکرانہ کی دو اور “توبہ” کی چار رکعات “عجزوانکساری” کا ہیولہ بن کر ادا کیں اورایک حسرت بھری نگاہ یونیورسٹی کی طرف لوٹا کر قریب چار بجے’ با بِ سرسید”سے نو سال “قیدِ بامشقت” رہ کر حریت کے قدم نکال کر “آزادی” کے اُس جذبے کو محسوس کر رہا تھا جس کی عکاسی میرا قلم “گھسیٹنے” سے عاجز ہے

نے ابلہِ مسجدہوں،نہ تہذیب کافرزند          کہتاہوں وہی بات سمجھتاہوں جسے حق
(اقبال)
میں زہرِہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکاقند           اپنے بھی خفامجھ سے ہیں،بیگانے بھی ناخوش

نوّے میں تعلیم کی “بسم اللہ” نورالاسلام اسکول بارہمولہ (فلاحِ عام ٹرسٹ) سے ہوئی۔ اُن اساتذہ کرام نے مجھے “لفظ” اور “معنٰی”سے آشنا کیا۔ پڑھائی کے میدان میں جو بھی “پگڈنڈیاں”، “ریگزار”، “سبزہ زار”، “کوہسار”، “خوف و رجا” کے مواقع آئے، سب کو اللہ نے اساتذہ کی محنت اور محبوں کی دعاسے اُفتاں و خیزاں سر کرایا۔ علم کے بحرِبے کنارسے ایک قطرہ کی طلب تھی لیکن آبِ دست اُس قطرے کے عشرِعشیر کا ہی متحمل نکلا۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کی تکمیل ہوئی ہے،علم کے حصول کی نہیں۔ ابھی اُس ’کُل” سے بس “جُز‘ ہی! ہاتھ لگا ہے، ابھی آگے “آسماں” اور بھی ہیں۔ سبھی اساتذہ کرام کے اخلاقی تعاون کا معترف اور محبتوں کا مقروض۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20