استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا — Joseph Massad — ترجمہ و تلخیص: وحید مراد

0

The Gay International and the Arab World —- By: Joseph Massad

(جوزف مسعد 1963 میں اردن میں پیدا ہوئے۔ 1988 میں کولمبیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کیا، اب وہ کولمبیا یونیورسٹی میں ہی مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقی مطالعات کے شعبہ میں جدید عرب سیاست اور فکری تاریخ کے پروفیسر ہیں، انکی علمی کام کی خاص توجہ فلسطینی، اردن، اور اسرائیلی قوم پرستی پر مرکوز ہے۔ وہ اپنی کتاب “Desiring Arabs” کی وجہ سے مشہور ہیں۔)


ہم جنس پرستوں کی کوکھ سے کوئی جنم لے یا نہ لے لیکن پچھلی دو دہائیوں میں انکی تحریک  کی کوکھ سے جن اہم  مباحث اور سماجی ایشوز نے جنم لیا ہے وہ “ہم جنس پرستوں کے حقوق” ہیں جنہیں عالمی طور پر تسلیم کئے جانے پر خاص زور دیا گیا ہے ۔اس تحریک اور پروجیکٹ نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوانے کیلئے “امریکی حقوق انسانی کے ڈسکورس” کو خاص طور پر استعمال کیا ہے۔انہوں نے سفید فام مغربی خواتین  کی تحریک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایک ایسا مشنری کردار اپنایا اور ایسی صورتحال پیدا کر دی جس سے دنیا بھر کے انسان متضاد خیالات پر بحث مباحثہ میں جت  گئے۔ سفید فام مغربی خواتین کی تحریک نے بھی جب غیر مغربی دنیا کی خواتین کی تحریکوں پر اپنے “نو آبادیاتی نسائی ازم Colonial Feminism” مسلط کرنے  کی کوشش کا آغاز کیا تھا تو اپنے معاملات کو عالمگیر بنانے کیلئے انہوں نے بھی یہی حربے استعمال کئے تھے۔اس سلسلے میں سفید فام مردوں کی تنظیمیں مثلاً عالمی مرد و زن خواجہ سرائوں کی انجمن (International Lesbian and Gay Association ILGA)، بین الاقوامی ہم جنس پرستوں کے حقوق کا کمیشن (IGLHRC International Gay and Lesbian Human Rights Commission) بھی خواتین کے تحریکوں سے پیچھے نہیں ہیں، وہ بھی پوری دنیا میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے دفاع میں انکی وکالت کرنے کیلئے ہر جگہ موجود ہیں۔ ILGA  تنظیم، 1978 میں، امریکی صدر جمی کارٹر  کےعروج کے دور میں قائم کی گئی تھی تاکہ سویت یونین اور تیسری دنیا کے دشمنوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزوں کا ڈھنڈورا پیٹا جا سکے۔اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اسکا مقصد بین الاقوامی سطح پر “ہم جنس پرست مردوں، عورتوں، اور خواجہ سرائوں” کی پہچان، شناخت، مساوات اور آزادی کیلئے، دنیا اور علاقائی کانفرنسوں کے ذریعے پرچار اور تحفظ  کرنا ہے۔ جہاں تک IGLHRC کا تعلق ہے جسکا قیام 1991 میں عمل میں آیا، اور اسکا مشن “جنسی رجحان، صنفی شناخت، اور ایچ آئی وی اسٹیٹس” کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب، تفاوت اور بدسلوکی کے رجحانات کو کنٹرول کرنا اور اس حوالے سے تمام  گروہوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ پس یہ ادارے، تنظیمیں  اور انکے اہداف، منصوبے اور لائحہ عمل اور انکو بنیاد فراہم کرنے والا حقوق انسانی کا پرجیکٹ اور ڈسکورس سب مل کر ایک ایسے خیالی اور موہوم گروہ انسانی کو حقیقت کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں جسے انکی زبان میں “عالمی ہم جنس پرست کمیونٹی Gay International” کہا جا تاہے۔ امریکی بنیاد اور اساس کے حامل بڑے انسانی حقوق کے ادارے( ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل)، اور بہت سی سفید فام مغربی حقوق نسواں کی تنظیموں، اور عالمی ہم جنس پرستوں نے اپنے اس ڈسکورس اور اس ڈسکورس کی وکالت کے  میدان میں  مسلم دنیا کیلئے ایک خاص مقام اور جگہ  طے کر رکھے ہیں۔یہ ایک طرح کا  تسلسل “مستشرقین” ہے اور اسکے لئے امریکہ اور یورپ میں مقیم مسلم دنیا کے جدید پڑھے لکھے اذہان کو  مسلم دنیا کی نمائندگی  کرنے کیلئے چنا جا رہا ہے تاکہ وہ  مغرب میں مقیم مسلمانوں کو خاص طور پر اور غیر مغرب میں مقیم مسلمانوں کو عام طور پر ہیومن رائٹس ڈسکورس کی تفہیم اور اہمیت باور کرا سکیں۔ اس سارے عمل میں “ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم” قدرے دیر سے شامل ہوئی، اس لئے دوسری تنظیموں کے قدم کے ساتھ قدم ملانے کیلئے اسے ذرا زیادہ پھرتیاں دکھانی پڑیں۔ ایسا کرنے کیلئے  اس تنظیم کے مشنری کاموں کے حامیوں نے مسلم دنیا  کو متاثر کرنے کیلئے دو طرح کا لٹریچر تیار  کیا ہے، ایک تو  امریکن یا یورپین سفید فام مرد  گےاسکالرز (Gay Scholars) کا لکھا گیا کام ہے  جو زیادہ تر نصابی، تاریخی، ادبی، بشری نظریات پر مشتمل علمی مواد ہے  جو عرب اور مسلم دنیا کے ماضی اور حال میں “ہم جنس پرستی” کے واقعات اور مثالیں تلاش کرکے لاتا ہے، مسلم دنیا کے نام نہاد ہم جنس پرستوں کی زندگی کے احوال صحافتی رپورٹوں اور ریسرچ آرٹیکل کے ذریعے پیش کرتا ہے اور پھر اس سے  ہم جنس پرستی کی وضاحت کرتے ہوئے  اس پر عمل پیرا ہونے اور اسے مزید آگے بڑھانے کی تاکید کرتا ہے۔ اور یہ لٹریچر مغربی معاشروں کے باسیوں کو یہ تاثر دیتا ہے کہ گویا اس نے اسلام کے اندر پوشیدہ حقائق کو  اپنی تحقیق سے آشکارا کیا ہے۔ اور اس لٹریچر کا ایک اور  مقصد مغرب کے سفید فام سیاحوں (جو ہم جنس پرستی کی غرض سے سیاحت پر جاتے ہیں) کو اس امر سے آگاہ کرنا ہے کہ مسلم اور عرب دنیا میں سیر کے دوران  کہاں کہاں کسی معیارکے ہم جنس پرستی کی تسکین کے ذرائع دستیاب ہیں۔ مسلم دنیا کے حوالے سے اس تنظیم کا ایک اور مشن یہ بھی ہے کہ عرب ا ور مسلم دنیا میں “مرد و زن ہم جنس پرستوں” کی الگ شناخت اور حیثیت کو تسلیم کروایا جائے کیونکہ انکی الگ شناخت تسلیم نہ ہونے کی وجہ سے انکے انسانی حقوق محفوظ نہیں ہیں، ان پر ایک طرح کا جبر ہو رہا ہے جس کے خوف سے انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی یا تو اپنے آپ کو مرد ظاہر کرنا پڑتا ہے یا عورت حالانکہ یہ اپنے آپ کو ان دونوں مسلمہ اصناف سے الگ رکھتے ہوئے ایک تیسری  صنف کے طور پر  رہنا چاہتے ہیں۔ILGA کی شریک سیکرٹری Lisa Power کا کہنا ہے کہ “بیشتر مسلم ممالک کی ثقافتیں ہم جنس پرستی کے منظم گروہوں کو تسلیم نہیں کرتیں اس لئے یہاں ہم جنس پرستی کو منظم کرنے کے سلسلے میں لوگ بہت گھبراتے ہیں حالانکہ ان ممالک کی اپنی ثقافتوں میں مرد ہم جنس پرستی کی جڑیں بہت گہری ہیں” National Gay and Lesbian Task Force کے  پبلک انفارمیشن ڈاریکٹر اور ILGA کے ایک آفیسر Robert Bray یہ سمجھتے ہیں کہ “ثقافتی اختلافات لوگوں میں ہم جنس پرستی کی  مختلف تعریفات اور اقسام کی وجہ بنتے ہیں لیکن میرے  نزدیک اصل سوال جنسی آزادی کا ہے  اور جنسی آزادی ثقافتوں سے بالاتر ہے”۔۔ مراکش اور جنوبی اسپین میں، ہم جنسی پرستی  کے حوالے سے  وہ اپنی مہم جوئی کے بارے میں بتاتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ “کم سے کم ایک لڑکے نے ہم جنس پرست ہونے کی کھلے عام خواہش کا اظہار کیا تھا اور وہ  کسی متعین جنس (مرد ،عورت) کے زمرے میں نہیں رہنا چاہتا تھا اور اس نے یہ بھی بتایا کہ اس جیسے اور لوگ بھی ہیں جو یہی چاہتے ہیں” اور یوں ایک فرد واحد کی گفتگو سے قائل  اور اسی پر قانع ہوجانے والے Robert Bray نے ایک قطرے میں دجلہ و فرات دیکھ لینے کے مصداق، اپنے حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ “مجھے یقین ہے کہ یہ آرزو آفاقی ہے”

ہم جنس پرستوں کو آزادی دلانے کیلئے انکی الگ حیثیت اور شناخت تسلیم کئے جانے کے، “عالمی ہم جنس پرستوں” کے دعووں کے برخلاف ہمارا استدلال یہ ہے کہ  دراصل  ہم جنس پرست، Gays اور Lesbians، “عالمی  ہم جنس پرستوں” کے ڈسکورس اور لٹریچر کی پیداوار ہیں کیونکہ جہاں جہاں اس ڈسکورس یا ان  تنظیموں کا وجود نہیں ہے وہاں اگر ان لوگوں کا  نہ ہونے کے برابر کوئی وجود ہوتا بھی ہے تو وہ عام مردم شماری میں ضم رہتے ہوئے دبا رہتا ہے۔ ہم یہ بتائیں گے کہ کس طرح یہ ڈسکورس  ایک سوچے سمجھے منصوب کے تحت یہ خیال کرتا ہے کہ  ہم جنس پرست، Gays  اور Lesbians اگر انسانی گروہ ہیں جو دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور اس متعصبانہ خیال کو بنیاد بنا کر Gay International انکے حقوق کے تحفظ کو اپنامشن سمجھتے ہوئے  یہ مطالبہ کرتی ہے کہ  انہیں بطور الگ  صنف “ہم جنس پرست” کے تمام حقوق ملنے چاہیں، انہیں دوسری اصناف کے برابر عزت نفس ملنی  چاہیے۔تاہم اس حوالے سے “ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم” کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد  کا اثر اس پایے کا نہیں ہے جو آزادی کی جدوجہد کا تھا۔ ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم نے   1994 میں اسٹون وال Stonewall  بغاوت کی بیسویں برسی کے موقع پر ، اپنی ایک مشہور تنظیم ILGA کے توسط سے  ایک نئی جارحانہ عالمگیر مہم کا آغاز کیا ۔ 1993 میں ILGA کو اقوام متحدہ میں  Official NGO Status ملنے کے بعد (جو بعد میں واپس لے لیا گیا) اسکی بین الاقوامی سرگرمیوں میں شدت آگئی جن میں “ایران میں ہم جنس پرستوں کی بڑے پیمانے پر لگنے والی پھانسیوں” کو روکنے کی مہم بھی شامل تھی۔ اسی طرح  اقوام متحدہ کے سامنے “ہم جنس پرستوں” کے حقوق  کیلئے  مارچ کا انعقاد،1999 کے سال کو “ہم جنس پرستوں کا سال” کے طور پر منانے کا مطالبہ اور اقوام متحدہ کے “انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ” کا ہم جنس پرستوں، Gays،bisexual ،lesbian اور transgender لوگوں پر اطلاق کرنے کا مطالبہ بھی اس مہم میں شامل تھا۔ Rex Wockner جو کہ  عرب دنیا اور ایران میں “Gay and Lesbians” پر ایک ریسرچ آرٹیکل کا مصنف ہے، اس وقت حیرت کے مارے سر پکڑ کر بیٹھ گیا جب اسے پتہ چلا کہ  ایرانی اور عرب مرد سیکس ورکرز ، اپنی صنف اور مخالف صنف سے جنسی  تعلقات رکھنے میں تو کوئی عار محسوس نہیں کرتے لیکن انہوں نے مغربی جنس پرستوں کی طرز پر الگ شناخت سے بالکل انکار کر دیا ۔Rex Wockner شدید حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات میں  تلملا اٹھتا ہے او ر کہتا ہے  کہ “یہ منافقت ہے یا کوئی  الگ دنیا کا معاملہ ہے  کہ چار پیسوں کی خاطر ہم جنسی پرستی پر راضی ہو جانے والے  یہ مرد اندر سے پکے مرد کے بچے ہیں جو روزگار کی خاطر ہم جنس پرستی کا کام کرنے کو تو تیار ہیں  لیکن اپنی شناخت بدلنے کو  قطعاً تیار نہیں، کیا انسان فطری طور پر  ہی ہر دو جنسوں کی طرف مائل bisexual ہوتا ہے یا یہ گر صرف ایرانی اور عرب مردوں کو آتا ہے اور مغرب کے لوگ اس سے واقف نہیں؟” عرب اور مسلم دنیا کے مردوں کی خواہشات میں پائے جانے والا یہی واضح  فرق اورعدم استحکام  ہے جس  سے ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم  کوسخت تشویش لاحق ہے کیونکہ مغرب میں پائے جانے والے کثیر الجہتی اور کثیر اشکال جنس پرست ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کو تیار ہیں لیکن عرب اور مسلم دنیا میں پائے جانے والے مرد و زن یہ سب حرکتیں کرنے کو تو تیار ہیں لیکن انکے جھنڈے تلے جمع  ہو کر انکے ایک عالمی ریوڑ کی شناخت اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لئے ہم جنس پرستوں کے عالمی مشن کا مطالبہ ہے کہ  عرب اور مسلم دنیا  میں پائی جانےوالے اس مزاحمتی کردار کو  کسی نہ کسی طرح تربیت کرکے  ویسٹرنائز کیا جائے اور اسکو زیادہ سے زیادہ روشن خیالی کی طرف مائل کرتے  ہوئے استشراق نو کی خواہش Re-orienting Desire کی تکمیل کی جائے۔

مسلم دنیا اور عرب دنیا میں ہم جنسیت کے فروغ کے پیچھے وہ   مالی وظائف  کارفرما ہیں  جو مغربی ہم جنس پرستوں کو یہ امور سرانجام دینے کیلئے ملتے ہیں  اور اسی سلسلے میں ایک محقق جیفری ویکس JefferyWeeks کا کہنا ہے کہ ان  وظائف کو حلال کرنے کیلئے  اب ” بہت سے مغربی ہم جنس پرستوں نے، ایک طویل عرصے سے مسلم دنیا کا سفر و سیاحت  اس توقع کے ساتھ شروع کر دیا ہے کہ  وہ یہاں بھی جنسی جنت Sexual Paradise کو تلاش کر سکیں” وہ مزید کہتا ہے کہ “مسلم دنیا میں ان مردوں کو  جنسی مراعات دی جارہی ہیں جو  اصل مردانگی کی  مقامی تعریف پر پورے نہیں اترتے اورجن کو مقامی معاشرے میں پہلے سے نیچ اور حقیر سمجھا جاتا ہے  اور ان پر ہونے والا خرچ ،یہاں کی عورت کی آزادی کی قیمت پر ہورہا ہے” کیونکہ اگر اس ایجنڈے کیلئے مختص کیا گیا فنڈ ان مردوں پر خرچ کر دیا گیا تو ان عورتوں کو زیادہ مراعات نہیں دی جا سکیں گی جنہیں صنفی آزادی کے نام پر جنسی آزادی اور بغاوت پر اکسانا مقصود ہے۔ JefferyWeeks مسلم دنیا میں اس حوالے سے آنے والی حالیہ تبدیلیوں کا بہت گہری نظر سے مطالعہ کر رہا ہے  اور اسکے اخذ کردہ ممکنہ نتائج کے مطابق” صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ ثقافت زیادہ سے زیادہ سیکولر مغربی ماڈل کی حد تک جائے گی یا تیزی سے  ایک نئی  مذہبی عسکریت پسندی کے زیراثر آجائے گی،اس وقت یقین سے اگر کوئی بات کہی جا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ یہاں تبدیلی آرہی لیکن اسکی سمت کا تعین  ابھی ہم نہیں کر سکتے”۔ اسی طرح ایک محقق ایوریٹ روسن Everett Rowson  اورEdward Laceyعربوں کے نویں صدی سے گیارہویں صدی کے درمیان لکھے جانے والے لٹریچر کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ  ” اسلام عملی طور پر ہمیشہ سے موجود ہے  اور اب بھی ہے بعض  انتہائی متشدد مذہبی افراد کے علاوہ (جو صحیح معنوں میں مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں)  اسلام   مجموعی طور پر دیگر الہامی مذاہب کی نسبت زیادہ روادار، زیادہ آزادیاں دینے والا ،زیادہ اجازتیں دینے والا، زیادہ معاف کرنے والا  مذہب ہے”۔

ابو خلیل جو کہ ایک لبنانی پولیٹیکل اسکالر ہے اور امریکہ میں رہائش پذیر ہے  وہ کہتا ہے کہ “ہم جنس پرستی کی بنیاد عرب دنیا  کی اسلامی تہذیب میں  ایک زمانے سے موجود ہے اور یہ کہنا کہ یہاں کبھی Gay یا Lesbians کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا ،درست بات نہیں ہے”۔ ابو خلیل حوالے کے طور پر الرازی کا ذکر کرتا ہے  لیکن وہ الرازی کی بالکل غلط ترجمانی کرتا ہے۔ الرازی نے صرف یہ کہا تھا کہ “مرد نطفہ میں زیادہ طاقت ہو تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور اگر مادہ نطفہ زیادہ طاقتور ہو تو لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے” اسی طرح  الرازی کہتا ہے کہ “کچھ عورتوں میں مردوں کی خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں اور بعض کی داڑھی اور مونچھیں تک اگ آتی ہیں اور ان کو ان کو ماہواری یا تو ہوتی ہی نہیں اور اگر  ہوتو کم ہوتی ہے، اسی طرح کچھ مردوں میں  بھی عورتوں کی خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں” لیکن ابو خلیل الرازی کی بالکل غلط ترجمانی کرتے ہوئے سراسر غلط نتائج اخذ کرتے ہیں اور  کہتے ہیں کہ الرازی کے بقول “عورتوں کو مردوں جیسابنایا جا سکتا ہے اور مردوں کو عورتوں جیسا بنایا جا سکتا ہے ” اور اس فقرے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ “اسلامی دنیا میں ہم جنس پرستوں ،homosexuals،Gays،Heterosexuals وغیرہ کا تاریخی طور پر ثبوت موجود ہے”۔ابو خلیل نے مزید ثبوت کے طور پر  عربی کتابوں سے ہم جنس پرستوں کے بارے میں اشعار اور قصے کہانیوں کو پیش کیا ہے جنکا اسلا م سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ۔وہ ہم جنس پرستوں کے وجود کو ثابت کرنے کیلئے انکی الگ شناخت کو ثابت کرنا ضروری نہیں سمجھتا ،اسکے نزدیک کسی تہذیب اور زبان میں موجود کسی بھی قسم کے لٹریچر سے ملنے والے آثار اور ثبوت اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے  کہ وہاں تاریخی طور پر ہم جنسی پرستی کا وجود تھا۔

مغرب میں عام طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ اسلامی تہذیب سے مثالین غلط تشریحات اور غلط سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ مثلاً قرون وسطیٰ میں جب مغرب میں غلاموں اور  خواجہ سرائوں کو  انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا اور انہیں معمولی جرائم میں انتہائی سخت سزائیں دی جاتی تھیں اس وقت  غلام اور خواجہ سرا  ،اسلامی ممالک میں وزیر،امیر اور بادشاہت کے رتبوں پر فائز تھے، اب اسلامی تہذیب کی رواداری کی مثالوں سے ہم جنس پرستی کے وجود کو ثابت کرنا کہاں  کی علمی دیانت اور انصاف ہے؟؟ اسی طرح ایک رائٹر ہے جس کا نام “مرےMurray”ہے اسکا استدلال بتاتا ہے کہ اسلامی تہذیب کے بارے میں اسکی معلومات کس قدر سطحی اور ناقص ہیں۔ وہ عربی کتابوں میں موجود جنسی عمل کیلئے استعمال ہونے والے الفاظ کے حوالے نکالتا ہے  اور  اپنی عجیب و غریب منطق لگاتے ہوئے کہتا ہے  کہ”عربی زبان میں  زنا،دخول،مجامعت  وغیرہ وغیرہ کے الفاظ موجود ہیں جنکا صاف اور واضح مطلب یہ ہے کہ یہ وہ عمل ہے جس کے دوران ایک شخص اپنا جنسی عضو دوسرے شخص کے جنسی عضو میں داخل کرتا ہے یا کم از کم اسے چھوتا ہے اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں میں ہم جنس پرستی تاریخی طور پر موجود ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو انہیں اس عمل کیلئے استعمال ہونے والے الفاظ کو تخلیق کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی” مرے نے مسلم تہذیب کے کلاسیکل دور سے متعلق بے شمار قصے ،کہانیوں  سے حوالے جمع کرکے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ “مسلم معاشروں میں اس بات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہاں خواتین  کو الگ الگ اور سختی سے کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ، جنسی دخول کیلئے دستیاب نوجوان اور مظلوم مردوں کو قبول کیا جاتا تھا” وہ مزید کہتا ہے کہ ” عرب معاشروں کو اگر اسلام کے ساتھ ایک تعلق کے حوالے سے دیکھا جائے  تو یہ نظر آتا ہے کہ ان کی ان عادات و اطور میں کمی آئی ہے لیکن یہ چیز بہرحال ان معاشروں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی ہے”۔

عرب اور مسلم دنیا میں جدیدیت Modernization کا آغاز اس وقت ہوا جب  یورپی سامراجیت نے ان معاشروں پر سیاسی غلبہ پاکر  ان پر اپنا تسلط قائم کیا اور انہیں نوآبادیات  کی شکل دی اوریوں مغربی ثقافتی مصنوعات کے پھیلائو اور تسلط نے واقعی ان معاشروں پر اثرات مرتب کئے ہیں۔بھولے اور سیدھے سادے مسلمانوں نے  مانع حمل اور اسقاط حمل کی مصنوعات  اور تشہیر کو بہت عمومی انداز میں تصور کیا ۔انیسویں صدی کے آغاز میں فقہ اسلامی کے کچھ مکاتب فکر نے، جو  پہلے سے اسقاط حمل اور منصوبہ بندی کے حوالے سے خواتین کے حقوق کے کسی حد تک قائل تھے، انہوں نے اس حوالے سے تقریباً وہی موقف اپنایا جو مغرب میں اس حوالے سے کلیساء نے اپنا یا ہوا تھا۔مغرب کا یہ تسلط ثقافت سے آگے بڑھ کر زبان تک تجاوز کر گیا اور اس نے عربی زبان کو بھی متاثر کیا مثلاً عربی زبان میں لفظ “جنس” کے معنی  قسم  اور نوعیت کے لئے جاتے تھے اور اسکا مطلب انواع کا مجموعہ بھی لیا جاتا تھا اور یہ تصور یونانی منطق سے عربی میں منتقل ہوا تھا لیکن بیسویں صدی کے آغاز میں اس لفظ میں  حیاتیاتی جنس biological sex اور قومی اصل national origin کے مفاہیم بھی شامل ہو گئے ۔عربی کے اس لفظ جنس میں قومیت اور شہریت کے مفاہیم شامل کرنے والے ایک عرب ماہر نفسیات مصطفیٰ صفوان ہیں جنہوں نے فرانس  میں قیام کے دوران فرائیڈ کی کتابوں کے عربی میں تراجم کئے۔اور حال ہی میں Muta al Safadi   نے جب مائیکل فوکالٹ کی کتاب  “History of Sexuality” کا عربی ترجمہ کیا تو  اس نے جنسیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اس میں انگریزی لفظ sex کے تمام مفاہیم شامل کر دئے۔اور ہم جنس پرستی ،متفاوت جنسیت کی اصطلاحات  تو ابھی چند سال پہلے ہی عربی میں استعمال ہونا شروع ہوئی ہیں۔

اگرچہ عرب دنیا میں نوآبادیاتی تسلط نے ماضی قریب میں اور حال میں عرب ممالک کے مغربی حکومتوں کے ساتھ  مغرب کی من مانی شرائط پر قائم کئے جانے والے تعلقات نے، عرب دنیا کی روزمرہ  زندگی کے بیشتر پہلوئوں کو متاثر کیا ہے  لیکن  مغرب میں پائی جانے والی جنسی آزادی سے متاثر ہوکر  وہاں کی گوری خواتین کے حسن کے اسیر  بننے والوں میں ابھی تک عربوں کے صرف  امیر طبقات شامل ہیں۔ اور ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم نے ان امیر طبقات کے اندر اپنے بہت سے ہم  پیالہ اور ہم نوالہ مخبر تلاش کر لئے ہیں جن میں سے ایک چھوٹی سی اقلیت ان امیر زادوں کی ہے  جو ہم جنس تعلقات میں بھی مشغول ہیں لیکن وہ نہ تو ہم جنس پرستانہ شناخت کے متمنی ہیں اور نہ ہی  اس ایشو پر سیاست کرتے ہوئے ہم جنس پرستوں کیلئے کسی قسم کے مطالبات کے خواہاں ہیں اور یہی بات “ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم” کیلئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کہ وہ اپنے لٹریچر  میں جس دجلہ و فرات کو  مسلسل دکھا رہے ہیں  اسکا نشان قاہرہ  اور بیروت جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کے اندر موجود ہم جنس پرستوں کے چھوٹے موٹے گروہوں کے اندر بھی کہیں نظر نہیں  آتا۔واشنگٹن ،ڈی سی میں عربوں کے نام پر ایک تنظیم ضرور بنا دی گئی ہے جسکا نام ہے  US based Gay and Lesbian Arabic Society(GLAS) تاکہ عرب دنیا میں جنس پرستی کی شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں ضرور دکھایا جا سکے لیکن اسکے بانی اور ڈاریکٹر  رمزی ذکریا کے مطابق ” عرب دنیا میں ابھی تک ہم جنس پرستی کی شناخت کہیں نہیں پائی جاتی، کیونکہ عرب دنیا میں کسی ہم جنس کے ساتھ سونے یا کبھی تعلق قائم کر لینے کا مطلب  ہم جنس پرستی نہیں لیا جاتا بلکہ اسکا مطلب محض  اپننے  ہم جنس سے جنسی تعلقات لیا جاتا ہے، یہ سرگرمی ہم جنس پرستی اس وقت کہلا تی ہے جب یہ تعلقات  محض جنسی تعلقات سے آگے بڑھ کر محبت وغیرہ میں تبدیل ہو جائیں اور وہ ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہوں، اور عرب دنیا میں ایسی کوئی چیز ابھی تک نہیں پائی جاتی”   لیکن GLASS یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ  اس حوالے سے عرب دنیا میں آنے والی تبدیلی وہی رخ اختیار کرے گا جو اس نے یورپ اور امریکا میں کیا تھا اس لئے عرب ہم جنس پرستوں کی نمائندگی کرنے کا   GLASS کاعویٰ بہت واضح ہے  کہ  “اگرچہ عرب دنیا کے مرد ہم جنس پرست کے طور پر واضح شناخت کے متمنی نہیں ہیں لیکن کسی نہ کسی شکل میں انکی اس خواہش کا اظہار تو ہو رہا ہے  اس لئے GLASS کو یہ حق حاصل ہے کہ انکی نمائندگی کا دعویٰ کرے”۔

ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم کو ،عالمی سطح پر دو اور حوالوں  سے بھی تعان حاصل  ہوجاتاہے  ان میں ایک “دنیا بھر میں ایڈز کے پھیلائوں کا مسئلہ” اور دوسرا عرب اور اسلامی دنیا میں ریڈیکل اسلامک عناصر کے پھیلائو کا مسئلہ۔ ایڈز کے مرض کو  عام طور پر چونکہ لواطت اورہم جنس پرستی سے جوڑا جاتا ہے  اس لئے ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے مغربی سیاسی و سماجی اداروں کی حمایت حاصل کر لیتی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ  پچھلے بیس سالوں میں مغرب میں عرب اور مسلم دنیا میں ریڈیکل اسلامی تنظیموں  کے حوالے سے ، مصنوعی خوف اس قدر پھیلایا گیا ہے کہ عام لوگ اس حوالے سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم کی حمایت کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور یوں ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم  مغرب  میں یہ تاثر دیتی ہے  کہ وہ کم از کم  عرب امیر زادوں کو اس راستے پر ڈال کر عرب دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ روک رہی ہے۔

امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی فیصل عالم نامی شخص جو ہم جنس پرستی ٹاسک فورس کے ایک اہم ساتھی سمجھے جاتے ہیں ،نے بھی “امریکن بیسڈ الفتح فائونڈیشن” کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جو مسلمان Gay and Lesbians کی نمائندگی کی دعویدار ہے۔ یہ صاحب اپنے مغربی سامعین سے فرماتے ہیں کہ “ہم جنس پرستوں کے معاملات پر پیشرفت کے معاملے میں  “اسلام”، “عیسائیت” سے دو سو سال پیچھے ہے”، فیصل صاحب کے اس طرح کے بیان پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہے کیونکہ ہم جنس پرستی کے ایشو پر مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنا اس وقت مغرب میں سب سے بڑا منافع بخش کام ہے اور اس گنگا میں نہانے کیلئے ہر کوئی تیار بیٹھا ہے۔اس قسم کے دعوے کرنے اور بیان بازی کے بعد جس قسم کی مراعات اور سہولتیں راتوں رات میسر آجاتی ہیں اس قسم کی راحتوں کی امید بہت سے لوگ جنت کے بارے میں بھی نہیں رکھتے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم جنس پرستی کے معاملے میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کیلئے بہت سے یورپی نوجوان اسلام قبول کر چکے ہیں اور بہت سے قبول کرنے  کو تیار بیٹھے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس مقصد کیلئے قبول کیا گیا اسلام  کس کھاتے میں جائے گا؟ اس حوالے سے مراکش کے ایک سوشل سائنسٹسٹ خالد دورن Khalid Duran تبصرہ کرتے ہیں کہ “اس طرح کے لوگوں (ہم جنس پرستوں) کو اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان زیادہ روادار ہوتے ہیں یہی وجہ ہے مراکش ہم جنس پرستوں کے کھیل کا میدان بن چکا ہے اور اسکے نتیجے میں مذہبی روایتی حلقے ان غیر ملکی سیاحوں کے ذریعے بڑھتی ہوئی جسم فروشی پر سخت تشویش کا شکار ہیں” اس سلسلے میں خالد دورن مزید انکشافات کرتے ہوئے کہتا ہےکہ “چونکہ گورے ایک عرصے تک افریقی ممالک پر قابض رہے اور افریقی عوام اپنے دل میں انکے لئے سخت نفرت رکھتے ہیں اس لئے جب کسی افریقی مرد کو   کوئی گورا مرد ہمبستری کی پیشکش کرتا ہے تو وہ فوراً تیار ہوجاتا ہے کیونکہ اسکے دل میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے ماضی میں کی جانے والی زیادتوں کا بدلہ لے رہا ہے نیز سونے پر سہاگہ یہ کہ اسے اس کام کا معقول معاوضہ بھی مل رہا ہوتا ہے تو وہ اس کام کیلئے کیوں تیار نہیں ہوگا یوں نفسیاتی اور مالی راحت افریقی مردوں کو گورے مردوں کے ساتھ یہ معاملات کرنے کی بنیادی وجہ بن رہی ہے” ابو خلیل کی طرح خالد درون کا بھی یہی خیال ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا میں پائی جانے والی ہم جنس پرستی کی نوعیت مغرب سے بالکل الگ اور ہنگامی طر ز کی ہے۔

1980 کی دہائی کے آغاز سے، انقلاب ایران اور عرب دنیا میں اسلام پسندی کے عروج کے بعد اور ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم کے قیام کے آغاز سے، عرب پریس  میں ایڈز اور جنسی انحراف کے موضوعات پر کبھی کبھار گفتگو ضروری دیکھنے میں ملتی  تھی  لیکن یہ لوگ بھی بیشتر مغربی ہم جنس پرستوں کی تحریکوں کی نمائندگی کرتے  تھے اور انہوں نے عرب دنیا میں جنسی انحراف کا کبھی شاذ و نادر ہی ذکر کیا ہے  لیکن  1990 کی دہائی میں اس سلسلے میں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے ۔1994 میں قاہرہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام  “آبادی اور ترقی” سے متعلق ہونے والی کانفرنس،اور 1995 میں بیجنگ میں ہونے والی “خواتین کی عالمی کانفرنس” میں ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم کے ایجنڈے کو زبردستی فروغ دینے کی کوشش کی گئی اور عرب کالم نگاروں نے بھی اس پر بڑھ چڑھ کر لکھا۔

2000 کی دہائی میں  ،مصری حکام نے قاہرہ کے ان مقامات کو توڑنا شروع کر دیا ہے جہاں مغربی ممالک کے مصری ہم جنس پرستوں اور انکے یورپی اور امریکی سیاحوں کے ہمجولی جمع ہوئے  تھے۔11 مئی 2001 کو پولیس نے  دریائے نیل میں گھومنے والی ایک کشتی پر چھاپہ مار کر 55 افراد کو گرفتار کیا جو رنگ رلیاں منارہے تھے اور جب پتہ چلا کہ ان افراد میں چند نوجوان بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے تو انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اور پولیس نے ان باثر افراد کو کسی غلط کام میں ملوث نہ ہونے کے سرٹیفیکیٹ تک جاری کر دئے۔حالانکہ سرکاری وکلاء ان لوگوں پر بدکاری اور اسلام دشمنی کے جرائم کی دفعات لگوا چکے تھے۔ جن لوگوں پر بدکاری کے واضح ثبوت مہیا ہو گئے تھے ان کو بھی اس جرم میں جو سزائیں دی گئیں وہ  ایک سال قید سے زیادہ نہیں تھیں کیونکہ  مصر ایک زمانے سے عالمی مقتدر حلقوں کے عتاب کا شکار ہے اوروہ اپنے لئے مزید مشکلات بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔ اس کریک ڈائون کے نتیجے میں مغربی قاہرہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ اور متوسط طبقے کے مصری مرد واضح طور پر  سامنے آئے جو یورپی اور امریکی سیاحوں کے ساتھ ہم جنس پرستی کے تعلقات رکھتے تھے یا  ان کے لئے سہولت کاری کا کام کرتے  تھے ۔پولیس ان لوگوں کی انٹرنیٹ پر ہونے والی سرگرمیوں کے ذریعے انکے تمام رابطوں اور نیٹ ورک کا تعاقب کرنے میں کامیاب رہی  ۔مصر میں ہم جنس پرستوں کی سب سے مشہور ویب سائٹ gayegypt.com ہے جو انگریزی میں ہے اور یورپی اور امریکی ہم جنس پرست سیاحوں کیلئے مصر میں رہنمائی کا کام کرتی ہے۔زیادہ تر مصری مرد نوجوان جو  گورے ہم جنس پرست سیاحوں کو سپلائی کئے جاتے ہیں نہ تو انگریزی جانتے ہیں اور نہ ہی انٹرنیٹ تک انکی رسائی ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ کا استعمال جانتے ہیں۔ اس  معاملے میں اس بات کی اہمیت یہ ہے کہ پولیس انٹر نیٹ کی سرگرمیوں کے ذریعے ان تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن مصری پولیس اگر ان میں سے کسی کو گرفتار کرتی بھی ہے تو  ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم، IGLHRC اپنے مغربی عہدیداروں ، ہیومن رائٹس واچ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے میڈیا میں حکومت کے خلاف مذمتی بیانوں کی بوچھاڑ کرتی ہے  اور مظاہرے کرواتی ہے۔اور مصری حکومت کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو رہا نہ کیا گیا تو امریکی امداد بند  کروا دی جائے گی۔اور اسطرح مصری حکومت دہری مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے یعنی ایک طرف اگر ہم جنس پرستوں یا انکے حمایتیوں کو گرفتار کرتی ہے تو امریکہ اور مغرب سے دبائو میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر انکے ساتھ نرمی برتتی ہے تو ملک کے اسلام پسند عناصر دبائو ڈالتے ہیں۔ مصر کی حکومتوں کی کمزوریوں کو بھانپتے ہوئے  ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم نے متنازعہ امور کو مزید اچھالا تاکہ انکے ایجنڈے کی خوب تشہیر ہو اور ہم جنس پرستی ایک عالمی مسئلے کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے۔

اسی طرح جو لوگ ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم یا اسکی ذیلی گروپس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں یہ انکو مجبور کرتے ہیں کہ اگر وہ فاعل مرد ہیں تو صرف مردوں کے ساتھ تعلق قائم  کرنے یا صرف عورتوں کے ساتھ تعلق رکھنے میں سے کسی ایک عمل کا انتخاب کریں تاکہ انکی کیٹیگری اور شناخت واضح ہو سکے اسی طرح اگر وہ مفعول مرد ہیں تو انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ  اپنے آپ کوGay کے طور پر شناخت کرائیں۔اسی طرح اس کام میں ملوث عورتوں کو بھی مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ واضح طور پر ایک شناخت کو اپنائیں یعنی انہیں مردوں سے تعلق قائم کرنا ہے یا عورتوں سے اور اگر عورتوں سے تعلق رکھنا ہے تو واضح طور پر اپنے آپ کو Lesbians کہلوائیں۔

اس حوالے سے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ بیشتر عرب اور مسلم ممالک میں مردوں کے درمیان جنسی تعلقات کے خلاف باقاعدہ کوڈیفائیڈ قوانین موجود نہیں ہیں اور اسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم جب عرب اور مسلم دنیامیں موجود اپنے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ایجنٹوں کو ہم جنس پرستی کیلئے اکساتی ہے تو یہاں کی پولیس (باقاعدہ قوانین نہ ہونے کی وجہ سے ) انکے خلاف کوئی باقاعدہ کاروائی کرنے کی بجائے انہیں صرف ڈراتی اور دھمکاتی ہے اور بعض اوقات تشدد کا نشانہ بناتی ہے اوریہ واقعات جب منظر عام پر آجاتے ہیں تو ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نام سے خوب اچھالتی ہے۔ایک اور مشکل یہ بھی پیش آتی ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں جو لوگ سہولت کاری اور مخبری کا کام کرتے ہیں انکا تعلق تو متوسط طبقے سے ہے  لیکن جو لوگ آلہ کار کےطور پر استعمال ہوتے ہیں انکا تعلق انتہائی پسماندہ طبقات سے ہے اور وہ لوگ اپنی غربت سے تنگ آکر، چند پیسوں کی لالچ میں ان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور پولیس اگر بڑے پیمانے پر کریک ڈائون کرتی ہے تو اس کام میں ملوث بااثر طبقات کے لوگ تو فوراً چھوٹ جاتے ہیں لیکن غریب طبقات کے لوگوں پستے ہیں اور اس سے مزید مشکل یہ پیش آتی ہے کہ  پولیس کے ظلم و ستم کی داستانیں زبان زد عام ہونے لگتی ہیں، معاشرتی بدنامی میں اضافہ ہوتا ہے اورغریب اور نچلے طبقات میں بھی “ہم جنس پرستی” کا موضوع شدت کے ساتھ زیر بحث آنے کا خدشہ ہے۔اور اگر ایک بار یہ عوامی سطح پر موضوع بن گیا تو  یہ کسی وقت بھی “ہم جنس پرستانہ شناخت” میں بدل سکتا ہے اور یہی “ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم” کی چاہت  Re-orienting Desire ہے۔

حوالہ جات:

1.International Lesbian and Gay Association Constitution ww.ilga.org
2۔ International Gay and Lesbian Human Rights Commissionwww.iglhrc.org
3. Rex Wockner, Homosexuality in the Arab and Moslem World, New York, 1992
4. Jeffrey Weeks,  Sexuality and Eroticism among Males in Moslem Societies, New York 1992
5. ILGA Pink Book: A global view of Lesbian and Gay International and oppression, New York 1993
6. Edward A Lacy, English Translators’s Introduction, Gay Sunshine Press, 1988
7. As’ad AbuKhalil, A note on the Study of Homosexuality in the Arab/Islam Civilization, 1993
8. Stephen O. Murray, The Will Not to Know: Islamic Accommodations of Male Homosexuality, 1997
9. Khalid Duran, Homosexuality and Islam, Trinity Press International, 1993

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20