“نیو ورلڈ آرڈر” یا “نیو نارمل”؟ عالمی ایجنڈا کیا؟ کیپیٹلزم کہاں؟ —- نعمان علی خان

0

(کانسپریسی تھیوریز فیل کیوں ہورہی ہیں؟ دی الٹیمیٹ کانسپریسی تھیوری)

پورے مغرب میں کرونا کی صورتحال کا ذمے دار “الیومناٹی” اور دبے لفظوں میں صیہونیوں کو ٹھہرانے، اور بل گیٹس سمیت بگ فارما اور سی ڈی سی کو اس کے ایجنٹ قرار دینے کے رجحان میں یکایک اضافہ ہونے لگا تھا۔ گو، الیومناٹی کے کانسپریسی تھیورسٹس کو ایک حد تک اپنی تھیوریاں بگھارنے کی اجازت، اظہار رائے کی آزادی کے پردے میں، خود “سفید و سیاہ” کے مالکوں ہی نے دی ہوئی ہے۔ اس بار کرونا کے بارے میں تھیوریوں کو پروان چڑھنے دینا ضروری اسلئیے بھی تھا کہ ہمیشہ کی طرح رائے عامہ کا دھیان ہٹا رہے کیونکہ اصل گیم وہ ہوتا ہی نہیں جس کی جانب ان تھیوریوں کا رخ ڈھلنے دیا جاتا ہے اور جو ان تھیوریوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ اصل گیم سے توجہ ہٹی رہے یہی کانسپریسی تھیوریز کو پھیلانے کی اصل وجہ ہوتی ہے لہٰذہ اِس بار بھی خوف کی نفسیات میں مبتلا عوام الناس کو الیومناٹی کی تھیوری میں ہی اپنی فرسٹریشن کی نکاسی کا راستہ نظر آنے دیا گیا۔ مگر اب یہ غالباً طے شدہ حدود سے بڑھنے لگا تھا اور اگر سڑکوں پر عوام کا جزباتی اظہار یوں ہی بڑھتا رہتا، تو جن قوتوں کو ان کانسپریسی تھیوریز میں ھدف بنایا جاتا ہے، کچھ خبر نہیں بپھرے ہوئے عوام ان کے خلاف کس حد تک چلے جاتے۔

تو یہ وہ پس منظر ہے جس میں ایک سفید فام پولیس والے نے کیمروں کے سامنے ایک سیاہ فام انسان کو انتہائی بے دردی کے ساتھ ایسے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اور سارے امریکہ اور دنیا بھر میں وہ ویڈیو اس سوشل اور نیوز میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس پر کرونا سے متعلق کوئی بھی غیر مصدقہ ویڈیو اور خبر آزادی کے ساتھ شائع کرنا اظہارِ رائے کے کسی بھی قانون کے باوجود اب اتنا آسان نہیں رہا۔

پھر یوں ہوا کہ عوامی غیض و غضب جو کانسپریسی تھیوری کے مطابق ایک خاص رخ اختیار کرتا جارہا تھا، اِس سانحے کے بعد نسلی فسادات میں تبدیل ہوگیا۔ اس کی ایک خاص بات یہ ٹہری کہ سیاہ فام مظلوم اور بایں ہمہ بلند اخلاقی مقام پر فائز نظر آئے۔

لیکن یہ فسادات بھی اس دائرے سے آگے بڑھنے لگے جس کے اندر تمام عوامی اظہار رائے کو رکھنے کی حدود طے شدہ ہیں۔ چنانچہ انتہائی پراسرار طور پر سیاہ فاموں کے ہجوموں نے دکانوں اور مارٹس کی ویسی ہی لوٹ مار شروع کردی جس کی ریہرسل گزشتہ صدی میں نیویارک کے بجلی بریک ڈاؤن کے دوران وہاں ہوچکی ہے۔

سو، نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک دو دن گذرتے کہ سیاہ فاموں کی مظلومیت اور اخلاقی برتری کو لوٹ مار کا نظر بٹو لگ جانا تھا لیکن ان کے احتجاج پر جب لوٹ مار کا دھبہ لگ گیا تو، وہ احتجاج اسی دوران ملٹی ریشل یعنی امریکی قومی احتجاج کی شکل اختیار کرچکا ہے اور ساتھ ہی تمام مغربی دنیا میں یہ انسانی برابری کے حق میں احتجاج کی شکل اختیار کررہا ہے۔

اِس سے پہلے کہ خصوصاً امریکہ میں یہ احتجاج اب اپنی کسی متعین حدود سے بڑھے، اسے واپس “نیو نارمل” کی حدود میں آنا ہوگا۔

اللہ رحم کرے کہ اگر کہیں کسی جانب سے فائرنگ وغیرہ ہوگئ تو ایک ہی ہلے میں، گن کنٹرول اور فریڈم آف ایکسپریشن اور فریڈم آف ڈیمونسٹریشن کے کنٹرول بل بھی پاس ہوسکتے ہیں۔

ویسے تو فریڈم آف ایکسپریشن پر کام کافی حد تک ہوچکا ہے کہ سوشل میڈیا اور یو ٹیوب وغیرہ نے کرونا کے بارے میں غیر مصدقہ مواد کو ہٹانے کا پریسیڈنس سیٹ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں ابتدائی پریسیڈنس گزشتہ صدی میں کویت کی آذادی کی جنگ میں صدام کی فوج کی درگت بنانے کی خبروں پر سنسرشپ لگا کر سیٹ کرلیا گیا تھا جس کی بنیاد پر خلیج کی باقی لڑائیاں صحافیوں کو اگلے مورچوں میں سپاہیوں کے ساتھ ایمبیڈ کرکے لڑی گئیں۔ ابھی تھوڑی بہت جو سول لبرٹیز باقی رہ جائیں گی ان پر بھی ضرورت کے مطابق ہاتھ صاف کیاجاسکتا ہے۔ سوِل لبرٹیز اور بنیادی انسانی حقوق کو “نیو نارمل” کے دائرے میں لانا آج کی پوسٹ-کرونا ورلڈ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔

یہ بات تو ظاہر ہے کہ بعض امریکی ریاستوں میں آج بھی سول وار کے دور کے جذبات یادداشت میں موجزن ہیں۔ بعض کانسپریسی تھیوریز نے کرونا بحران سے متعلق امریکہ کے ریاستی وفاق کی ممکنہ توڑ پھوڑکے حوالے سے مخصوص پیشن گوئیاں بھی شروع کردی تھیں۔ چنانچہ یہ بات بھی صاف طور پر نظر آرہی ہے کہ وفاق گریز رجحانات پیدا ہوتے ہی نسلی فسادات اور نسلی تعصب کے خلاف پورے امریکہ میں شدید احتجاج کی لہر نے مرکز گریز ابھرنے والے رجحانات کو سرعت کے ساتھ دبا دیا ہے۔ اب امریکا ایک بار پھر نسل پرستی کے خلاف بحیثیت قوم “متحد” ہوچکا ہے۔ اور یوں ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امریکہ میں نسلی تعصب کی حرکیات، علیحیدگی پسندی کو کنٹرول کرنے کے مکینزم کا حصہ ہے۔ مگر اِس بار انسانی برابری اور اس کا تقدس اِس احتجاج کی شکل میں امریکہ سے باہر تک پھیل رہا ہے اور اب یہ مغربی بیانئیےمیں انسانی حقوق کی جگہ لینے والا ہے۔ سو دنیا کے “نیو نارمل” میں مغرب کا نعرہ اخلاقی بنیادوں پرانسانی نسلی برابری کی حرمت پر استوار ہوگا اور اس کے مقابلے میں چین اور ساوٰتھ ایسٹ ایشیا کی نسلوں کی بڑھتی ہوئی “اندھی” معاشی طاقت ہوگی۔

تو عرض یہ کررہا تھا کہ سول لبرٹیز کے چونچلے اب رفتہ رفتہ ریگولیٹری اقدامات کے ماتحت ہوتے جارہے ہیں، کرفیو کا تصور “نیو نارمل” کی جزیات میں شامل ہوتا جارہا ہے جس کی حد مارشل لا تک جاتی ہے۔

یہ نسلی تعصب کے خلاف لہر، علیحدگی پسند علاقوں میں گن کنٹرول لا کے نفاذ تک بھی جاسکتی ہے۔ لیکن اپنے فوری مقاصد کے حصول کے ساتھ ہی اس لہرکا اختتام ناگزیر ہے۔ کیونکہ اس کے فورا” بعد امریکہ نے کرونا سے پہلے عالمی بساط پر جو چالیں ترتیب دی ہوئی تھیں ان کو نئے سرے سے ترتیب دینا ہے۔ زیادہ تر کانسپریسی تھیوریسٹس کرونا سے پہلے اور بعد کےگیم کو ایک ہی کانسپریسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اب یہ بات بالکل واضع نظر آرہی ہےکہ کرونا سے پہلے ایک بہت تباہ کن بازی، جسے میں “کنٹرولڈ ڈیمولشن” کی بازی کہتا ہوں، لگی ہوئی تھی۔ ( کنٹرولڈ ڈیمولشن” کی تھیوری پر کسی اور وقت بات ہوگی)۔ کرونا کی ناگہانی عالمی وبا نے کنٹرولڈ ڈیمولشن کے اس پورے کھیل کی بساط ایسے وقت میں الٹ دی ہے کہ جب اس کی آخری چالیں چلی جانا تھیں۔ قدرت کا کیسا جبر ہے کہ اب گیم چینجر طاقت چین ہے امریکہ نہیں۔ لیکن امریکہ کو اپنے قومی اتحاد کو بحال رکھنے کے ساتھ ساتھ اس عالمی بساط پر واپس آنے کی بھی فکر ہے۔

کرونا کی ابتدا تک دنیا میں معاشی نظام کے مراکزکی ایک بالکل واضح جغرافیائی شفٹنگ ہوچکی تھی۔ جسے روایتی نظریاتی مباحث میں الجھی ہوئی انسانی دانش سمجھ ہی نہیں سکی۔ دنیا کے ذہین ترین لوگ بھی یہی سمجھتے رہے کہ عالمی سرمایہ داری (کیپیٹلزم) کا اصل علمبردار، مغرب اور امریکہ ہیں۔ کوئی یہ جان ہی نہیں سکا کہ اِس سرمایہ داری نظام کی کنجی اب امریکہ کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ امریکہ اور مغرب کے ہاتھ سے اِس کنجی کے نکلنے کی ابتدا، ہانگ کانگ کے چین کی عملداری میں آجانے اور چین کے ہانگ کانگ میں اوپن مارکیٹ اکانومی کے نظام کو برقرار رکھنے کی پالیسی کے ساتھ ہی ہوگئی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کنجی کیا ہے؟ ظاہر ہے “سرمایہ”۔ یہ درست ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی محنت سے بننے والی پروڈکٹ کی مارکٹنگ کے نتیجے میں پیدا کئیے گئے سرمائے کے ذریعہ مزید سرمایہ پیدا کیا جاسکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے پاس اگر نوٹ چھاپنے کی مشین ہو تو آپ جتنا چاہیں سرمایہ پیدا کرلیں۔ ہانگ کانگ کی مارکیٹ اکانومی کو سوشلسٹ معیشت میں ڈھالنے کی بجائے، چین نے اپنے پورے ملک کی اکانومی کو ہانگ کانگ کی اکانومی کے مطابق ڈھال دیا۔

اکیسویں صدی کی ابتدا ہی میں دنیا کا بیشترسرمایہ چین کی معیشت میں مرتکز ہونا شروع ہوگیا تھا اور آج حال یہ ہے کہ دنیا کا اصل سرمایہ چین کی معیشت سے منسلک ہوچکا ہے اور امریکہ کے پاس عالمی معیشتوں پر اثر انداز رہنے کیلئیے محض ڈالرز چھاپنے کی مشین رہ گئی ہے۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جب امریکہ اکنامک میلٹ ڈاوٰن سے دوچار ہوا تو ابامہ ایڈمنسٹریشن کے پاس دو آپشنز تھے۔ یا تو امریکہ کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کردیں اوریا پھر چین کے تعاون سے اپنی معیشت میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا “سرمایہ” انجیکٹ کردیں۔ وہ وقت تھا کہ عالمی سرمایہ داری نظام کے سب سے مضبوط پیشوا، یعنی امریکہ نے عملاً اعتراف کیا تھا کیپیٹلزم کی بقا کی ضمانت اب امریکہ کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ وہی وقت تھا کہ دنیا کے وہ تمام ممالک جو امریکہ کی معیشت کے ساتھ “پیگڈ” تھے سانس روکے بیٹھے تھے کہ کہیں امریکی معیشت واقعی دیوالیہ نہ ہونے لگے۔ اور وہی دیوالیہ ہونے کا خطرہ ایک “لاسٹ ڈِچ ایفرٹ” کے طور پر امریکہ کی جانب سے چین سمیت ساری دنیا کو یہ خاموش پیغام تھا کہ تم سب کی معیشت کا استحکام دراصل امریکہ کی مقروض معیشت کو سنبھالے رکھنے پر منحصر ہے۔ تب ہی یہ بات بھی واضح ہوگئی تھی کہ جدید معاشیات کی “سائنس” دراصل کِس قدر کھوکھلی تھیوری پر استوار ہے۔

کسی کو نظر آئے یا نہ آئے، اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اختتام پر اب یہ بعد ظاہر ہوچکی ہے کہ مغرب اپنے تئیں کیپیٹلزم کی تھیوری سے ماورا ہوچکا ہے۔ اور سرمایہ دارانہ نظام کا اصل مرکز، مغرب سے مشرق منتقل ہوچکا ہے۔ مغرب اور امریکہ اب اپنے اندرونی اقتصادی اور فلاحی نظام کی مضبوطی پر اپنی معیشت چلارہے ہیں اور دنیا میں ان کی اہمیت ان کی دفاعی طاقت، جنگی تجارت، سائنسی، خلائی اور میڈیکل ریسرچ کی وجہ سے قائم ہے۔ مغرب کاعالمی نظام میں کرداراِس وقت سرمایہ دارانہ اصولوں پر نہیں بلکہ ملٹری اور سائنسی ھیجمونی اور مستقبل کی دنیا کو ان ہی اصولوں پر کنٹرول کرنے کے آئیڈیلز پر استوار ہوچکا ہے۔ مغرب نہ صرف کیپیٹلسٹ اکانومی کے اصولوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے بلکہ رفتہ رفتہ ویلفئیر سٹیٹ اور بنیادی انسانی حقوق کو بھی سائیڈ لائن کررہا ہے۔ ان کے پلانرز کے وژن میں مستقبل کی سائنٹیفکلی ترقی یافتہ دنیا میں نہ تومذہبی اور نہ سوشلسٹ اور کیپیٹلسٹ کانفلکٹس ہوں گے اور نہ ہی یہ دنیا سرمایہ دارانہ معاشی اصولوں کے تحت چلائی جائے گی۔ چنانچہ وہ دنیا مارکیٹ اکانومی کی محتاج بھی نہیں ہوگی۔

قرائن بتاتے ہیں کہ یہ وہ سوچ ہے جو کرونا سے پہلے تک، لبرلز اور سیکولر نوجوانوں کے بے سمت ذہن تیار کررہی تھی اور دنیا کی ایک ایسی خاموش آوٹ لائن تشکیل دے رہی تھی جس کو بنیاد بنا کر، پرانی دنیا کی تخریب، یعنی اوپر استعمال کی گئی اصطلاح کے مطابق، “کنٹرولڈ ڈیمولیشن” کیا جانا تھا جس کے بعد ہی اکیسویں صدی کی وہ دنیا تعمیر ہونا تھی کہ جو مغرب کی ڈیپ سٹیٹ کا خواب تھا۔ لیکن اپنی آخری چالوں ہی کے وقت، اِس کرونا کی آفت نے، وہ سارا گیم الٹ پلٹ کردیا۔

موجودہ، نسل پرستی کے خلاف احتجاج کی مغربی عالمی لہر، کرونا سے پہلے کے منصوبے کی ناکامی کے بعد، آئیندہ عالمی سطح پر شروع ہونے والی “بیانیوں” کی نئی سرد جنگ میں مغرب کے جلدی میں موڈیفائی کئیے گئے انسانی اخلاقی بیانئیے کی ایک شکل کی ابتدا بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ابھی دیکھنا یہ ہے کہ نسلی تعصب کے خلاف یہ احتجاج کِس نتیجے کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ کیونکہ کرونا کی صورتحال نے تمام منصوبوں میں جلد بازی کے ساتھ تبدیلی کا عنصر بہت غالب کردیا ہے۔

کرونا کے بعد کی دنیا میں چین کے کیپیٹلزم کو کنٹرول کرنے کیلئیے ایک تو اس پر عالمی طور پر کرونا پھیلانے اور معیشتوں کو تباہ کرنے کا الزام لگا کر ایک بہت ہولناک رقم کی دنیا بھر کو ادائیگی کا مقدمہ قائم کئیے جانے کا امکان ہے ایسی رقم کہ اگر چین اس کی ادائیگی کرے تو خود اس کی معیشت کامضبوط عالمی کردار ختم ہوجائے۔ سو، لامحالہ چین اس کا متحمل نہیں ہوسکے گا یا ایسی رقم کی ادائیگی سے انکار کرے گا۔ اس کے جواب میں چین کو غیر اعلانیہ معاہدات اور مزاکرات پر آنے کو کہا جائے گا۔ یہ بات بھی یقیناً کچھ ایسی شرائط کے ساتھ ہوگی کہ چین کے لئِے اسے قبول کرنا ممکن نہ ہوگا۔ نتیجتاً چین کے عالمی بائیکاٹ کی مہم شروع ہوگی اور یوں دنیا دو حصوں میں بٹ جائے گی۔ ایک حصہ وہ جس میں مغرب کا انسانی رواداری اور فلاح کا اخلاقی چہرہ پینٹ کیا جائے گا اور دوسرا حصہ وہ جس میں چین کا نسلی برتری پر مشتمل ویسا ہی سرمایہ دار چہرہ پینٹ کیا جائے گا جیسا کہ اب تک مغرب کا پینٹ ہوتا رہا ہے۔

چین کی اِس بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کو دفاع پر ضائع کرنے کیلئیے مغرب اپنا بظاہر ترک کیا ہوا سٹاروارز پروگرام زیادہ شدت کے ساتھ شروع کرسکتا ہے جس کے جواب میں روس اور چین کو بھی ایسے ہی پروگرام پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ گو دنیا سے عالمی، نیوکلئیر جنگ کا خطرہ کم ہوجائے گا کیونکہ کوئی بھی “ٹوٹل ڈسٹرکشن” نہیں چاہتا لیکن کچھ ایسے حربے ایک دوسرے کے خلاف یقیناً استعمال ہوں گے جن سے بیلینس آف ٹیرر قائم رہے۔ لیکن اِس شر میں ایک خیر کا پہلو بھی ہے کہ ایسی کسی صورت حال میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی راہ پر بھی چل سکتے ہیں اور آپس میں مل کر دنیا کو نہ صرف کسی بڑی تباہی سے بچا سکتے ہیں بلکہ نئی دنیا میں تباہ کن ہتھیاروں کو ختم کرنے کا کوئی بامعنی معاہدہ بھی کرسکتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ چین اور روس نے مستقبل قریب کے سیناریوز کیلئیے کیا حکمتِ عملی تیار کی ہے۔ ایک بہت اطمینان بخش بات یہ ہے کہ اب امریکہ کیلئیے ایشیا میں عموماً اور افغانستان، مشرقِ وسطیٰ میں خصوصاً دخل اندازی کرنا اتنا آسان نہیں رہے گا جتنا اب تک رہا ہے۔ لہٰذہ ھندوستان جیسے ملک بھی علاقائی پلئیرز کے ساتھ مل کر چلنے میں ہی اپنی عافیت سمجھیں گے۔ یہی وہ وقت ہوگا جب ھندوستان کو مقبوضہ کشمیر سمیت اپنے مقبوضہ تمام علاقوں کو ان کے حقداروں کے حوالے کرنا ہوگا۔ پاکستان جیسے ملکوں کو بغیر کسی مغربی دخل اندازی کے اپنے ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا آزادانہ موقع ملے گا۔ اور یہی وقت ہوگا کہ چین اور روس کے ساتھ ساتھ، پاکستان، سنٹرل ایشیا، ایران، انڈیا، مشرقِ وسطیٰ، ترکی سمیت، سب کی ترقی و بقا کی ضمانت نیا چینی معاشی کلب ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20