شوہرکرے پوجا —- غزالہ خالد

0

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بغیر ماسک پہنے گاڑی میں بیٹھ کر جہاں جی چاہتا گھوما پھرا کرتے تھے نہ کسی کرو نا کا ڈر تھا اور نہ ہی کوئی خوف تھا۔

یعنی یہ کوئی تین ماہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دن ہم بلوچ کالونی کے پل پر سے گذر رہے تھے اور حسب عادت کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے ہر عبارت ، بل بورڈز اور دیواروں پر لکھے طرح طرح کے اشتہارات پڑھنے میں مگن تھے کہ اچانک ہماری نظر ایک عجیب قسم کے اشتہار پر پڑی دیوار پر کالی سیاہی سے بڑا بڑا لکھا تھا “شوہر کرے پوجا” اور نیچے کسی عامل بابا کا نام اور موبائل نمبر درج تھا بچپن سےاب تک “محبوب آپکے قدموں میں” “کالے علم کی کاٹ” کے ماہر جادوگر یا پھر “جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے” قسم کے اشتہار تو بہت پڑھے تھے لیکن “شوہر کرے پوجا” پہلی بار پڑھنے کو ملا بڑی حیرت ہوئی کہ آخر بابا جی ایسا کیا کرتے ہوبگے کہ شوہر پوجا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوگا برابر میں بیٹھے اپنے شوہر کو یہ اشتہار دکھا یا تو انہوں نے یہی کہا کہ جب تک بے وقوف بننے والے موجود ہیں بنانے والے بھی موجود رہیں گے ظاہر ہے یہ سب لوگوں کو بےوقوف بنانے کے ڈھکوسلے ہی ہیں ۔ میاں کی بات سنتے سنتے یونہی خیال آگیا کہ “شوہر کرے پوجا” اور دماغ میں گھنٹیاں سی بجنا شروع ہوگئیں پتہ چلا کہ ہم سنگھاسن پر بیٹھ چکے ہیں اور شوہر تھالی لئے سامنے کھڑے ہیں ابھی اوم شانتی اوم ہونے ہی والا تھا کہ شکر ہے گاڑی کے برابر میں ٹینکر نے زوردار ہارن بجا دیا اور ہم حقیقت کی دنیا میں توبہ توبہ کرتے واپس آگئے۔

ہمارے خیال میں ان عاملوں باباؤں کو سر چڑھانے میں خواتین کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ویسے تو ضعیف الاعتقادی میں مرد حضرات بھی کم نہیں لیکن وہ خواتین کے مقابلے میں پھر بھی بہت کم ہیں اور اسکا سب سے بڑا سبب مذہب سے دوری ہے۔ دین کی سمجھ نہ ہونا، قرآن کو سمجھ کر نہ پڑھنا، ہندوانہ رسم و رواج پر عمل کرنا خواتین کو وہمی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوسری چیز ہمارا معاشرتی نظام زندگی جس میں مرد جو یقیناَ اپنے کنبے کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کی توجہ حاصل کرنا عورت نے اپنا حاصل زندگی بنا لیا ہے۔

عورت مرد کی بھرپور توجہ کی خواہش مند ہوتی ہے، وہ مرد باپ بھی ہوتا ہے اور بھائی بھی۔ پھر جب زندگی کی گاڑی آگے رواں دواں ہوتی ہے تو شوہر ملتا ہے اور شوہر کی توجہ کی طلب میں عورت کہیں تک بھی جاسکتی ہے۔ وہی شوہر کسی کا بیٹا اور بھائی بھی ہوتا ہے یعنی بیوی کے علاوہ مزید رشتے اس کی توجہ کے منتظر ہوتے ہیں اور یوں اس کھیںچا تانی میں زندگی کی گاڑی عدم توازن کا شکار ہوجاتی ہے۔ تعلیم کی کمی، مذہب سے دوری اور ضعیف الاعتقادی عورتوں کو بابوں اور عاملوں کے در تک لے جاتی ہے جو ان کی جہالت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پتہ نہیں اس قسم کی عورت مرد کو ہمیشہ اپنا مطیع کیوں دیکھنا چاہتی ہے؟ عمر گذرنے کے ساتھ ساتھ پرانے زمانے کےسچے واقعات اور قصہ کہانیوں سے لیکر ” میرا جسم میری مرضی” اور ” کھانا خود گرم کرو” تک کے سفر میں یہی سمجھ میں آیا ہے کہ عورت شاید یہی چاہ رہی ہے کہ صرف اس کی بات مانی جائے تب ہی شاید بات “پوجا” تک جا پہنچی ہے۔

قصور عورت کا نہیں معاشرے کا ہے جس میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ شوہر مجازی خدا ہے مطلب اس کی ہر فضول بات مانو اور اس کے سامنے زبان نہیں چلاؤ چاہے وہ تمہارے سامنے غیر لڑکیوں کے ساتھ گھومے پھرے، ناجائز کام کرے، کبھی مذہب کے نام پر بیوی کو گھر میں گھونٹ دے، کبھی بیکار کے شک کر کر کے بیوی کی زندگی اجیرن بنادے، کبھی بیوی کو پیسے پیسے کو محتاج کردے اس کی اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرے لیکن بیوی کو چپ رہنا ہے۔۔۔ کیوں بھئی کیوں چپ رہے؟

اس لیے کہ اسے یہ کہہ کر رخصت کر دیا گیا تھا کہ “اب اس گھر میں واپس نہ آنا” یا “اب شوہر کے گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے گا” اس قسم کے ماحول کی پروردہ لڑکیاں جب شوہر کی توجہ حاصل نہیں کر پاتیں یا غلطی سے کسی آوارہ گرد کے ساتھ بیاہی جاتی ہیں تو پھر بھکاریوں کی طرح ادھر ادھر بابوں اور عاملوں کے گرد منڈلاتی ہیں کہ شاید جادو ٹونے سے ان کے حالات بہتر ہو جائیں۔

سارے درس تمام نصیحتیں لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں جو اس کے پیدا ہوتے ہی” ہائے پرایا دھن ہے” کہہ کہہ کر اس کے سامنے کی جاتی ہیں اسی لئے نوبت یہاں تک پہنچی ہے ۔ مرد کی زمہ داریاں کیا ہیں؟ بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا کتنا ثواب ہے؟ بیوی کے کیا کیا حقوقِ ہیں؟ مردوں کو بہت کم گھرانوں میں بتایا اور سکھایا جاتا ہے ۔ایک عقل مند مرد بہترین طریقے سے گھر کو بآسانی سنبھال سکتا ہے۔

گھر کے ماحول زہر آلود اور نفرت زدہ ہوں تو نتیجہ بھی برا ہی نکلتا ہے آج کی عورت برابری مانگتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ خود اپنے شوہراور گھر کی ایک ایک بات اپنی ماں اور بہنوں کو بتاتی ہے لیکن شوہر کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی بیوی کی کوئی بات اپنی ماں اور بہنوں سے کرلے۔ اب برابری کہاں چلی جاتی ہے؟ ویسےایک بات تو ماننی چاہیے کہ مرد بیچارے بہت کم اپنی بیوی کی برائیاں کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ہر دوسری عورت محفلوں میں یا اپنے میکے میں اپنے شوہر کی برائیاں کرتی پاتی جاتی ہے۔

گھر ایسے ہی نہیں بس جاتے قربانی، ایثار اور محبت کے ٹریفک کو ون وے نہیں بلکہ دو طرفہ چلانا پڑتا ہے دل بڑا کرنا پڑتا ہے کچھ منوانے کے لیے پہلے خود سر تسلیم خم کر نا پڑتا ہے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے جڑے رشتوں کی بھی عزت کرنی ہوتی ہے ان کو ان کا مقام دینا ہوتا ہے امیری غریبی، خوشی غمی میں ہاتھ مضبوطی سے تھامنا ہوتے ہیں پھر کسی ببںگالی بابا یا عامل کی ضرورت نہیں رہتی ویسے بھی شوہر پوجا کرتے نہیں عزت و محبت کرتے اچھے لگتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20