پی۔ فون: کیا یہ آپ کے پاس ہے ۔ ممکن ہے ہو —- اظہر عزمی

0

کل میری بیرونِ ملک مقیم ایک دوست سے بات ہوئی تو اس نے پی۔ فون کی خبر سنائی۔ میں نے کہا کہ آئی فون کا تو سنا ہے اور بھی موبائل فونز ہیں پریہ پی۔ فون کب آیا؟ بولا یہ بتائو تم اس کے بارے میں جاننا چاھوں گے ؟میں نے کہا کہ کیوں نہیں۔ کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد کہنے لگا تم تو ایڈورٹائزنگ کے آدمی ہو۔ کبھی Vertically Integrated Companyکی اصطلاح تو سنی ہوگی؟ میں نے کہا کہ ہاں وہ کمپنی جو نج سے تج سارے کا سارا کام خود ہی کرتی ہے مطلب اگر کوئی کمپنی اپنی پروڈکٹ بنا رہی ہے تو اس کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ کہنے لگا کہ پی۔ فون بھی Vertically Integrated Company کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ کمپنی کازیادہ تر وقت اسی میں صرف ہو جاتا ہے۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز نے کہا ہمارے ساتھ Collaboration میں کچھ اور بھی بنا لیں۔ جواب ہمیشہ نفی میں آیا۔ پی۔ فون کے Exclusive Rights صرف اسی کمپنی کے پاس ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی ہے کہ کوئی بھی کاپی نہیں کر سکتا۔ بڑے سے بڑے IT Specialist کو بلا لو۔ سسٹم میں گھس ہی نہیں سکتا۔

میں نے چاھا کہ اس دوران Google پر بھی سرچ کر لوں۔ نہ جانے اس کیسے خبر ہو گئی ـ۔ بولا تم کوئی بھی سرچ انجن تلاش لو۔ دور دور تک کوئی لنک نہیں ملے گا۔ میں نے کہا پھر تو یہ کوئی کہانی لگتی ہے۔ ایڈورٹائزنگ کے بغیر تو آج کل مٹی نہیں بکتی۔ دوست کسی بات کو خاطر میں نہیں لا رہاتھا۔ میں نے کہا کہ جب پروڈکٹ میں جان ہو تو کسی ایڈ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پی۔ فون ملنے کی ایک مخصوص اہلیت ہے۔ اگر آپ میں وہ نہیں تو آپ سر پٹخ لیں۔ کچھ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا سب صحیح لیکن اس کی خاص بات کیا ہے؟ اس نے مجھ سے کہا پوچھو؟ میں نے کہا کہ آج کی ٹیکنالوجی صبح کچھ ہوتی ہے تو شام کچھ۔ آئے دن نئے فیچرز، نئے ماڈلز آتے رہتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کا Built in Mechanism ایسا ہے کہ تم صبح، شام کی بات کر رہے ہو یا لمحاتی تبدیلوں پر پورا اترتا ہے۔ اس کا ماڈل اور فیچرز آنے والے ہر زمانے سے مطابقت بنا لیتے ہیں۔

پی۔ فون تو مجھے حیران کئے جا رہا تھا۔ میں نے سوچا بیٹری کی لائف اور چارجنگ تو سب ہی کا مسئلہ ہے۔ کہنے لگا اس کی بیٹری لائف ٹائم ہے۔ اسے کسی چارجر کی ضرورت نہیں۔ پی۔ فون ہاتھ کے لمس سے چارج ہوجاتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ پی۔ فون کس کے نام پر Activate ہوا ہے۔ دوست کے پاس ہر بات کا جواب تھالیکن میں بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کہا کہ سِم کیسے ملتی ہے؟ مسکرایا اور بولا کہ سِم اس میں پہلے سے موجود ہے جس کا پی۔ فون ہے۔ سِم خود بہ خود اس کے نام پر ہوجاتی ہے۔ کسی Thumb Impressionاور CNIC کی ضرورت نہیں پڑتی۔ میں جانتا ہوں تمھارا اگلا سوال پاس ورڈ کا ہوگا۔ اس کے پاس ورڈ کا اگر پوری دنیا کو بھی پتہ چل جائے تو تب بھی پی۔ فون صرف وہی کھول سکتا ہے جس کے نام یہ سے Activate ہواہے۔

میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کس قسم کے موبائل فون کی باتیں کر رہا ہے۔ دوست کو کہا کہ تم جتنی تعریفیں کر لو۔ سگنل کا پرابلم تو رہتا ہی ہے۔ دوست نے کہا کہ پرابلم کس بات کی۔ اس کے سگنل Catch کرنے کی صلاحیت کئی کلو میٹرز تک پھیلی ہوئی ہے۔ بہت معمولی سے سگنل بھی ہو تو باقی کمی خود پوری کر لیتاہے۔ تھک ہار کر میں نے کہا کہ میموری تو ہر حال میں کبھی نہ کبھی کم پڑ ہی جاتی ہے۔ دوست نے پھر حیران کردیا۔ کہنے لگا۔ یہ GB والا سلسلہ اس میں ہے ہی نہیں۔ Infinite Memory کی حیرت انگیز ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔ دوست نے کہا جب میں تمھیں اس کی سروسز کے بارے میں بتائوں گا تو تمھاری حیرانگی آسمان کو چھوئے گی۔ پی۔ فون کابِل آپ کو ادا نہیں کرنا ہوتا جنہیںآپ کال کرتے ہیں۔ وہ ادا کرتے ہیں۔ یہ لائف ٹائم پیکیج ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ آئے دن ڈسکائونٹس دیتا رہتا ہے۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آ گئی۔ کوئی پاگل ہی ہوگا کہ کال میں کروں اور ادا وہ کرے۔ وہ کال کرنا تو دور کی بات میری کال ہی کاٹ دے گا۔

دوست نے بتایاکہ پی۔ فون کی خاص بات یہ ہے کہ آپ جس کو کال کریں گے وہ ہر صورت آپ کو جواب دے گا کیونکہ جس کا نمبر پی۔ فون کا ہوگا وہ سب سے اہم ہوگا۔ بس پی۔ فون میں ایک خرابی ہے۔ میں نے سوچا اب دوست کہے گا کہ یہ ہے ہی نہیں۔ کہنے لگا اس میں مخصوص نمبرز وہ بھی کم تعداد میں Save ہو سکتے ہیں جس کا فیصلہ پی۔ فون خود کرتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ Save کر لے تو پھر کبھی Delete، Hide یا Blockنہیں کرتا۔ مجھے موقع مل گیاہاں تو بھائی پھر فائدہ کیا ایسے فون کا کہ ہم اپنے نمبرز بھی ایڈ نہ کر سکیں۔ دوست نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیااور بولا اس میں بھی آپ کا ہی فائدہ ہے۔ اچھا سنو! ان خوبیوں کا تو تم عام موبائل فونز سے شاید مقابلہ کر سکتے ہو لیکن اب جو کچھ میں تمھیں بتانے جا رہا ہوں وہ ذرا مختلف ہے۔ بلڈ پریشر، شوگر، دل کی دھڑکن تو موبائل فونز بتا دیتے ہیں لیکن پی۔ فون آپ کے احساسات اور جذبات سیکنڈوں میں جان لیتا ہے۔ آپ غصے، پریشانی، گھبراہٹ جس کیفیت میں بھی ہوں جانچ لیتا ہے اور پھر آپ کو مطمئن رکھنے اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لئے SMS کرتا رہتا ہے۔ خوش ہوں تو تہینیتی پیغامات بھیج کر مبارکباد دیتاہے۔ نیٹ ورک کے اور نمبروں کو بتاتا ہے۔ گر آپ اپنی راہ سے ہٹ کر چلیں تو مطلع کرتا ہے کہ یہ آپ کا راستہ نہیں۔ نہ مانیں تو بار بار مطلع کرتا ہے۔ اگر آپ دل ہی دل میں صبح اٹھنے، کہیں جانے کا سوچ لیں تو سمجھیں اب یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ حقیقت میں آپ کے دل و دماغ سے منسلک ہوتا ہے۔

جب دوست نے اتنا کچھ کہہ دیا تو میں نے پوچھا بھائی یہ تو بہت مہنگا ہوگا اورخطرناک بھی۔ ہم تو پتہ نہیں کیا سوچتے رہتے ہیں۔ دوست نے کہا کہ مہنگا ترین ہے لیکن سستا ہے اور جہاں تک بات خطرناک ہونے کی ہے تو یہ رازدار ہے۔ سمجھاتا ہے بہکاتا نہیں۔ میں نے کہا کہ سائنس کی ترقی نے دنیا کیا سے کیا کردی ہے۔ دوست نے بتایا کہ سائنس کا اس ٹیکنالوجی سے کوئی تعلق نہیں۔ پی۔ فون دنیا کی سب سے پرانی ٹیکنالوجی سے بنا ہے۔ اس وقت ہماری سائنس غار کے اندھیروں میں، میں، پہاڑوں کی سختیوں میں، سمندروں کی گہرائیوں میں اورفضا کی بلندیوں میں کہیں سو رہی تھی۔ میں چونک گیا۔ وہ بولتا چلا گیا۔ اگر ہم اسے اپنی دنیا میں ٹیکنالوجی کہتے ہو تویہ اس وقت سے ہے جب سے انسان زمین پر آیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی والدین کے دل و دماغ میں ڈالی گئی ہے جسے شفقت ِ والدین کہتے ہیں۔ ایک ایسی شفقت جو بے لوث، بے خوف اور کسی لالچ، صلے، ستائش اور انعام کے بغیر ہے۔ آ ج کل کیونکہ انگریزی کا زور ہے اس لئے اسے پیرنٹس فون کی وجہ سے پی۔ فون کہہ رہا ہوں۔ ورنہ یہ پی۔ فون تو اسی وقت وجود میں آگیا تھا جب اشرف المخلوقات نے پہلے بچے کو جنم دیا تھا۔ فیچرز روز ِاوّل سے ایک جیسے ہیں۔ آپ اسے ٹیکنالوجی کہتے ہیں ورنہ زندگی تو اسے شفقتِ والدین کہتی ہے چاھے اولاد عمر کے کسی بھی حصے میں ہو۔ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا بے تار مگر لگا تار نیٹ ورک ہے جسے قدرت نے والدین کے دل و دماغ میں قائم کیا ہے اور قیامت تک رہے گا۔ والدین دنیا میں نہ بھی ہوں توان کی طرف سے کسی نہ کسی طور کنکشن برقرار رہتا ہے۔ چاھے آپ والدین کو یاد رکھیں نہ رکھیں، وہ نہیں بھولتے۔

میں نے اس سے آخری سوال کر ڈالا کہ تمھیں پی۔ فون کا کب پتہ چلا۔ اداس ہوگیا، بولا کہ جب والدین دنیا میں نہ رہے۔
اکثر لوگوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ اب اس کی سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔ پھر ایک دم لگا کہ وہ کسی سے کہہ رہا ہے ـ”اچھا، نہیں روتا”۔ مجھے لگا کہ اس کا کنکشن ہوگیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20