زمانے بعد مری خامشی سنی اُس نے: آصف فرخی کی یاد میں —- قاسم یعقوب

0

میں شام کو گہری نیند میں تھا۔ بیوی نے بتایا کہ کوئی کال آ رہی تھی۔ میں نے بات کو سنی ان سنی کر دیا مگر گہری نیند سے کچی نیند میں چلا گیا۔ جانے میں نے کچی نیند کے خواب میں کیا دیکھا کہ یک دم مجھے موبائل فون کا خیال آیا، جسے میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے بستر ٹٹولنے کے بعد تلاش کر لیا۔ سکرین کے دھندلے عکس ظاہر ہو رہے تھے۔ اچانک میری نظرعقیل عباس جعفری کی پوسٹ پر پڑی جس میں آصف فرخی کے انتقال کی خبر سنائی گئی تھی۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں ابھی تک ہوش میں نہیں ہوں۔ کمرے میں تاریکی زیادہ بڑھ رہی تھی۔ میں فورا بستر سے اٹھا اور اس خبر کے جھوٹے ہونے کا ناٹک کرنے لگا مگر کچھ سیکنڈز کے بعد میں دوبارہ اس پوسٹ کوکسی مہیب خوف کی طرح ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا۔ میری انگلیاںسکرین کو اوپر دھکیل رہی تھیں اور میں تیزی سے انھیں نظرا نداز کرتے ہوئے پڑھتا جا رہا تھا۔ احباب کی خبریں مجھ پر ایسے گزر رہی تھیں جیسے چوہے میرے جسم کو نوچ رہے ہوں۔ میں لمبی لمبی سانس کھینچتا ہوا یہ سب تکلیف برداشت کر رہا تھا۔ بالآخر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ بیوی نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو بھاگی بھاگی آئی۔ ہم کچھ دیر کے لیے خاموش چھت کو دیکھتے رہے۔

آصف فرخی کا انتقال ادب کا ہی نہیں بلکہ ہماری کمائی ہوئی مہذب دنیاکا بڑا واقعہ ہے۔ ان کا یوں اچانک نکل جانا گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

آصف فرخی سے میرا پہلا تعارف میرے رسالے “نقاط” کی وجہ سے 2006ء میں ہوا۔ جب میں نے انھیں پہلا شمارہ پوسٹ کیا تو ان کا طویل فون آیا اور رسالے کے مندرجات پر گفتگو کرتے رہے۔ دوسرے ہی شمارے میں انھوں نے اپنا مضمون بھجوا دیا۔ اب تک کے کئی شماروں میں فرخی شائع ہوتے رہے۔ ابھی کچھ دن پہلے تک وہ اپنی تازہ کہانی نقاط کے لیے بھجوا نے کے لیے مجھ سے فون پر رابطے میں تھے، جو نقاط کے 17ویںشمارے میں شائع ہو رہی ہے۔ یونیسف کے معاملات کے سلسلے میں وہ اکثراسلام آباد آتے رہتے۔ یوں ہماری ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہم اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں اکٹھے ہوتے۔ میرے قریبی دوست سعید احمد اورمحمدعاصم بٹ سے بھی ان کی گاڑھی چھنتی تھی، لہٰذا وہ مجھے جب بھی ملاقات کا کہتے، ساتھ سعید یا عاصم کو لانے کا کہتے۔ کبھی کبھار مجھے عاصم بٹ سے خبر ملتی کہ فلاں دن فرخی اسلام آباد آ رہے ہیں، فلاں ہوٹل میں ٹھہریں گے، ملاقات کے لیے جائیں گے۔ ایک دن وہ اسلام آباد ہوٹل، میلوڈی میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں اور عاصم بٹ ملاقات کے لیے گئے۔ وہاں دیگر قصوں میں سارا شگفتہ کا طویل قصہ بھی زیرِ بحث آیا۔ فرخی سارا شگفتہ کی بہت قریبی محفلوں کا حصہ رہے تھے۔ بہت عرصے بعد ایک بہت پرانا مضمون بھی نکال کے مجھے نقاط کے لیے دیاتھا جو انھوں نے اسّی کی دہائی میںسارا شگفتہ کی موت پر لکھا تھا۔ وہ سارا شگفتہ کی موت کی پراسرایت کو مزید پراسرار بنا کے بولتے جا رہے تھے۔ میں اور عاصم بٹ ان کی باتیں سنتے رہے۔

ایک دن اسی اسلام آباد ہوٹل کے ایک کمرے سے ہم نیچے اترے تو لابی کے کونے میں احمد فراز بیٹھے ہوئے تھے۔ آصف فرخی ہمیں لے کے ان کے طرف چل پڑے۔ فراز سے نہایت بے تکلفانہ گفتگو کرتے رہے۔ فراز کی عادت تھی کہ وہ مذاق بہت کرتے تھے۔ اس موقع پر بھی وہ خوب مذاق کرتے رہے۔

آصف فرخی کو بیک وقت اردو اور انگریزی ادبی دنیا میں شناسائی تھی۔ ان کا مطالعہ دونوں زبانوں میں باخبر ادیب کی طرح تھا۔ ہر اچھی اور معروف کتاب ان کی میز پر ہوتی۔ مجھ سے کبھی کبھارنئے شعرا اور ادبی شخصیات کے متعلق پوچھتے رہتے اور اپنے رسالے ’دنیا زاد‘ کے لیے ان سے تحریریں منگوانے کا کہتے۔ وہ ادبی حلقوں کے بہت قریب رہتے۔ ہر محفل اور پروگرام میں پہنچنے کی کوشش کرتے، حتی کہ اپنی وفات سے دو دن پہلے بھی ان کی حلقہ اسلام آباد میں صدارت رکھی ہوئی تھی۔ مدیر کبھی اچھا رسالہ نہیں نکال سکتا جب تک وہ Grass Roots سطح کی معلومات نہیں رکھتا۔ “دنیازاد”کے ضمن میں وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔

’شہزاد زاد‘ کے نام سے ان کا ایک پبلشنگ ہائوس بھی تھا۔ اس ادارے کے نام سے انھوں نے سیکڑوں کتابیں شائع کیں۔ کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں وہ اس قدر محتاط اور معیار کا خیال رکھتے تھے کہ ضخیم مسودوں کو خودہی پڑھتے۔ ان کا کوئی ادارتی بورڈ نہیں تھا جس کی سفارش پر کتاب شائع کر دی جاتی۔ بہت سے مسودے طویل قرات کے بعد مسترد کر دیتے مگر معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کرتے۔ ایک دن اسلام آباد میں آکسفرڈ ادبی میلے میں، میں نے انھیں کتابوں کی دکان پر کچھ حساب کتاب کرتے دیکھا۔ مجھے دیکھتے ہی فورا اپنی تازہ کتاب ” چراغِ شبِ افسانہ” تھما دی اور کہا کہ چند کاپیاں ہی ملی ہیں، لے لو، ختم ہو جائیں گی۔ وہ دوکان دار سے پیسوں کا پورا پورا حساب مانگ رہے تھے۔ دوکان دار نے چند سو روپے مزید ان کے حوالے کر کے معاملہ ختم کیا۔ ہوٹل کی راہداری کی طرف چلتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیا حساب کتاب میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ‘شہرزاد’کے کچھ پیسے رہ گئے تھے بھجواتا نہیں تھا۔ وہ حساب پوچھ رہا۔ میں نے کہا کہ اتنے تھوڑے سے پیسے ! رہنے دیتے۔ مجھے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے: “نہیں بھیا، ادارے ایسے نہیں چلتے۔ یہ’ شہرزاد ‘کے پیسے ہیں، وہ میں پورے رکھتا ہوں۔ ” مجھے اندازہ ہوا کہ وہ دنیا زاد، تراجم، کہانیاں، ادبی میلے اور بے پناہ مطالعہ کے ساتھ ساتھ کس طرح دوکان داروں کے ساتھ معاملات تک میں اپنا آپ خرچ کرتے رہتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنے قیمتی اوقات کی قربانی دینے میں کسی طرح بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔

جناح سپر مارکیٹ کے قریب ہی وہ ایک ریسٹ ہائوس میں آ کے ٹھہرتے اور مجھے فون کرتے کہ فوراًآ جائو۔ میں جناح سپر پہنچ کے انھیں ریسٹ ہائوس سے برآمد کرتا اور ہم کسی چائے والے کی تلاش میں نکل پڑتے۔ ہم اکثر جناح سپر مارکیٹ کے فاسٹ فوڈ ہاٹلوں میں بیٹھا کرتے۔ میرے ساتھ ایک دفعہ صفدر رشید بھی تھے۔ ان کا مزاج تھا کہ وہ کسی علمیت کے رعب کے بغیر گفتگو کرتے۔ انھوں نے کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ وہ آج کل فلاں پڑھ رہے ہیں اور فلاں چیزیں تم لوگوں نے نہیں پڑھ رکھیں۔ ہمارے اکثر صاحب مطالعہ ادیبوں کی عادت ہے کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنا مطالعہ شئیر کرنے کی بجائے اسے ایک رعب کے طور پر استعمال کریں۔ جب “بکر پرائز” کا معاملہ آیا تو وہ ان دنوں اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ جناح سپر مارکیٹ کے ایک سیمنٹ کے تھڑے پر بیٹھے انتظار حسین کے ناول “بستی” (ترجمہ: فرانسس ڈبیوپریچٹ) پر گفتگو کرتے رہے۔ مگر بعد میں لیڈیا ڈیوس کے حق میں قرعہ نکلاتھا۔ انھوں نے اس پر”دنیا زاد” کا ایک مضبوط نمبر بھی نکالا۔

ہماری ملاقاتوں میں ایک خوبصورت شام منشا یاد صاحب کے گھر دعوت بھی تھی۔ مجھے ایک روز آصف فرخی صاحب کا فون آیا کہ میں آج اسلام آباد پہنچوں گا اور منشا یاد صاحب کے گھر جانا ہے۔ تم جناح سپر آ جانا۔ ‘‘ میں ان کو لینے پہنچ گیا۔ یہ اگست 2011ء کا واقعہ ہے۔ منشا صاحب کمال کے آدمی تھے۔ انھوں نے ہماری خوب خاطر مداورت کی۔ ساتھ ہی ادبی معاملات پر ڈھیر ساری باتیں ہوتی رہیں۔ منشا صاحب آصف کے والد اسلم فرخی کے متعلق بھی گفتگو کرتے رہے۔

فروری2014ء میں انھوں نے مجھے کراچی آمد کا کہا۔ میں بہت اشتیاق میں پہلی دفعہ کراچی جا رہا تھا۔ وہ کس قدر محبت اور خلوص سے مجھے کراچی بلانا چاہ رہتے تھے۔ وہ اکثر کہتے کہ تم نے ابھی تک کراچی کیوں نہیں دیکھا۔ ہم برٹش کونسل کی ایک ترجمہ ورکشاپ کے لیے مدعو تھے۔ میرے ساتھ نجیبہ عارف اور محمد عاصم بٹ بھی تھے۔ ایک ہی جہاز سے ہم کراچی اترے۔ کراچی پہنچتے ہی عرفان جاوید ہمیں لینے ہوٹل پہنچ گئے۔ انھوں نے ہمیں اطلاع دی کہ آصف فرخی کے گھرچلنا ہے۔ یہ ایک خوبصورت ’اکٹھ ‘ تھا جس میں افضال سید، عذرا عباس اور انور سن رائے بھی موجود تھے۔ عرفان جاوید اور کاشف رضا نے ہمیں کراچی کی خوب سیر کروائی۔ فرخی ہم سے پوچھتے رہے کہ آج کدھر گئے اور کیا آپ فلاں جگہ نہیں دیکھ پائے، فوراً وہاں بھی جائیں۔

آصف فرخی کو اردو اور انگریزی زبان پر عبور تھا۔ ا ن کا خاندان ڈپٹی نذیر احمد کا خاندان تھا۔ ان کے والد فرخ آباد سے تعلق رکھتے تھے، اسی مناسبت سے وہ اپنے نام کے ساتھ ‘فرخی’ لگاتے۔ سراپا عاجز ادیب تھے۔ ہم بہت آسانی سے بڑے ادیبوں کی ایک فہرست مرتب کر سکتے ہیں جو کبھی کسی محفل میں نظر نہیں آتے اور خود کو ایک فاصلے پر رکھتے ہیں۔ فرخی صاحب کا کمال یہ تھا کہ وہ ادیبوں اور محفلوں کے بغیر رہ ہی نہیں پاتے تھے۔ یونیسف کی بھرپور اور مشکل جاب کے ساتھ ساتھ وہ ادب کو بھی پورا وقت دیتے رہے۔ حبیب یونیورسٹی سے منسلک ہونے کے بعد انھوں نے اپنے رابطوں کو مزید تیز کر دیا تھا۔ انٹرویو نگاری ان کا محبوب مشغلہ رہا۔ انھوں نے بڑے ادیبوں کے انٹرویو کیے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ صرف انٹرویو نہیں بلکہ تنقیدی مرقعے ہیں۔ انھوں نے دنیا بھر کی سیر کی تو اپنے سفر ناموں میں محفوظ کر دی۔ آصف فرخی کے سفرنامے ایک الگ جہان رکھتے ہیں۔ روایتی سفرناموں سے بہت مختلف اور مطالعے سے مزین اردو کے منفرد سفر نامے۔ ترجمے کے حوالے سے بھی آصف فرخی کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ متعدد جامعات میں ان کے تراجم پر کام ہو رہا ہے۔

افسانوں کی دنیا سے وہ کبھی نہیں نکل پائے۔ عرفان جاوید نے ان کے افسانوں کا ایک انتخاب ’سمندر کی چوری‘ کے نام سے کر رکھا ہے جس میں ان کے تخلیقی سفر کو با آسانی سمجھاجا سکتا ہے۔ آصف فرخی کی تنقید روایتی اور جامعاتی تنقید سے بہت ہٹ کے ہے۔ ان کی دو کتابیں” عالمِ ایجاد” اور” نگاہِ آئینہ ساز میں”میں ان کے تنقیدی اسلوب نے تنقید کو فکشن کے قریب کر دیا ہے۔ حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ” ایک کہانی نئے مضمون کی” میں ان کے بکھرے تنقیدی مضامین ہیں جو گزشہ ایک دہائی میں لکھے گئے۔ یہ آخری تنقیدی کتاب تھی جو انھوں نے اکادمی ادبیات کے لیے ’’انتظار حسین : معمار ادب سیریز‘‘ کے بعد لکھی۔ انتظار حسین والی کتاب میں ہی انھوں نے انتظار صاحب پر اپنے دیگر مضامین جمع کر کے’’چراغِ شبِ افسانہ: انتظار حسین کا جہانِ فن‘‘ کے نام سے 2017ء میں شائع کروائی۔

افسانوں کے مجموعوں “میں شاخ سے کیوں ٹوٹا، ایک آدمی کی کمی، چیزیں اور لوگ، شہر بیتی، اسمِ اعظم کی تلاش” وغیرہ کے علاوہ ان کے سفرنامے بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ مختصر سفرناموں کی کتاب “قید مقام” میں آصف فرخی کے سفرنامچے تنقیدی مطالعے بنے ہوئے ملتے ہیں۔ اس کتاب میں”سفرنگ اور سفاری، “سرشتہ داری: ایک منتی کہانی” وغیرہ کو پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ کہانی، تنقید اور سفرنامہ تینوں اصناف کو یک جا کر چکے ہیں۔

آصف فرخی نے پاکستان میں ادبی کلچر کے فروغ کے لیے ادبی میلوں کا آغاز کیا۔ وہ آکسفرڈ ادبی میلے کے بانی تھے۔ بعد میں انھوں نے ’’ادب میلہ‘‘ کے نام سے ایک اور ادبی میلے کا اجرا کیا، جسے وہ پورے پاکستان میں پھیلانا چاہ رہے تھے۔

ہر شخص اپنی فضا تیار کرتا ہے۔ کوئی شخص کسی کے خلا نہیں بھرتا۔ جب کوئی آدمی مر جاتا ہے تو وہ واقعی ایک خلا چھوڑ جاتا ہے۔ اُس کا خلا کسی سے پُر نہیں ہو سکتا۔ جو آدمی اُس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اصل میں اپنی فضا تخلیق کر رہا ہوتا ہے۔ یوں ہر شخص اپنی فضا میں یکتا اور اکیلا ہے۔ اس کے جانے کے بعد اُس کی کمی ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ کلاس روم کے ڈیسک نہیں کہ ایک خالی ہو تو دوسرا بچہ آکے بیٹھ جائے، ایک جماعت پڑھ کے اگلی جماعت میں چلی جائے اور دوسری ان ڈیسکوں پر آجائے۔ یہ زندگی کا وہ تخلیقی سرمایا ہے جو ہر آدمی کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔ فرخی کا سرمایا ان کا کمایا ہوا تخلیقی سرمایا ہے، جو ان کے ساتھ ہی رہے گا، کوئی اس کو مکمل یا آگے نہیں بڑھا سکتا۔ خیر سے ان کا سرمایا اتنا زیادہ اور اتنا ہمہ گیر ہے کہ انھیں مزید روزی رزق کمانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ فرخی اس چمنستاں میں ہمیشہ سرخ گلاب کی طرح ایک کونے میں راہداری کے ساتھ مسکراتے رہیں گے اور اپنے ہونے کا حساس دیتے رہیں گے۔

انھوں نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ صرف کام کیا جانا چاہیے۔ صرف کام ہی یاد کیا جاتا ہے اور وہی انسان کے ساتھ نیک کمائی کی طرح جڑا رہتا ہے۔ آصف فرخی بہت جلدی رخصت ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میلے میں جائو تو میلے کے ’کلّے‘‘ اکھڑنے سے پہلے میلے سے واپس آ جاو۔ کیوں کہ میلے کی رونقیں جب ماند پڑ رہی ہوں تومیلے کا سارا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا کا بھرامیلہ چھوڑنا مشکل تو ہوتا ہے مگر چھوڑنے والے کو میلہ کبھی نہیں بھولتا۔ آصف چوں کہ کہانی کار تھے اس لیے وہ کہانی میں اپنے کردار کو چھوڑ کے الگ ہو گئے۔ یہ کہانی ختم نہیں ہوگی اور کوئی کردار کسی کردار کا متبادل بھی نہیں ہوتا، سو یونہی کہانی چلتی رہے گی، اپنے یادگار کرداروں کے ساتھ۔

’’ آصف اسلم‘‘خاموش ہوئے ہیں مگر’’ آصف فرخی‘‘کی خاموشی اب بولنے لگی ہے:

زمانے بعد مری خامشی سنی اُس نے

اُسے خبر ہی نہیں تھی میں اتنا بولتا ہوں

(انجم سلیمی)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20