میرا مطالعاتی سفر اور پسندیدہ کتب —– آصف فرخی — حصہ دوم

0

مضمون کے پہلے حصہ کا لنک

مصنفین سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہونے سے پہلے ہی میں بہت سارے مصنفین سے مل چکا تھا۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جن سے جی چاہتا تھاکہ اُن سے مزید ملا جائے جیسے قرۃ العین حیدر سے کئی بار ملا۔ لیکن اتنا نہیں مل سکا کیوں کہ قرۃ العین حیدر جیسی باکمال Conversationalist میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی۔ میں پہلی بار لکھنو جارہا تھا تو دلی میں رکااوراُن سے ملاقات ہوئی۔ تومیں نے کہا کل لکھنو جارہا ہوں تو کہا ارے لکھنو۔ فلاں جگہ دیکھنا وہ ایسی جگہ ہے انھوں نے آدھے گھنٹے کے اندرشہرکی تصویر لاکھڑی کی یہ اور بات ہے کہ جب میں اُس شہر میں گیا تو مجھے وہ تصویر کہیں نظرنہ آئی اور وہ خاصا مایوس کن شہرثابت ہوا البتہ جو عینی آپا کی گفتگو کا سحر تھا انھوں نے اُس شہر کو زندہ کردیا بہت جی چاہتا تھاکہ اُن سے کسی طرح اور ملا جائے لیکن ظاہر ہے کہ فاصلے رکاوٹ تھے۔ حسن عسکری صاحب کے پاس میں جایا کرتا تھا مجھ میں اور اُن میں عمر کا بڑا فرق تھا وہ بہت مزے کی باتیں کرتے تھے ظاہر ہے کہ میں اُن سے بے تکلف ہوکر بات نہیں کرسکتا تھا بہت سی باتیں اُن سے سیکھنے اور جاننے کا موقع ملامیں اُن سے پوچھتا کہ آپ نے فلاں کتاب پڑھی ہے توکہتے کہ کتاب بعدمیں پڑھوں گا پہلے نماز کا وقت ہوگیا ہے آئو نماز پڑھتے ہیں۔

تبصرے میں یہ ہوتا ہے کہ کتاب کو پڑھنے کاجو تاثر ہے وہ محفوظ رہ جاتا ہے ورنہ یہ حال ہوگیا ہے کہ جیسے نظیر صدیقی مرحوم نے ایک بات کہی کہ صاحب اس موقع پرایک آدمی نے کیا اچھی بات کہی اور بھلا سا نام تھا جو بھول گیا ہے اوراُس نے جس بارے میں بات کی اُس کتاب کانام میں بھول گیا۔

ذوق مطالعہ میں بچوں کو حصہ دار بنانے کی بات ہے تو میری دونوں بیٹیوں کو ماشاﷲ پڑھنے کا بہت شوق ہے بہت غیر معمولی طور پر پڑھتی ہیں اورپھر ان کا ادب کا اچھا مطالعہ ہے لیکن اردو کا اتنا مطالعہ نہیں ہے کیوں کہ سکول میں تعلیم سے اردو پڑھنے کاجو شوق ہوتاہے وہ نہیں ہے یہ بات میں اس لیے بھی کہہ رہاہوں جب میں سکول میں تھا تو نصاب کے ذریعے سے مجھے اردو پڑھنے کا کبھی شوق نہیں ہوا اگر اردو کو اپنے والد کے مطالعے سے یاگھر میں جو چیزیں دیکھی ہیں اس حوالے سے جاری نہ رکھا ہوتا تو میں اردو ادب سے منسلک نہ ہوتا۔

ذاتی لائبریری میرے گھر کے ہرکمرے میں کتابیں رکھی ہوئی ہیں اورمیرے گھر والے اس سے بیزار بھی ہو جاتے ہیں کہ میں انہیں سمیٹوں اورمیں سمیٹ نہیں پاتا۔ کتابیں حاصل کرنے کا مجھے بہت شوق رہا ہے بلکہ جنون رہاہے بلکہ یہ ایک بیماری ہے میں توپرانی کتابوں کابہت رسیا ہوں اور ڈھونڈ تارہتا ہوں۔ گھومتا رہتا ہوں کراچی میں لاہور میں اسلام آباد میں اور بعض کتابیں ایسی ہیں جن کے حاصل کرنے کی پوری داستان ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری شادی ہونے والی تھی اور میرے والد نے کہا کہ فلاں جگہ جاکے شادی کاکارڈ دے آئو تومیں شادی کارڈ دینے کے لیے اس طرح گیا کہ میں پیر کالونی کے بس سٹاپ سے ہوتا ہوا جائوں کیونکہ وہاں ایک ٹھیلہ ہوتا تھا کتابوں کا وہاں جناب میں نے دیکھا تھا کہ سپنگلر کی زوال مغرب رکھی ہوئی ہے۔ پرانی سی کتاب ہے اُس کتاب کوخرید نے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں تھے اوراُس کتاب کو میں چھوڑ بھی نہیں سکتا تھا اورمیں نے گھڑی اتاری اور اُسے ٹھیلے والے کو کتاب کی قیمت کے طور پر بطور ضمانت دے دی اوراُسے کہا کہ کتاب تومیں لے جارہا ہوں، کل آتے ہوئے یہ لے جائوں گا تواُس نے کہا کہ کتنے بے وقوف آدمی ہیں اس معمولی کتاب کے لیے اتنی مہنگی گھڑی چھوڑ گئے۔ میں نے کہاکہ آپ کتنے عجیب و غریب آدمی ہیں کہ آپ اس کتاب کو معمولی کتاب کہہ رہے ہیں وہ کتاب میرے پاس آج بھی رکھی ہوئی ہے۔ اور باقی زندگی کے لیے جو آپ پوچھ رہے ہیں تو میں اپنے ساتھ ڈکشنری رکھنا پسند کروں گا کیوں کہ اُس کے ذریعے الفاظ اور کیفیات ساتھ رہتی ہیں ابھی میں ذکر کر رہا تھاحسن منظرکاجواس عہدکے بڑے ادیب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں تین کتابوں کے بغیر توسفرہی نہیں کرتا۔ ایک قرآن شریف ایک دیوان غالب اور ایک شیکسپیئر، دیوان غالب کا ایک چھوٹا سا ایڈیشن میرے ساتھ رہتا ہے۔ قرآن شریف چونکہ مجھے بچپن میں پڑھایا گیا ہے۔ وہ مجھے بار بار Attract کرتا ہے۔ Shakespare کی وسعت نظر کے کیا کہنے ہیں اُس کے باربار پڑھنے کی طلب ہوتی ہے۔

میں نے قرآن شریف کئی بار پڑھا۔ انجیل کو انگریزی میں پڑھا۔ قرآن کو پہلی مرتبہ ڈپٹی نذیراحمدکے ترجمے سے پڑھا ڈپٹی نذیراحمد سے میری خاندانی مناسبت رہی ہے اور اُن کے ترجمے کو میں نے اتنے لطف کے ساتھ پڑھا میرا جب کبھی بھی قرآن شریف پڑھنے کو جی چاہتا ہے تواُن کاترجمہ مجھے باربار یاد آتا ہے۔ وہ محاورے و تراکیب ذہن میں آتی ہیں۔ میں چونکہ عربی نہیں جانتا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کتنا درست ہے۔ اُس کی خالصتاً دینی نقطہ نظرسے کیا اہمیت ہے۔ نذیر احمد کہیں کہیں شوخی کرتے ہیں لیکن ادبی نقطہ نظرسے تو وہ بڑا کام ہے۔

جہاں تک خاکوں اور آپ بیتیوں کا تعلق ہے مجھے اشرف صبوحی کے خاکے بہت پسند ہیں۔ اشرف صبوحی کے خاکوں کے انتخاب تو میں نے بھی کیا ہے۔ اپنے والد کے ساتھ مل کر بزم صبوحی کے نام سے پھرہم نے بزم شاہد کے نام سے جو شاہد احمد دہلوی کا ادبی کام اس کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ اشرف صبوحی اور شاہداحمد دہلوی جن کی میں خاک پاکے برابر ہوں۔ اُن کی زبان اوراُن کی نثرمجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ پھراپنے ہی خاندان کی بزرگ ناصری بیگم، اُن کی ایک شان دار کتاب، کتاب زندگی جواب جاکے شائع ہوئی ہے، اُن کے انتقال کے بیس برس بعد۔ وہ بڑی باکمال کتاب ہے۔ یہ کتاب تہذیبی زندگی کابڑاشان دار مرقع ہے۔ نذیراحمدکے خاندان سے ان کاتعلق تھا۔ ڈپٹی نذیر احمد کے جو بیٹے تھے (بشیرالدین) وہ بڑے اہم آدمی تھے ان کو شوق توناول نگاری کاتھا۔ لیکن وہ مورخ بہت بڑے ہیں، دارالحکومت دہلی پر کسی بھی شخص کااس موضوع پرسب سے زیادہ انھی کا ہے۔ ان کی کتاب کی چار جلدیں ہیں اورہزار ہزار صفحوں کی ہیں۔ وہ ایسی کتاب ہے کہ ہندستان کی عدالت میں وہ Evidence کے طورپر شمار کی جاتی ہے، جو چیزیں انھوں نے لکھ دیں نقشے بنائے، ناپا، تصویریں لیں اوردلی کے جو واقعات تھے وہ اُن جلدوں میں جمع کردیئے ہیں اوراُن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صاحب اگلے وقتوں میں کیاکیا لوگ تھے۔

کتاب مستعار لیتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہوتی ہے اور دیتے ہوئے دل بہت دکھتا ہے۔
جب اپنے پسندیدہ مصنف کی کوئی ایسی تحریر دیکھتا ہوں تو بہت غصہ آتاہے پھر کچھ ادھر رواج چل نکلا ہے کہ اردو میں ہمارے ہاں شخصی حملے بہت ہونے لگے ہیں۔ اُس طرح کی چیزیں پڑھ کر کوفت ہوتی ہے۔

ترجموں کے بارے میں آپ نے پوچھا War and Peaceکہ اسے اگر اردو میں پڑھاجائے تو اس سے کچھ مزا آئے گا، تووہ پہلے بھی انگریری میں ترجمہ ہے اور لوگ اُس کو انجوائے کرتے ہیں۔ وہ جوروسی زبان کامزا ہوگا وہ تو اپنا مزا ہے بہت کچھ گم ہونے کے بعد بھی اس میں لطف رہ جاتا ہے۔ یہ جوبڑے بڑے کلاسک ہیں ان کے ترجمے میں پھر بھی کچھ نہ کچھ باقی رہ جاتا ہے۔ اردو میں شاید حمید اختر صاحب نے ’’جنگ اورامن‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔ بڑا کمال کا ترجمہ کیا۔ جس کوکہتے ہیں لفظ اور اُس کے فقرے اورمحاورے اُن کے قریب رہنے کی کوشش کی ہے۔ بہت اچھا اور شان دار ترجمہ ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح سے کلاسیکل کا رواج اردو میں پڑھنے سے کم سے کم ہوتا جارہا ہے آپ کویہ بتاتا چلوں Wuthring Heights کاترجمہ میرا پسندیدہ ناول رہا ہے۔ یہ عالمی ادب کے شاہ کاروں میں سے ایک ہے۔ اپنے اردو کے قاری کواُس کتاب سے ہم نے محروم کردیا، ہم انگریزی کو اپناتے جارہے ہیں اورانگریزی ادب کوبُراکہتے جارہے ہیں۔ الف لیلیٰ جو مسلمانوں کی ثقافتی تاریخ کا شاہ کار ہے جس کو ساری دنیا نے پسندکیا الف لیلیٰ کا آپ اردو میں اچھا ترجمہ کوئی کہیں سے دکھا دیجئے، جو بازار میں دست یاب ہو۔ افسوس کی بات ہے کہ الف لیلیٰ کا جو ترجمہ ابوالحسن منصور صاحب نے کیا ہے، انھوں نے یہ ترجمہ بابائے اردو کے زمانے میں کیا تھا، وہ آج انجمن ترقی اردو نے چھاپا تواُس میں سے پیرگراف کے پیراگراف غائب کر دیے۔ اُن کو سفید چھوڑ دیا یعنی کلاسک کے معاملے میں ہم بابا ئے اردو کے زمانے سے پیچھے چلے گئے۔ جو کتاب مسلمانوں کے ثقافتی اور تہذیبی رویے کی شناخت کا اتنا بڑا حصہ ہے ہم اُس کتاب کو پڑھنے کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔ کلیلہ دمنہ ایک کتاب ہے۔ Doris Lessing اس کتاب کو دنیا میں انسانی ذہن کے سب سے بڑے تجربے کانام دیا جاتا ہے۔ جوکتاب ہندوستان میں لکھی گئی پھر ایران میں ترجمہ ہوا۔ کیا انوار سہیلی کا کلیلہ دمنہ کا کوئی ایسا ترجمہ موجود ہے جو بازار میں ہو اور آپ اس کو پڑھ سکیں۔ جی ہاں، موجود ہے، انگریزی میں میرے بچے کلیلہ دمنہ اردو میں نہیں پڑھ سکتے و ہ انگریزی میں پڑھتے ہیں۔ توہم نے اپنے ثقافتی ورثے سے اپنے آپ کو اتنا دور کرلیا ہے کیونکہ ہم ان سب چیزوں کواہمیت ہی نہیں دیناچاہتے پھرہم کہتے ہیں کہ لوگوں کو کتابوں سے دل چسپی ہی نہیں رہی۔ لوگوں نے ٹی وی دیکھنا شروع کردیا۔ کلیلہ دمنہ کتنے ہزار برس ہمارے مطالعے کاحصہ رہی ہے اور بادشاہوں کی تربیت کے لیے شہزادوں کی تربیت کے لیے نوجوانوں کی تربیت کے لیے اور اس کوبھی چھوڑ یے گلستا ن بوستان ہربچہ مکتب میں سبق کے طور پرپڑھا کرتا تھا۔ صرف زبان کے لطف کے لیے ہی نہیں اُس میںاخلاقی نصیحتیں ہیں۔ کیا ہم گلستان بوستاں آج طلب کر سکتے ہیں اپنے پڑھنے والوں کے لیے کیا مولانا روم کا کوئی آسان ترجمہ میسر ہے فردوسی کے شاہ نامہ کوہم نے عام کرنے کی کوشش کی۔ میں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے لندن میں دیکھا تھاکہ نظامی کا بیشتر جو کام ہے اُس کوبڑا خوبصورت illustrate کروا کے بچوں کے لیے چھاپا گیا ہے نظامی گنجوی کو وہ بچے تو پڑھ سکتے ہیں اور نظامی جہاں پہ تزک کا حصہ رہا وہاں سے وہ غائب ہو گیا۔ بہت سے لوگ اُس کا نام بھی نہیں جانتے تو ہم اپنے کلاسیکی ورثے کے ساتھ کیاکر رہے ہیں۔ انگریزی کے ترجمے توبہت دور کی بات ہے۔ انگریزی کے ترجموں سے ہم نے زیادہ واقفیت پیدا نہیں کی۔ حالانکہ انگریزی زبان پر ہمارا انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ ہم زبان کو تجارت کے طور پر تو استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن زبان کے لیے جو تہذیب ہے اُس سے ہم کوئی واقفیت ہی نہیں رکھنا چاہیے اسے اپنانا یا پھر اس کو مسترد کرنا تو بعد کی بات ہے۔


نوٹ: کتاب “میرا مطالعہ” حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے حضرات اس نمبر پہ وٹس ایپ یا میسج کے ذریعہ رابطہ کرسکتے ہیں۔
0342-5548690

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20