میرا مطالعاتی سفر اور پسندیدہ کتب —– آصف فرخی — حصہ اول

0

اپنی نوعیت کا یہ اہم اور تاریخی انٹرویو جناب آصف فرخی سے چند برس قبل کتاب “میرا مطالعہ” کے لئے لیا گیا تھا۔ دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے)

تعارف: معروف مترجم، ادیب آصف فرخی (2020-1959) کراچی میں پیدا ہوئے۔ پاک و ہند کے ایک معروف ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرز سکول، ڈی جے سائنس کالج سے ایف ایس سی کی، ڈائو میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی۔ بعدازاں ہارورڈ یونی ورسٹی سے پبلک ہیلتھ کے بارے اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ اپنے ادبی اور علمی پس منظر کی وجہ سے ان کا ادبی ذوق بہت اعلیٰ ہے۔ انھوں نے ڈان میں ادبی موضوعات پر کئی سال کالم لکھے۔ معروف ادبی رسالہ دنیا زاد بھی ان کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔ (افسانوں کی چھ کتابیں مرتب کیں، آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس اور برٹش کونسل کے اشتراک سے کراچی ادبی میلہ کا آغاز کیا۔ 1995 میں انھیں وزیر اعظم ایوارڈ برائے ادب سے نوازا گیا۔ 2005 میں انھیں صدارتی تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

معروف کتابیں: آتش فشاں پر کھلے گلاب۔ اسم اعظم کی تلاش۔ میں شاخ سے کیوں ٹوٹا۔


میں 1959ء میں شہر کرا چی میں پیدا ہوا، 1972 میں میٹرک کیا۔ ڈی جے سائنس کالج سے میں نے انٹرکیا، پھراُس کے بعدمیڈیکل کالج چلاگیا۔ اس کے بعد آغاخان یونی ورسٹی میں پڑھاتا رہا۔ وہاں پڑھانے کے دوران ہی مزید تعلیم کے لیے امریکہ گیا۔ ہارورڈیونیورسٹی سے میں نے ماسٹرز کیا پبلک ہیلتھ میرا فیلڈ ہے۔

اب یہ تعین کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ کن چیزوں کی وجہ سے میرے اندر ذوق مطالعہ پیدا ہوا۔ بنیادی طور پر میں ایک ایسے گھرمیں پیدا ہوا جہاں میرے چاروں طرف کتابیں موجود تھیں، زندہ ہستی کی طرح۔ میرے والد کو پڑھنے کابہت شوق رہا ہے اور کتابیں جمع کرنے کا بھی، اس طرح میرے دادا محمد احسن کو بھی مطالعے اور کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا جن کا انتقال ہوگیا ہے۔ انھوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ میرے چچا انور احسن صدیقی خود بھی شاعر اور ادیب ہیں۔ اُس ماحول میں میں نے چاروں طرف کتابیں ہی پائیں اور مجھے کبھی سوچنا نہیں پڑا کہ کتابوں سے کیوں دل چسپی ہے، اگر کبھی شعوری طور پرسوچتا کہ کتابیں پڑھنا چاہئیں یانہیں تو ممکن ہے میں اس کا انتخاب نہ کرتا۔ کتابوں کو پڑھنے میں مجھے کوئی خصوصی دل چسپی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ مجھے تو یہ فطری سی بات محسوس ہوتی ہے۔ گھریلو ماحول کے ساتھ ساتھ ایک شوق بھی پھرآہستہ آہستہ پیدا ہوا اور ہمارے گھرمیں بعض لوگوں کا ذکر ایسے ہوتاہے کہ وہ زندہ ہستی کی طرح ہیں۔ میرے والد کو محمد حسین آزاد سے ایک طرح سے عقیدت سی ہے کیونکہ انھوں نے اُن پر تحقیقی کام بھی کیا ہوا ہے۔ جب میرا بالکل بچپن تھا تو وہ آزادپر کام کر رہے تھے تو وہ آزاد کا ذکر بالکل ایسے انداز میں کرتے کہ ابھی دروازہ کھلے گا اور محمد حسین آزاد اندر آجا ئیں گے۔ اور وہ ’’آب حیات‘‘ کے کچھ ٹکڑے سنانا شروع کر دیں گے۔ جس شاعر کا کلام ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اور جو اپنے شعور کا ایک حصہ معلوم ہو تا ہے وہ اقبال ہے ان لوگوں کو پڑھنا‘ ان کو سوچنا‘ ان کو محسوس کرنا میرے لیے بالکل ایک فطری سی بات ہے۔

میں تو یوں کہنا چاہوں گا کہ میں نے پڑھنا بچوں کی کتابوں سے شروع کیا کیونکہ ہم بچوں کی کتابوں کو بھول جاتے ہیں‘ میں کوئی اس قسم کا بقراط آدمی نہیں تھا کہ میں نے کوئی بہت موٹی اور دبیز کتابیں پڑھنا شروع کیں ہوں۔ میں تو اس عمر میں کہانیاں پڑھنا چاہتا تھا۔ میں نے بہت شوق سے اشرف صبوحی دہلوی کی بچوں کی لکھی ہوئی کہانیاں پڑھیں اور اُن کا جو انداز بیاں اور کہانی لکھنے کا فطری سٹائل تھا اس نے مجھے اردو سے جوڑے رکھا۔ کیونکہ سکول میں اور پھر آہستہ آہستہ مطالعے کی نہج جس سطح پر جارہی تھی اُس میں انگریزی کی کتابیں زیادہ رغبت کا سبب بن رہی تھیں اور چونکہ بہت زیادہ ادب انگریزی میں ہے، اس سے کون کافر انکار کر سکتا ہے۔ تو بچوں کی کہانیوں نے مجھے پہلے پکڑا اور بچپن میں ہی یہ شوق اور زیادہ ہوا کیو نکہ میرے والد اور دادا کو جس طرح کتابوں کا شوق تھا اس کے پیش نظر ہمارے گھر میں طلسم ہوشر بابھی موجود تھی۔ داستان امیر حمزہ کی تلخیص بھی تھی اور مجھے یاد ہے کہ جب میں آٹھویں جماعت میں بہت بیمار پڑ گیا اور اُس بیماری نے مجھے بستر پر لٹا دیا تھا۔ میں بچپن میں خاصا بیمار رہا ہوں اور بیماری میں میرے لیے کتاب پڑھنا آسان ہوتا تھا اور کتاب بھی ایسی چاہیے تھی جو جلدی ختم نہ ہو کیونکہ پھر دوسری کتاب چاہیے تھی اس لیے طلسم ہوش ربا پڑھنا شروع کی۔ طلسم ہو شربا کا جو اثر ہے وہ زندگی بھر زائل نہیں ہوسکا۔

اسکول کے زمانے میں ہی میں نے انگریزی چیزیں پڑھنا شروع کیں۔ ہمارے سکول کی لائبریری میں بہت اچھا مواد تھا۔ انگریزی فکشن کا چسکا اسی زمانے میں لگا۔ پہلے تو بچوں کی کتابیں پڑھتے تھے۔ پھر جاسوسی کتابوں کا شوق پیدا ہوا اور شرلاک ہومز جو تھے وہ ہمارے لیے ہیرو کا درجہ رکھتے تھے۔ اگاتھا کرسٹی، ارل اسٹینلی گارڈنر کو پڑھا اور پھر اس کے بعد جو انگریزی فکشن ماسٹر اور انگریزی ادب کے مشاہیر ہیں رفتہ رفتہ ان کی طرف آنا شروع کیا۔ اُس وقت ہمارے سکول کی لائبریری میں چونکہ کلاسک کاذخیرہ زیادہ تھا اس لیے اُن لوگوں کی طرف میرارجحان زیادہ رہا۔ لیکن ایک بات یہ ہوئی کہ اس زمانے کے بعد مجھے جاسوسی ادب سے کبھی کوئی رغبت نہیں رہی۔ بہت سے لوگ کہتے‘ ان کو پڑھنے کی رغبت دلاتے رہے لیکن اُس کے بعد مجھ سے یہ چیزیں پڑھی نہیں گئیں اور Crime رائٹرایک سے ایک اچھے نظر سے گزرے لیکن طبیعت اُن کی طرف سے اچاٹ ہوگئی تھی۔

اتفاق ایساہوا کہ انگریزی میں یہ چیزیں شروع ہوگئیں اردو میں ان چیزوں کی طرف میں نہیں آیا۔ میرا راستہ گویا طلسم ہوشربا نے روک لیا اور جب بھی وقت ملتا تھا اور اردو پڑھنے کودل کرتاتھا میں اس میں محو ہو جاتا طلسم ہو شربا کو آپ تسلسل کے ساتھ پڑھ نہیں سکتے یہ آگ کا دریا ہے آپ جہاں سے چاہیں غوطہ لگالیںاور اُس داستان کی جو کیفیت ہے وہ کیاکمال کی چیزہے اور کتنے محروم ہیں وہ لوگ جواس داستان کونہیں پڑھ سکے۔

شاعری ہمارے ہاں بہت زیادہ پڑھی بھی جاتی تھی سنی بھی جاتی تھی جس ماحول کامیں حصہ تھا وہاں چاروں طرف شاعری تھی چاروں طرف سے ہمیں جذب کرنی پڑتی تھی کیوں کہ میرے والد کو بہت زیادہ شوق تھا شعر خوانی کا اور کلاسیکل شاعروں کے مطالعہ کا اور یہ اُن کی گفتگو کاحصہ تھا‘ توبہت سے لوگوں کوسنا، پڑھا اور دیکھا مجھے بہت اچھی طرح یادہے کہ میرے والد مجھے ایک مشاعرے میں لے گئے اس میں جوش ملیح آبادی تھے‘ جوش کومیں نے پڑھتے ہوئے سنا اور نہایت عقیدت کے ساتھ اُن سے آٹوگراف لیا۔ اُن سے ایک کتاب پہ دستخط کرائے۔ فیض کو بھی سنا اور پھر ابا کے جو دوست احباب آتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ یہ سلیم احمد ہیں یہ ممتاز حسین ہیں یہ عزیز حامد مدنی ہیں اور یہ انجم اعظمی ہیں، تو اس طرح ان لوگوں کو دیکھا ان کو سنا ان کی گفتگو ان کی باتیں اور شاعری کی بہت ساری باتیں اس طرح سننے کوملیں اور پھر اُس زمانے کے شاعروں کو پڑھنا شروع کیا۔ بعض لوگ بہت اچھے لگتے تھے۔ اُس زمانے میں جب مجھ پر نوجوانی کا عالم تھا، پروین شاکر کا پہلا مجموعہ شائع ہوا تھا، میں نے بڑے شوق سے اُسے حاصل کیا کیونکہ پروین شاکر میرے والد کی شاگرد بھی تھیں۔ اُن کو میں نے دیکھا بھی تھا اور سنا بھی۔ اُن کی شاعری مجھے بہت اچھی لگی۔ اس کیفیت سے شاید اب میں دور چلا آیاہوں اور میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ فیض صاحب کی شاعری کاجوسحرتھا وہ توشاید آج تک نہیں ٹوٹا۔ لیکن بعض شاعر اتنے قریب محسوس نہیں ہوتے، غالب اُس وقت بھی مشکل لگتے تھے اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی مشکلات قدرے زیادہ ہوگئی ہیں لیکن غالب سے جو کچھ حاصل ہوتاہے وہ کسی اور شاعر سے حاصل ہونا ممکن نہیں‘ بہرحال کہا جا سکتا ہے کہ جس شاعر کو پڑھنے سے ہمیشہ مجھے کوئی نہ کوئی لطف ملا ہے یااپنے شعور میں کوئی اضافہ محسوس ہوتاہے وہ غالب ہیں۔ قدیم شاعروں میں تھوڑا جی لگا کے میر کو پڑھا تو میر کے بارے میں دل چسپی ہوئی۔ تھوڑا بہت چکھ کر تو سبھی کو دیکھا۔ لیکن چونکہ میرا ادب کا کوئی بہت زیادہ باضابطہ مطالعہ نہیں ہے۔ اس لیے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ادب کو الف سے لے کر ے تک پڑھا ہے لیکن کلاسیکی شعرا سے ایک Encounter ضرور رہا ہے اس طرح جدید شعرا میں جو مجھے بہت زیادہ پسند رہے ہیں، ان میں ناصر کاظمی ہیں، کیابات ہے ناصر کاظمی کی۔ منیر نیازی بھی مجھے بہت پسند ہیں، احمد مشتاق بھی بہت اچھے لگتے ہیں نہایت خوب صورت غزل لکھتے ہیں۔ ظفر اقبال کی آب رواں پڑھی اور ظفراقبال نے شاعری میں مختلف تجربات بھی کیے۔ میں غزل بہت شوق سے پڑھتا ہوں لیکن مجھے زیادہ مناسبت نظم کی شاعری سے ہے۔

بہت سارے رائٹرز مجھے یاد ہیں جن لوگوں کو اس کم عمری میں ہی پڑھا ان میں چارلس ڈکنز کااثربہت زیادہ ہوا۔ جارج ایلیٹ کی جو کتاب مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے وہ The Mill on the Floss ہے۔ ایک بہن اور ایک بھائی کا کردار ہے۔ جس رائٹرنے بہت حیران کیاوہ Jeiw Osten تھے، انتہائی سادہ اوربظاہر کوئی ڈرامائی ایکشن نہیں ہے، وہاں وہ پورے معاشرے کی اقتصادی نفسیات کی ترجمانی کرتے تھے۔ اُس کے کچھ عرصے کے بعدیہ ہواکہ انٹر میں چونکہ پڑھائی پر توجہ بہت تھی۔ Pre-medicalکا طالب علم تھا اور پڑھائی کا بوجھ تھا، بظاہر طالب علم کوئی اتنا بڑا نہ تھا اگرچہ میٹرک میں بھی ٹاپ کیاتھا اور انٹر میں بھی، فرسٹ ایئر میں یہ سب پڑھا۔ کلاس میں بریک کے دوران جب وقت ملتا تھا تو میں مطالعہ کرتا اس طرح میں نے کوئی آٹھ مہینے میں War and Peace کتاب پڑھی اورپھر یہ کتاب میرے دماغ میں گھومتی رہی، پڑھنا پہلی محبت کی طرح ایک ایسا تجربہ ہے جوشاید مجھے کبھی بھول نہیں سکتا۔

اردو فکشن میں مجھے عصمت چغتائی اورقرۃ العین حیدربہت پسند ہیں اور پھر اُس کے بعدمیں نے غلام عباس کوپڑھا۔ منٹو کی طرف میں تھوڑی دیرسے آیا۔ شاید اس لیے منٹوکی کتابیں میں نے اس وقت کم پڑھی ہیں کہ مجھے گھر میں نظر نہیں آئی۔ ٹیڑھی لکیر میں نے پہلے پڑھی، آگ کا دریا پڑھی، آگ کادریا بیسویں صدی میں اردو کی سب سے بڑی کتابوں میں سے ایک ہے، دوسرے رائٹرجس کومیں نے بہت تفصیل سے پڑھا مگر ذرا دیر سے پڑھا وہ ہیں انتظارحسین۔ مجھے یادہے کہ آخری آدمی مجھے1968ء میں ملی۔ جب میں پہلی بار اپنے والد کے ساتھ لاہور گیا۔ مجھے انتظارصاحب سے ملانے کے لیے لے گئے اس کے بعد میں نے آخری آدمی پڑھی۔ میں پڑھ کر حیرا ن ہوگیا کہ گویا افسانے ایسے بھی ہوتے ہیں اور افسانہ میں ایک زمانے سے لے کر کئی زمانے کھول دینے کاہنر بھی ہوتا ہے، اُس سے پہلے کرشن چندر کو پڑھا تھا تو کرشن چندر کا کہانی کا ایک واقعیت والا انداز ہے، وہ کہانیاں بہت اچھی لگی تھیں۔ انتظارصاحب نے تو کمال ہی کردیا پھراُن کی تحریریں میں لگاتارپڑھتا چلا آیا ایک چیز ہوتی ہے Reading اور ایک چیز ہوتی ہے Re.reading تومجھے جتنا زیادہ مزا Re-reading میں آتاہے اتناشاید Reading میں بھی نہیں آتا جیسے آگ کا دریا ہے اُس کو اٹھاتاہوں اور جو صفحہ کھل جاتا ہے کھولتا ہوں اور پڑھتاہوں اور مجھے اُس میں بڑا مزا آتاہے اور بڑی طمانیت محسوس ہوتی ہے اس کوتسلسل کے ساتھ پڑھنے کی اب ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس کے ٹکڑے اس کا جو پورا Dimenion جوہے وہ بہت اچھا لگتا ہے اس طرح بعض کتابوں کی Reading کی ہے اور بعض کی Re-reading کرتا رہتا ہوں۔

اگر ہر مصنف کا ایک افسانہ پڑھنا ہوتو منٹو کے تین افسانے پڑھنے چاہئیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑھنا چاہیے، ہتک پڑھنا چاہیے اور ’’بُو‘‘ عباس صاحب کا آنندی پڑھنا چاہیے لیکن گڑبڑ یہ ہوگی اگر آپ نے عباس صاحب کو آنندی تک محدود کر لیا جیسے بعض لوگ کر جاتے ہیں کیوں کہ عباس صاحب محض ایک کہانی کے آدمی نہیں تھے اُن کی بعض کہانیاں بہت اچھی ہیں اور کچھ Romantic ہیں جو آنندی میں نہیں ہے مثلاً آپ عباس صاحب کی کہانی لیجئے ’’سایہ‘‘ جو اُن کی طویل کہانی ہے اس کہانی میں ساراکمال یہ ہے کہ وہ عمل جس کی آپ کو توقع ہو وہ ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا ساری کہانیاں Shades ہیں۔ ان کی کہانیوں میں Shades کے ذریعے اظہار کی پرتیں کھلتی ہیں چنانچہ آپ سایہ پڑھیے اور عباس صاحب کا کمال دیکھئے۔

’’ایک بڑا سا مکان ہے اور جیسے جیسے دن ڈھل رہا ہے وہ اپنا خوانچہ سرکاتا جارہا ہے اور اُس دوران اُس مکان میں آنے اور علاقے سے گزرنے والے لوگوں کی کیفیت بتارہے ہیں‘‘ یہ کل کہانی ہے اس سے زیادہ کوئی ڈرامائی عمل نہیں ہے مگر اس نے پورا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ عباس صاحب کمال کے نثرگار تھے وہ ماڈل میں نقش نگار کا اور کہانی کار کا اُس کہانی میں جملہ لکھتے ہیں ’’جس صاحب کا وہ مکان ہے وہ کثرت اولاد کی وجہ سے ہراک کوشفقت سے دیکھنے کے عادی ہیں‘‘ کیا ہلکا سا تبسم ہے اس جملے میں اب اس جملے کا جو ایک ہلکا ساتبسم ہے، ایک طنز ہے اور طنز نفرت بھرا نہیں ہے وہ اُس شخص کی تضحیک نہیں کر رہے ہیں۔ اُس شخص کی محبت کی کیفیت کو دکھا رہے ہیں اور ہم لوگ اتنے بدقسمت ہیں کہ اتنا بڑا کہانی کار ہے اور ہم اُس کو بُت بنا کر اُس کی پوجا نہیں کرتے۔ عباس صاحب سے میری تھوڑی بہت واقفیت بھی تھی اور مجھے بڑا فخر ہے کہ مجھے ان سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اُن کی افسانہ نگاری کی عمر تقریباً 60 برس ہے اور 60سے کم افسانے لکھے اور ہرافسانہ برسوں سوچ کے ایک ایک جملہ ناپ تول کے لکھا۔ ایک لفظ فالتو نہیں لکھتے تھے، کہتے تھے کہ اردو والوں کی بڑی خامی ہے کہ ضرورت ہوگی ایک لفظ کی وہاں دو لکھتے ہیں جیسے اگر کسی کو عشق ہوگیا تو لکھیں گے کہ عشق و محبت ہوگئی۔ ارے بھئی یا عشق لکھو یا محبت۔ دیکھیں کہ یہ کفایت لفظی کا کیساکمال سبق ہے ہم لوگ لفظوں کے اصراف میں مبتلا ہیں۔ مثلاً کہنے لگے افسانے میں جب Description جو لکھتا ہوں تو کسی چیزکاذکر نہیں کرتا جس کو افسانے میں استعمال ہوتانہ دکھایا جائے مثال کے طور پراُن کا ایک افسانہ ہے کہ وہ مکان میں داخل ہوتے ہیں تو کردار ہے فرخ بھابھی، وہ گھرمیں آتی ہیں تو وہاں تین گھڑے رکھے ہوتے ہیں۔ Descprtion ختم ہو گیا۔ اُن گھڑوں کواستعمال کرنے کے لیے اُن میں پانی بھرا جاتا ہے اور پانی سے وہ نہاتی ہے۔ اس کہانی کے لیے بڑاSymbolic لمحہ ہے تو گھڑے کا ذکر انہوں نے اس لیے کیا کہ اُس کو کہانی میں استعمال ہونا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا پڑھنا ایک آدھ Reading میں ختم نہیں ہوتا عباس صاحب کو آپ ایک دفعہ نہیں پڑھ سکتے کیونکہ عباس صاحب بہت دھیرے دھیرے کھلنے والے فن کار ہیں۔

محمد حسن عسکری بہت بڑے نقاد ہیں لیکن اس سے پہلے وہ ایک باکمال افسانہ نگارہیں۔ اُن کے کل 19 افسانے ہیں۔ رفیق حسین ہیں جن کا ایک مجموعہ ہے چھ افسانوں کا۔ اُن کے کچھ اور افسانے ہیں جوکتابی شکل میں نہیں شائع نہیں ہوئے مگرصاحب کیابانکا اور سجیلا افسانہ نگار تھا چھ افسانوں کی ایک چھوٹی سے کتاب کی بدولت وہ کہاں پہنچ گیا۔ تو ہم لوگ توان کے مطالعے کا حق ادانہیں کرسکے جن کو گزرے ہوئے زمانہ ہوگیا۔

ہمارا جو نصابی سلسلہ ہے وہ ہمیں اچھے ادب سے دورکردیتا ہے، کرشن چند، منٹوکانام تولوگ لیتے ہیں مگرمجھے گلہ ہے کہ کرشن چندر کو لوگوں نے بھلادیا۔ اپنے زمانے میں وہ ترقی پسند نظریات کے لوگوں کا سب سے بڑاافسانہ نگار تھا اب کوئی اُس کاذکربھی نہیں کرتا۔ ایک Extreme سے ہم دوسری Extreme پر چلے جاتے ہیں اورہمارا نصاب ہمیں ایک ادب سے دوسرے ادب کی طرف چلے جانے سے پہلے تیارنہیں کرتا۔ وہ ہمیں اچھے ادب سے متنفر کرتا ہے۔ ہمارا نصاب ہمیں کبھی نہیں بتائے گا کہ رفیق حسین کتنے بڑے افسانہ نگارہیں۔ اسی طرح دور حاضر میں نیئر مسعود کو پڑھا۔ سیدمحمداشرف بہت اچھے افسانہ نگار ہیں اور خالد جاوید بھی کمال کرتے ہیں یاجیلانی بانو نے بہت کہانیاں اچھی لکھیں ہیں۔

اردو کے مطالعہ میں غیرمسلموں کو تو ہم نے نکال ہی دیا لیکن مسلمانوں کے ساتھ بھی ہم نے کوئی اچھاسلوک نہیں کیا۔ علامہ اقبال تو مسلمان ہی تھے ہم نے اُن کے ساتھ کیاسلوک کیا ہمارے نصاب میں حسرت موہانی کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ منٹو کے ساتھ کیاسلوک ہوا۔ منٹو کی نصاب میں کیسی درگت بنتی ہے۔

میرا مطالعہ کبھی بھی Systematic نہیں رہا جو ہاتھ آیا پڑھ دیا۔ کچھ مطالعہ تومیرا اپنا Professional سطح کابھی ہے۔ کیونکہ مضمون کے ساتھ ٹچ رہنابھی ضروری ہے۔ حالات حاضرہ یا دنیا کے رنگ میں اس کے لیے بھی پڑھنا پڑا۔ ادب کے ساتھ میری وابستگی رہی تاریخ کے ساتھ ساتھ بھی دل چسپی رہی اور تنقید بھی زیر مطالعہ رہی۔ لیکن تنقید وہ پسند آتی ہے جوادب کے لیے نئے دروازے کھولے۔ لیکن جو Theories کی رائے بازی سے اور عقلی کشتی سے چڑ ہے۔ مجھے وہ تنقید پسند ہے جس میں یہ بتایاجائے کہ ادب کوکیسے سمجھا جائے۔ دنیا کو ادب کے ذریعے کیسے سمجھا جائے۔

مجھے خاص دل چسپی رہی1857ء کی جنگ آزادی کے بارے میں لوگوں نے کیا لکھا ہے، ڈھونڈ ڈھونڈ کے وہ چیزیں پڑھتا رہا خاص کر مجھے اس چیز سے دل چسپی ہے کہ وہ کون سے سیاح تھے جوپاکستان کی سرزمین میں آئے انھوں نے اس کاحال احوال دیکھا۔ میں کوشش کر رہا ہو ں کہ اُن کی کتابیں دیکھوں کیونکہ اُن کے دیکھنے کازاویہ بہت زیادہ دل چسپ بھی ہے اور وہ ہمارے بارے میں لکھتے بھی رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں میں نے کتاب پڑھی ہے ایلس ایلینا ایک برطانوی خاتون ہیں جنھوں نے دریائے سندھ کا سفرکیا ہے۔ کراچی سے لے کر تبت تک بڑی شان دارکتاب ہے ہندوستان میں چھپی ہے اس کتاب کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی تھی۔ اُس خاتون کومتعارف کرانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔

ہندوستان میں1857ء کے حوالے سے بہت سی کتابیں چھپی ہیں میں وہاں سے بہت سی کتابیں لے کر آیا تھا اور اُن کو آہستہ آہستہ پڑھ رہا ہوں ایک کتاب William Dalrymple کی تحریرکردہ کتاب ہے بہادر شاہ ظفرکی سوانح لکھی گئی ہے اُس کوپڑھ کر بہادر شاہ ظفر کے بارے میں میرا جو تاثرتھا اور ان کے متعلق میری جو معلومات تھیں اُن میں خاص تبدیلی ہوئی ہے اورزیادہ بڑی زیادہ الم ناک اور ثقافتی طورپرایک اہم شخصیت کے طور پر نظر آئے ہیں۔

جن ناولوں کامجھ پربہت زیادہ اثرہوا اور خاصی نوعمری میں پڑھا وہ آنگن اور اُداس نسلیں تھے اور خاص طور پر ’’نادار لوگ‘‘ پڑھ کر مجھے بہت مزہ آیا اور میں عبداﷲ حسین کا مداح ہو گیا، اس حدتک کہ اُن کی ہر نئی کتاب کو پڑھنا اور پھر نئے سرے سے مایوس ہونا اتنی افسوس ناک کتاب کوئی آپ کاپسندیدہ رائٹرہی لکھ سکتا ہے۔ قرۃ العین حیدرکی کتابیں پڑھتا ہوں۔ انتظار حسین مجھے افسانہ نگارکے طورپرزیادہ اچھے لگتے ہیں اورقراۃلعین حیدر ناول نگارکے طورپر۔

بانو قدسیہ کی راجہ گدھ مجھے بہت Over ratedکتاب لگی۔ مصنفہ نے فارمولا طے کر کے کہانی کواُس پرفٹ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہانی گرو کرتی ہے اور اُس پرکوئی فطری بہائو نہیں ہے۔ وہ طے شدہ فارمولے پراُس کہانی کوپہنچاتی ہیں۔ انھوں نے بہت زورلگایا وہ اُس طرح ایک گاڑی ہے جو پہلے گیئر میں سٹارٹ کرکے اُس کوبڑی تیزی سے بھگانا چاہتی ہے اورگاڑی فرسٹ گیئر میں ہی رہتی ہے۔ اسی طرح شمس الرحمن فاروقی صاحب کی کتاب ’’کئی چاند تھے سرآسمان‘‘ میرے خیال میں وہ اس عہد کی ایک بہت بڑی دستاویز ہے اورمیں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے وہ کتاب چھپنے سے پہلے پڑھی۔

اردو اورانگریزی کے علاوہ میں کوئی اور زبان نہیں جانتا، میں اپنے خاندان کاپہلاآدمی ہوں جس نے فارسی نہیں پڑھی۔ میں فارسی کی چیزیں ترجمے میں پڑھتا ہوں اوراس طرح عربی کی چیزیں بھی ترجمے کے ذریعے نجیب محفوظ کومیں اُس وقت دریافت کرتاہوں جب وہ انگریزی میں آجاتا ہے اورمغربی دنیااُس کوپڑھنے لگتی ہے۔

میں یہی گلہ کررہا ہوں کہ ہمارے جو معروف لکھنے والے ہیں اُن میں سے ہم بہت سے بہت منٹوکی بات کرلیتے ہیں۔ تھوڑا ساذکرعصمت چغتائی کا آجاتا ہے۔ بیدی کانام برابر لیا جاتا ہے۔ لیکن اردو افسانہ ان کے علاوہ بھی توہے اس عہد میں غلام عباس لکھ رہے تھے۔ اُسی عہد میں بلونت سنگھ لکھ رہا تھا اور بلونت کیسی خوب صورت کہانی بناتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اتنا بڑا یا اتنی بڑیDimension والا آدمی نہیں ہے۔ جیسا بیدی ہے۔ ابوالفضل صدیقی ہے۔ ضمیر الدین احمد ہے، رفیق حسین ہے آج کل لوگ جو بہت اچھا لکھ رہے ہیں ان میں اسد محمدخاں ہیں، نگہت حسن ہیں، حسن منظرہیں، حسن منظر کی تحریریں تو لوگوں کوبتانا پڑتی ہیں کہ صاحب یہ وہ آدمی ہے جس نے فلاں فلاں چیزیں لکھی ہیں اورایک بات جس پر بہت افسوس ہوتاہے کہ اردو ادب کے بارے میں لوگ بہت Generlizeکرتے ہیں کہ اس میں فلاں چیزیں نہیں ہیں اور جب اُن سے پوچھو کہ آپ نے کیا پڑھا کیا آپ نے حسن منظر کا ناول ’’العاصفہ‘‘ پڑھا۔ محمد الیاس کی کہر پڑھی یا مرزا اطہر بیگ کا غلام باغ پڑھا اورجب لوگ کہتے ہیں کہ نہیں پڑھا تو بڑا دکھ ہوتاہے کہ صاحب دنیا میں کسی ملک میں ایسانہیں ہوتا ہے کہ جولکھ رہے ہیں اُن کوکسی قسم کی ایک Recognitionیاپڑھنے والے تک رسائی نہیں ملتی ہے۔

ایک تو یہ ہے کہ میں بہت سی چیزوں کو خانوں میں نہیں بانٹ پایا، مزاح میں یوسفی صاحب کی تحریریں بے حدپسند ہیں۔ میں اس چیز کوزیادتی سمجھتا ہوں کہ ان کوپطرس کے ساتھ نتھی کریں یاکنہیا لال کپورکے ساتھ، شفیق الرحمان کا موازنہ کریں۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ آپ سیب اورناشپاتی کاموازنہ نہیں کرسکتے۔ پطرس کی تحریر میں بہت برجستگی ہے لیکن اُن کی پوری زندگی میں مزاح کی ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔ انھوں نے یقینا بہت محنت کی ہوگی لیکن انھوں نے اپنی محنت کونمایاں نہیں ہونے دیا۔ یوسفی صاحب کاجوانداز ہے وہ عوامی نہیں ہے آپ بس کنڈیکٹر سے چھابڑی والے سے یوسفی صاحب کاجملہ نہیں لگا سکتے۔ یہ اُن کو کمزوری یابرائی ثابت کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں مختلف زاویوں کے لوگ ہوتے ہیں یوسفی صاحب کامزاح کسی اور انداز کاہے۔ پطرس کامزاح دوسرے انداز کاہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ پطرس اوریوسفی دونوں کو پڑھ لیں۔ میں توخالد اختر صاحب کو پڑھتا ہوں حالانکہ مجھے اُن کا اسلوب بالکل اچھا نہیں لگتا جس طرح کی وہ انگریزی زدہ اردوبناتے ہیں ان کا وہ انداز مجھے قطعاً پسند نہیں لیکن مجھے اُس سے لطف بھی بہت آتاہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جوادب کے مختلف اسالیب ہیں۔ اُن کاجوایک تنوع ہے اُس تنوع کوآپ Appriciate کر سکیں۔ ہمارے ہاں گڑبڑ یہ ہوتی ہے جو ہمارے نقادوں نے اور اساتذہ نے پھیلائی ہے۔ فلاں آدمی جو ہے گویا وہ معیار ہے، آپ پطرس کوپسند کررہے ہیں توآپ دنیا کے ہر ادب کو ملیامیٹ کرلیں۔ آپ کوفیض پسند ہے توآپ راشد کونہ پڑھیے آپ کوراشد پسند ہے تو آپ ساقی فاروقی کو چھوڑ دیں۔ یہ غلط ہے ادب کا مطلب اپنے آپ کو محدود کرنا یا اپنے آپ کو دائروں میں بند کر دینا نہیں اگرادب آپ کو دائرہ توڑنا ہی نہیں سکھاتا تو پھر ادب کیارہ گیامطالعہ صرف اپنے دروازے کے تعصبات کی توثیق نہیں ہے، مطالعہ تو یہ ہے کہ جس چیز کومیں بہت گھٹیا سمجھ رہا تھا، میں نے اُس کو پڑھا تو مجھے معلوم ہواکہ صاحب اُس میں توبہت جان ہے۔ مثال کے طور پر مجھے ابوالکلام آزاد کی نثر پسند نہیں رہی ہے۔ تھوڑا سا پڑھا تو مجھے اچھی نہیں لگی۔ مجھے اُس انداز سے کچھ گھبراہٹ ہوتی ہے تو میں کہہ دوں کہ ابوالکلام آزاد کو آج سے ممنوع قرار دیا جائے یا یہ کہ کرشن چندرکے جو گھٹیا افسانے ہیں وہ مجھے دو کوڑی کے معلوم ہوتے ہیں لیکن بالکونی، غالیچہ اور دوفرلانگ لمبی سٹرک یہ ساری بہت اچھی کہانیاں ہیں۔

سیاست سے مجھے بہت زیادہ دل چسپ چیز وہ لگتی ہے جس میں تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ ٹائن بی کی کتاب پڑھی جس آدمی نے بہت حیران کیا آپ اُسے سیاست کے خانے میں رکھیے یاتاریخ کے حوالے سے دیکھا وہ Decline of the west کا لکھنے والا ہے۔ وہ اس زمانے کی بہت اہم اور کلیدی کتابوں میں سے ایک ہے۔ جس آدمی سے میں بہت متاثرہوں وہ ایڈورڈ سعید ہیں۔ اس کے ہاں تاریخ کا شعور سیاست اور ثقافت یہ مل کر ایک نئی آگہی بنتی ہے۔ سیاسی حوالہ تو نوم چومسکی کابھی بہت بڑا ہے لیکن چومسکی کی میں نے چند ایک ہی کتابیں پڑھی ہیں وہ ذرا دقت طلب مصنف ہے۔

اخبارات میں بچپن سے ہی عادت جنگ پڑھنے کی رہی ہے لیکن اب جنگ بڑی مشکل سے پڑھا جاتاہے۔ کیوں کہ اب شاید ہماری عمرکے اور ہمارے جیسے آشوب چشم کے لوگوں کے لیے یہ امر آسان نہیں ہے کہ ایک چشمہ اتارو پھر خبر کا سرا تلاش کرو تو اُس کومیں نے خداحافظ کہہ دیا ہے۔ اس لیے میں ڈان پڑھتا ہوں۔ عام رسالوں میں Herald پڑھتا رہا ہوں۔ ٹائم میگزین دیکھ لیتا ہوں ایک عادت جواب راسخ ہوتی جارہی ہے وہ نیٹ کی وجہ سے کئی اخبارات دوسرے تیسرے دن مجھے پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ الاہرام کا جو انگریزی کا ہفتہ وار ایڈیشن ہوتا ہے۔ اُس کے چیدہ چیدہ کالم نگاروں کے کالم اور ثقافت کے بارے میں مضامین اور تجزیے پڑھتا ہوں۔ حالات حاضرہ کے بارے میں بڑی دل چسپی سے پڑھتا ہوں۔ The Hindu جو ہندوستان کا اخبار ہے وہ بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔

اردو کے کالم نگاروں میں زاہدہ حنا کے کالم کشورناہید کے کالم، مسعود اشعر کے کالم اور انتظار حسین کے کالم دیکھ رہا ہوں۔ بہت سارے کالم نگار توایسے ہیں کہ جن سے جی چاہتا ہے کہ اگروہ ہم پہ یہ مہربانی نہ کرتے تواحسان ہوتا۔ میرے والد کے ایک دوست تھے جوامتحانوں کی کا پیاں دیکھا کرتے تھے۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیرکے بعد یہ بات کہا کرتے کہ بعض کاپیاں یہاں ایسی ہوتی ہیں جس میں طالب علم کے گھرکابھی پتا لکھا ہوناچا ہے۔ اور ہر ممتحن کو ایک جیپ اورایک تیل میں بھیگا ہواہنٹر (تازیانہ) بھی ملنا چاہیے کہ جیسے ہی وہ پیپر دیکھے تو ہنڑ لے کہ پہنچ جائے اور گھرکی گھنٹی بجائے اورجونہی پیپر حل کرنے والا نوجوان سامنے آئے تو بندہ اس ہنٹر سے اس کی خبر لینا شروع کرے اسی طرح بعض کالم نگاروں کو میں دیکھتاہوں تو مجھے چودھری اظہار مرحوم اُن کی جیپ اور ہنٹر بہت یاد آتاہے اورجی چاہتا ہے کہ میں ان کے کالم پڑھ کر ان کی اسی طرح خبر لیا کروں اور جہاں تک سفر میں پڑھنے کا تعلق ہے مجھے سفر بہت کرنا پڑتا ہے اور ایک فائل بھی ہوتی ہے جسے میں readingفائل کہتا ہوں کیوں کہ میں مختلف رسالے جو نیٹ پردیکھتا ہوں اُن میں سے بعض چیزیں پرنٹ کرکے رکھ لیتا ہوں جوفوری طورپرتونہیں پڑھی جاسکتی وہ سفرمیں پڑھنے میں بہت مزاآتا ہے اور گھرمیں پڑھتا ہوں تولیٹ کے پڑھتا ہوں تولیٹ کے کتابیں ہی پڑھی جاسکتیں اور جہاز میں جب بھی کوئی تحریر پڑھی تو خاص نشاط انگیزی نہیں ہوتی جیسا اگرمیں پبلک ہیلتھ کی کوئی چیز پڑھوں گا تو وہ میں بیٹھ کے ہی پڑھوں گا۔

اس مضمون کا دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

 


نوٹ: کتاب “میرا مطالعہ” حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے حضرات اس نمبر پہ وٹس ایپ یا میسج کے ذریعہ رابطہ کرسکتے ہیں۔
0342-5548690

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20