پاکستان کا سب سے مظلوم طبقہ —- فرحان کامرانی

0

ویسے تو وطن عزیز میں مظلومیت کے دعوے دار بہت ہیں۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کسی قوال پارٹی کی طرح اپنی مظلومیت کے گیت گاتے رہتے ہیں۔  پھر  مظلوم  پیپلز پارٹی والے ہیں کہ  بس انکی مظلومیت کا مرثیہ کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ پیپلز پارٹی میں سب سے مظلوم زرداری صاحب ہیں۔بیچارے کی بیوی بھری جوانی میں شہید کر دی گئی۔ برا ہو بیت اللہ محسود کا! پھر بیچارے کا جواں سال سالا دن دہاڑے کراچی میں مار ڈالا گیا! برا ہو سندھ پولیس کا! پھر ایک مظلوم وہ ہیں کہ جن کے بارے میں ایک زمانے میں کراچی کی گلی گلی میں ایک گیت بجا کرتا تھا،’مظلوموں کا ساتھی ہے (ایک سیاسی رہنما)‘۔ یہاں نام لکھنا خطرے سے خالی نہیں۔ ویسے وہ ”ایک سیاسی رہنما“ بھی مظلومیت کے کسی آخری درجے پر ہی فائز تھے۔ اکثر محترم کو اپنا بھائی اور بھتیجا یاد آ جاتا پھر وہ فون پر ہچکیوں سے روتے۔ چلو اُنکے بھائی اور بھتیجے کو تو عبداللہ شاہ نے مروایا تھا مگر وہ جب عظیم احمد طارق اور عمران فاروق کو یاد کر کے روتے تو بہت ہی مظلوم لگتے۔ پھر اِس وطن میں ایک مظلوم عورت ریحام خان بھی ہے۔ مگر یہاں انکی مظلومیت کا تذکرہ درست نہیں ثقہ لوگ برا مان جائیں گے۔  پھر ایک مظلوم عامر لیاقت حسین بھی ہیں، بیچارے جب جلاوطن ہو کر لندن بھاگے تو ”ایک سیاسی رہنما“ نے جیسے انہیں گود لے لیا۔ عامر لیاقت کے ناخن تک وہی کاٹتے۔ پھر کھانا بھی وہ بالکل بچوں کی طرح عامر لیاقت کو نت نئے ’بب‘ لگا کر کھلایا کرتے اور کنگھی بھی وہی عامر کے سرپر پھیرتے۔ روز نت نئے ہیئر اسٹائل بناتے اور اگر عامر باہر لڑکوں سے کھیلنے جاتے تو تیار کر کے خود بھیجتے۔

الغرض اس ملک میں مظلوموں کی کیا کمی ہے؟ جس کی دُم اٹھائیے اپنی جگہ انتہائی مظلوم ہے۔ مگر اِن سب مظلوموں کے علاوہ بھی چند مظلوم ہیں جن پر کسی کی توجہ بھی نہیں جاتی اور کوئی غور بھی نہیں کرتا۔ یہ لوگ بیچارے منا بھائی MBBS کے اسپتال کے پونچھا لگانے والے مقصود بھائی کی طرح مظلوم ہیں کہ ”ہر کوئی ڈاکٹر لوگوں کو شکریہ بولتا ہے جب کہ مقصود بھائی تم سب مریض لوگ کا کچرہ پٹی اٹھاتا ہے پر تم کو کوئی Thank you نہیں بولتا۔“ یہ کہہ کر منا نے مقصود بھائی کو گلے لگا لیا تھا۔ مگر معاف کیجئے گا ہم یہاں جن مظلوموں کا ذکر کرنے والے ہیں انہیں ہم کوئی ”جادو کی جپھی“ نہیں دینے والے۔ یہ کام سنجے دت کو ہی کرنے دیجئے، مگر آخر یہ مظلوم ہیں کون؟

وہ مظلوم ہیں ہمارے ملک کے رنگ برنگے چینلوں کے اینکرز۔ اب چند اینکر تو چلو مقبول ہو گئے اور اُنکی شکل بھی لوگ پہچانتے ہیں۔ وہ چار پیسے بھی بنا لیتے ہیں۔ پھر بلیک میل کر کے بھی  اچھے خاصہ  سرمایہ بنا چکے۔ ایک اینکر کا ملک ریاض سے پلاٹ/ بنگلہ مانگنا تو سب کو یاد ہی ہے مگر ایسے خوش قسمت اینکر چند ہیں۔ آپ ایسے اینکرز کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ پھر چینلوں کی فوج ظفر موج ہے۔ ہر ایک کو سیاسی ٹاک شوز بھی چلانے ہیں۔ شام سے ہی  ہر چینل پر ٹاک شوز کی دکان کھل جاتی ہے۔ آپ چینل بدلنا شروع کیجئے، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو، شنا، بروشسکی، بلتی، کشمیری، بلوچی وغیرہ کے مقامی چینلوں پر بھی ٹاک شوز آتے ہیں۔ پھر اردو زبان کے چینلز ہیں جو ہر دن بڑھتے ہی جاتے ہیں۔ ہر چینل پر کچھ اینکر بیٹھتے ہیں۔ بیچارے عجیب عجیب سے اسٹائل بنا کر آتے ہیں۔ نت نئے بولنے کے انداز ہیں۔ کچھ زیادہ جوش دکھاتے ہیں۔ کچھ غصے کی اداکاری کرتے ہیں مگر یہ سب بڑے مظلوم لوگ ہیں۔ میرے ایک جاننے والے صاحب 2004ء میں کوئی 22 سال امریکا میں گزار کر پاکستان فتح کرنے وارد ہوئے۔ وہ صاحب 80ء کی دہائی میں جنگ اخبار میں درجن بھر کالم لکھ چکے تھے اور ادیبوں شاعروں میں بیٹھنے کا کافی تجربہ تھا۔ وہ خود کو مفکر گردانتے تھے اور سیاست پر بڑی بڑی باتیں ڈرائنگ روم میں کر کے بچوں پر دھونس جمانے کے شوقین تھے۔ پھر اُنکو اسی چیز کی چاٹ لگ گئی اور انہوں نے مستقلاً پاکستان منتقل ہو کر اینکر بننے کا فیصلہ کیا۔ شروع میں وہ صاحب انڈس نیوز پر اینکر بنے، خیر انڈس نیوز خود ایک ڈوبتا ہوا جہاز تھا۔بعد میں یہ کسی اشتہاری ایجنسی میں چلے گئے مگر پھر یہ ایک کراچی کے مقامی  چینل پر نظر آنے لگے۔ اشتہاری ایجنسی کے زمانے میں وہ  ’ٹویوٹا کرولا‘ میں گھوما کرتے تھے۔ انڈس نیوز کے دور میں بھی حالات اچھے تھے مگر اَب وہ سب شان و شوکت ختم ہو گئی۔ کسی کے سامنے اپنی کم تنخواہ کا شکوہ بھی کرتے ہوئے پائے گئے۔ ویسے وہ صاحب اینکر بننے کی ایکسرسائز صرف اپنی شہرت کی خواہش سے کر رہے ہیں ورنہ یہ امریکی شہری ہیں اور وہاں ہوٹلنگ بزنس کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ کبھی بھی وہاں جا کر دوبارہ اِس سے تو بہت بہتر کچھ کر ہی سکتے ہیں مگر  شہرت کے سراب میں اُس چینل سے چپکے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے جاننے والے کئی افراد سے محترم کا نام لے کر سوال کیا کہ کیا وہ اُن کو پہچانتے ہیں تو اَن گنت لوگوں میں بمشکل ایک شخص اُنکو نام سے پہچان پایا۔ پھر میں نے تحقیق کو تھوڑا بدلا اور اُنکا حلیہ بتا کر لوگوں سے سوال  کیا۔ اب بمشکل تین لوگ پہچانے۔ پھر میں نے اُن افراد سے پوچھا کہ مذکورہ اینکر کے بابت انکی  کیا رائے ہے تو لوگوں نے کندھے اچکائے اور بولے کہ کوئی رائے نہیں۔ وہ صاحب تو صرف ایک اینکر ہیں۔ اِس طرح کے جو کئی درجن اور اینکرز ہیں اُنکی حالت اِس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

اس مقام پر اپنا جامعہ کے دور کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ میرے ایک شعبہ فلسفہ کے دوست کے ماموں 2006ء میں لبیک ٹی وی نام کے ایک چینل پر ایک پروگرام کرتے تھے جس میں سماجی موضوعات پر ماہرین گفتگو کرتے۔ محترم نے ایک پروگرام میں فرسٹریشن کے موضوع پر گفتگو کیلئے نفسیات کے حیدر رضوی صاحب مرحوم اور ایک سماجیات کے ماہر کو مدعو کیا۔ دونوں ہی مہمان عین وقت پر آنے سے انکاری ہو گئے تو میرا دوست ٹیکسی لے کر مجھے لینے آگیا۔ میں تب محض ماسٹرز کا ایک طالب علم تھا۔ میں سمجھا کہ  مجھے بحیثیت audience اس پروگرام میں لے جانے آیا ہے مگر راستے میں اُس نے مجھے بتایا کہ مجھے بحیثیت ماہر نفسیات اِس موضوع پر بات کرنی ہے۔ میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ خیر تھوڑی ہمت یہ جان کر بڑھی کہ میرا دوست جو میرے جتنا ہی نکما تھا، وہ فلسفے کا ماہر بن کر جا رہا تھا۔ خیر پروگرام تو عام سے موضوع پر تھا، اسلئے کام چل گیا مگر اگلے روز مجھ پر اُن چینلز کی حقیقت القاء ہوئی۔ اُس پروگرام میں شرکت کے بعد مجموعی طور پر کل تین افراد نے مجھے پہچانا۔ یعنی کل ایسے تین لوگوں سے میری ملاقات ہوئی کہ جنہوں نے وہ پروگرام دیکھا تھا۔ ایک ہمارے محلے کے ’ملو‘ قصائی کا بیٹا، دوئم ہمارے محلے کے ایک عجیب سے صاحب اور سوئم میری ایک کلاس فیلو لڑکی۔ باقی کسی بھی ایسے فرد سے میری ملاقات نہ ہوئی کہ جس نے وہ پروگرام دیکھا ہو۔ مگر اَب لوگ کافی چالاک ہو گئے ہیں۔ جس پروگرام میں جاتے ہیں اُسکی وڈیو اپنے سماجی رابطے کے پیج پر بھی ڈالتے ہیں۔ پھر دوستوں کو پیغام دے دے کر بتاتے ہیں کہ ہم فلاں پروگرام میں آنے والے ہیں۔ یہ تو وہ کرتے ہیں جو کہ اُن پروگراموں میں مہمان ہوتے ہیں اور جو اینکر ہوتے ہیں وہ تو ہر پل اپنے پروگرام کا اشتہار ہی بنے رہتے ہیں۔ اِس طرح اُنکے جاننے والے۔۔۔ صرف اُنکے جاننے والے۔۔ یہ جان جاتے ہیں کہ یہ صاحب فلاں پروگرام کے اینکر ہیں۔ یوں وہ بیچارے شہرت کے سراب میں پھنستے رہتے ہیں اور بڑی کم تنخواہوں پر ”مفکری“ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے اصل مظلوم لوگ ہیں۔ یہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی سے بھی زیادہ مظلوم اور ریحام خان سے بھی بلکہ یہ لوگ مراد سعید سے بھی زیادہ مظلوم ہیں مگر اِن بیچاروں کے درد کی کسی کو نہ کوئی پرواہ ہے نہ احساس۔ کوئی منا بھائی کی طرح ان کو جادو کی جپھی بھی نہیں دیتا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20