حسین حقانی طلبہ سیاست کا ایک بھولا بھٹکا کردار —- عطا محمد تبسم

0

حسین حقانی (پ یکم جولائی 1956 کراچی) حقانی جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ان بارہ ارکان میں سےایک تھے جو اس وقت 1980 میں جامعہ میں زیر تعلیم تھے۔ جمعیت کی جانب سے الیکشن کے نمائندے کے لیےچناؤ کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس سلسلے میں جمعیت جامعہ کراچی یونٹ کا اجتماع ارکان محمود اللہ والا کے گھر پر ہل پارک کے نزدیک ہورہا تھا، رات کے دو ڈھائی بج رہے تھے۔ جب حقانی سمیت کئی ارکان کو اجتماع سے باہر بھیج دیا گیا تاکہ ان کے الیکشن کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے۔ اس تمام عرصے میں حسین ہمیں دروازے کی سیڑھیوں پر بیٹھے لطیفے سناتے رہے۔ ان کو جمعیت کی جانب سے صدارتی امیدوار منتخب کرلیا گیا۔حقانی ان دنوں مجھ سے خصوصی طور پر میرے شعبہ صحافت کے دوستوں کے بارے میں ہلکہ ہاتھ رکھنے کی درخواست کرتے تھے۔ میں جامعہ کراچی کے شعبہ اطلاعات کا سیکریٹری تھا۔ ایک دن میں نے اپنے دوستوں سے پوچھا کہ حقانی آپ لوگوں سے کیوں گھبراتے ہیں۔ اس پر میرے ایک دوست نے بتایا کہ وہ اکثر طارق روڈ پر ریسٹورنٹ میں اپنی دوست خواتین کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ اور اس وجہ سے وہ ان سے گھبراتے ہیں کہ وہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کردیں۔ اس زمانے میں انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک طالبہ سے حسین کی دوستی کے چرچے اکثر سنے جاتے تھے۔

جامعہ میں پہلی بار اسٹین گن سے فائرنگ کا واقعہ، اسی دور میں پیش آیا، الیکشن میں نتیجہ منقسم سامنے آیا تھا۔ حلف برداری سے پہلے یونیورسٹی کی فضا بڑی حد تک کشیدہ تھی۔ دونوں جانب سے تیاریاں تھیں۔ لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ کیا ہوگا۔ حلف برداری کی تقریب میں مہمان خصوصی وائس چانسلر احسان رشید تھے۔ ایف ٹی سی ہال میں تقریب ہونی تھی۔ لبرل اور پروگریسیو نے اس موقع پر احتجاج کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ جمعیت اس تقریب کو پرسکون انداز میں کرنا چاہتی تھی۔ احسان رشید کی آمد سے پہلے ہی پروگریسیو اور لبرل کے جامعہ اور کالجوں سے آئے ہوئے بیرونی عناصر نے راستے کو گھیر لیا۔ اور نعرے بازی کے ساتھ ہی دھکم پیل شروع ہوگئی۔ اس دوران میں نے ایف ٹی سی کے پیچھے سے کچھ لوگ ہاتھوں میں اسٹین گن لیے داخل ہوئے اور یونی ورسٹی کی فضا گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی۔ اس فائرینگ سے ایک طالب علم شاد نامی زخمی ہوا، اس کے ہاتھ میں گولی لگی تھی۔ یونیورسٹی میں فائرنگ کا یہ واقعہ افسوس ناک اور ان پے در پے واقعات کا نکتہ آغاز بنا۔ جس میں جامعہ کے کئی طالب علم شہید ہوئے۔ ان میں جمیعت کے رکن حافظ اسلم اور ایک کارکن دانش سعید بھی شامل تھے۔ اس خونریزی کا خوفناک انجام ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہوا، جس میں جامعہ کے پی ایس ایف کے طلبہ کو کھڑے کرکے سروں پر گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے اس تصادم میں پہلی بار گولی چلی تھی۔ راجہ جاوید نامی ایک شخص اور اس کے کچھ دوست اس فائرنگ کے ذمہ دار تھے۔ جنہوں نے فائرنگ کرتے ہوئے، اپنے سینوں پر جمعیت کے بیج بھی لگائے ہوئے تھے۔ جمیعت آج تک اس الزام کا شکار ہے۔ لیکن اصل بات یہ تھی کہ یہ خفیہ انتظام جمیعت کے نظم سے بالا بالا حسین حقانی نے ذاتی طور پر کیا تھا۔ جس کے بارے میں نہ تو جمیعت کے ذمہ داران اور نظم کو پتہ تھا۔ اور نہ ہی جمیعت کے جامعہ کے ارکان کو پتہ تھا۔

حقانی ڈرامہ بازی اور اختراع میں یوطولی رکھتے تھے۔ وہ خبر بننے اور بنانے کا فن جانتے ہیں۔ ایک بار کراچی یونیورسٹی میں ہنگامہ ہوگیا، جمعیت کے کچھ طلبہ اس ہنگامے میں زخمی ہوئے، اس ہنگامے اور دھکم پیل کے زد میں حسین حقانی بھی آئے تھے۔ حقانی نے کہا کہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں، میں نے ان کی ہدایت کے مطابق اس پریس کانفرنس کے لیے شام کو اسلامی جمعیت طلبہ کے دفتر، اسٹریجن روڈ پر انتظام کیا۔ تمام اخبار نویسوں کو دعوت دی گئی۔ حقانی پریس کانفرنس سے پہلے ہی اپنے ہاتھ پٹیوں میں جکڑے ہوئے اور ہاتھ کو لٹکائے ہوئے تیاری کرکے بیٹھے، زوردار پریس کانفرنس ہوئی، جس میں مخالفین کے تشدد کی شدید مذمت کی گئی، اس پریس کانفرنس میں شاہد الاسلام رشی بھی موجود تھے۔ بعد میں حسین کی پٹیاں کھول دی گئی۔ اور اس صورت حال پر خوب ہنسی مذاق ہوتا رہا۔

یونیورسٹی میں ہنگاموں پر اکثر اخبارات میں خبریں حقائق کے برعکس خبریں بھی شائع ہوجاتی تھیں، جمعیت اور دیگر تنظمیں اس سلسلے میں دباؤ ڈالتی تھیں۔ جس میں کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا پلڑا باری پڑ جاتا تھا۔ ایک بار پروگریسو اور لبرل کے طلبہ نے جمعیت کے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، لیکن اگلے دن جنگ میں جو خبر شائع ہوئی، وہ الٹ تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ جمعیت نے لبرل اور پروگریسو طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس خبر کے شائع ہونے پر جمعیت کے حلقوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا تھا۔ اسی شام ڈاؤ میڈیکل کالج میں جمعیت کا یاک بڑا جلسہ تھا، جس میں کراچی یونیورسٹی کے طلبہ بھی خاصی تعداد میں شریک تھے۔ جلسہ کے بعد اچانک یہ پروگرام بن گیا کہ آج جنگ میں جو خبر شائع ہوئی ہے، اس پر جنگ کے دفتر جاکر مظاہرہ کیا جائے، اور صحیح حقائق بتا کر درست خبر شائع کرائی جائے۔ یوں طلبہ کی ایک بس بھر کر ہم جنگ کے دفتر پہنچ گئے۔ میر خلیل الرحمن تیسری منزل پر بیٹھتے تھے۔ ہم لڑکوں کے گروپ کے ساتھ میر خلیل الرحمن کے پاس پہنچ گئے اور انھیں تمام حقائق سے آگاہ کیا۔ میر صاحب کے دونوں صاحب زادے میر جاوید الرحمن، اور میر شکیل الرحمن بھی اس وقت وہاں موجود تھے۔ میر خلیل الرحمن فورا اپنی کرسی سے اٹھے، اور ہمیں ساتھ لے کر نیچے سٹی نیوز روم میں آئے، اس دوران وہ مسلسل محمود احمد مدنی کو جو اس وقت نیوز ایڈیٹر تھے، برا بھلا بھی کہتے رہے۔ محمود احمدمدنی، جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ تیسری منزل سے میر خلیل الرحمن کے نیچے اترتے ہوئے، میر شکیل الرحمن مجھے بار بار کہتے رہے کہ والد صاحب، دل کے مریض ہیں، آپ لوگ کچھ خیال کریں۔ محمود احمد مدنی کے کمرے میں پہنچ کر میرصاحب نے دہائی دینی شروع کردی۔ “مدنی صاحب میرا اخبار بند کراؤ گے۔ ارے ان بچوں کی خبر کس نے دی تھی” مدنی صاحب کان دبائے سب کچھ صبر و تحمل سے سنتے رہے۔ میر صاحب کے کہنے پر خبر کی پریس ریلز دی گئی، جسے مدنی صاحب نے لے کر رپورٹر کے حوالے کیا اور کہا کہ ان کا موقف لے کر خبر بنادیں۔ محمود احمد مدنی کو اس وقت جس خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے ہمیشہ اس کا افسوس رہا۔ایک بار ان دنوں، انہوں نے مجھے کہا کہ “تم نے جنگ میں اپنی ملازمت کے دروازے بند کرلئے” میرا شعبہ صحافت میں یہ آخری سال تھا۔

حقانی کی دو ملاقات بھی یاد آتی ہیں، جو نہ ہوسکیں۔ ایک اسلام آباد میں ہونی تھی۔ حسین حقانی نے اس ملاقات کے لیے باقاعدہ وقت دیا ہوا تھا۔ میں ان دنوں اسلام آباد گیا ہوا تھا۔ اس شام میں نے تیاری کرکے حسین کو فون کیا۔ لیکن ان کے فون پر ایک پیغام بج رہا تھا۔ آپ اپنا پیغام نوٹ کرادیں۔ میں نے اس شام کئی بار فون کیے لیکن ہر بار ٹیپ شدہ یہ پیغام ہی نشر ہوتا رہا۔ حقانی کی یہ عادت ہے وہ اکثر لوگوں کو اسی طرح بلاکر کسی اور مصروفیت میں گم ہوجاتا ہے۔ اور دوسری ملاقات لاہور میں ہونی تھی۔ ان دنوں حسین حقانی میاں نواز شریف کے میڈیا ایڈوائزر تھے۔ بے نظیر کے خلاف ہر طرح کے الزامات اور پروپیگنڈہ عروج پر تھا۔ ان دنوں میں محمد خان کے قلمی نام سے تکبیر میں ڈائری لکھ رہا تھا۔ ان دنوں مجھے پی پی آئی نیوز ایجنسی میں بھی جز وقتی کام کو موقع ملا۔یہاں پہلی بار مجھے پنکی کے خطوط کا ٹائپ شدہ مسودہ ملا۔ بھٹو کی گرفتاری کے بعد، بے نظیر بھٹو نے پنکی کے نام سے کچھ خطوط لکھے تھے۔ جو کسی طرح پریس میں آگئے، ضیا دور میں ان خطوط کا بہت چرچا رہا۔ غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت بر طرف کردی تھی۔ جس دن یہ حکومت برطرف ہوئی، اس شام میں تکبیر کے دفتر میں موجود تھا، مولانا محمد صلاح الدین شہید سے ملاقات ہوئی تو وہ بے حد شادماں اور خوش نظر آئے۔ مولانا نے جاتے ہوئے، مجھے ایک ٹیلیگرام کرنے کو دیا۔ یہ ٹیلیگرام غلام اسحاق خان کے نام تھا۔ جس میں بے نظیر حکومت کے برطرف کرنے پر غلام اسحاق خان کو مبارک باد دی گئی تھی۔ میں یہ ٹیلیگرام لے کر جی پی او آیا۔ اور صدر غلام اسحاق خان کو یہ ٹیلیگرام کردیا۔ بے نظیر کی حکومت کی برطرفی پر بے نظیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی برطرفی میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ہے۔ میں نے ان دنوں ایک کتاب “پنکی کے خطوط” مرتب کی جس میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کی بر طرفی کے واقعات اور پنکی کے خطوط کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی، اور اس کی شہرت حسین حقانی تک بھی پہنچی ہوئی تھی۔ میں لاہور میں ایک نجی دورے پر تھا، حسین حقانی سے فون پر بات ہوئی، وہ اس کتاب سے سیاسی فوائد اٹھانا چاہتے تھے۔ میں نے جب یہ کتاب مرتب کی تھی تو میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ اس سے کوئی سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ کتاب میرے اصل نام سے بھی شائع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے میں نے اس کھیل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔ تاہم میں نے حسین سے ملنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ انھوں نے اس بار بھی وقت طے کیا۔ لیکن پھر انھیں اپنی مصروفیت میں یہ یاد ہی نہ رہا۔ حقانی سے ایک ملاقات کراچی میں ایڈ ایشیاء کے کانفرنس میں ہوئی، جس میں حقانی اسی طرح خندہ پیشانی سے ملے جیسا کہ وہ یونیورسٹی میں ملا کرتے تھے۔ حسین حقانی 2008 ء سے 2011ء تک امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے۔ سری لنکا میں بھی سفیر رہے۔ وہ متعدد حکومتوں (نواز شریف، بینظیر بھٹو) کے چہیتے اور مخالف رہے۔ ایک طالب علم رہنما کے طور پر اپنے سیاسی کردار کا آغاز، اسلامی جماعت طلبہ، اور جامعہ کراچی، کے صدر کے طور پر کرنے والے اس نابغے سے تحریک اسلامی کو بہت امیدیں تھیں۔ صحافت کو سیڑھی بناکر بام عروج پر پہنچنے والے اس کردار سے اپنے اور غیر سب ہی شاکی دکھائی دیتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20