یوم تکبیر اور نوازشریف —- اے خالق سرگانہ

0

28 مئی یوم تکبیر آیا اور خاموشی سے گزر گیا۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر تو بہرحال اس کا کچھ ذکر ہوا البتہ سرکاری سطح پر کوئی جھوٹی موٹی تقریب بھی نہ ہوئی صرف وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ایک بیان آیا جس میں انہوں نے مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس کا جواب دیا اور انہیں ہدایت کی کہ ایٹمی دھماکہ نسلوں کی کوششوں کا نتیجہ تھا اس کو شریف خاندان سے نہ جوڑا جائے، کاش سرکاری سطح پر کوئی تقریب ہوتی اور اُس میں سرکردہ لوگ خطاب کرتے اور دھماکے کے سلسلے میں تاریخی ریکارڈ درست کر دیتے لیکن ایسا نہ ہوا۔ کئی سرکردہ صحافیوں نے اپنے کالموں اور پروگراموں میں اِس رویئے پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہم کسی دوسرے کو کسی اچھے کام کا کریڈٹ دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ 16 دسمبر بھی خاموشی سے گزر جاتا ہے اور اب 28 مئی بھی اُسی خاموشی سے گزرا شاید وجہ یہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم حقائق کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے ہماری تاریخی میں ایک قابلِ فخر واقعہ ہیں۔ اس سے پاکستان ایک مضبوط ملک بن کر اُبھرا۔ بھارت کو پیغام مل گیا کہ پاکستان ترنوالہ نہیں۔ عالمی برادری میں پاکستان ساتواں ایٹمی ملک بن گیا اور عالمِ اسلام میں پہلا۔ پورلے عالم اسلام میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی بلاشبہہ یہ کامیابی کسی ایک شخص کی مرہون منت نہیں بلکہ قومی اتفاق رائے کا نتیجہ تھا۔ اِس سے پتہ چلا کہ اگر ہم قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کر لیں تو معجزے کر سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد شاید سی پیک پر قومی اتفاق رائے سامنے آیا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ کچھ مشکوک ہو گیا ہے۔

یہ تو طے ہے کہ ایٹمی پروگرام کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔ بھارت کی طرف سے دھماکوں کے بعد بجا طور پر انہوں نے سوچا کہ ہماری بقاء کیلئے ضروری ہے کہ ہم بھی یہ ٹیکنالوجی حاصل کریں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ کام سونپا۔ آگے چل کر تین سرکردہ افراد کی کمیٹی بنائی گئی جس نے اِس سارے عمل کی نگرانی کی۔ کمیٹی میں آغا شاہی اور اے جی این قاضی نمایاں تھے پھر اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اِس قومی منصوبے کی مکمل حمایت کی اور جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد کے پردے میں اِس منصوبے کو عملی شکل دی۔ ظاہر ہے اِس دوران بہت کچھ ہوا عالمی دبائو آیا لیکن سول حکومتوں اور فوج کی مکمل حمایت سے یہ ممکن ہو سکا۔ مئی 1998ء میں جب آخری مرحلہ آیا تو اقتدار میں مسلم لیگ تھی اور نواز شریف وزیراعظم تھے جس حب الوطنی اور جرأت کا مظاہرہ پہلے لوگوں نے کیا تھا نوازشریف بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہے لیکن اب ہمارے ہاں سیاسی میدان میں اتنی تلخی اور تقسیم پیدا ہو گئی ہے کہ بعض لوگوں کے لئے یہ نگلنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس بڑے منصوبے کا آخری کریڈٹ نوازشریف کو دیا جائے حالانکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن کچھ لوگ یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں کہ نوازشریف تو بھارت نواز تھے وہ تو دھماکہ کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔

9 جون 2018ء میں، میں نے روزنامہ پاکستان میں ایک کالم لکھا تھا جو ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے انٹرویو پر مشتمل تھا۔ میں نے اُس کا عنوان بھی ’’ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے ایک ملاقات‘‘ رکھا تھا لیکن ایڈیٹر نے عنوان بدل کر ’’ایٹمی دھماکے نوازشریف کا فیصلہ تھا‘‘ کر دیا۔ کچھ اور باتوں کے علاوہ ڈاکٹر صاحب سے ایٹمی دھماکے کے فیصلے سے متعلق بھی بات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اِس سلسلے میں انہیں وزیراعظم ہائوس بُلایا گیا۔ وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی موجود تھے۔ وزیراعظم نے دھماکے کے معاملے میں ڈاکٹر ثمر صاحب کی رائے پوچھی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر اس وقت دھماکہ نہ کیا گیا تو ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے ہماری پوزیشن ہمیشہ کیلئے کمزور ہو جائے گی اور بھارت ہمیشہ کیلئے ہم پر غالب رہے گا اس لئے ہمیں دھماکہ کرنا چاہئے اس پر بقول ڈاکٹر ثمر مبارک مند نوازشریف نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے میرے دل کی بات کی ہے اس کے بعد ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں غالب رائے دھماکہ کرنے کے حق میں تھی۔ البتہ بقول ڈاکٹر صاحب تین سویلین لوگوں نے اس کے مخالف رائے دی۔ ڈاکٹر صاحب نے اُن کے نام نہیں بتائے میرے خیال میں ایک تو سرتاج عزیز تھے۔ اب سرتاج عزیز جیسے انسان کی حب الوطنی پر شک کرنا تو گناہ ہے۔ غالباً اُن لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے اور شدید مالی بحران پیدا ہو جائے گا۔ دوسری طرف پانچ ارب ڈالر کی امداد کا لالچ بھی تھا جس سے ہماری اکانومی کو بڑا بوسٹ مل سکتا تھا گویا اس رائے میں کسی کی بدنیتی نہیں تھی بلکہ یہ ججمنٹ کی غلطی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے شاید کوئی واضح مؤقف نہیں اپنایا۔ اُن کا خیال تھا کہ جو فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی فوج اُسے سپورٹ کرے گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی ایک انٹرویو میں یہی بات کہی ہے۔ ممتاز جرنلسٹ اور اینکر نسیم زہرہ نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے” From Kargel to Coup ” کتاب بڑی دلچسپ ہے اور ریسرچ بیڈ ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کئے تو وزیراعظم نوازشریف ایک کانفرنس کے سلسلے میں الماتی میں تھے وہاں سے انہوں نے فوری طور پر متعلقہ لوگوں کو فون کیا کہ دھماکے کی تیاری کریں اور دورہ مختصر کرکے پاکستان پہنچ گئے۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20