ورکنگ ویمن اور ہراسمنٹ: کچھ مزید تلخ پہلو — مریم عرفان

0

دانش ویب سائٹ کے ساتھ جڑے ہوئے اہل علم اور اہل قلم لوگ جانتے ہیں کہ کافی دنوں سے ایک موضوع زیر بحث ہے۔ جس پر بات چیت کے لیے اکثر اوقات بیٹھک بھی سجائی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک بیٹھک کچھ دن قبل دانش ٹی وی پہ سجائی گئی جس کا عنوان تها ”ورکنگ لیڈیز: کردار اور مسائل”۔ اس موضوع کے شرکا میں، میں بھی شامل تھی لیکن کچھ فنی خرابی کے باعث مجھے اپنا موقف پیش کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال میں آج کسی لمبی چوڑی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں بلکہ کچھ باتیں اس پروگرام میں اپنی گفتگو کی کسر پوری کرنے کے لیے کہنا چاہتی ہوں۔

سب جانتے ہیں کہ ورکنگ لیڈیز کا تعلق کن نوکریوں سے ہوتا ہے یعنی وہ کون سے ایسے شعبے ہیں جہاں خواتین کام کر رہی ہیں۔ طب، تعلیم، صحافت اور قانون ساز اداروں میں خواتین کی شمولیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آج کل نوکری کرنے کا رجحان اور شوق بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اس لیے خواتین کو بہت سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب یہ مسائل کون سے ہیں تو اس کا جواب اکثر اوقات لفظ ہراسمنٹ ادا کر کے دیا جاتا ہے۔ یعنی ہر نوکری یافتہ خاتون ہراسمنٹ کے دائرے میں آتی ہے۔

ہراسمنٹ کی کئی اقسام اور اشکال ہیں جن میں صرف چھونا ہی نہیں بلکہ عورت کو ذہنی کرب میں مبتلا کر کے یا ڈرا کے مطلوبہ مقصد حاصل کرنا بھی ہے۔ پروگرام میں زیادہ گفتگو میڈیا کے اداروں میں پائی جانے والی ہراسمنٹ کے گرد گھومتی رہی۔ ہم دوسرے شعبوں سے جڑی ورکنگ لیڈیز کو بھول گئے جو درحقیقت ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں۔ جن میں سرفہرست ائیرہوسٹس یا بس ہوسٹس ہیں۔ ائیر ہوسٹس تو چلیں اتنا ذلیل نہیں ہوتی ہو گی جتنا بس ہوسٹس کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ بھوکی ننگی نظریں، ذومعنی جملے اور گراوٹ سے بھری باتیں ان کا مقدر بنتی ہیں۔ ذرا اور نیچے جھانک کے دیکهیں تو ہمارے گهروں میں کام کرنے والیوں کی عزتیں محفوظ ہیں؟ میں یہاں سب کی بات نہیں کر رہی کہ اچھے لوگوں سے بھی دنیا قائم ہے۔ کالے کوٹ میں ملبوس وکیل خاتون کے بارے میں کیا خیال ہے۔ پولیس کے شعبے سے وابستہ خواتین ہوں یا نرسنگ کے، کیا ہمیں لگتا ہے کہ معاشرہ ان خواتین کو عزت دے رہا ہے؟

ہراسمنٹ کا مطلب یہ نہیں کی ہر عورت اس کا شکار ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سروں پر دوپٹے لے کر کام کرنے والی خواتین کی تعداد بھی حوصلہ افزا ہے۔ یہاں عزت دینے سے مراد اپنے پیشے سے جڑی ہوئی خاتون کو تکریم دینا ہے۔ آخر کیوں ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ڈاکٹر یا ٹیچر بنانا چاہتے ہیں؟

وکیل یا پولیس کے محکمے کی چهوٹی نوکری بھی ان کے لیے نامناسب لگتی ہے۔ وجہ یہی ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں خواتین کے لیے عزت و تکریم سے جڑے ہوئے شعبے بس دو ہی ہیں۔

ایک پڑھی لکھی اور ان پڑھ عورت کے سٹیٹس میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ کتنے شعبے ایسے ہیں جہاں خواتین باس پائی جاتی ہیں؟ خاتون باس کا وجود ماتحت کے لیے سوہان روح ہے۔ ایک عورت کے نیچے لگ کر کام کرنے کا سوچنا بھی مردوں کے لیے دوبھر ہے۔ مردانہ انا اور خودداری پروان چڑھتے دیر نہیں لگتی۔ یا تو ان کی نالائقی زیربحث ہوتی ہے یا پھر کردار کشی فرض کفایہ سمجھ کر ادا کی جاتی ہے۔ یہاں عورت اور مرد میں برتری ثابت کرنا مقصود نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ایک رویہ یہ بھی عام ہے کہ مرد باس کو خوش کرنے والی خواتین ہی ترقی کرتی ہیں۔ یا تو مرد ڈرا دھمکا کر عورت کو منوا لیتے ہیں یا پیسے اور ترقی کا لالچ دے کر مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر سوسائٹی نے یہ مفروضہ سیٹ کر لیا ہے تو ہم سمجھ لیں کہ ہر اچھی اور بڑی سیٹ پر کام کرنے والی خاتون اسی رستے سے آگے آئی ہے؟ ریلیشن شپ پر یقین رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے تعاون کے محتاج ہوتے ہیں محنت پر بھروسہ کرنے والے نہیں۔ ذہین عورت کو مرد کبھی برداشت نہیں کرتے خواہ وہ ماتحت ہو یا بیوی، اسے زبان کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ دنیا کی ذہین اور نامی گرامی عورتوں کی پروفائل کھول کر دیکھ لیں ان کی زندگیاں جذباتی محرومیوں اور شکت فاش سے بھری ہوئی ملیں گی۔ عورت جتنا بے وقوف بن کر رہے گی اس کی اتنی ہی عزت بنے گی، مشورے دیتی اور مسائل کا حل بتاتی ہوئی عورت مرد کی انا پر چوٹ کی طرح لگتی ہے۔ اسی لیے معاشرہ ابھی تعلیم یافتہ اور جاب کرنے والی عورت کو کھل کر قبول نہیں کرسکا۔

ورکنگ لیڈیز کا دوسرا مسئلہ شادی ہے۔ آجکل جاب والی لڑکی کی ڈیمانڈ زیادہ ہے کیونکہ زمانے کے انداز بھی بدل گئے ہیں اور خرچے بڑھ گئے ہیں۔ ”ایک جوڑے گا دوسرا خرچ کرے گا” والا فارمولہ لگا کر رشتہ دیکھا جاتا ہے۔ اگر تو لڑکی سرکاری ملازم ہے تو پانچوں گھی میں اور اگر پرائیویٹ ملازمت ہے تو اس کے شعبے کے مطابق جانچ پڑتال شروع ہو جاتی ہے۔ اگر کماو لڑکی کی عمر اچھے رشتے کی آس میں نکل گئی تو پھر سر پر چاندی اس کا مقدر ہے۔ بہترین رشتوں کی اس بهیڑ چال میں لیٹ شادی بھی بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ورکنگ لیڈیز کا ایک اور مسئلہ فیملی پلاننگ ہے۔ پہلے ہی شادی میں تاخیر سے مسائل جنم لے چکے ہوتے ہیں بعد میں خاندان کا پریشر اور سوالات کی بوچھاڑ مزید پریشانیاں پیدا کر دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر ایک یا دو سے زائد بچے پیدا ہی نہیں ہو پاتے۔ بچوں والی خواتین کے لیے بچوں کو پالنا اور دیکھ بھال کرنا بھی سنگین مسئلہ بن جاتا ہے۔ جن اداروں میں ڈے کئیر سنٹر نہیں ان ماوں کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ سسرال میں کوئی بچے رکھنے کو تیار نہیں تو میکے کے دروازے کهٹکهٹائے جاتے ہیں۔ پھر بچوں کی صحت اور تعلیم اس سے اگلا امتحان ثابت ہوتا ہے۔ خاندان اور قریبی دوست احباب آپ پر نظریں جما لیتے ہیں کہ دیکهیں گے پڑھی لکھی نوکری یافتہ ماں کے بچے کیا بنتے ہیں۔

گویا آپ پر طرف سے پریشر میں ہیں، بچے جسمانی طور پر کمزور ہیں تو مسئلہ اور پڑھائی میں پیچھے رہ گئے تو قیامت آپ کی منتظر ہو گی۔ بچے نے آداب محفل کا خیال نہیں رکھا، بڑوں سے سلام لینے میں بخل کر لیا تو آپ کا سر اور سامنے والوں کے جوتے۔ میاں بیوی کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ بات بلوں سے شروع ہو کر خرچوں پہ ختم ہو جاتی ہے اور یونہی عمر تمام سمجھیں۔

اکثر اوقات کہا جاتا ہے کہ طلاق کی شرح نوکری یافتہ اور پڑھی لکھی عورتوں میں زیادہ ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑا کے دیکهیں کہ کتنے فیصد عورتیں طلاق لیتی ہیں اور وجوہات کیا ہیں۔ اکثر طلاقیں لو میرج کا نتیجہ ہوتی ہیں یا دو افراد کے درمیان تیسرے کی موجودگی اس کا سبب بنتی ہے۔ تیسرا فرد ضروری نہیں کہ نوکری یافتہ عورت کی ہی زندگی میں آتا ہے یہ آپ کو لوئر کلاس میں زیادہ ملے گا۔

اب آتے ہیں اس کے حل کی جانب تو وہ بس ایک ہی بات میں پوشیدہ ہے۔ اگر شوہر کا گھر اس کے پیسے کی برکت سے چل رہا ہے اور کسی شدید مالی بحران اور طوفان کا سامنا نہیں تو خواتین کو نوکری کی ضرورت نہیں ہے۔ خوداختیاری کی صورت میں پھر نتائج بھی بھگتنا ہوں گے اور زمانے کی باتیں بھی سننا پڑیں گی۔

دوسرا اور سب سے بڑا حل یہ ہے کہ جہاں آپ کو لگے سامنے والا ہراسمنٹ کے موڈ میں ہے فوری طور پر شور مچائیں۔ نوکری جانے کے خوف سے سامنے والے کی گندی نظروں کو برداشت کرنے کے بجائے عزت بچائیں۔ مردوں کے اس معاشرے میں اچھے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو آپ کو ایسے ڈرپوک ولنز سے بچا لیتے ہیں۔ شکاری اسی جانور کا شکار کرتا ہے جو خود سے اور اردگرد سے بیگانہ ہو کر کهڑا ہو۔ آپ کا باس اگر پیش قدمی کر رہا ہے تو آپ کی شہہ پر، یہاں شہہ سے مراد اگنور یعنی پس پشت ڈالنا ہے۔ زمانہ اسے ہی ڈراتا ہے جو دو قدم پیچھے ہٹ جائے ورنہ دنیا بھر کی عورتیں زندگی کے ہر شعبے اور پیشے سے وابستہ ہیں۔

صبح سویرے اچھے کپڑے اور جوتے پہنے، کالے چشمے لگائے اور بغل میں پرس لٹکا کر نکلنے والی خواتین دیکھنے والوں کو مٹھائی کی دکان تو لگتی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس مٹھاس کی زندگی میں کڑواہٹ کتنی ہے۔

مذکورہ پروگرام کی مکمل وڈیو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20