افتخار عارف سے سماجی اور ادبی موضوعات پر “دانش” کا ایک مکالمہ

0

(معروف شاعر اور دانشور افتخار عارف سے شاہد اعوان اور حمید شاہد کی گفتگو)

چند روز قبل دانش ٹی وی کے ایک پروگرام میں، سماجی و ادبی موضوعات پر گفتگو کیلئے جناب افتخار عارف کو مدعو کیا گیا۔ دانش ٹی وی کا یہ ایک مقبول پروگرام ثابت ہوا اور دنیا بھر سے اسکی تحیسن وصول ہوئی۔ جناب افتخار عارف پاکستان کے ممتاز شاعر ہیں، صدر مقتدرہ قومی زبان، چئیرمین اکادمی ادبیات اور کئ دوسرے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ انکے شعری مجموعوں میں مہر دو نیم، حرف باریاب، جہان معلوم، کتاب دل و دنیا شامل ہیں۔ افتخار عارف نئی نسل کے شعراء میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں، وہ عام شعراء کی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے مواد پر انکی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عار ف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انکی آواز جدید شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔


میزبان نے پروگرام کا آغاز جناب افتخار عارف کے ایک مشہور شعر سے کیا:
میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکاں میں رہتا ہوں اسکو گھر کر دے

پہلا سوال کے طور پہ ان سے گزارش کی گئی کہ ہمارے ساتھ اپنی وہ یادیں، ہجرت کی وہ صعوبتیں اور تکالیف share کریں جو انہوں نے پاکستان آنے کے دوران اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد سہیں اور برداشت کیں۔

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے بتایا کہ وہ 1943 میں لکھنوء میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعد 1965 میں انکا خاندان کراچی منتقل ہوا۔ لکھنوء یونیورسٹی سے ایم کرنے کے بعد جب وہ کراچی تشریف لائے تو یہاں پہلے سے انکی کسی سے کوئی شناسائی نہیں تھی، ہاں البتہ یہاں آتے وقت، لکھنوء یونیورسٹی کے انکے استاد احتشام حسین نے انہیں پاکستان میں ڈاکٹر وحید مرزا صاحب اور سید سبط حسن صاحب سے انکے حوالے سے ملاقات کرنے کا ضرور کہا تھا۔ انہوں نے لکھنو میں اپنے خاندان کے کچھ مسائل کا ذکر کرنے کے بعد بتایا کہ وہاں میڈیکل کالجز، انجنئیرنک کالجز وغیرہ تو سب موجود تھے لیکن انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ان شعبوں کو نہیں چنا بلکہ سوشیالوجی اور تدریس کے شعبے کو منتخب کیا اور جب وہ کراچی پہنچے تو کراچی یونیورسٹی میں الطاف حسن قریشی، حسنین کاظمی، اور کچھ عرصہ بعد فیض احمد فیض صاحب اور کئی دیگر اہل علم حضرات سے ملاقاتیں ہوئی۔ پھر انہوں نے یاور مہدی صاحب کی وساطت سے ریڈیو پاکستان جوائن کیا اور وہاں کچھ ہی عرصہ کام کرنے کے بعد پی ٹی وی سے بھی منسلک ہوگئے اوراس قدر معاوضہ ملنے لگا کہ اس سےانکے تمام بنیادی مسائل حل ہوگئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔ انہوں نے بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے “اردو مرکز” کو بھی جوائن کیا جہاں سے بے شمار کتابیں شائع کی گئیں۔ پاکستان، ہندوستان اور دنیا بھر میں اردو زبان کے حوالے سے شاید ہی کوئی بڑی شخصیت ایسی ہوگی جو اس ادارے میں تشریف نہیں لائی ہوگی۔ اس ادارے کا افتتاح فیض صاحب نے کیا تھا اور وہ اس زمانے میں بیروت میں مقیم تھے اور اس افتتاح کی غرض سے خاص طور پر یہاں تشریف لائے تھے۔ بینظیر بھٹو کے زمانے میں جناب افتخار عارف کے لئے پرائیڈ آف پرفارمنس تجویز کیا گیا پھر وہ ملک سے باہر تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو بینظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت معطل ہو چکی تھی۔

شریک گفتگو حمید شاہد صاحب نے جناب افتخار عارف سے سوال کیا کہ وہ بچپن سے لیکر جوانی تک اور پھر جوانی سے لیکر ہجرت تک جن حالات اور مسائل سے گزرے اور پھر بعد میں بہت اچھے حالات بھی دیکھے، خوب پذیرائی بھی ملی، دنیا بھر کا سفر کیا، بے شمار اداروں کی سربراہی کی، بے شمار ایوارڈ ملے تو ان سب چیزوں کو وہ ایک شاعر کی حیثیت سے کس نظر سے دیکھتے ہیں یا یوں کہیں کہ ایک حساس طبیعت رکھنے والے شاعر نے اس کرب و اذیت کو اور بعد کی عافیت، خوشحالی اور پذیرائی کو اپنی شاعری میں کس طرح بیان کیا؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ لکھنوء جہاں انکا بچپن گزرا وہاں ماحول ہی شاعری کا تھا اور وہاں تو وہ لوگ بھی شعر کہتے تھے جو اسکول و کالج کے تعلیم یافتہ نہیں تھے اور وہاں شاید ہی کوئی ایسا محلہ ہوگا جہاں پانچ، دس شاعر نہ ہوں، پھر انہوں نے بتایا کہ زبان و بیان کی طرف انکی توجہ بچپن سےہی تھی اور پھر اساتذہ بھی ایسے ملے جنہوں نے اس صلاحیت کو خاص طور پر نکھارا اور سنوارا۔ اسی دوران فلسفہ اور منطق کے بھی اسباق لئے۔ اور انہوں نے بتایا کہ انکے اوپر انکے نانا کے علاوہ کسی اور مرد شخصیت کا سایہ نہیں تھا، انکے نانا بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن انہیں کتابوں سے بہت رغبت تھی اور اتوار بازار سے بےشمار کتابیں انہیں لا کر دیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کر دئے کہ ہماری کمزوریوں کو ہی ہماری قوت بنا دیا جیسےاگر ہم بجلی کی سہولت afford نہیں کر سکتے تھے تو اللہ نے ہمارے اندر وہ رغبت پیدا کی کہ ہم لالٹین کی روشنی میں ہی زیادہ محنت سے پڑھائی کریں یا جیسے یونیورسٹی جانے کیلئے ہمارے پاس بس وغیرہ کا کرایہ نہیں ہوتا تھا تو ہم پیدل ہی نکل جاتے تو یوں لمبے سفر کے دوران ہمیں یہ موقع ملتا کہ ہم اپنے اسباق کو بار بار دہراتے اور وہ ان لوگوں کی نسبت ہمیں زیادہ بہتر طور پر ذہن نشین ہو جاتے جو کاروں اور بسوں میں آتے تھے۔ اسی طرح گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمارے پاس سیر و سیاحت کے اخراجات اٹھانے کی سکت نہیں تھی تو ہم اپنا فارغ وقت لائبریریوں میں گزارتے اور مختلف موضوعات پرمطالعے میں مصروف رہتے اور یوںپڑھنے لکھنے کا شوق ہوا۔

میزبان شاہد اعوان صاحب نے جناب افتخار عارف سے دریافت کیا کہ کراچی آنے کے بعد انہیں مشہور رائیٹر اور دانشور سلیم احمد کے قریب رہنے کا موقع بھی ملا اور ان سے انکی قربت کس قسم اور کس نوعیت کی تھی؟

اسکے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ ہمارے ہاں لوگ، کچھ بڑی شخصیات سے کچھ باتیں زبردستی منسوب کر لیتے ہیں اور پھر ہمیشہ انکے بارے میں اسی لگی بندھی رائے کا ہی اظہار کرتے ہیں، ان بڑی شخصیات میں حسن عسکری صاحب، سلیم احمد، فیض احمد فیض، سید سبط حسن اور کئی دوسری شخصیات شامل ہیں۔ بے شمار لوگ ان سب کے بارے میں بہت سی بے بنیاد، سنی سنائی باتیں پھیلاتے رہتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب بڑے لوگ اس قسم کی باتیں کر ہی نہیں سکتے، ایسی باتیں کرنے کا کوئی منطقی جواز بنتا ہی نہیں ہے کیونکہ میں ان سب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ان سب کے خیالات اور افکار سے واقف ہوں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ جب وہ کراچی آئے تو جہانگیر روڈ میں ایک جگہ سلیم احمد صاحب رہائش پذیر تھے اور وہ ریڈیو پاکستان میں اس زمانے میں اسٹاف آرٹسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ سلیم احمد کے محلے میں ہی افتخار عارف صاحب کےخالو بھی رہائش پذیر تھے جو ایک مرتبہ انہیں سلیم احمد صاحب کے ہاں لے گئے اور ان سے تعارف کروایا۔ سلیم احمد صاحب اکثر شام کو گھر کے باہر ایک چارپائی پر تشریف فرما ہوتے اور بے شمار لوگ ان سے ملنے کیلئے آتے اور کچھ دیر ملاقات کے بعد چلے جاتے اور ہر روز یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک یونہی چلتا رہتا۔ وہیں افتخار عارف صاحب کی ملاقاتیں کراچی کے تمام بڑے لکھاریوں بشمول حسن عسکری صاحب، اطہر نفیس صاحب، عبید اللہ علیم، احمد ہمدانی، قمر جمیل، اور احمد جاوید و سراج منیر (جو افتخار عارف کے بقول کافی بعد میں آئے لیکن سلیم احمد سے بہت قریب تھے) اور دیگر شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور اہل علم حضرات سے ہوئیں۔ سلیم احمد اور قمیر جمیل دوست بھی تھے لیکن دونوں متحارب خیالات رکھتے تھے۔ سلیم احمد خاص طور پر اپنی زندگی کے آخری دور میں جو بات بھی کہتے تھے برملا کہتے تھے۔ ان کی زندگی کے بھی کئی ادوار ہیں مثلاً انکی تصنیف “بیاض” کا جو زمانہ ہے وہ بعد کی تصانیف “اکائی” اور “مشرق” کے زمانے سے مختلف ہے۔

سلیم احمد کے بارے میں انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کرتے تھے، حسن عسکری صاحب اور مجتبیٰ حسین صاحب کے سامنے نہایت مودبانہ انداز میں بیٹھتے اور انکی باتیں بہت توجہ سے سنتے حالانکہ مجتبیٰ حسین سلیم احمد کے مخالف گروہ کے سرخیل تھے۔ اسی طرح سلیم احمد کے ہاں مختلف سیاسی، سماجی اور فلسفیانہ نظریات رکھنے والے لوگ آتے لیکن سلیم احمد کے ہاں علم کے حوالے سے احترام اس قدر زیادہ تھا کہ وہ لوگوں سے نظری اختلاف کے باجود انتہائی ادب و احترام کے ساتھ پیش آتے۔ مجتبیٰ حسین صاحب، پروفیسر کرار حسین صاحب، ممتاز حسین، محمد علی صدیقی، احمد ہمدانی، قمر جمیل یہ سب لوگ سلیم احمد کے مخالف کیمپ کے لوگ تھے اور ان سے شدید اختلاف رکھتے تھے مگر وہ ان سب کا اس لئے بے حد احترام کرتے تھے کہ یہ سب صاحبان علم تھے۔ ہمارے کچھ نوجوان ساتھی بزرگ لوگوں کا احترام نہیں کرتے تھے اور ان پر فقرے وغیرہ بھی کستے تھے جن میں افتخار عارف اپنے آپ کو بھی شامل کرتے ہیں لیکن تسلیم کرتے ہین کہ میں نے سلیم احمد سے اہل علم حضرات کا ادب و احترام کرنا سیکھا۔ اس زمانے میں افتخار عارف چھوٹی عمر میں ہی بڑے عہدے پر متمکن تھے اور ریڈیو پاکستان اور ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور دانشورں کے درمیان ایک قسم کا رابطے اور پل کر کردار ادا کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک مرتبہ سلیم احمد انکے پاس تشریف لائے اور جناب افتخار عارف گانے، بجانے والے حضرات اور فنکاروں کے جھرمٹ میں بیٹھے تھے تو سلیم احمد نے انہیں سرگوشی کے انداز میں کہا کیا تم پسند کرو گے کہ قیامت کے روز بھی انہی لوگوں کے جھرمٹ میں اٹھائے جائو؟؟ سلیم احمد کی اس طنزیہ بات نے ان کے دل پر اس قدر گہرا اثر چھوڑا کہ انہوں نے “شو بز” کو خیرباد کہہ دیا اور جناب افتخار عارف کے بقول سلیم احمد کا یہ مشورہ انکے لئے احسان عظیم کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے اسکی وضاحت بھی فرمائی کہ وہ “شو بز” کے لوگوں کو برا یا حقیر نہیں سمجھتے لیکن سلیم احمد کے جملے سے انہیں یہ رہنمائی ملی یا سوچنے کا موقع ملا کہ انکی اصل ترجیحات کیا ہونی چاہیں اور انہوں نے ‘شوبز” کو اپنی ترجیحات میں کم درجے پر پاتے ہوئے چھوڑ دیا۔

حمید شاہد صاحب نے جناب افتخار عارف سے سوال کیا کہ جب آپ پاکستان تشریف لا رہے تھے تو آپ کے ذہن میں وہی خواب تھے جو پاکستان بنانے والوں یا اس جدوجہد کا ساتھ دینے والوں کے اذہان میں تھے جو جب آپ یہاں تشریف لائے تو عملی طور پر آپ نے پاکستان کو کہاں پایا ؟ کیا آپ کو ایسا لگا کہ پاکستان ان خوابوں کی تکمیل طرف بڑھ رہا ہے یا کسی دوسری ڈگر کی جانب گامزن ہے؟ اور ہمارے سماج میں سماجی اقدار کی جو توڑ پھوڑ ہو رہی ہے اسکی وجوہات پر بھی کچھ ضرور روشنی ڈالئے گا۔ شاہد اعون صاحب نے اسی سوال میں ایک اور پہلو کا اضافہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہم اپنے قومی اور تہذیبی آدرش سے دور ہو چکے ہیں یا ابھی ہم اسکو تھامے ہوئے ہیں لیکن شاید صحیح نتائج نکلنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا؟

جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ اب میں عمر کے جس حصے میں ہوں میرے پاس غلط بیانی کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کیونکہ میں اپنے سامنے اس وقت کی آمد کو دیکھ رہا ہوں جب عنقریب میرا بھی محاسبہ ہوگا۔ تو عرض یہ ہے کہ ہندوستان اور خاص طور پر لکھنو وغیرہ میں، میں مسلم تہذیب کے زوال اور احوال سے مطمئن نہیں تھا اور مجھے مسلمانوں کی صورتحال بہت دگرگوں نظر آتی تھی، میں زوال اور انحطاط کو اتنا تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ محسوس کر رہا تھا کہ اتر پریش کے مسلمانوں کو اس بات کی سزا دی جارہی تھی کہ وہ پاکستان بنانے کے کام میں شریک کیوں ہوئے تھے۔ میں اس زمانے میں اقبال کی فکر اور قائد اعظم کے سیاسی نصب العین سے ضرور واقف تھا اور ان سب چیزوں کو پسند بھی کرتا تھا لیکن میں یہ غلط بیانی نہیں کروں گا کہ میرا بھی کوئی بہت بڑا نصب العین تھا بس کچھ ذاتی اور کچھ اجتماعی، ملی جلی اغراض تھیں جنکے تحت میں پاکستان آیا، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان نے نہ اس زمانے میں اور نہ ہی آج ستر سال بعد پاکستان کو تسلیم کیا ہے اور آج بھی وہ ہندوستان میں مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ پاکستان میں بھی صوبائی و لسانی نوعیت کے اور دیگر کئی نوعیت کے تعصبات ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے مجھے یہاں کسی قسم کے تعصب کا سامنا نہیں کرنا پڑا، میرے سب صوبوں کے دانشوروں سے برابری کی سطح پر تعلقات رہے ہیں اوراب بھی ہیں مجھے کبھی لسانی تعصب کا احساس نہیں ہوا یا نہیں دلایا گیا۔ میں نے جب مقتدرہ قومی زبان کے چئیرمین کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو آصف زرداری صاحب کی طرف سے وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کی آفر کی گئی تو مجھے سندھیوں کے طرف سے بھی کبھی یہ احساس نہیں دلایا گیا کہ میں یہاں کوئی اجنبی ہوں۔ میں بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور دیگر تمام علاقوں میں جاتا ہوں مجھے کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔ اردو میری مادری زبان اور قومی زبان بھی ہے مجھے اس کا بہت احترام ہے لیکن ہمارے ملک کی دیگر زبانوں کا احترام بھی میں اسی طرح کرتا ہوں جیسے اردو کا کرتا ہوں، میرے خیال میں زبانوں اور مذہب کے نعروں پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور مسلمات پر قومی اتفاق رائے ہونا چاہے۔

آجکل فیس بک اور سوشل میڈیا پر ہماری مسلمات پر حرف زنی کی جاتی ہے جو علمی انداز نہیں ہے کیونکہ اگر آپ نے کسی چیز کو درست طریقے سے manage نہیں کیا یا اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے تو اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ تصور ہی غلط تھا اس حوالے سے یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ ہماری کوتاہی اور نا اہلی تھی۔ حقائق ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں جیسےدین ہمیشہ ہر زمانے میں ایک ہی تھا لیکن ہر زمانے میں شریعتیں بدلتی رہتی ہیں۔ اب ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ نظام عدل اجتماعی Social Justice قائم نہیں ہو سکا، جاگیر داری کا نظام ختم نہیں ہو سکا، استحصالی طبقے آج بھی اسی طرح طاقتور ہیں اور کمزوروں کا استحصال کر رہے ہیں۔ مستحکم سلطنت کا تصور، مطمئن صوبوں کے تصور کے بغیر ممکن نہیں ہے، صوبوں کے لوگوں کی آرزوئوں، امنگوں کا اطمینان اور احترام بہت ضروری ہے اور ظاہر ہے پاکستان کا خواب سب صوبوں نے مل کر دیکھا تھا، یہ کسی ایک صوبے کے افراد کے ووٹ سے نہیں بنا، اور چونکہ یہ ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا اس لئے جمہوری عمل ہی اسکو قائم رکھ سکتا ہے۔ ہمارے ہاں فوجی حکومتیں بھی رہی ہیں اور منتخب حکومتیں بھی رہی ہیں، میں کسی فیشن کی وجہ سے ان میں سے کسی کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا، مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر منتخب حکومتیں کچھ غلطیاں بھی کریں گی تو جمہوری عمل کے تسلسل سے آگے چل کر اس بات کا چانس موجود ہے کہ ان کی غلطیوں کو درست کر لیا جائے گا لیکن فوجی حکومتوں کی غلطیاں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں، عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے، عوام جسے منتخب کرے اسکا بھی احترام کیا جانا چاہیے، حکومت سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ریاست سے اختلاف سمجھ سے بالا تر ہے۔ میں اسکی سازش تو نہیں سمجھتا لیکن بعض لوگ مسلمات پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن ان کو سوچنا چاہے کہ ہمارے پاس ایک متفقہ آئین ہے وہ ہم سے کچھ مطالبے اور تقاضے کرتا ہے اور ہمیں وہ تقاضے اور مطالبے پورے کرنے چاہیں اور اگر آپ کو اس آئین سے اتفاق نہیں ہے تو اس میں ترمیم کیلئے بھی تو آپ کو جمہوری طریقے کا ہی انتخاب کرنا پڑے گا مگر آپ کو اس کے علاوہ کوئی را ستہ اپنانے کا اختیار نہیں۔ اس سلسلے میں کچھ سوال بہت اہم ہیں مثلاً دنیا میں اس وقت ستاون کے قریب اسلامی سلطنتیں ہیں مگر سب سے زیادہ انتشار صرف انہی اسلامی سلطنتوں میں کیوں ہے؟ہمارے ہاں علامہ اقبال جیسے عظیم مفکر گزرے ہیں مگر ہم نے انکے افکار سے کچھ نہیں سیکھا؟ کبھی ہم ایک پراکسی وار کا ساتھ دیتے ہیں کبھی دوسری کا، مصر، شام، عراق، ایران، افغانستان اور دیگر کئی اسلامی ممالک کے دگرگوں ہیں لیکن آپس میں مل بیٹھ کر مسائل طے نہیں کئے جا رہے۔ ہمارے ہاں کبھی مسائل طے بھی کر لئے جاتے ہیں لیکن معلوم نہیں کیوں عمل درآمد سےپھر بھی وہ رہ کیوں جاتے ہیں؟ہمارے ہاں اکثر فرمودات قائد اعظم کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے اور پھر کچھ فرمودات کو کچھ دیگر فرمودات کے ذریعے مسترد کرنے کا بھی سلسلہ چل پڑتا ہے انہی سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھا جاتا ہے لیکن ہم کبھی بھی ان فرمودات کے مجموعی پیغام یا رہنمائی کو سمجھ نہیں پاتے جیسے پہلی کیبنٹ میں جوگیندرا ناتھ مینڈل بھی تھے، سر ظفر اللہ بھی تھے، سر آرچی بلڈ رونلڈ مالی مشیر بھی تھے، قائد اعظم کے ٹینکو کریٹس میں مشرقی بنگال کے گورنر سر فیڈرک بورنی، مغربی پنجاب کے گورنر سر فرانسس نیوڈی، خیبر پختونخواہ کے گورنر سرجارج کونیگھم، مسلح افواج کے تمام سربراہ برطانوی نژاد تھے، میرا مطلب ہر طبقہ خیال کے لوگ موجود تھے، کبھی کسی نے کسی کا مسلک، مذہب یا نظریہ نہیں پوچھا لیکن اب یہ مسائل شدت کیوں اختیار کر گئے؟

حمید شاہد صاحب نے موضوع بدلتے ہوئے جناب افتخار عارف سے سوال کیا کہ میں آپ کی کتاب دیکھ رہا تھا جس میں فیض صاحب کے خطوط ہیں جو آپ کے نام ہیں۔ میں اس میں یہ تشنگی محسوس کر رہا تھا کہ فیض صاحب کے خطوط تو موجود ہیں لیکن آپ نے انہیں کیا لکھا جس کا انہوں نے جواب دیا جیسے فیض صاحب نے ایک خط میں فرمایا ہے کہ حکومت، مملکت اور نظریہ سب کا الگ الگ وجود ہے اور ان سے وابستگی کے دائرے بھی الگ الگ ہیں، حکومت سے وابستگی تو ظاہر ہے اسکے کارندوں پر واجب ہوگی، مملکت یعنی وطن سے وابستگی ہر اہل وطن اور ہر شہری پر واجب ہوگی جن میں ادیب اور شاعر بھی شامل ہیں، لیکن قضیہ یہ ہےکہ فکر عمل کے ایک مسلک کو میں محب وطن سمجھتا ہوں تو دوسرا اسے وطن دشمن قرار دیتا ہے۔ یہ بحث بڑی دلچسپ ہے لیکن اس میں آپ نے کیا کہا جسکے جواب میں انہوں نے یہ سب فرمایا ہے؟

اس سوال کے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ میں نے سلیم احمد بھائی سے یہ سیکھا ہےکہ جب آپ کسی بڑے آدمی کے پاس جاتے ہیں تو کچھ سیکھنا مقصود ہو تو اس سے سوال کر لیجئے وہ آپ کو مطمئن کر دے گا لیکن بڑے آدمی کے پاس آپ بحث کیلئے نہیں جاتے، آپ اس سے فیض حاصل کرنے جاتےہیں، علم کا اکتساب کرنے جاتے ہیں یا معرفت حاصل کرنے جاتے ہیں تو میں کبھی کبھی فیض صاحب سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھ لیا کرتا تھا۔ لیکن یہ بات تو حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ آئے دن کسی نہ کسی شخصیت پر سوال اٹھا دیتے ہیں کہ وہ ملک کا غدار ہے اور جب چاہتے ہیں کسی کو محب وطن قرار دے دیتے ہیں۔ پھر وہی غدار محب وطن بن جاتے ہیں اور نئے غدار آجاتے ہیں تو بنیادی بات یہ ہے کہ آپکی وفاداری ریاست سے ہوتی ہے، حکومت سے نہیں، حکومتیں تو سب سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے پر تلی ہوئی ہوتی ہیں۔ فیض صاحب بہت عرصہ باہر رہے لیکن وہ باہر رہنے پر نہ خوش تھے اور نہ ہی باہر رہنا چاہتے تھے مگر مجھے یا د نہیں کہ انہوں نے کبھی بھی ملک سے باہر رہ کر ملک کے خلاف کسی قسم کی سیاسی بیان بازی کی ہو Never ever، بعض دفعہ ایسے مراحل آجاتے تھے کہ نادانستگی میں بھی ایسی صورت نکل آتی تھی۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نے مجھے کہا کہ بھئی میں لکھنو گیا تھا وہاں ان لوگوں نےبارہ دری میں میرے اعزاز میں جشن منایا جس میں تمہارے استاد پروفیسر شفیع الحسن صدر شعبہ اردونے صدارت فرمائی اور انہوں نے ایک عجیب و غریب جملہ کہا اور فیض صاحب نے شرماتے ہوئے وہ جملہ دہرایا “میر جب اس شہر میں داخل ہوئے تھے تو ایک واقعہ ہوا تھا آج ایک دوسرا واقعہ ہوا ہے فیض صاحب لکھنو آئے ہیں”۔ اب اس محفل میں جب فیض صاحب کی تقریر کرنے کی باری آئی تو اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا اس صورتحال کو اپنے حق میں مزید ابھارتا یا اچھالتا لیکن فیض صاحب نے انتہائی عاجزی اور انکساری سے سب لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ آپ لوگوں نے میری عزت افزائی کی وغیرہ وغیرہ اور اس بات کو بس یہیں پر ختم کر دیا۔

اسی طرح مشرقی بنگال میں کمیونسٹوں کی حکومت تھی، انہوں نے وہاں اقبال چئیر قائم کی اور اس سلسلے میں فیض صاحب سے رابطہ کیا، اسکے بعد جامیہ ملیہ میں بھی فیض صاحب سے کہا گیا کہ آپ یہا ں آکر کوئی چئیر سنبھال لیں لیکن فیض صاحب ان دونوں جگہ تشریف نہیں لے گئے۔ یہ سب چیزیں آپ کے موقف کا بیانیہ ہوتی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں تھیں۔ جہاں تک فیض صاحب کے نظریات کی بات ہے تو انکو جاننے والے سب جانتے ہیں کہ وہ کبھی بھی کسی پارٹی کے کارڈ ہولڈر نہیں تھے مگر جو انکا آدرش تھا وہ اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے، اس سے کبھی پہلو تہی نہیں کی، اسکا ہمیشہ برملا اظہار کیا، ترقی پسند منشور کے ابتدائی صورت احوال سے ہمیشہ ایک دوسرا موقف اختیار کیا اور کہا کہ ادب کو پرکھنے کے بنیادی معیارات ادبی ہی ہونے چاہیے۔ خود سجاد ظہیر صاحب نے جب ذکر حافظ بھی لکھی تھی تو اس موقع پر بھی جہاں پارٹی لائن کا قصہ آیا تھا تو انہوں نے اس سے انحراف کیا تھا، اور اسکا ہی یہ نتیجہ تھا کہ بعد میں جب کچھ ترقی پسندوں نے علامہ اقبال کو رجعت پسند قرار دیا تو اس حوالے سے فیض صاحب نے اپنے ان دوستوں کے اس عمل کی توثیق نہیں کی اور ان سے الگ رہے۔ تو وہ اپنے الفاظ کی قوت پر زندہ تھے انہیں ٹریڈ یونینز، اور پارٹیوں کی قوت کی ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان سے باہر بیشمار لوگ ایسے ہیں جو پاکستان کی زبان کو پاکستان میں موجود بڑے شاعروں کی وجہ سے جانتے ہیں، فیض صاحب بھی ان میں سے ایک شخصیت ہیں، میں خود جس زبان میں شعر کہتا ہوں وہ ہمارے ملک کی زبان ہے تو گویا مجھے بھی یہ افتخار حاصل ہے کہ میں جس زبان میں شعر کہتا ہوں فیض صاحب بھی اسی زبان میں شعر کہتےتھے۔ کوئی آدمی اپنے پرچم سے بڑا نہیں ہو سکتا اوریہ کوئی زبانی، کلامی بات نہیں تھی فیض صاحب اس پر یقین رکھتے تھے۔

شاہد اعوان صاحب نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ افتخار عارف صاحب آپ نے بھرپور زندگی گزاری ہے، آپ ہر دور میں، ادبی سرگرمیوں، ادبی اداروں، ذرائع ابلاغ، سیاست، اور حکومتی اداروں سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے اور آپ نے جمہوری اور غیر جمہوری سب ادوار دیکھے ہیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان ادوار میں عوام کا حکومتوں سے توقعات اور عملی تعلق کے حوالے سے کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں یعنی کیا عوام ہمیشہ سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ حکومتیں انکی توقعات پر پوری نہیں اترتیں اور وہ مایوسی کےعالم میں جب حکومت سے لا تعلق رہتے ہیں تو حکومتیں اور مقتدر ادارے عوام اور حکومتوں کے اس کمزور تعلق کو ہمیشہ اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ جو لوگ پسماندہ طبقات سے اٹھ کر اوپر آتے ہیں انکے پاس زیادہ choices نہیں ہوتیں انہیں جہاں چھوٹا موٹا موقع ملتا ہے اسکو کافی سجھتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں وہیں صرف کرنے لگ جاتے ہیں، انہیں اگر کسی اخبار، میگزین، ریڈیو، ٹی وی چینل وغیرہ پر کام کرنے کا موقع مل جائے یا کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی وغیرہ میں پڑھانے کا موقع مل جائے تو وہ اسے غنیمت سمجھتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھ پاتے کہ ان کے پاس اور بھی بے شمار مواقع ہو سکتے ہیں جہاں وہ اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کر سکتے ہیں۔ مثلاً یہ صلاحیتیں ایک بڑا شاعر، بڑا ادیب، ماہر سماجیات یا ایک سوشیو پولیٹیکل ایکٹیوسٹ بن کر یا کسی اور اہم شعبے میں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ ایک ادیب اور ایک پولیٹیکل ایکٹیوسٹ میں فرق ہوتا ہے، پولیٹیکل ایکٹیوسٹ ایک ایجنڈے کے تحت سیاسی جدوجہد کرتا ہے لیکن ادیب سماجی مسائل پر لکھتا ہے لیکن اب اہم سوال یہ ہے کہ اسے کیا لکھنا چاہیے؟؟ ہم اس سلسلے میں کسی بڑے آدمی کو پابند تو نہیں کر سکتے کہ وہ کیا لکھے اور ہماری کیا مجال کہ ہم اسکے بارے میں کچھ تجویز کریں لیکن اس بات کا تجزیہ تو کیا جا سکتا ہے کہ بڑے بڑے ادیب، بڑے بڑے ملکی، قومی، اسلامی دنیا یا عالمی مسائل سے کیوں لاتعلق رہے؟؟ مثلاً سلیم احمد دائیں بازو کے شاعر، ادیب اور نقاد تھے، ان کی کتاب “مشرق” ملکی، قومی اور عالم اسلام کے مسائل سے کیا بے نیاز ہے؟ کیا ان مسائل پر گفتگو نہیں ہونی چاہیے تھی؟اسی طرح دوسری طرف مشرق و مغرب کے تصادم پر کیا کبھی کسی ترقی پسند شاعر، ادیب (راشد، فیض، میرا جی اور مجید امجد سمیت) کسی نے بھی کبھی گفتگو کی ہے ؟ میں بہت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ سب باتیں دیکھنے کی ہیں۔ مجھے دائیں بازو یا بائیں بازو کے کسی بھی دانشور کی ہر بات سے نہ اتفاق ہے نہ ہر بات سے اختلاف ہے، ان بڑے لوگوں کے سامنے میری کیا اوقات؟ لیکن میں اپنی رائے تو رکھ سکتا ہوں، مجھے آزادی رائے تو حاصل ہے۔

ایک مرتبہ فیض صاحب میرے پاس تشریف لائے اور قیام فرمایا، اس دوران انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ پڑھنے کیلئے کوئی کتاب دو، میں نے ایک کتاب اٹھائی اور انہیں دے دی، فیض صاحب جب اگلی صبح بیروت جانے لگے تو مجھے سے کہنے لگے کہ کیا یہ کتاب میں اپنے ساتھ رکھ لوں؟ تو میں نے کہا سر! اس پر کچھ لکھ کر بعد میں مجھے بھجوا دیجئے گا۔ وہ کتاب حسن عسکری صاحب کی تھی “جدید مغرب کی گمراہیاں”۔ فیض صاحب نے کچھ دنوں بعد مجھے چھ صفحات کا خط لکھا اور اس میں حسن عسکری صاحب کے خیالات کی تردید کی مگر انہوں نے لکھا کہ عسکری صاحب کی یہ کتاب اس قدر اہم ہے کہ سب کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے۔۔۔۔۔ اب ہم اپنی بات کرتے ہیں تو ہم مشرق و مغرب کے تصادم کی باتیں کرتے رہتے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں ہے کہ مغربی فکر کے معنی کیا ہوتے ہیں؟ یہ فکر کتنے مکاتب فکر میں بٹی ہوئی ہے مثلاً مارکس، ویبر، برٹرنڈ رسل اور linguists بھی مغرب سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان سب کی فکر میں فرق ہے۔ حسن عسکری صاحب نے مفتی شفیع صاحب سے کہا تھا کہ یہ جو آپ اپنے مدرسوں میں بچوں کو مغرب کے خلاف باتیں بتاتے ہیں تو سب سے پہلے تو انہیں یہ بتانا چاہیے کہ مغرب ہے کیا؟ اسکا فساد اور فتنہ کیا ہے؟ اس میں کونسی چیزیں مثبت ہیں اور کونسی چیزیں ہیں جو دین کے راستے میں مانع ہیں۔ جب تک یہ بنیادی باتیں نہیں سمجھیں گے تو استدلال کیا کریں گے؟

میں اس سلسلے میں کہتا ہوں کہ ہر شخص کو کچھ کتابیں ضرور پڑھنی چاہیں مثلا ً شیخ محمد اکرام کی کتاب “سلسلہ کوثر”، مختار مسعود، عسکری صاحب کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ دیکھیں سو برس ہو گئے، کتنے نشیب و فراز آئے لیکن حسن عسکری ایک اکیلا ادیب کھڑا ہے اور کوئی شخص اگر تنقیدی ادب پر قلم اٹھاتا ہے خواہ وہ روائیتی ہو، ترقی پسند ہو، جدید دبستان ادب سے تعلق رکھتا ہو مگرعسکری صاحب سے پہلو بچا کر نکل نہیں سکتا۔ عسکری صاحب سے آپ اختلاف کر سکتےہیں لیکن انہوں نے کوئی ایسا پہلو چھوڑا نہیں جس پر نہ لکھا ہو۔ عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب خود بھی اختلاف کو خوش دلی سے قبول کرتے تھے اور انہیں اس میں لطف آتا تھا۔ سلیم احمد نے پوری عمر اخبار، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے بھی لکھا لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ سیٹھ کا مال ہے یہ ہمارا مال نہیں ہے۔ اپنا مال وہ اپنی کتابوں بیاض، مشرق، اکائی کو کہتے تھے۔

اسی موضوع پر حمید شاہد صاحب نے کہا کہ تنقید تو اب تھیوری بن گئی ہے، پہلے تو تنقید، تخلیق کے ساتھ جڑی ہوتی تھی لیکن اب تو تنقید صرف تھیوری کے ساتھ جڑی ہے تو آپ کیا سمجھتے یہ کس کا مال ہے؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ اب جھگڑوں میں پڑنے کی میری عمر نہیں ہے لیکن میں اس سلسلے میں ایک گزارش کروں گا کہ پروگریسو آئیدیاز میں content پر بہت زور تھا یعنی انکا خیال تھا کہ جن لمحات میں قوموں کی تقدیر بدلنے والی ہوتی ہے ان لمحات میں ادیبوں کو بھی اس حوالے سے بہت لکھنا چاہیے لیکن بعد میں جب مارڈرنسٹس آئے تو انہوں نے فلاسفی کے ایشو ز کو، لینگوئیج کے ایشوز کو زیادہ نمایاں کر دیا۔ مگر آجکل یونیورسٹی کے پروفیسرز صاحبان کی اکثریت کی حالت یہ ہے (سب کی بات نہیں ہو رہی ہے) کہ اگر ان سے کہا جائے کہ ژاک دریدہ، فوکو وغیرہ کا اصل نام انگریزی میں صحیح تلفظ کے ساتھ لکھ دیں تو وہ نہیں لکھ سکتے یعنی کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب کو عوام سے جدا نہیں کرنا چاہیے، ٹھیک ہے کچھ Structure کی بحثیں بھی ہونی چاہیں مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جیسا کہ اب صرف شاعر ہی شاعر کو پڑھ رہا ہے، صرف ادیب ہی ادیب کو پڑھ رہا ہے، یہ الزام بہت سطحی ہے کہ ہمارے میڈیا نے ہمیں ادب سے کاٹ دیا ہے مگر ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اور ممالک میں بھی تو یہ میڈیا ہے، مگر وہاں صورتحال کیوں نہیں ہے؟ اب ہمارے ہاں بڑے ادیبوں کی برسی وغیرہ پر انکے بارے میں کتنے مضامین لکھے جاتے ہیں؟ جب انکے بارے میں کوئی لکھے گا ہی نہیں تو نئی نسل ان سے کیسے روشناس ہوگی؟ اب ہمارا ادیب تو انگریزی کی اصطلاحات کو پوری طرح سمجھے بغیر انہیں دھڑا دھڑ استعمال کر رہا ہے، ہمارے بڑے ادیب بھی اب صرف paraphrasing کر رہےہیں اس لئے انکی تخلیقات صرف انٹر نیٹ تک ہی محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ ٹھیک ہے جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات، پس ساختیات وغیرہ بھی اہم باتیں ہونگی لیکن یہ بھی تو دیکھنا چاہے کہ کیا سبب ہے کہ عام آدمی ان ادیبوں کو سرے سے توجہ ہی نہیں دے رہا ؟پہلے ہمارے میڈیا پر ادیبوں کی حکمرانی ہوتی تھی۔ سلیم احمد، انور سجاد، بانو قدسیہ، منو بھائی، اشفاق احمد، انتظار حسین، حمید کاشمیری، شوکت صدیقی وغیرہ سب بڑے ادیب تھے لیکن میڈیا پر بھی لکھتے تھے لیکن اب جو لوگ لکھ رہے ہیں میں ان کے نام لیکر انہیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔ عسکری صاحب اور سلیم احمد کا کوئی سا مضمون اٹھا لیجئے، اگر آپ عام آدمی ہیں تو بھی آپکا دل چاہے کہ آپ پڑھتے ہی چلے جائیں حالانکہ وہ تو بہت بڑے ادیب اور نقاد تھے مگر وہ ان موضوعات پر بھی لکھتےتھے جو عام لوگوں کی پسند کے موضوعات ہوتے ہیں، اب حسن عسکری نے نعت کے موضوع پر جو لکھا ہے اس معیار کا محسن کاکوروی کے علاوہ شاید ہی کسی اور نے نہیں لکھا ہوگا، حسن عسکری نے نعت کی فکر کو جس انداز سے اجاگر کیا وہ انکے بعد کوئی نہیں کر سکا۔

اس پر میزبان نے موضوع کو بدلتے ہوئے یہ پوچھا کہ شاید یورپ کے بعد ایران وہ ملک ہے جہاں آپ نے ابہت وقت گزارا، انکا سماج، معاشرہ، عوام کی نفسیات ترجیحات پاکستان کی عوام انکی ترجیحات، سماج اور معاشرے سے کس قدر مختلف ہے؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ میں ایران میں کسی تقریب میں بڑے لوگوں کے سامنے مولانا رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جسے سب لوگ جانتے ہیں کہ زین ہمرہان سست عناصر دلم گرفت شیرِ خدا و رستمِ دستانم آرزوست جس کا ترجمہ یہ ہے کہ “مولانا کیا چاہتے ہیں شیر خدا یعنی دین؟ یا رستم دستاں یعنی تہذیب چاہتے ہیں؟” تو ایران میں ان دوچیزوں کا ایک حسین امتزاج ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ہر ایرانی پہلے ایرانی ہے اسکے بعد کچھ اور ہے۔ وہاں ایک طبقہ ہے جو شاہ پرستوں کا حمایتی ہے اور وہ انقلاب ایران سے اس طرح اتفاق نہیں کرتے جس طرح اکثریت کرتی ہے لیکن سب ایرانی اپنے شاعروں سے، ادیبوں سے، تہذیب سے پیار کرتے ہیں ہر گھر میں ایسا گوشہ ضرور ہوگا جہاں آپ کو فردوسی، رومی، شیرازی، عمر خیام، سعدی کی کتابیں وغیرہ نظر آئیں گی، ایک اچھا سا قلین پڑا ہوگا، کچھ تصاویر آویزاں ہونگی، خطاطی کے نمونے لگے ہونگے اور پھول پودے لگے ہونگے تو یہ انکی تہذیب کی لطافت، اور شائستگی کے عناصر ہیں۔ اور عام لوگوں میں کوئی ایسا نہیں ملے گا جس کو ان سب مشاہر کے کلام مین سے کچھ نہ کچھ یاد نہ ہو اور وہ مختلف مواقع پر اس مین سے سناتے بھی رہتے ہیں۔ اسی طرح ایرانیوں میں انکی زبان کے بارے جو عصبیت (ابن خلدون کے معنوں میں) ہے وہ بہت محکم ہے اور وہ اپنی زمین اور تاریخ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ اپنے سیاسی نظام سے اختلاف کرتے ہیں اور اسکا مظاہر سب لوگ دیکھتے رہتے ہیں مگرا یران زمین کے بارے میں سب کی محبت یکساں ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بھی رہتے ہوں لیکن وہ اپنے تہوار اسی طرح مناتے ہیں مگر ہمارے ہاں ان چیزوں کو اس طرح سے لائق توجہ نہیں سمجھا جاتا۔

پاکستان کے سب ادبی، تہذیبی، لوک ورثہ، آرٹ اور تعلیم کے اداروں میں جو رقم مختص کی جاتی ہے یا جس طرح یہ صرف ہوتی ہے اگر آپ اسکا موازنہ دیگر ممالک سے کریں تو آپ کو شرم آئے گی۔ اسکا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ میں نے دنیا بھر کے تمام بڑوں ملکوں کے ادبی ادروں کی وزٹ کی ہے اور جب میں انکا موازنہ اپنے ادبی ادروں سے کرتا ہوں تو مجھے یہ صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے ادروں نے بھی بہت کتابین شائع کیں، لوگوں کو وظائف دئے، اور دیگر بہت سے کام کئے لیکن نہ ہم اسکا چرچا کرتے ہیں نہ اس پر باقاعدگی سے گفتگو کرتے ہیں اس لئے ہماری عوام کے اوپر اسکے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ “مقتدرہ ” نے سات سو کے قریب کتابیں شائع کیں ہیں جن میں سے سو لغات ہیں، تراجم ہیں، مختلف زبانوں پر کام ہے، پھر یہاں کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے، اردو سائنس بورڈ نے بھی بہت اچھا کام کیا ہے، اردو ڈکشنری بورڈ نے جو ڈکشنری تخلیق کی وہ کمال کی چیز ہے۔

اس موضوع کی مناسبت سے شاہد اعوان صاحب نے ایک اور ضمنی سوال پوچھا کہ ایرانی قوم کی روزمرہ زندگی میں وہ کونسے رویے ہیں جنہیں آپ کے خیال میں ہمیں سیکھنا چاہیے؟

جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے ہمارے ملک کا آدمی، اسلامی دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے اخلاقی لحاظ سے بہتر ہے، آپ کا گزر، اگر پنجاب، سرحد، بلوچستان، سندھ کے کسی بھی گائوں سےہو، اور آپکو پیاس لگی ہو یا بھوک لگی ہو آپ کسی سے اسکا ذکر تک نہ کیجئے وہاں کے لوگ آپ کو دیکھ کر پہچان جائیں گے کہ آپ تھکے ہوئے ہیں یا آپ کو بھوک اور پیاس کی شدت ستا رہی ہے تو گائوں کے لوگ آپکو اپنے گھر لے جا کر آپ کی سب ضرورتیں پوری کر دیں گے، تو ہم آپکے پہلے سوال کے جواب میں تقابلی جائزہ لے رہے تھے سفاک شہری معاشروں کا نہ کہ گائوں دیہات کا۔ اب آپ ادب کی بات کر لیجئے، ہمارا ادب اور خاص طور پر خواتین کا ادب، ہماری خواتین نے پچھلے پچاس سال میں جس معیار کا ادب تخلیق کیا اور جس مقدار میں تخلیق کیا ہے وہ دنیا کی کسی بھی بڑی زبان میں لکھے گئے ادب سے کم نہیں ہے، مگر مسئلہ ہماری ترجیحات میں ہے، کوئی باہر سے آکر ہمیں نہیں بتا ئے گا کہ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہیں یہ ہمیں خود بحثیت قوم طے کرنا ہوگا۔ مثلاً ہمارے ہاں ترجمے کو ترجیح نہیں دی جاتی، دنیا بھر کے بڑے ادیب اپنی اپنی زبان میں ہی اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں لیکن ایک دم انکی کتابیں اور انکے خیالات دنیا بھر میں کیسے پہنچ جاتے ہیں ظاہر ہے ترجمے کے ذریعے ایک زبان کا ادب دوسری زبان میں پہنچتا ہے لیکن ہمارے ہاں ترجمے کو کوئی حیثیت ہی نہیں دی جاتی۔ ہمارے ہاں تو جو کتاب کراچی میں چھپتی ہے وہ اسلام آباد میں نہیں ملتی اور جو اسلام آباد میں چھپتی ہے وہ کراچی میں نہیں ملتی۔ اسی طرح ہماری موہنجو دڑو کی تہذیب یا ٹیکسلا کی تہذیب دنیا کی کئی تہذیبوں سے زیادہ پرانی تہذیبیں ہیں اور یہاں سے جو نمونے اور چیزیں ملی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں جو دوسری تہذیبوں کے آثار سے ملی ہیں لیکن آپ ہمارے ہاں کسی بھی بڑی بک شاپ پر چلے جائیے اور اس سےکہیے کہ آپ کو ٹیکسلا تہذیب یا موہنجو دڑو کے بارے میں کچھ کتابیں چاہیں پھر دیکھئے وہ آپ کو کیا جواب دیتا ہے۔ اسی طرح ہمارے نام نہاد مورخین، فارسی اور عربی سے واقف نہیں ہیں تو وہ اسلامی تہذیب کے اس دور کے بارے میں کیسےتحقیق کر سکتے ہیں جس دور میں ان زبانوں کو غلبہ حاصل رہا یا اگر وہ ہندی اور سنسکرت نہیں جانتے اور تو وہ اس دور کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں جب ان زبانوں کو غلبہ حاصل رہا، ہمارے مورخین صرف انگریزوں کی لکھی ہوئی تحقیق پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔ یہاں تو ایک ہی محقق دین کی بھی تشریح کرنا چاہتا ہے، تہذیب کی بھی تشریح کرنا چاہتا ہے اور تاریخ کی بھی تشریح کرنا چاہتا ہے تو اس طرح ہر ایک کے تعصبات تو تحریروں میں در آئیں گے اور اس سے پھر آپ کو نبٹنا پڑے گا۔

اسکے بعد حمید شاہد صاحب نے سلیم احمد صاحب کا حوالہ دیا کہ انہوں نے افتخار عارف صاحب کی شاعری کو زندہ اور توانا آواز کہا تھا، ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس حوالے کے بعد حمید شاہد صاحب نے افتخار عارف صاحب کی کتاب “دل اور دنیا” کے بارے میں سوال پوچھا کہ افتخار عارف صاحب یہ بتائیے کہ سلیم احمد صاحب کی دل و دماغ کی بات آپ کی کتاب کے ٹائیٹل پر آکر دل اور دنیا میں کیوں تبدیل ہو گئی؟ کیا اسکا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ کا دل تو شاعری میں کھویا رہا لیکن آپ کو دنیا کیلئے بہت زیادہ مشقت کرنا پڑی اس لئے آپ نے یہ عنوان منتخب کیا یا کوئی اور بات تھی؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ میں وثوق کے ساتھ تو اپنے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر وقت میرے اندر بھی ایک تصادم کی فضا رہتی ہے کہ کبھی مجھے دل بلاتا ہے اور کبھی مجھے دنیا کھینچتی ہے مگر میں نے پوری زندگی کوئی بڑا فیصلہ استدلال کی بنیاد پر نہیں کیا، بس میرا دل جو کہتا ہے میں کر گزرتا ہوں اور میرے دل کے کسی فیصلے نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔ میں شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا تھا تو میں نے شو بز چھوڑ دیا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے یہ لگا ہوا میلہ کیوں چھوڑ دیا تو میں نے یہی عرض کیا کہ اب مزید میرا دل نہیں چاہتا۔ اسی طرح جب ضیاء الحق صاحب آئے تو اسی دور میں، میں نے سرکاری ملازمت بھی چھوڑ دی۔ آسودگی نے اگر چہ مجھے لکھنے کی بہت Space دی لیکن آسودگی آنے سے بہت سی چیزیں چلی بھی جاتی ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے میں نے کبھی کسی کی فرمائش پر یا کسی کی مدح میں شعر نہیں لکھے، کسی حکومت کے قصیدے نہیں لکھے، جو میرے دل میں آیا میں نے لکھ دیا۔ ظاہر ہے میں باقاعدہ طور پر کوئی پولیٹیکل ایکٹیوسٹ نہیں تھا لیکن ملک کے کسی بڑے واقعے نے جب جب مجھے متاثر کیا میں نے اس کے اوپر اپنی رائے کے اظہار میں کبھی پہلو تہی نہیں کی۔ میری کتاب دل و دنیا کی شاعری فنی نقطہ نظر سے کمزور شاعری ہو سکتی ہے لیکن میں نے کوشش کی ہے کہ بلوچستان کے مسائل یا مارشل لاء کی صورت احوال یا تعصب، مذہبی منافرت، اور انتہا پسندی کے معاملات الغرض تقریباً ہر اہم معاملے پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھا جائے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسکے نتائج میرے حق میں ہونگے یا خلاف ہونگے۔ میں نے مسلمانوں کے تاریخ سے بہت سے چیزیں مستعار لی ہیں اور انکو موجودہ صورتحال پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ ضروری نہیں کہ میری یہ کوشش بہت کامیاب رہی ہو۔ اگر آپ اپنی ریڈیکل تھیالوجی کے ذریعے آج کے دور کی صورتحال کو سمجھنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے مسلمانوں کی تاریخ سے استعارے لے سکتے ہیں جیسے واقعہ کربلا کے استعارے کو ظلم و ستم اور جبر کے خلاف شاعری وغیرہ میں پیش کیا جا سکتا ہے چنانچہ میں نے ان استعاروں کو استعمال کیا ہے اور میں نے اپنی ایک غزل کا مطلع لکھا کہ

وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے

تو اس پر میرے ایک دوست جن کا تعلق ایک خاص مکتبہ فکر سے تھا انہوں نے اس پر تبصرہ کیا کہ دیکھو! یہ لکھنوء سے آیا ہے لیکن اسے سلام اور غزل کا فرق نہیں معلوم۔ میں نے اسکا ذکر جب سلیم احمد صاحب سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ لوگ اپنی محبوبات کیلئے جب شعر لکھنے میں شرم محسوس نہیں کرتے تو تمہیں کیا چیز مانع ہے؟ تو اس سے مجھے بہت حوصلہ ملا اور میں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اور جب مارشل لاء کا دور آیا تو میں نے لکھا کہ
وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پر
سارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیں
سارے خنجر ایک طرح کے ہوتے ہیں
دریا سے مقتل تک پھیلی ہوئی روشنی
سارے منظر ایک طرح کے ہوتے ہیں

اور اسی طرح
سر بریدہ بازئوں سمیت، شہر کی فصیل پر لٹک رہے ہیں اور ہر طرف سکون ہے
اسی طرح جب میں نے حضرت ابوذر غفاری پر جب نظم لکھی تو پہلی دفعہ یہ غزل میں نے دہلی میں پڑھی اور سہیل انصاری صاحب اور سردار جعفری صاحب جو دونوں بزرگان مارکسسٹ تھے وہاں تشریف فرما تھے، جب میں اسٹیج سے اترا تو ان دونوں نے جس طرح میری حوصلہ افزائی فرمائی میں بیان نہیں کر سکتا۔

اس زمانے میں بہت سے لوگوں کو مشاعروں میں اپنی مذہبی شناخت کی شاعری پڑھنے میں حجاب آتا تھا اور بہت سے رسالے نعتیں چھاپنے سے گریز کرتے تھے کیونکہ انکے ہاں اس کو رجعت پسندانہ عمل سمجھا جاتا تھا مگر میں نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی کیونکہ میرا ایمان ہےکہ میں ایک دین پر پیدا ہوا ہوں، میں اس دین کا ماننے والا ہوں، میرا ایک عقیدہ ہے، میں کچھ رشتوں کے ساتھ منسلک ہوں، میں کسی کا بیٹا ہوں، کسی کا بھائی ہوں، کسی کا باپ ہوں، وغیرہ وغیرہ کسی زمین سے بھی میرا رشتہ ہے میں اسکا مقروض ہوں، میں اپنے آپ کو اس زمین کا احسان مند سمجھتا ہوں جو میرا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، کچھ میرے اوپر میرے لوگوں کے حوالے سے فرائض عائد ہوتے ہیں، میرےاوپر دوسروں کے حقوق ہیں۔ اور میرے اندر اس بات کا کوئی تصادم نہیں ہے کہ میں بیک وقت اردو بولنے والا بھی ہوں، سندھی بھی ہوں اور پاکستانی بھی ہوں اور میں مسلمان بھی ہوں اور میں عالم انسانیت کا ایک فرد بھی ہوں۔ multiple identities کے ایشو کو آپ ہر جگہ تو اپلائی کرتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں اپلائی کرتے۔ امریکہ جب نیا نیا بنا تھا تو وہاں ایک اصطلاح استعمال ہوتی تھی melting pot یعنی وہاں مغربی یورپ، اٹلی، جرمنی، فرانس، برطانیہ، مشرقی یورپ، افریقہ غرض ہر جگہ سے لوگ آئیں گے اور ایک ہی ملک میں مل جل کر کام کریں گے، یہ تھیوری پچاس، سو سالوں تک چلتی رہی۔ بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے مزید نتائج برآمد نہیں ہو رہے تو پھر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ Italian American ہے یہ British American ہے، یہ African American ہے وغیرہ وغیرہ تو اسی طرح ہمیں کیا چیز مانع ہے اردو سندھی کہلانے میں، یا سندھی پاکستانی یا پنجابی پاکستانی یا بلوچی پاکستانی کہلانے میں اور یہ کہلانے میں کہ ہمارا مذہب اسلام ہے اور ہم عالم اسلامی اور عالم انسانیت کے بھی فرد ہیں۔ بیک وقت ایک سے زیادہ شناختوں کے اظہار میں کوئی تصادم کی بات نہیں ہے جب میں بیک وقت باپ، بیٹا، بھائی، دوست، محبوب، شوہر، شاعر، ادیب، صحافی وغیرہ وغیرہ ہو سکتا ہوں تو بیک وقت اردو بولنے والا، سندھی، پاکستانی، مسلم اور انسان کیوں نہیں ہو سکتا؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کچھ شناختیں زیادہ اہم ہوتی ہیں اور کچھ کم اہم ہوتی ہیں جیسے میں پارک میں ٹہلتا ہوں تو یہ بھی میری ایک شناخت ہے لیکن ہو سکتا ہے اسکی اہمیت اس سے کم ہو جو میرے شاعر یا ادیب ہونےکی شناخت ہے۔

اسی طرح میرے دوستوں کا مجھ سے ایک تعلق ہے تو وہ بھی میری شخصیت کا ایک حصہ ہیں، وہ بھی میری شناخت ہیں، میرے ایک دوست کا جب انتقال ہوا تو میں نے یہی محسوس کیا کہ وہ میری ذات سے باہر ایک شخص تھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا لیکن جس قدر وہ میری ذات کے اندر رچا بسا ہوا تھا، اسکا وہ حصہ اب میرے اندر بھی باقی نہیں رہا، یعنی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے اندر کا ایک حصہ بھی جو میرے اس دوست سے وابستہ تھا وہ بھی فوت ہو گیا یا مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ تو میں اپنے سب محسنوں سب دوستوں سلیم جیلانی، سلیم احمد، فیض احمد فیض، مشتاق احمد یوسفی اور کئی دیگر کو ہر روز یاد کرتا ہوں اور وہ لوگ جو اپنے محسنوں کو یاد نہیں رکھتے انہیں بھی کوئی یاد نہیں رکھتا، مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی آدمی ان بزرگوں کو اچھا سمجھتا ہے یا اچھا نہیں سمجھتا۔ مجھے ان کی کسی بات سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے، کلیت میں ہم کبھی بھی ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کر سکتے، عملی طور پر زندگی میں ایسا ممکن ہی نہیں مثلاً میں فیض صاحب، سبط حسن صاحب، سر دار جعفری صاحب کو اپنے خاندان کے بزرگوں کی طرح سمجھتا ہوں اور میں نے کبھی بھی ان میں کوئی منفی چیز نہیں دیکھی میں نے ہمیشہ انکی شفقت ہی دیکھی ہے تو میں انکا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن دوسری طرف یہ ممکن نہیں ہے کہ میں انکی ہر بات یا ہر خیال سے اتفاق بھی کروں ممکن ہے اس نااتفاقی میں، میں ہی غلطی پر ہوں مگر مجھے ایک الگ رائے رکھنے کا حق تو بہرحال ہے۔ اسی طرح میں ایک مسلمان ہوں مگر اسلام کی سب چیزوں پر کاربند رہنا آج کے دور میں میرے لئے ممکن نہیں، ہم کاربند رہنے کی کوشش ضرور کر سکتےہیں مثلاً میں بی سی سی آئی بینک میں ملازمت کرتا رہا، ریڈیو، ٹی وی پر کام کرتا رہا، شو بز کا ایک فرد رہا مگر یہ سب اگر میں نہ کرتا تو کیا کرتا، پھر بھی مجھے کسی یونیورسٹی میں پڑھانا پڑتا، کسی اخبار، کسی میگزین میں تو کام کرنا ہی پڑتا۔ ہر کسی کے پاس ذاتی زمینیں، ذاتی کارخانے اور ذاتی کاروبار تو نہیں ہوتے لہذا، اس دنیا میں گزر بسر کیلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے اور جس کو جو موقع ملتا ہے وہ اسی موقع کو غنیمت جان کر اس سے رزق تلاش کرتا ہے۔ ہم چیزوں میں انتخاب تو اس وقت کرتے ہیں جب ہم اپنے پائوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے میں 1943 پیدا ہوا لیکن 1947 میں پاکستان نہیں آسکتا تھا، جب میں اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا تو میں نے اپنے رہنے کیلئے پاکستان کو اپنی مرضی سے منتخب کیا۔ اور میں یہاں آنے میں کامیاب رہا تو اب میں جب تک زندہ ہوں پاکستان، پاکستانی عوم اور اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہوں۔

جناب افتخار عارف سے مزید دریافت کیا گیا کہ آپ نے مقامی، صوبائی، قومی، عالمی اور اسلامی شناخت کی بات کی تو ایک تخلیق کار او ر فنکار کیلئے اپنی شناخت بنانا تو قدرے آسان ہوتا ہے کیونکہ اسکے فن کی وجہ سے اسکی شناخت ہر جگہ قابل قبول ہو جاتی ہے جیسے دنیا بھر کا ادب خواہ اسکے لکھنے والا کوئی بھی ہو وہ ہمارےلئے قابل قبول ہو جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ بے شمار شناختیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے ان میں ترتیب اور ترجیحات کیا ہونی چاہیں؟

اسکے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ اگر آپ دنیا کے تمام بڑے ادیبوں کی فہرست بنائیں اور پھر اس پر غور کریں توآپ کو معلوم ہوگا کہ کوئی ادیب اس وقت تک آفاقی نہیں ہو سکتا جب تک وہ مقامی نہ ہو، اسکے لئے بنیادی طور پر اپنی زمین اور اپنےمقامی خطے سے جڑا ہوا ہونا ضروری ہوتا ہے یعنی اسکی پہلی شناخت اسکا چھوٹا مقامی دائرہ ہوگا پھر وہ آفاقی دائرے میں پہچانا جائے گا۔ مثلاً 1979 میں بہت سے واقعات ہو گئےاور فیض صاحب امریکہ تشریف لے گئے اور وہاں انہوں نے نظم لکھی کہ “ہم دیکھیں گے۔۔۔” جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ “انقلاب اسلامی ایران” کے بارے میں لکھی ہے جو اس صدی کا سب سے بڑا انقلاب ہے، کسی نے کچھ دیگر بڑے انقلابات کی بات کی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سب تو فوج کا فوج سے مقابلہ تھا یہاں عوام نے انقلاب برپا کیا ہے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ کیا 1979 کے پاکستان کے حالات پر یہ نظم منطبق نہیں ہوتی تھی ؟ اور فیض صاحب کےکہے بغیر جب یہ نظم پاکستان پہنچی اور اقبال بانو نے اسے گایا تو کیا وہ نظم اس زمانے کا ایک “قومی ترانہ” سا نہیں بن گیا تھا؟ اور آج بھی جب کوئی احتجاج کرتا ہے تو فیض صاحب کی یہی نظم سب کے سامنے پڑھتا ہے حالانکہ فیض صاحب کی فنی اعتبار سے بڑی نظموں میں سے وہ ایک بڑی نظم نہیں ہے۔ مگر اس نظم کی شہرت کا کیا سبب ہے؟ اسکا سبب یہ ہے کہ اسکی جڑیں یہاں تھیں۔ اسی طرح فیض صاحب کی کچھ دوسری نظمیں مثلاً برق فروزاں ہے سر وادی سینا، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔ یہ رات اس درد کا شجر۔۔ یہ کس کا لہو ہے۔۔ وغیرہ۔ ان سب کے اوپر ہو سکتا ہے لکھا ہو “ایرانی طلباء کے نام” وغیرہ وغیرہ لیکن اصل میں وہ پاکستانی طلباء کے نام ہی ہیں۔ اسی طرح جوش ملیح آبادی کا وہ شعر کہ “اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ۔ وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگے ہیں لوگ” تو جب بھی حکومتیں بدلتی ہیں تو لوگ اس شعر کو دہراتے ہیں خواہ یہ شعر کسی بھی حوالے سے لکھا گیا ہو۔ اسی طرح حبیب جالب کا وہ شعر” تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا۔ اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا” کو بھی ایسے مواقع پر پڑھا جاتا ہے کیونکہ وہ ہر زمانے کی حقیقت ہے۔ تو میرا ایک طالبعلمانہ موقف ہے کہ ہر بڑا آدمی اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنے زمانے سےجڑا ہوتا ہے اور جب وہ بڑا آدمی بنتا ہے تو اپنی زمین، زبان اور زمانے سے transcend کرتا ہے۔ اگر شیکسپئر، ملٹن، ہومر، فردوسی، حافظ، غالب یا اقبال وغیرہ آج بھی relevant ہیں تو اسکی یہی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنی زمین، زبان اور زمانے کےحقائق کو بیان کیا ہے اور پھر انہوں نےجب اپنی زمین، زبان اور زمانے کے دائروں کو توڑا اور ان کے پیغام نے جب transcend کیا تو وہ آفاقی بن گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کوئی بڑا شاعر، ادیب یا فنکار ایسا نہیں ہے جس نے خیر، نیکی اور حسن کی ترویج نہ کی ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ اس سے اتفاق نہ کرتے ہوں، دوسری بات یہ کہ کسی بڑے شاعر کی شاعری پڑھنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ آپ اس کے نظریے سے بھی ضرور اتفاق کریں۔ علامہ اقبال، میر انیس، رومی، گوئٹے، دانتے کی بھی شاعری پڑھنے کیلئے ضروری نہیں ہے کہ آپ انکے عقائد اور نظریات سے بھی اتفاق کریں، انکے قدو قامت جاننے کیلئے اور انکی قدر جانچنے کیلئے، آپ کیلئے انکی واردات قلبی کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ انہوں نے کس سیاق و سباق میں وہ ادب تخلیق کیا۔

اس مرحلہ پہ شاہد اعوان صاحب نے گفتگو کے اختتام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک ضمنی سوال پوچھا کہ آپ نے فیض صاحب کی جس نظم کا حوالہ دیا ہےکہ “ہم دیکھیں گے۔۔۔” اسکا عنوان فیض صاحب نے خود ہی دیا یعنی “و یبقیٰ وجہ ربک (ہم دیکھیں گے )” جو قرآن کی ایک آیت سے لیا گیا ہے لیکن کیا وجہ ہے کوئی شاعر، نقاد وغیرہ جب اس نظم پر گفتگو کرتا ہے تو اس عنوان کی بات نہیں کرتا اور ایسے لگتا ہے جیسے اسکو غیر اعلانیہ طور پر حذ ف کر دیا گیا ہو آپ اس کو کس نظر سے دیکھتےہیں؟

اسکے جواب میں جناب افتخار عارف نے فرمایا کہ ہاں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں سے کچھ چیزیں ہضم نہیں ہوتیں۔ یقیناً فیض صاحب نے تو اس نظم کا اختتام اسی بات پر کیا کہ جب سب دنیا اور کائنات کی ہر چیز فنا ہو جائے گی تو صرف اللہ کی ذات (اسکا چہرہ) باقی بچے گیا اور اگر وہ یہ پیغام نہ دینا چاہتے تو اس کو اپنی نظم کا حصہ نہ بناتے یا شائع کرتے وقت کتاب میں شامل نہ کرتے۔۔۔ مگر دوسری بات یہ ہے کہ یہ نظم اقبال بانو کے گانے کے بعد زیادہ مشہور ہوئی اور گانے والا تھوڑا ہی بتاتا ہے کہ اس نظم کا کیا عنوان ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ اس وقت فیض صاحب خود یہاں پاکستان میں نہیں تھے لہذا یہ جو پبلشرز وغیرہ ہوتے ہیں انہوں نے کچھ لوگوں کے کہنے پر شاید اس نظم کے اس بند کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور اسے جب اخباروں وغیرہ میں شائع کیا تو اس کا ذکر نہیں کیا۔ مگر جہاں تک فیض صاحب کی بات ہے تو وہ بہت بڑے آدمی تھے، وہ ان لوگوں کی طرح نہیں تھے جو خبط عظمت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، فیض صاحب سب دوستوں کے مشورے سنتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے یہی بات علامہ اقبال کی بھی تھی وہ بھی ہر طرح کی باتیں لوگوں سے پوچھ لیتے تھے، مشورے کرتے تھے، اپنے سے چھوٹے اور بڑے سب لوگوں سے خطوط کے ذریعے پوچھتے تھے مثلاً ماجد دریا آبادی، سید سلمان ندوی، پیر مہر علی شاہ اور دیگر بےشمار لوگوں کو انہوں نے خطوط لکھے اس طرح وہ لوگوں کو اپنے کام میں شریک کرتے تھے انہیں احساس دلاتے تھے کہ وہ ان سے الگ کوئی چیز دگر نہیں ہیں۔ یہ ہر بڑے آدمی کی پہچان ہوتی ہے۔

یہاں میزبان نے آخری سوال کیا کہ ماشاء اللہ آپ نے بھرپور زندگی گزاری ہے لیکن اگر میں کسی حسرت یا خواہش کے حوالے سے پوچھوں کہ جو ابھی بھی باقی ہو تو اپ کیا کہیں گے؟

انہوں نے فرمایا کہ میری کوئی ایسی خواہش اور حسرت نہیں تھی جو پرورگار عالم نے پوری نہ کی ہو میں نے جو مانگا اور چاہا وہ مجھے عطا فرمایا گیا، میری کوی دعا ایسی نہیں ہے جو مانگی گئی ہو اور اسے شرف قبولیت نہ بخشا گیا ہو، جتنے دنیا وی مناصب و مراتب ہو سکتے تھے وہ سب مجھے میری حیثیت سے بڑھ کر مجھے عطا کئے گئے۔ میں نے بہت کم لکھا لیکن میں پہلی کتاب کی اشاعت کے بعد ہی بڑے لوگوں کی نظروں میں آگیا تھا اور سب شفقت فرماتے تھے یہ سب اللہ کا شکر ہے مجھے کئی بار کہا گیا کہ میں سیاست کو جوائن کروں، کراچی میں، میں نے بہت وقت گزارا اور میری جان پہچان بھی تھی لیکن سیاست میرا میلان نہیں تھی اور اللہ نے مجھے سب نعمتوں سے نوازا اب کوئی ایسی خلش نہیں ہے کہ جس کا اظہار کرکے کفران نعمت کیا جائے۔ ہاں یہ بات ہے کہ بہت سے دوست، بہت سے پیارے رخصت ہو گئے جن سے آخری وقت میں ملاقات نہیں ہو سکی اور ان چیزوں کا ملال ہے لیکن اس سے کفران نعمت نہیں ہوتا اور مجھے اپنی ذاتی زندگی میں بڑی خواہشوں نے کبھی تنگ نہیں کیا کہ جیسے بہت بڑے گھر کی خواہش، قیمتی گاڑیوں کی خواہش لیکن اللہ نے ان خواہشوں کے بغیر بھی مجھے یہ سب چیزیں دکھائیں اور ان سے فیض یاب ہونے کا موقع عطا فرمایا۔ اب اللہ کی شکر گزاری کے علاوہ اور کیا دعا مانگیں اسی حوالے سے میری ایک غزل کا مطلع ہے کہ
یہ ہنر کی داد میرے ہنر سے زیادہ ہے
میرا زاد راہ میرے سفر سے زیادہ ہے

آخر میں جناب افتخار عارف سے انکا کلام سننے کی فرمائش کی گئی اور انہوں نے وہ فرمائش پوری کی لیکن یہاں طوالت کے خوف سے وہ کلام درج نہیں کیا جارہا ہے اسے آپ انکے شعری مجموعوں میں دیکھ سکتے ہیں، انکے سب شعری مجموعوں کے نام ابتدائی پیراگراف میں انکے تعارف کے ساتھ درج کر دئے گئے ہیں۔
تدوین: وحید مراد

اس پروگرام کی مکمل وڈیو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20