مقامی ہیروز کی تلاش سے ذرا پہلے —— خرم شہزاد

0

قراۃ العین حیدر کے کلاسیک ناول ’گردش رنگ چمن‘ میں دو لڑکیوں کی کہانی بھی شامل ہے جن کے بھائی گاوں سے شہر آتے ہیں اور بڑی محنت سے ایک مقام بناتے ہیں۔ گاڑی بنگلے کی دستیابی اور پیسے کی فراوانی کے بعد گھر والوں کو بھی گاوں سے شہر بلوا لیا جاتا ہے۔ دونوں بہنیں بھائیوں کی ترقی سے خوش تو ہیں لیکن اپنے دیہاتی پس منظر سے جان بھی چھڑانا چاہتی ہیں۔ ایک روز بازار میں کوئی شخص ایک تصویر فروخت کر رہا ہوتا ہے جس پر خاتون کا بڑا لمبا چوڑا نام بھی لکھا ہوتا ہے۔ تصویر دونوں بہنوں کو متاثر کرتی ہے جسے خرید کر یہ اپنی بیٹھک میں لگا دیتی ہیں اور ہر آئے گئے سے اپنی دادی کہہ کر متعارف کرواتی ہیں لیکن ایک دن گھر کی تقریب میں یہ راز بھی کھل جاتا ہے کہ تصویر والی خاتون انگریزی سرکار کے عہد میں ایک نامی گرامی طوائف تھیں جن کی پہنچ بہت اوپر تک تھی۔ لڑکیاں بار بار بے یقینی سے تصویر کو دیکھتی ہیں کہ دیکھنے میں تو یہ ایسی بالکل نہیں لگتی جبکہ دوسری طرف لڑکیوں کے بھائی منہ چھپانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کی برسوں کی محنت اور کمائی گئی عزت کو دونوں لڑکیوں نے ایک اچھے پس منظر کی خواہش کرتے مٹی میں ملا دیا تھا۔

ہمیں یہ سب یاد آنے کی ایک بڑی وجہ پچھلے دنوں پاکستان میں کچھ زیادہ ہی سمجھداروں اور اپنی مٹی سے جڑے لوگوں کی طرف سے ایک طرح کا یوم سیاہ منانے کا واقعہ ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ترکی ڈرامہ ارطغرل کی بے مثال کامیابی نے بہت سے لوگوں کی نیند حرام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اگرچہ اس کی کوئی بنیادی وجہ ابھی تک ہماری سمجھ میں نہیں آسکی۔ کرنے کے لیے جب کوئی اعتراض نہ ملا تو کچھ لوگ یہ ڈھول بجانے لگے کہ ارطغرل کا اس خطے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ہیروز کو پذیرائی دینی ہے تو پھر بجائے کسی غیر ملکی اور غیر مقامی ہیرو کے قصیدے سنائے جائیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اس خطے کے ہیروز کا ذکر کریں اور ان کے نغمے گائیں۔ تھوڑے بہت اختلاف کے ساتھ اس سوچ کو نہ سراہنا یقینا ذیادتی ہو گی لیکن اس مقصد کے لیے اٹھائے گئے پہلے ہی قدم نے نہ صرف اس سوچ کو مشکوک کر دیا بلکہ اس سوچ کو پیش کرنے والوں کے اندر کے بغض کو بھی ظاہر کر دیا۔ رمضان المبارک میں اس خطے کے ہیروز کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے کئی مقامات پر بہت ہی چھوٹے پیمانے پر کچھ تقاریب کا انعقاد کیا گیا جن میں محمد بن قاسم کو ایک غیر ملکی حملہ آور کے طور پر پیش کرتے ہوئے راجہ داہر کی بہادری اور عظمت کے گیت گائے گئے۔ ان تقاریب میں کہیں بھی شرکا کی تعداد چند درجن سے زیادہ نہ تھی لیکن نفرت کے ایک پودے کو لگانے کے لیے آج اتنے لوگ بھی کافی ہیں جو یقینا آنے والے کل میں ہونے والی تقاریب میں مہمان خصوصی ہوں گے کہ ان لوگوں نے سب سے پہلے اس خطے پر غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور اپنے مقامی ہیروز اور بہادروں کو سب کے سامنے لائے تھے جن کا ذکر تاریخ کی کتابوں سے ایک سازش کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ ارطغرل کی دشمنی میں محمد بن قاسم پر سارا نزلہ گرانے کو پھر بھی برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن جواب میں راجہ داہر کی عظمت کے گیت گاتے ہوئے اسے اس خطے کا بہادر اور بیٹا بنا کر پیش کرنا سوائے بغض کے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ تیرہ سو آٹھ سال تک محمد بن قاسم جس خطے کا ہیرو رہا، آج وہاں پر اسے ایک غیر ملکی حملہ آور قرار دیا جا رہا ہے، چلیں جذباتی ہوئے بنا کچھ سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔

محمد بن قاسم ایک فوج کے ساتھ اس خطے میں داخل ہوا اس لیے آسان الفاظ میں اسے ایک غیر ملکی حملہ آور قرار دیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ راجہ داہر اس خطے کا بیٹا کیسے ہو گیا؟ راجہ داہر کے والد کب اور کیسے یہاں کے مقامی قرار پائے کہ وہ تو ایک کشمیری پنڈت تھے اور اس زمانے میں کشمیر بہرحال سندھ کا حصہ نہیں تھا ؟ راجہ داہر کے والد کوئی راجہ نہیں تھے بلکہ محل کے ملازم تھے جنہوں نے رانی کے ساتھ ساز باز کر کے تخت پر قبضہ کر لیا، اس کے بعدکئی حوالہ جات کے مطابق جب راجہ داہر تخت پر بیٹھا تو اپنے اقتدار میں کسی رکاوٹ سے بچنے کے لیے اس نے گیانیوں کے کہنے پر اپنی ہی بہن سے شادی کر لی، کیا خطے کے ایسے ہیرو اور بیٹوں کو دیکھتے ہوئے آج باقی لوگوں کا کردار بھی اسی پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے؟ تیرہ سو آٹھ سال کے عرصے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا نام محمد اور قاسم رکھا لیکن داہر نام کے تیرہ افراد کے بارے میں ہی کوئی بتا دے تو عنایت ہو گی؟ محمد بن قاسم کے خلاف اور راجہ داہر کے حق میں بیان دینے والوں میں ایک نام ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ’شاہ‘ قوم اس سندھ خطے کی اپنی قوم کب سے ہو گئی ؟ اگر تاریخ کا ٹھیک طرح سے پوسٹ مارٹم کیا جائے تو یقینا سندھ دھرتی پر موجود ننانوے فیصد لوگ بشمول شاہ کسی غاصب، لٹیرے اور غیر ملکی حملہ آور کے ساتھ ہی خطہ سندھ میں وارد ہوئے ہوں گے؟ محمد بن قاسم چونکہ غیر ملکی حملہ آور قرار دیا جا رہا ہے اس لیے اب سندھ سے باب اسلام کہلانے کا فخر بھی واپس لے لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ فخر تو محمد بن قاسم کی وجہ سے اس خطے کو نصیب ہوا تھا؟ کیا آج تاریخ کو درست کرنے والے افراد اپنے آباواجداد کے بارے میں ملامتی بیان بھی جلد جاری کریں گے جنہوں نے غیر ملکی حملہ آوروں کے آگے نہ صرف سر جھکا دئے بلکہ ان کے مذہب کو بھی قبول کر لیا تھا؟ اس خطے کے بہادروں اور بیٹوں کی تصاویر اٹھانے والے اس خطے کے مذہب کو کب دوبارہ اپنائیں گے، اس بارے میں بھی کوئی جواب جلد ملنا چاہیے۔ اس خطے کا اپنا مذہب کون سا ہے کوئی اس بارے میں بھی بتا دے تو ہم ممنون ہوں گے۔

بھارت اور برما میں برسوں ایسی ہی نفرت کی پرورش کرنے والوں نے ایک پل میں وہاں صدیوں سے رہنے والوں کو اجنبی کر دیا تھا اور اب اسی نفرت کا بیج سندھ کی دھرتی میں بھی لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ارطغرل بھلے اس خطے کا ہیرو اور بیٹا نہیں ہے لیکن محمد بن قاسم کے خلاف بغض دیکھانے کے بعد اس خطے کے نام نہاد جان نثاروں کے پاس سوائے چند مورتیوں اور کچھ لائنوں کی تاریخ کے اور کچھ بھی نہیں رہے گا لیکن اس خطے کے بہادروں اور بیٹوں کی وراثت کے امین بننے سے پہلے یہ سارے نام لیوا ذرا اس خطے سے اپنا تعلق بھی تو ثابت کریں کہ یہ اس خطے کے ٹھیکہ دار کب اور کیسے بن گئے۔ راجہ داہر کی بات بہت بعد میں کی جائے گی پہلے ان لوگوں سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ اس خطے میں اپنی جڑیںثابت کریں؟ اگر آج یہ جوابی سوال نہ کئے گئے تو یقینا آنے والے کل میں یہ نفرت کے بیوپاری اس خطے کو بھی بیچ کھانے کے لیے تیار رہیں گے اور پھر کسی نئی سرزمین پر اپنی نفرت اور بغض کی آبیاری کے لیے نکل کھڑے ہوں گے۔ یہی ساری صورت حال اہل پنجاب کے لیے بھی ہے جو رنجیت سنگھ کی مورتی پرچار پھول چڑھا کردو تصویریں اپلوڈ کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ درست کرنے نکلے ہیں۔ سبھی پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ ایسے لوگوں کی بات سننے سے پہلے ان کی اپنی اصلیت اور شناخت کے بارے سوال کریں ورنہ کل کو آپ اپنے ہی گھروں میں اجنبی کئے جا سکتے ہو۔ محمد بن قاسم کے بعد اگلا نمبر جلد آپ کا بھی ہو سکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20