ارطغل ۔ یہ سبق کون لے گا ——- خرم شہزاد

0

اچھی اور بری باتیں ہر ڈرامے اور فلم میں ضرور ہوتی ہیں لیکن ہر شخص اپنے مزاج اور عادات کے مطابق باتیں اخذ کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ تین گھنٹے کی فلم میں کوئی زندگی کا سبق لینے نہیں آتا اس لیے بس انٹرٹینمنٹ ہونی چاہیے، ایسے ہی کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تین گھنٹے بڑی سکرین کے سامنے ہاہا کرنے کے بجائے کچھ نہ کچھ دیکھنا، سیکھنا اور سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ یہی سب باتیں ڈراموں کے لیے بھی کہی جاتی ہیں۔ پاکستان میں کبھی پی ٹی وی اپنے ڈراموں کی وجہ سے پوری دنیا میں شہرت رکھتا تھا اور جہاں کہیں اردو بولنے سننے اور سمجھنے والے لوگ موجود ہیں وہ آج بھی پی ٹی وی کے ڈراموں کو یاد کرتے ہیں کیونکہ ایک گھنٹے کے ڈرامے میں زندگی اور اس سے جڑے بہت سے سبق موجود ہوا کرتے تھے اور یقینا ایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جن کی زندگیوں میں انقلاب لانے کا سبب یہی ڈرامے رہے ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کی ترقی اور تیز رفتاری کے بعد جب ہر بات اشتہارات پر جا کر ختم ہونے لگی تو ڈراموں کا معیار بھی اسی کے ساتھ ہی ختم ہوتا چلا گیا ۔ اب تو ایسے لگتا ہے کہ ڈرامے صرف اشتہاری کمپنیوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور اشتہار دیکھانے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی وی پر ایک عرصے کے بعد ارطغرل یا ارطغل شروع ہوا ہے، اگرچہ یہ ایک ترکی ڈرامہ ہے لیکن ترکی کے ساتھ ہماری صدیوں کی جذباتی وابستگی کی وجہ سے یہ ڈرامہ بھی ایک طرح سے ہمارے لیے اپنے گھر کی بات ہے۔

ارطغل میں ہے کیا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس کے دیکھنے والوں کے لیے سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے بہت سے ناظرین ابھی تک صرف اس وجہ سے ارطغل کے مداح ہیں کہ فلاں فلاں ملک میں اس پر پابندی لگی ہوئی ہے اور فلاں فلاں عقیدے اور مذہب کے لوگ اس ڈرامے کے خلاف ہیں۔ یہ تو چلو ٹھیک ہو گیا لیکن آپ کیوں مداح ہیں ، اس سوال کا جواب اپنی ذات کے لیے جاننا بھی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ عمومی طور پر ارطغل دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری ترک اور اسلامی تاریخ میں عورتوں کے پاس سازشیں کرنے، دلوں میں نفرت، کینہ اور بغض رکھنے کے اور کوئی کام نہ تھاجبکہ مسلمان مردوں کی اکثریت کا بس یہ شوق رہا کہ جیسے تیسے کوئی بھی کافر اس کے ایمان کی اچھی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جائے تو وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنوں کی گردن اتارنے میں دیر نہ کرے لیکن اس سب سے پرے بھی بہت کچھ ہے جو آپ کو نظر آنا چاہیے۔

ارطغل کی سب سے خاص بات کسی بھی مسلمان کی زندگی میں ہر حال اور ہر بات میں اسلام کی جھلک نظر آنا ہے۔ یہ ڈرامہ بتاتا ہے کہ اپنے نبی کریم ﷺکے نام پر محبت اور عقیدت کا مظاہرہ کرنا کس قدر دل کو سکون بخشتا ہے۔ یہ ڈرامہ ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ ہمیں اپنی اسلامی تاریخ اور احادیث کے بہترین مطالعے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی پریشانی میں جب ہمیں احادیث مبارکہ اور اسلاف کے واقعات کا پتہ ہو گا تو رونے دھونے کے بجائے یہ سب دل کی تسلی کا باعث ہو گا۔ اسی طرح خوشی اور شادمانی میں ہمارا اسلام کیا کہتا ہے اور اسلاف نے اس کا عملی مظاہرہ کیسے کیا تھا، یہ جب پتہ ہو گا تو ہم حد سے بڑھنے والے قدم روکنے کے قابل بھی ہوں گے۔

ارطغل ہمیں بچوں کی تعلیم و تربیت کے بارے بھی آگاہ کرتا ہے کہ کس طرح ہمیں اپنے بچوں کو اسلامی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے اور ان کی تربیت کرنی ہے تاکہ آنے والے کل میں وہ اچھے مسلمان بن سکیں۔ آج عالم اسلام کی یہ بد قسمتی ہے کہ مسلمان ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت میں اسلام کو ایک غیر ضروری چیز خیال کرتے ہیں اور اسے مکمل دنیا دار بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کو کہیں کسی بچے کی تربیت اس بنیاد پر ہوتی نظر نہیں آئے گی کہ یہ اسلام کی سربلندی اور سرفرازی کے لیے کوشش کرئے گا؟ بتائیے کہ آج کس بچے کو یہ سیکھایا جا رہا ہے کہ ایک دن اسے القدس واپس لینے کی جدوجہد کا حصہ بننا ہے؟

ارطغل کی ایک اور نمایاں خصوصیت انصاف کی ایک ایسی تشریح اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنا ہے جسے ہم میں اکثر مکمل طور پر فراموش کر چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں انصاف اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی کے ازالے کا نام ہے لیکن ارطغل میں بتایا گیا ہے کہ اصل انصاف یہ بھی ہے کہ آپ اپنے مخالف کو بھی محروم انصاف نہ کرو۔ بھلے آپ کو اپنے ایمان کی حد تک کسی کی برائی کا یقین ہو لیکن اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو آپ اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ایک اور زبردست بات جو اس ڈرامے میں بتائی گئی کہ تاجر اور ہنر مند کسی بھی ملک اور معیشت کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں اور اگر کسی کے پاس اچھے تاجر اور ہنر مند ہوں تو بہت سی جنگیں میدانوں سے باہر اور شروع ہونے سے پہلے بھی جیتی جا سکتی ہیں۔ افسوس کا پہلو یہ بھی ہے کہ تاریخ پر نظر رکھنے والے اور بہت سے اہل علم بھی اس بات کا ذکر نہیں کرتے۔ شائد یہی ایک وجہ ہے کہ مسلم معاشروں میں آج اچھے تاجروں اور ہنر مندوں کی کمی نہیں بلکہ قحط پڑاہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سست، کاہل اور بے سروپا باتیں کرنے والے مسلمانوں کو بھی رد کیا گیا ہے جن کا خیال ہے کہ یہ دنیا صرف کافروں کے لیے ہے، ہمارا یہاں کام صرف ذلیل ہونا ہے جس کے جواب اور انعام میں ہمارے لیے ابدی جنت موجود ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ جو یہ دنیا نہیں کما سکتے وہ جنت کیسے کمائیں گے بھلا۔

یہ ڈرامہ ایمان کی مضبوطی کے لیے ہمیں سمجھاتا ہے کہ اگر ہم اپنے ایمان اور امید میں موسیٰ ہو جائیں تو ہمیں ہر مشکل راہ پر کوئی نہ کوئی حضرت خضر مل ہی جائے گا لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ایمان کا ایسا بلند ترین درجہ ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں درکار رہے گا ،ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک بات پر سب کچھ اپنے مالک پر چھوڑنے والا دوسرے معاملے میں خود بہتر فیصلہ کرنے والا بن جائے۔ یہاں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ بھلے کتنی ہی سازشیں ہوں، لوگ کتنے ہی آپ کے خلاف ہوں لیکن اگر ہمارا ایمان کامل ہو گا اور ہمیں صرف اور صرف اپنے پیدا کرنے والے پر مکمل یقین ہو گا تو یہ تمام مشکلیں ایک نہ ایک دن ختم ہو جائیں گی۔ اگر ہم کسی بدنامی یا لوگ کیا کہیں گے جیسی باتوں سے اپنی راہ کھوٹی نہ کریں تو ہماری منزل اتنی بھی دور نہیں ہوتی جتنی ہم نے بنا لی ہوتی ہے۔ غداروں سے پریشان لوگوں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ غدار ہمارے سفر کو سست تو کر سکتے ہیں لیکن ختم نہیں کر سکتے۔

بات وہی ہے کہ آپ کیا دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس سے کیا نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے بقول یہ ڈرامہ ہمارے نوجوانوں کو یہ بتارہا ہے کہ ہمارے اسلاف کے زمانوں میں عورتیں سازشیں کرنے اور مرد ایمان بیچنے کے سوا کچھ نہ کرتے تھے لیکن اگر آپ میڈیا کے دماغ سے نہیں سوچتے تو اس ڈرامے میں آپ کے لیے بہت کچھ ہے۔ سوال بس یہ ہے کہ ڈرامے میں جو اسباق بتائے جا رہے ہیں انہیں کون یاد کرئے گا؟ کون اپنے آنے والے کل کی تیاری کرے گا اور یہ سارے سبق کون لے گا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20