ہمارا موجودہ معاشرہ: منٹو کی نظر سے —– اسامہ مشتاق

0

ــ ’’ لوگوں نے شہر اور گھر تعمیر کر رکھے ہیں۔ ان میں بھیڑوں کے گلّے کی طرح بسر اوقات کرتے ہیں۔ زمین کو پلید کرتے ہیں۔ حبس دم ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو دبا رہے ہیں۔ عجب مضحکہ خیز زندگی ہے۔‘‘
( مضمون : میکسم گورکی)
میکسم گورکی کے افسانے ’’ مالوا ‘‘ کے چند جملوں کا ترجمہ کرتے ہوئے سعادت حسن منٹو ہمیں ہماری اور ہمارے معاشرے کی وہ صورت دکھاتے ہیں جسے ناک پر معطر رومال رکھے بغیر دیکھنا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔
ہر انسانی معاشرہ چند ایسے تلخ حقائق کا حامل ہوتا ہے جن سے اس معاشرے کے کرتا دھرتا, امراء اور شرفاء نہ صرف بظاہر اپنا دامن بچاتے نظر آتے ہیں بلکہ ان سے متعلق حقیقی سوالات کا سامنا کرنے سے بھی کنی کتراتے ہیں۔ منٹو ہمارے معاشرے کی ان چلتی پھرتی بھیانک تصویروں کا سچا مصور ہےـ؛ ایسی تصاویر کہ جن پر کوئی نام نہاد شرافت کا علم بردار اور خود ساختہ پارسائی کا دعوے دار کھلم کھلا تبصرہ کرنے ہمت نہیں رکھتا۔
’’ تھوڑی دیر بعد زینب آ گئی۔ اللہ دتا کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ اندر کمرے میں لیٹ کر اس نے زینب کو پکارا۔ وہ آئی تو اس سے کہا ’ ادھر آئو میری ٹانگیں دبائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ‘ زینب اچک کر پلنگ پر بیٹھ گئی اور اپنے باپ کی ٹانگیں دبانے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد دونوں کے سانس تیز تیز چلنے لگے ۔ ‘‘
(افسانہ: اللہ دتا)
اولادِ آدم کے باہمی اشتراک سے ایک معاشرہ جنم لیتا ہے اور کسی بھی معاشرے کی حرکیات دراصل اُس میں بسنے والے افراد کی نفسیات کی عکاسی کرتی ہیں۔ منٹو عام انسان کے انفسی وجود کی بھی باریکیوں میں وہاں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں شاید ہی اردو زبان کے کسی بڑے لکھاری کی رسائی ہو۔ وہ ایک آدمی کی ان بشری کمزوریوں کے بھیدی ہیں جن سے پیدا ہونے والے جذبات کو اپنی عقل کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا حوصلہ خود وہ آدمی نہیں رکھتا۔
’’ بعض آدمی بھی محبت کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں، یعنی ان کے دل میں محبت کرنے کی خواہش تو موجود ہوتی ہے لیکن ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بانجھ پن کا باعث روحانی نقائص ہیں۔‘‘
ـ (افسانہ: بانجھ)
’ ــ’ آنکھیں ‘‘ کی حنیفہ ہو یا ’’کالی شلوار‘‘ کی سلطانہ، ’’اس کا پتی‘‘ کا نیک دل نتھو ہو یا ’’ آخری سیلیوٹ ‘‘ کا صوبے دار رب نواز، منٹو کا ایک ایک کردار قاری پر با معنی اور گہرے اثرات مرتب کرنے والی قوت رکھتا ہے۔ بہت سے قادر الکلام اور معنی آفرین ادیبوں کی تحریریں تاریخ کے دھارے میں بہہ کر باسی اور متروک ہو گئیں۔ منٹو کے اسلوب اور موضوعات کا اعجاز یہ ہے کہ ان کی تمام تخلیقات زمانہ جدیدیت کے آغاز کی ہیں اور گردشِ دوراں کا معمولی سا بھی اثر قبول کیے بغیر برصغیر کے مابعد الجدید معاشرے کی مکمل عکاسی کر دیتی ہیں۔
’’۔۔۔۔۔۔ یہ نام نہاد لیڈر اپنی بغل میں ایک صندوقچی دبائے پھرتے ہیں۔ جس میں لوگوں کی جیبیں کتر کر روپیہ جمع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرمائے کے پیچھے, ان کی ہر سانس میں آپ ریاکاری اور دغابازی کا تعفن محسوس کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ‘‘
(مضمون: ہندوستان کو لیڈروں سے بچائو)
مشرقی معاشروں کا ہمیشہ سے یہ طرّہ امتیاز رہا ہے کہ یہاں شخصی بادشاہتوں کے باوجود بھی انسانی شعور کے روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی مظاہر عقل پر ایک حاکم کے طور پر غالب رہے ہیں جس کی بدولت انسانی ارادے کو سماج میں اپنی طاقت کی اندھی ترسیل کے لئے کوئی بڑا وجودی خلا میسر نہ آسکا۔ برصغیر میں برطانوی استعمار کی آمد کے بعد ریاستی طاقت کے بل بوتے پر ہمارے مزاجِ علم و معاشرت کو تبدیلی کے ان عالمگیر رجحانات کی نذر کر دیا گیا جن کے زیر اثر مذہبی اقدار کو مذاق بنا دیا گیا، معاشرت روایتی اخلاقیات سے محروم ٹھہری اور جمالیات کو اُس عقل کی چاکری پر لگا دیا گیا جو خود انسانی ارادے کی خلّاق غلامی پر راضی ہو چکی تھی۔
’’ ۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ممکن ہے کہ زندگی کا مقصد مشقت، روپیہ کی فراہمی, مکانوں کی تعمیر، بچوں کا پیدا کرنا اور مر جانا ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مقصدِ حیات تو کچھ اور ہیـ۔‘‘
(مضمون : میکسم گورکی)
’’ انگریز تہذیب و تمدن نے ہمارے وطن کو بہت ترقی یافتہ بنا دیا ہے۔ اب ہماری عورتیں پتلونیں پہن کر بازاروں میں چلتی پھرتی ہیں۔ کچھ ایسی بھی ہیں جو قریب قریب کچھ بھی نہیں پہنتیں لیکن پھر بھی آزادانہ گھوم پھر سکتی ہیں۔ ‘‘
(مضمون: ترقی یافتہ قبرستان)
اس ماحول میں منٹو ایک پر ہجوم چوراہے پر کھڑا ’’ یا اھل القبور ‘‘پکارتا ہوا اور جاگتے ہوئے مُردوں کو جھنجھوڑتا ہوا مجنوں معلوم ہوتا ہے جس کی لیلیٰ راہِ جنوں سے اب بیزار بیٹھی ہے۔
’’تم لوگوں نے اس دنیا کو گندگی کا ایک عمیق گڑھا بنا دیا ہے! تمہارے افعال غلاظت افشانی کرتے ہیں۔ کیا تم اپنے پہلوئوں میں ضمیر رکھتے ہو؟۔۔۔۔۔۔۔ کیا خدا کی یاد تمہارے دلوں میں موجود ہے؟۔۔۔۔۔۔ پانچ دمڑی کا پیسہ ہے یہ تمہارا معبود !! ‘‘
(مضمون: میکسم گورکی)
قانون چاہے خدائی ہو یا انسانی, وہ اپنی ساخت میں جبر ہوتا ہے اور یہ بات انسان کی خِلقت میں داخل ہے کہ وہ مبنی بر حق جبر کو بھی ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر اس قانونی جبر کو اخلاقی قدر بنا دیا جائے تو انسان نہ صرف اس کی
تابع داری کرتا ہے بلکہ اس کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے بھی
دریغ نہیں کرتا۔ جب اقدار سازی کرنے والے سب سے بڑے ادارے یعنی مذہب کو (اور اس سے منسلک روایات کو) نئے دور کے انسانوں نے اپنے اناڑی پن میں، اپنے دماغ کے پیدا کیے ہوئے دلائل کی بنیاد پر، مصنوعی اعتراضات کا نشانہ بنایا اور عقل کو امّ الاقدار بنانے کی مہم کا آغاز کر دیا تو اس کے نتیجے میں جو کچھ ہوا, منٹو اس کا شاہد ہے۔
’’ آج کل قانون ایک بے معنی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ ادھر کوئی نیا قانون بنتا ہے، ادھر یار لوگ اس کا توڑ سوچ لیتے ہیں۔ ‘‘
(افسانہ : اب اور کہنے کی ضرورت نہیں)
جب کسی معاشرے میں قانون کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہو تو کئی
شیطان صفت لوگوں کو اپنے سنگدلانہ جذبات کی تسکین کے مواقع میسر آ جاتے ہیں۔
’’ دنیا میں جہاں اہلِ درد اور انسانیت دوست انسان ہیں وہاں ایسے بھی ہیں جن کا بیشتر وقت تلواروں اور چھروں کی دھاریں تیز کرنے میں گزرتا ہے اور جو ہر وقت ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ اپنے تیز کیے ہوئے ہتھیار لوگوں کے ہاتھ میں دے کر خون ریزی کا سماں دیکھیں اور پھر خون کے اس تالاب سے اپنی حرص اور مفاد کی پیاس بجھائیں۔ ‘‘
(مضمون: ایک اشک آلود اپیل)

شاہ اسماعیل ؒ کے بارے مشہور ہے کہ وہ ہفتے میں ایک دفعہ عصمت و عزت کی خرید و فروخت والے بازار میں جا کر بیسوائوں اور ڈومنیوں کو وعظ دیا کرتے تھے اور ان کے نہ دِکھائی دینے والے کھلے زخموں پر مرحم رکھا کرتے تھے۔ منٹو کے پاس وہ مرحم تو نہیں مگر وہ قلم ضرور تھا جس نے اس سماج کے پیدا کیے ہوئے اور دھتکارے ہوئے افراد کی نا آسودگیوں اور غموں کو اس کے مہذب باسیوں پر آشکارا کرنے کا حق ادا کیا ہے۔
ــ’’ ویشیا کا وجود خود ایک جنازہ ہے جو سماج اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔۔۔۔‘‘
(مضمون: مجھے کچھ کہنا ہے)
’’ جس چیز کے گاہک موجود ہوں اور وہ مارکیٹ میں نظر آئے تو ہمیں تعجب نہ کرنا چاہیے۔ ‘‘
(مضمون: عصمت فروشی)

’’ یہ بمبئی کتنی لڑکیوں کو عورتوں میں تبدیل کر چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں بمبئی میں آکر معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو بھوک بھی لگتی ہے۔ ‘‘
(مضمون: باتیں)

آج ہمارا معاشرہ جھوٹ, ریاکاری, فریب, ظلم, معاشی استحصال, شقاوت, سنگدلی, بے حیائی, شوخ چشمی, پست ذہنی, بے عدلی, منافقت, ہوس پرستی, انسان دشمنی, روایت شکنی اور خدا بیزاری جیسے جن امراض میں مبتلا ہے, منٹو اپنے دور اور اس کے منفی ارتقاء کا مشاہدہ کرتے ہوئے, اپنی تحریروں میں ان کی تشخیص برسوں پہلے کر گئے تھے۔

’’ غرباء اپنی محنت, مشقت اور لا متناہی مصائب سہنے کے علی الرغم ہمارے محتاج ہیں اور ہم اس آقائی اور مولائی حیثیت کے باوجود ان سے بے پروا ہیں۔ ‘‘
( مضمون: کسان, مزدور, سرمایہ, زمیندار)
’’ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ امیر ہیں جن کے پاس اس قدر دولت ہے کہ ہزاروں انسانوں کو غلام بنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ وہ بالکل ہاتھ پیر نہیں ہلاتے۔ دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو تمام عمر مشقت میں اپنی کمر دوہری کر لیتے ہیں مگر ان کی جیبیں تانبے کے ایک پیسے سے نا آشنا رہتی ہیں۔ ‘‘
(مضمون : میکسم گورکی)
اغیار کے ٹکڑوں پر پلنے والے معاشرے کے سرکردہ مقدس نمائندوں کی اہلیت پر منٹو کے نوحے کا روپ کچھ یوں ہو جاتا ہے؛
’’ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ جو خیرات میں دیئے ہوئے مکانوں میں رہتے ہیں, چندوں سے پیٹ پالتے ہیں, جو مستعار اشیاء پر جیتے ہیں, جن کی روح لنگڑی, دماغ اپاہج, زبان مفلوج اور ہاتھ پیر شل ہیں, ملک و ملت کی راہبری کیسے کر سکتے ہیں۔ ‘‘ (مضمون : ہندوستان کو لیڈروں سے بچائو)
تقسیمِ ہند کے پسِ منظر میں لکھے گئے ’’ اللہ دتا ‘‘, ’’ کھول دو ‘‘, ’’ ٹھنڈا گوشت ‘‘ اور ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ جیسے افسانوں میں منٹو نے ہمارے معاشرے کے زمانی شکست و ریخت کے عمل میں داخل ہونے اور تاریخ کے ظلماتی گھن چکر سے نکلتے ہوئے اس کے نئے مکروہ چہرے کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بلاِ کم و کاست آج تک ویسا ہی ہے۔
یقینا منٹو کو سماج کا مصلح قرار دینا زیادتی ہو گی مگر اپنی بساط بھر وہ معاشرے کے ناسوروں کا جو علاج تفویض کرتے ہیں وہ یہ ہے:
’’ دروغ بافیوں سے احتراز, تعیش پرستیوں سے پرہیز اور برادرانہ اخوت ان تمام بیماریوں کی تیر بہدف دوا ہے۔ ‘‘
(مضمون: کسان, مزدور, سرمایہ اور زمیندار)

About Author

اسامہ مشتاق خان نے UET , Lahore سے Chemical Engineering میں اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عمرانیات میں گریجویشنز کر رکھی ہیں۔ سائنسز، فلسفہ, تاریخ، دینیات ،تصوف ،ادب، سیاسیات جغرافیہ ، بین الاقوامی تعلقات، بین الاقوامی قانون، انتھروپولوجی اور جینڈر سٹڈیز جیسے مضامین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر انہیں اپنا وقت اور خود کو ضائع کرنے سے فرصت ملے تو ان مضامین کی حدود میں اپنی بساط بھر پڑھنے، سوچنے اور ان کی episteme میں قلم برداشتہ لکھنے کا شغل فرماتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: