چارلس ٹیلر کی کتاب Secular Age اور ہمارے سیکولرلائز صنم خانے — اطہر وقار

0

چارلس ٹیلر، کینیڈا سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی فلاسفر اور ماہر سماجیات ہیں ان کی نہایت اہم کتاب سیکولر ایج 2007 میں منظر عام پر آئی تھی،تب سے مغربی جامعات میں اس کتاب پر بحث و مباحثہ جاری ہے، اگرچہ یہ کتاب مغرب میں سیکولرازم اور سیکولرلائزیشن کے حوالے سے تحریر کی گئی تھی، لیکن کیونکہ سیکولرازم اور سیکولرلائزیشن کا phenomenon اب لوکل یا مقامی نہیں رہا اس لیے ہمیں اپنے اردگرد ایسے بہت سے افراد مل جاتے ہیں جو اس کتاب میں درج افکار کی تصدیق و توثیق کرتے ہیں، جیسا کہ اس کتاب میں سیکولرازم اور سیکولریٹی کو تین مختلف لیئرز یا تہوں میں ان رحجانات کو بیان کیا گیا ہے، ان رحجانات کا مرکزی خیال درج ذیل ہے:

اولا، یہ ہے کہ سیکولر یا سیکولریٹی کے تحت سیکولرلائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی اعتقاد اور اصولوں کو سیاسی و ریاستی امور سے نہایت باریک بینی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ کر دیا جائے، یعنی سیاسی امور اس بھید بھاؤ سے الگ کر دیے جائیں اور تمام مذاہب کو یکساں نیوٹرل(نظری) نگاہ سے دیکھا جائے یہ نہایت مقبول عام رحجان ہے۔

دوئم، سیکولر یا سیکولرلائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس تبدیلی کو تاریخی سچائی کو مان لیا جائے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر اور اجتماعی سطح پر بھی لوگوں کی مذہب اعتقادات، طریق عبادات اور اس کے مختلف رسوماتی مظاہر میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔

سوئم، یہ کہ سماج اب اس سوشل کنڈیشن پر جامد نہیں رہے جس کے تحت وہ مذہبی اعتقاد یا مذہبیت و دینیت کو ایک خاص روایتی اور راسخ العقیدہ مفہوم میں بیان کریں قطعی اور غیر مبدل آفاقی حقائق متصور کریں۔
یعنی نتیجتاً اعتقاد رکھنے کا مطلب کیا ہونا چاہیے یہ چیز اب سب کے لیے ایک مفہوم کی حامل نہیں رہی، یعنی سیکولر تصور حقیقت کے تحت مذہبی ہونے کے جتنے مطلب موجود ہیں وہ سب یکساں طور پر قابل توجہ یا قابل نفرین ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مفہوم بھی کہ عصر حاضر میں مذہب مخالف نظریات کی موجودگی اور گنجائش کو ایک ناگزیر سماجی ضرورت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے، گویا مذہبی اعتقادات کے چیلنج ہو جانے کی شرط کو وسیع المشربی، تحمل و بردباری اور کثرتیت کے نام پر قبول کر لیا گیا ہے یعنی یہ عین ممکن ہے کہ بظاہر مذہبی و سماجی معاشرے میں ملحدین، سیکولرز اور متشکیکن حتی کہ مرتدین موجود رہیں اور اپنے بدلتے ہوئے خیالات کی تبلیغ کر سکیں۔

درج بالا تینوں رحجانات، اپنے سماج میں اثرات کے حوالے سے بات کی جائے تو ان تینوں مفاہیم کو فروغ دینے والے افراد اور حلقے موجود ہیں، مثلاً ہمارے لبرل حلقے سیکولرلائز ہونے کے اول مفہوم میں کم و بیش متفق ہیں کہ سیاست و مذہب علیحدہ علیحدہ، رکھے جانے چاہئیں، اگرچہ وہ ابھی امریکی یا برطانوی طرز کی سیکولرلائزیشن کی بات کرتے ہیں لیکن آثار یہی بتا رہے ہیں کہ وہ انتہا پسندانہ فرانسیسی سیکولرازم laicite بھی اختیار کر سکتے ہیں.مثلا پرویز ہود بائی سے لے کر غامدی صاحب سب اسی سیکولرازم کے لیے مختلف اصطلاحی پیراہوں میں ترویج کر رہے ہیں۔

اگر دوئم مفہوم و رحجان کے حوالے سے بات کی جائے تو ہمارے لبرل طبقات اور ایسے مذہبی طبقات جو سیکولرلائزیشن کے اثرات کے تحت منکرین حدیث جیسا مذہبی موقف رکھتے ہیں وہ اس رحجان کی ترویج کرتے ہیں. مثلاً وہ اکثر و بیشتر اس خیال کو معاشرتی سطح پر فروغ دیتے ہیں کہ مسلم سماجوں میں لوگ روایتی تصور مذہب اور مذہبی علماء سے دور ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ اہل مذہب شدت پسند نظریات رکھتے ہیں ہر وقت فرقہ وارانہ مباحث میں مشغول رہتے ہیں اور مخالف فقہی نظریات حتی کہ لامذہبیت کے لیے، کشادگی پیدا نہیں کرتے، عورت کے سماجی کردار کو liberate نہیں کرتے جو کہ معاشرے کی عین معاشی ضرورت ہے، اس لیے لوگ ان سے خالف ہو کر دور ہو رہے ہیں، مذہبی رسومات اور شعائر میں کم دلچسپی لیتے ہیں اور سماجی و سیاسی سطح پر سیکولرلائزیشن چاہتے ہیں اس قسم کے خیالات کی ترویج لاشعوری طور پر اور شعوری طور پر بھی، جدید تعلیم یافتہ طبقات بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ سریع الاثر رحجان بھی یہی ہے، اس پر ظلم یہ ہے کہ ہمارے ایسے طبقات جو منکرین حدیث جیسا موقف رکھتے ہیں وہ بھی لاشعوری طور پر سیکولرز کے خیالات و نظریات کو فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کے تناظر میں، مشترکہ وصف کے طور پر دیکھتے ہوئے اپنانے لگتے ہیں اور ان کے فکریاتی معاون بنتے دیر نہیں لگاتے۔

لیکن یہ عجیب مخمصہ ہے کہ سیکولر طبقات کبھی تاریخی تناظر میں ان سیاسی حرکیات کو سامنے نہیں لاتے جس کی وجہ سے عام آدمی کے لئے یہ نہایت ممکن ہو گیا ہے کہ وہ مذہب اور مذہبیت کو وجہ نزاع اور پستی کی طرف دھکیلنے والے نظریے کے طور پر دیکھے، گویا وہ تعلیمی سیکولرلائزیشن اور استعماری تاریخ کے تحت سماجی و سیاسی تبدیلیوں کو یکسر نظر انداز یا مسترد کر دیتے ہیں۔

اس کے بعد سیکولرلائز ہونے کے تیسرے مفہوم کی باری آتی ہے جس کا ذکر چارلس ٹیلر نے کیا ہے یعنی مذہب اور لامذہبیت یا غیر مذہبیت کو یکساں آپشن کے طور پر پنپنے کی گنجائش دے سکنا، سماجی سطح پر گھاس میں نظر نہ آنے والے پانی کی طرح جب اول الذکر دونوں کنڈیشنز میچور ہو جاتیں ہیں تو پھر تیسری کنڈیشن کا امکان پیدا ہو جاتا ہے، اس مقام پر سیکولرز و لبرل اعلانیہ مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں کہ الحاد اور تشکیک کو مذہبی اعتقاد کی طرح برداشت کرنے حتی کہ پنپنے کی گنجائش و اجازت ملنا چاہیے، مثلاً حارث سلطان، غالب کمال اور اس قبیل کے دیگر سیکولرز ملحدین، اسی کنڈیشن کو فطری کنڈیشن بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ایسا سماجی ڈھانچہ ممکن بنایا جا سکے جہاں الحاد، تشکیک، ہیومن ازم کو مذہبی اعتقاد کی طرح قبول کیا جائے، اس لیے ان کے نزدیک مذہبی اعتقاد اور ملحدانہ تعبیرات میں جوہری طور پر کوئی فرق نہیں ہے ان کے نزدیک مذہبی اعتقاد، ملحدین اعتقادات کی طرح نظریہ یا ورلڈ وئیو ہے. یہ وہ آخری سماجی بیریئر ہے کہ اگر اس کو بھی قبول کر لیا جائے تو سماج مکمل طور پر سیکولرلائزیشن و سیکولریٹی کے لیے align ہو جاتے ہیں۔

پس ہمارے تجدید پرست اور سیکولرز، درج بالا تین کنڈیشنز کے تحت سیکولرلائز صنم خانے آباد کرتے ہیں یا اسے آباد کرنے میں معاونت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید احمد غامدی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20