غزالاں تم تو واقف ہو۔۔۔۔۔۔ کراچی کا علمی بحران 1۔ رعایت اللہ فاروقی

0

کسی بھی شہر کی شعوری سطح کا اندازہ اس کی بیٹھکوں میں ہونے والی گفتگو اور اس کے موضوعات سے ہوتا ہے۔ 80 کی دہائی میرے لڑکپن سے جوانی کے سفر کی دہائی تھی۔ میری پیدائش خیبر پختون خوا کے اس پسماندہ علاقے میں ہوئی تھی جہاں بجلی 2006ء میں آئی حالانکہ تربیلہ ڈیم اسی علاقے کی لاکھوں ایکڑ زمین ڈبو کر بنا ہے۔ وہاں پہلی بار سڑک بنانے کی کوشش 1985ء میں ہوئی جو جنرل فضل حق کی موت کے ساتھ ہی مر گئی۔ بالآخر مشرف دور میں یہ سڑک بنی وہ بھی گزارے لائق۔ سکول وہاں نوے کی دہائی میں بنے وہ بھی صرف پرائمری سطح کے اور غضب یہ کہ تعلیم ان سکولوں میں اب جا کر شروع ہوئی ہے۔ ہسپتال وہاں آج بھی نہیں ہے۔ 4 لاکھ کی آبادی کے لئے صرف تین ڈسپنسریاں ہیں۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم اس علاقے میں 1969ء میں پیدا ہونا بدقسمتی کے ہی زمرے میں آتا اگر میرے والد ہمیں لے کر کراچی مستقل نہ منتقل ہوگئے ہوتے۔ کراچی آ تو گئے لیکن والد صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک بچوں کو سکول بھیجنا گمراہی کے زمرے میں آتا تھا۔ تعلیم کے لئے مدرسہ ان کی پہلی ترجیح بھی تھا اور آخری بھی۔ میری ساری تعلیم مدرسے میں ہوئی، سکول کالج اور یونیورسٹی کبھی ایک دن کے لئے بھی بطور طالب علم نہیں گیا۔ اگر آپ غور کریں تو آج کی تاریخ میں میرا تعارف سیاسی، دفاعی اور سماجی ایشوز پر لکھنے والے رائٹر کا ہے اور یہ تینوں چیزیں مدارس کے نصاب سے تعلق نہیں رکھتیں۔ مجھ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کوئی نامی گرامی شخص نہیں بلکہ ایک بہت ہی معمولی سا سڑک چھاپ انسان ہوں لیکن میرے لکھے کی جانب یونیورسٹیز کے اساتذہ اور طالب علم متوجہ بھی ہوتے ہیں اور اسے تعریف و تنقید کے مرحلے سے بھی گزارتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میری یہ تخلیق کب ہوئی ؟ کہاں ہوئی ؟ اور کس نے کی ؟ میری یہ تخلیق ستر اور 80 کی دہائی میں کراچی میں ہوئی اور یہ ان عظیم انسانوں نے کی جو 1947ء میں لٹ پٹ کر پاکستان آئے تھے۔ کراچی کے دوستو ! میں اس کراچی کا منظر آپ کے لئے کھینچ بھی ڈالوں مگر وہ دل و دماغ آپ کو کہاں سے لا کر دوں جو اس منظر پر غور کرکے کچھ سیکھ اورسمجھ سکے۔ کس قدر شاندار رہی ہوگی وہ معاشرت جس کے افراد کے ساتھ صرف نشست و برخاست سے ہی میں تخلیق ہوگیا، ذرا سوچئے اگر ان سے مجھے باقاعدہ پڑھنا بھی نصیب ہوا ہوتا تو ؟

میں نے کراچی میں منعقدہ حالیہ سیمینار سے ایک ماہ قبل محترم مبشرعلی زیدی کو آگاہ کردیا تھا کہ میں سیمینار سے خطاب کرنے سے انکار کر چکا ہوں۔ انہوں نے سبب پوچھا تو عرض کیا “اس شہر میں شعور کی وہ سطح نظر نہیں آتی جسے کسی سنجیدہ موضوع پر مخاطب کیا جا سکے” دل خون کے آنسو روتا ہے کہ جس شہر میں میری تخلیق ہوئی وہ اتنا پیچھے چلا گیا ہے کہ میں ہی اس سے مخاطب ہونے سے دامن بچاتا ہوں۔ میرا خدا گواہ ہے کہ انپڑھ لوگوں سے مخاطب ہو بھی سکتا ہوں اور انہیں کچھ سمجھا بھی سکتا ہوں۔ میں پشاور، اسلام آباد اور لاہور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ حلقے سے مخاطب ہو سکتا ہوں اور بے جھجک ان کے سامنے اپنے خیالات پیش کر سکتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب میں ان سے مخاطب ہوں گا تو دو میں سے ایک بات ہر حال میں ہوگی۔ یا تو وہ مجھ سے کچھ سیکھ کر جائیں گے یا میں ہی ان سے یوں کچھ سیکھ جاؤں گا کہ وہ میرے کسی خیال کو علم اور دلیل کے ذریعے غلط ثابت کر دیں گے۔ لیکن کراچی ؟ کاش ! اے کاش کہ آج کا کراچی بھی ایسا ہوتا۔ تین ماہ میں کم از کم بھی 50 نشستیں ہوئی ہوں گی جن میں سے صرف تین نشستیں ایسی تھیں جہاں علم و فن زیر بحث آئے باقی تمام کی تمام مجالس خرافاتی موضوعات لئے ہوئے تھیں اور یہ موضوعات بھی اس لئے زیر بحث آئے کہ کھانا کھایا جا سکے۔ کراچی کی شنواری کڑاہی اور بہاری کبابوں والی نشست سے پنڈی کی صرف سبز چائے والی وہ نشست مجھے زیادہ مرغوب ہے جس میں بیٹھا نوجوان یا تو مجھ سے کچھ سیکھتا ہے یا مجھے کچھ سکھا کر اٹھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کراچی کی مجالس سے علم کیوں اٹھ گیا ہے ؟ وہ مجلسیں اب کیوں نہیں جمتیں جن میں بیٹھ کر خیبر پختون خوا کے پسماندہ ترین علاقے سے آنے والا پختون بچہ شعور کی نسبت سے اپنا چھوٹا سا تعارف حاصل کر سکے ؟ یہ اس لئے ہوا کہ ستر اور 80 کے دہائی والے کراچی کے وہ بزرگ ہجرت کے وقت جائدادیں اور مال و اسباب تو پیچھے چھوڑ آئے تھے لیکن علی گڑھ کی تعلیم، لکھنو کی تہذیب اور دہلی کا قیل و قال ساتھ لائے تھے سو جو ان کی مجالس میں بیٹھتا وہ کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ سیکھ کر اٹھتا۔ وہ نسل قبروں میں جا سوئی اور اس کے بعد کی نسل نے اس الطاف حسین کا حقوقی جھجنا اٹھا لیا جس نے کراچی کا تعلیمی نظام تباہ و برباد کرکے رکھدیا۔

(جاری ہے)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: