لاجواب سروس —— جاوید ملک

0

اس قوم میں قومی سطح پر جو قائدانہ صلاحیتیں مسلمہ سمجھی جاتی ہیں ان میں نااہلی، بے ایمانی، اقرباء پروری اور کرپشن سرفہرست ہیں۔ پوری قوم کے پاس ایک ڈھنگ کا کیریکٹر نہیں ہے جس کے سہارے کچھ قدم چلا جا سکے منزل کا تو سوچیئے بھی مت۔

کتنے سال ہو گئے وہی جھوٹے الفاظ. کہنے والے دوغلے جو دو منٹ بعد اپنے کرپشن کے مال کی گنتی میں لگ جاتے ہوں ان کے بے معنی الفاظ کی وقعت قومی سطح پر صفر ہوچکی ہے۔

کچھ عرصہ قبل کراچی سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا وہ بھی قومی ائیرلائن سے۔ دل تو قطعاً نہیں چاہ رہا تھا مگر جانا بھی ضروری تھا اور کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں تھا۔ مگر بہت احتیاط سے کہہ رہا ہوں کہ ٹیک آ ف کے وقت دعا کے سوا کچھ یاد نہیں تھا۔ پورا جہاز ایک پسماندہ علاقے کی بس اور رن وے اندرون سندھ کے کسی گاوں کی موٹر وے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ جہاز کا رواں رواں خوف خدا کے بجائے پی آئی اے کے فرعونوں کے خوف سے یا اپنی کم مائیگی کے احساس سے بری طرح کانپ رہا تھا۔ مجھے لگا جس حصے میں میں دبک کر بیٹھا ہوں شاید جہاز اڑان بھرتے ہی جنگی سورما کی طرح اپنی زخمی ٹانگ کو اڑان میں رکاوٹ سمجھ کر یہی چھوڑ جائے گا۔ اس کے بعد مسلسل مجھے بے چینی رہی اور جہاز کے عملے نے شاید میری حالت بھانپ کر اگنور کرنے پر اکتفا کرنا مناسب سمجھا۔

مگر وہ کہتے ہیں نا کہ پھر اک اور دریا میرا منتظر تھا۔ اب لینڈنگ کے پل صراط سے بھی گزرنا باقی تھا۔ جہاز کی حالت میں وہی کپکپی کی سی کیفیت تھی جو کہ گنہگاروں کے ماتھے پر چسپاں ہوتی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے جہاز زمین پر لینڈ کرنے سے زیادہ زمین ممتا کی گود میں سما جانا چاہتا ہو۔ جہاز کے جسم کا میری طرح مسلسل باآواز بلند ورد جاری تھا۔

اس دن مجھے اپنے سارے گناہ یاد آچکے تھے جس کے لیے میں باکمال لوگ لاجواب سروس کا تہہ دل سے مشکور تھا۔ اور یہ وقت کا تقاضا تھا کہ میں بھی لاجواب سروس کی بہتری کے لیے کچھ سوچتا مگر کہاں جی غم روزگار نے وقت ہی نہیں دیا۔

پھر جمعتہ الوداع کا دن آن پہنچا اور کتنے ہی گھروں کے چراغ گل ہو گئے لاجواب سروس کے ہاتھوں۔ میں نے بہت غور کیا اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ دن کی مناسبت سے حل بھی وداع ہی ہے۔ اب میرے کچھ محب الوطن بھائی ضرور محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر مجھے طعن و تشنیع سے شرابور کرنے کی کوشش کریں گے مگر “یہ تو ہوگا”۔

ہمارے ہر قومی ادارے کی طرح پی آئی اے میں بھی ویسے ہی لوگ ہیں دیہاڑی دار جن کو دیہاڑی کے سوا کسی چیز سےسروکار نہیں اور باقی ماندہ زندگی ملازم بن کر ہی جینا ہے۔ تو میں نے سوچا کہ ملازمت تو کہیں بھی کی جا سکتی ہے جب صرف دیہاڑی پر فوکس ہو۔ اس کے لیے قومی وقار، قومی ادارہ, قومی سرمایہ، ضمیر اور معصوم عوام کی جان لینے کی کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ ائیرلائن تو بے شمار ہیں اور وہ امن و امان سے کام بطور احسن چل رہا ہے ایسے میں اتنی قربانیاں دے کر اپنا چورن بیچنا ضروری تو نہیں ہے۔ مرے ہوئے مریض کو مردہ خوری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے دفنا دینا عقلی اور سماجی طور پر مثبت عمل ہے۔ بچے کچے ملبے کے ڈھیر کو بیچ کر گدھوں کے ٹولے سے نجات حاصل کی جائے اور چچا، ماموں، خالو اور دامادوں کے جم غفیر سے دست بستہ پوری قوم عرض کرے کہ معاف کردیں قوم کے جسم سے سارا خون آپ نچوڑ چکے ہیں اب کوئی اور مردار تلاش کریں یا پھر گرگسوں کے غول سے نکل کر شاہیں ہونے کا ثبوت دیں کیونکہ شاہین مردار نہیں کھاتے۔

آ خر میں ایک نہایت کڑوی گولی کہ لاشوں پر تعمیر محلوں میں زندگی کبھی نہیں پنپتی۔ ایم اے اصفہانی کی اورینٹ ائیر لائن کو قومیانے والے شاید بھول گئے تھے کہ ادارے خون دل سے بنتے ہیں، قبضوں اور اقرباء پروری سے نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20