تعلیم اور علاّمہ محمد اقبالؒ کا نظریہ تعلیم — افضل رضوی

0

تعلیم کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود نسل انسانی کی تاریخ قدیم ہے۔ قرآن پاک میں ہے کہ:

اور یاد کرو جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ یقینا میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ تو انہوں نے کہا تھا کہ کیا تو مقرر کرے گازمین میں (خلیفہ) اس کو جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خون ریزیاں کرے گا جب کہ ہم تسبیح کرتے ہیں تیری حمد وثنا کے ساتھ اور تقدیس کرتے ہیں تیری۔ اللہ نے فرمایا: یقینا میں جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے٭ اور سکھائے اللہ نے آدم کونام سب چیزوں کے، پھر پیش کیا ان کو فرشتوں کے سامنے اورفرمایا بتاؤ مجھے نام ان کے، اگر ہو تم سچے٭انہوں نے عرض کیا: پاک ہے تیری ذات، نہیں ہمیں علم مگر اسی قدر جتنا تو نے سکھایا ہمیں۔ بے شک تو ہی ہے سب کچھ جا ننے والا، بڑی حکمت والا٭اللہ نے فرمایا: اے آدم! بتاؤ ان کو نام ان کے پھر جب بتا دیے آدم نے فرشتوں کو نام ان سب کے، تو فرمایا: کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ بے شک میں ہی جانتا ہوں سب راز آسمانوں کے اور زمین کے بھی؟اور جانتا ہوں ہر اس چیز کوجو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھپا رہے ہو۔ 1

گویا اللہ نے آدم کو ان تمام اشیا کا علم عطا کیا جو خلافت ِارضی کے لیے ضروری تھیں۔ اسی علم کو بنیاد بنا کر انسان نے ترقی کی منازل طے کیں۔ جوں جوں انسانی آبادی بڑھتی رہی مختلف اقوام مختلف خطوں میں آباد ہوتی رہیں اور ہر قوم اپنی ضرورت کے مطابق آنے والی نسلوں کو تعلیم دیتی رہی۔ یہ تعلیم عام طورپر تجارت، زراعت، دست کاری اور اس قسم کی دوسری صنعتوں سے متعلق ہوتی تھی لیکن جب انسانی تہذیب نے ترقی کی اور مسائل بھی کسی قدر پچیدہ ہونے لگے تو فن تحریر معرض وجود میں آیااور تعلیم کے سلسلے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

تعلیم کے معانی:

تعلیم کے لغوی معانی مختلف لغات میں مختلف ہیں۔ مثلاً: پڑھانا، سکھانا، تلقین، ہدایت، تربیت، ناچنے گانے کی مشق کرانا، گھوڑا سدھانا، علم پڑھانا، کسی کو کچھ سکھانا، تادیب، تہذیب، آراستگی، خوش خطی کا نمونہ جس کو دیکھ کر طالب علم سیکھتا ہے، تفہیم، پڑھانا لکھانا پس عربی میں کسی کو کچھ سکھانا اور فارسی میں کچھ سیکھنا، تعلیم ہے۔ 2 جب کہ تصوف میں مرشد کا مرید کو اذکار وافکار وغیرہ سکھانا تعلیم کہلاتا ہے۔

اب میں سطور ذیل میں قدیم نظا م ہا ئے تعلیم کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے سپارٹا کا نظام تعلیم:”اہل سپارٹا نے تعلیم کا مقصد تندرست وتوانا افراد تیارکرنا قرار دے رکھا تھا۔ سات سال کی عمرتک گھر پر ہی تعلیم دی جاتی تھی“۔ 3

”اہل ایتھنز نے بھی اہل سپارٹا کی طرح تعلیم کا ایک مقصدفوجی تیار کرنا مقرر کر رکھاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں اعلیٰ تعلیم کاانتظام بھی تھاچناچہ طلبہ کو علم جغرافیہ، فصاحت و بلاغت، علم جراحت اور علم طبقات ا لا رض کی تعلیم دی جاتی تھی البتہ عورتوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلاتے تھے“۔ 4

افلا طون تعلیم و تربیت کا مقصدروح کی نشو و نما اور بالیدگی بیان کرتا ہے۔ وہ ابتدائی تعلیم کو تین درجو ں میں تقسیم کرتا ہے۔ 5

درجہ اول: چھے سال کی عمر تک کے بچے
درجہ دوم: چھے سے اٹھارہ سال کی عمرتک کے بچے۔
درجہ سوم: ا ٹھا رہ سال سے بیس سال کی عمر تک کے بچے

افلاطون نے اعلیٰ تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا تھا:
جسمانی ا علیٰ تربیت اور اعلیٰ فوجی تربیت

وہ سوسائٹی کو بھی تین طبقات میں بانٹنے کا قائل تھا:
حکمران طبقہ، فوجی طبقہ، مزدور اور پیشہ ور لوگ

ارسطو کے نزدیک تعلیم کا مقصد انسان کو تہذیب سکھانا ہے۔ وہ عقل انسانی کو دو حصوں میں منقسم کرتا ہے:

عقل فعال اور عقل انفعال

اس نے عمر کے لحاظ سے تین درجے بنا رکھے تھے:

بچپن سے تیرہ سال تک
تیرہ سے اکیس سال تک
اکیس سے باقی زندگی تک

اسلام میں تعلیم کا مفہوم:

تعلیم کے معنی و مفہوم سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کو علم سیکھنے اور اسے استعمال کرنے کی جو صلاحیت ودیعت ہوئی ہے وہ نہ صرف اس کی کمزوریوں اور خامیوں کی تلافی کرتی ہے بلکہ اس کی عظمت کا سبب اور علامت بھی ہے ا سی لیے رب کائنات نے علم کا حصول ہر مردوزن پر فرض کیا اور ہر ایک امت کی طرف پیغمبر بھیجے جو لوگوں کو خداکی عبادت کی تعلیم دیتے یہی نہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کو حکم دیا کہ ”پڑھو“، اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو، جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو۔ اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے جس نے قلم کے کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا۔ 6

ان دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم ایک ایسا سلسلہ ہے جو روز ِازل سے جاری ہے، جو ہر دور میں ہر امت اورہر فرد کی ضرورت رہا ہے اور اس کا مقصود یہی رہا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہی دلائی جائے انسان کا انسان سےاور انسان کا خدا سے جو تعلق ہے اسے سمجھایا جائے اور انسان کو فطرت کے ان اسرار و رموزسے واقفیت دلائی جائے جن سے یہ و اقف نہیں ہے۔

پس یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قرآنی احکامات کے مطابق علم روشنی ہے اور تعلیم وہ عمل ہے جس کے ذریعے انسان کو علم حاصل ہوتا ہے، ارشاد ربانی ہے:

”وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح (المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے تاکہ تم کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لائے۔ “7

روشنی اپنی ماہیت کے اعتبار سے موجودات کو ان کے اصل رنگ وروپ اور خدوخال میں پیش کرتی ہے جب کہ علم کی روشنی انسان میں موجودات واحساسات کا ادراک پیدا کرتی ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے:

”جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے کیا برابر ہو سکتے ہیں؟“ 8

اور ارشاد ربانی ہے:
”کیا برابر ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھ والا“9

پیغمبر ﷺ نے فرمایا:
عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے۔ 10

قرآن حکیم جگہ جگہ یوں خطاب کرتا ہے:
کیا تم غوروفکر نہیں کرتے؟ کیا تم نہیں دیکھتے؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ 11
اسلام میں تعلیم کی بہت اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وزن پر فرض ہے۔ 12
اسلام میں تعلیم کی بہت اہمیت ہے نبی ﷺ کا ارشاد ہے:گود سے لے کر گور تک علم حاصل کرو۔13

امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ اسلاف کا کہنا ہے کہ عالم کی دو رکعت نماز جاہل کی سال بھر کی عبادت سے افضل ہے اس واسطے کہ جاہل اپنے عمل کی آفتو ں کو نہیں پہچان سکتا اور اغراض سے سے عمل کی آمیزش کیسے پاک ہو، اسے معلوم نہیں وہ بے چارہ سب ہی اعمال کو خالص سمجھتا ہے اس لیے کہ عبادت کاکھوٹا پن سونے کے کھوٹے پن کی مانند ہے اور کبھی صراف بھی سونا پرکھنے میں غلطی کرگزرتا ہے البتہ کامل صراف اسے پرکھ لیتا ہے، رہ گئے جاہل تو اتنی بات وہ بھی جانتے ہیں کہ سوناوہی ہے جو زرد رنگ کا ہو اور عبادت کا کھوٹا پن جس سے اخلاص ضائع ہوتا ہے اس کے چاردرجے ہیں بعض ان میں سے بہت پوشیدہ ہیں ان درجات کو ہم ریا کی صورت پر فرض کرتے ہیں۔ اس معاملے میں کہ کون سا علم حاصل کرنا فرض ہے اہلِ علم میں اختلاف ہے، متکلیمین کا کہنایہ ہے کہ اس سے مراد و ہ علم ہے جس سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو، فقہا کا خیال ہے کہ اس سے مراد خالصتاً علمِ فقہ ہے کیونکہ یہی وہ علم ہے جس کی بدولت انسان حلال اور حرام میں تمیز کرسکتاہے، محدث کہتے ہیں کہ تفسیر و حدیث ہیکہ علومِ دینیہ کی اصل یہی ہیں، صوفیا کے نزدیک اس سے مراد احوالِ دل کا علم ہے کیونکہ دل اللہ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہو تا ہے کہ تمام علوم اپنی اپنی جگہ اہم اور خاص ہیں اور سب کا حاصل کرنا واجب ہے۔ 14

پس اسلام جس قسم کے انسانی معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے ا س کا مکمل قیام تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ دور نبویﷺ میں اسلام کا نظام تعلیم قرآن و حدیث کی تعلیم پر مشتمل تھا۔ خلفائے راشدین کے دور میں اس میں وسعت آئی اور فقہ، ادب، لغت اور شعر و سخن بھی تعلیم کا حصہ قرار دے دیے گئے۔ مختصر یہ کہ مسلمانوں نے ہر شعبہ علم میں ترقی کی اور نئے نئے علوم بھی ایجاد کیے۔

امام غزالیؒ پہلے ماہر تعلیم ہیں جنہو ں نے باقاعدہ نظام و نصابِ تعلیم مرتب کیا۔ انہوں نے علم کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

1) علم محمود: وہ علوم جو ہر لحاظ سے پسندیدہ ہیں جیسے: مذہبی علم، ارکان اسلام وغیرہ اور
2) علم مذموم: ایسے علوم جن سے نقصان کا اندیشہ ہوجیسے:سحر، نجوم وغیرہ۔

امام صاحب نے علم محمود کی بھی دو قسمیں بتائیں ہیں:فرض عین اور فرض کفایہ؛ پس ان کا خیال ہے کہ طلبہ کو ذہنی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم بھی دی جانی چاہیے۔ 15

علامہ ابن خلدون تعلیم کو فطری قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایک صنعت قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے تعلیم کی درج ذیل دو قسمیں بیان کی ہیں:عقلی علوم اور نفلی علوم16

شاہ ولی اللہؒ کا خیال ہے کہ دینی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جانی چاہیے اور طلبہ کو ایسے فنون یا پیشے سکھائے جائیں کہ جن سے ان کے معاشی مسائل بھی کسی قدر کمہوجائیں۔ سرسید احمد خاں کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جب کہ علماء اس کے خلاف تھے۔ 17

اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب میں علامہ اقبالؒکا نظریہ تعلیم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ علامہ اقبا ل ؒکے نظریہ تعلیم کو سمجھنے کے لیے ان کے دور کے سیاسی حالات و واقعات کو مدنظر رکھنا ہو گا جن سے حضرت علامہ اقبال ؒ کا واسطہ پڑا۔ اس دور میں مسلمان زبوں حالی کا شکار تھے اور انہیں ہر طرف مایوسیو ں کے گہرے بادل نظر آ تے تھے۔ ایسے مایوس کن اور غیر یقینی دور میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی نگاہیں ان ہی کی طرف اٹھتی تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کی اس حالت کو سمجھتے ہوئے ایک مکمل فلسفہ تعلیم پیش کیاکہ جسے اگر من وعن مملکت ِ خداداد میں نافذ کردیا جاتا تو آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں، ان سے بچ جاتے کیو نکہ افراد کی زندگی کی عمارت تعلیم وتربیت ہی سے تعمیر ہوتی ہے اور قومیں اپنے تعلیمی فلسفے کی پختگی کی بد ولت ہی عروج حاصل کرتی ہیں۔

علامہ اقبال ؒکے دور میں دو نظام ہائے تعلیم مروج تھے، ایک قدیم دینی مدارس کا نظام جس میں قرآن و حدیث، فقہ اور دیگر علوم کی تعلیم دی جاتی تھی لیکن علومِ جدیدہ کما حقہُ نہیں پڑھائے جاتے تھے دوسرا انگریز کا نظام ِ تعلیم تھا جس میں یہ خامی تھی کہ اسلامی علوم و فنون کو کلیۃً نظر انداز کیا جاتا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمارا نظام تعلیم ایسا ہو کہ جس سے نئی نسل اسلام کے نصب العین کے مطابق دنیا کی رہنمائی کے قابل ہو سکے اور مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کی امامت اور پیشوائی کے منصب پر فائز ہو سکیں اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام علوم میں ہمارا نقطہ نظر اسلامی نقطہ نظر ہواور اس کی روشنی میں عملی زندگی میں اپنے لیے روشن مستقبل کے لیے اسلامی انقلاب برپا کیا جا سکے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کو یہ بات اور کرائی جا سکے کہ علو م جدیدہ دراصل اسلام ہی کی بدولت معرض وجود میں آئے ہیں۔ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس منعقدہ دہلی اپریل 1911ء میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے حکیم الاّمت نے فرمایا:

میں دعوے سے کہ سکتا ہو ں کہ اسلام مغربی تہذیب کے تمام عمدہ اصولوں کا سر چشمہ ہے۔ پندرہویں صدی عیسوی میں جب سے کہ یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا، یورپ میں علم کا چرچا مسلمانوں ہی کی یونیورسٹیوں سے ہواتھا۔ ۔ ۔ ۔ کسی یورپین کا یہ کہنا کہ اسلام اور علوم جدیدہ یکجا نہیں ہو سکتے سراسر ناواقفیت پر مبنی ہے اور مجھے تعجب ہے کہ علوم اسلام اور تاریخ اسلام کے موجود ہونے کے باوجود کیونکر کہ سکتا ہے کہ علوم جدیدہ اور اسلام ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ بیکن، ڈی کارٹ

اور مل یورپ کے سب سے بڑے فلاسفر مانے جاتے ہیں جن کے فلسفہ کی بنیاد تجربہ اور مشاہدہ پر ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ڈی کارٹ کا میتھڈ امام غزالیؒ کی احیا العلوم میں موجود ہے اور ان دونوں میں اس قدر تطابق ہے کہ ایک انگریزی مؤرخ نے لکھا ہے کہ اگر ڈی کارٹ عربی جانتا ہو تا توہم ضرور اعتراف کرتے کہ ڈی کارٹ سرقہ کا مرتکب ہوا ہے۔ بیکن خود ایک اسلامی یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ تھا۔ جان اسٹیوارٹ مل نے منطق کی شکل اوّل پر جو اعتراض کیا ہے بعینہ وہی اعتراض امام فخرالدین رازی ؒنے بھی کیا تھا اور مل کے فلسفہ کے تمام بنیادی اصول شیخ بو علی سینا کی مشہورکتاب شفا میں موجود ہیں۔ غرض یہ کہ تمام وہ اصول جن پر علوم جدیدہ کی بنیاد ہے مسلمانوں کے فیض کا نتیجہ ہیں بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ کہ نہ صرف علوم جدیدہ کے لحاظ سے بلکہ انسان کی زندگی کا کوئی پہلو اور اچھا پہلو ایسا نہیں ہے جس پر اسلام نے بے انتہا روح پرور اثر نہ ڈالا ہو۔ 18

ابھی ابھی جو اقتباس میں نے آ پ کے سامنے پیش کیا ہے اس پر غورو خوض کرنے سے پتا چلتا ہے کہ علامہ اقبال اسلامی نظریہئ تعلیم کے کس قدر قائل ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی فلسفہ تعلیم ہی مسلمانوں کے مرض کا علاج ہے ا ور وہ تعلیم جو مذہب اور اخلاق سے دور لے جائے وہ مسلمانوں کے لیے زہر سے کم نہیں۔وہ تعلیمِ مغرب کو صرف اس لیے نا پسند کرتے ہیں کہ اسے حاصل کرنے کے بعد نوجوان اسلامی اقدار کی بجائے انگریزی اقدار کے مداح نظر آتے ہیں، اسی لیے فرماتے ہیں:19

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ

اور پھر اسی مضمون کو ضرب ِکلیم کی نظم دین و تعلیم میں یوں بیان کرتے ہیں:20

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف!

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف!

فطرت افراد سے اغماز بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملتّ کے گناہوں کو معاف!

علامہ اقبالؒ کا خیال یہ تھا کہ نوجوان صحابہ کرام کی عملی تصویریں بنیں اور ان کا ہر عمل سیرتِ مصطفوی ﷺ کا آئینہ دار ہو۔نوجوانوں کا کوئی فعل شریعت مطاہرہ کے خلاف نہ ہو، ان کا کردار اتنا مضبوط اور مستحکم ہو جائے کہ اغیار اس سے سبق لیں، نوجوانوں کی خودی اتنی اجاگر ہو جائے کہ ان کے سامنے دنیوی اشیا کی کوئی اہمیت نہ رہے، ان کے پیشِ نظر اگر کچھ رہے تو عشقِ مصطفوی ﷺ کی حدت وحرارت اور گرمی ہو، وہ اسے اپنا سرمایہئ حیات تصور کریں اور ایسی تعلیم جس کی وجہ سے مسلمان نوجوان الحاد کا شکار ہو جائیں وہ زہر سے کم نہیں۔اسی لیے وہ مسلمانوں کو انتباہ کرتے ہو ئے ایسی تعلیم کی ضرر رسائی سے آگاہی دلاتے ہوئے کہتے ہیں:21

خوش تو ہم بھی ہیں جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا ا لحاد بھی ساتھ

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نما
لے کے آ ئی ہے مگر تیشہئ فرہاد بھی ساتھ

”تخمِ دیگر بکف آ ر یم و بکاریم زنو
کانچہ شتیم ز خجلت نتواں کرد درو“

علامہ اقبال جدید تعلیم کے خلاف نہیں کیونکہ انہوں نے خودبھی اس تعلیم سے استفادہ کیا تھا لیکن ان پراس تعلیم کا کوئی اثر نہ ہوا تھاعلامہ کو تہذیب مغرب کو قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملاتھا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ وہ اپنے بیٹے جاوید کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:22

جوہر میں ہو لاالہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ!
شاخِ گل پر چہک ولیکن
کر اپنی خودی میں آشیانہ!

وہ یورپ کو شیطان کی کارگاہ کہتے ہیں کیونکہ اس نے مادہ پرستی کے نظریات کو فروغ دے کر انسانی قدروں کو کمزور کرنے میں بنیادی کردار ادا کیاہے۔بال جبریل میں علامہ نے اس کی بھرپور عکاسی نظم ”لینن“ میں لینن کی زبانی فریاد سے کی ہے۔ فرماتے ہیں:

یورپ میں بہت روشنیئ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہ ئ حیواں ہے یہ ظلمات

رعنائی تعمیر میں،  رونق میں،  صفا میں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھو ں کے لیے مرگ ِ مفاجات

یہ علم، یہ حکمت،  یہ تدبر،  یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوت

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فر نگی مدنیت کے فتوحات

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ ِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات 23

چنانچہ اقبال اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو علم خودی کو بلند کرتا ہے اور سوزِدل سے معمور ہوتا ہے وہی علم قابل ِقدر ہے لیکن صرف علم ہی سے عرفان ذات نہیں ہوتا اور محض علم روحانی اقدار کے بغیر کسی کام کا نہیں۔زندگی میں ایسی تعلیم وتر بیت کارآمد ہے جو عشق اور عقل دونوں کے توازن سے پیدا ہواسی طرح زندگی سدھر سکتی ہے اور انسان مرد کامل کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، اقبال کہتے ہیں:24

زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوز ِ دماغ

اقبال کہتے ہیں کہ صحیح معنو ں میں علم اس وقت علم بنتا ہے جب یقین کے درجے کو پہنچ جاتا ہے اور انسان خودی کے تینوں مراحل (اطاعت ِالٰہی، ضبط ِ نفس اور نیابت ِالٰہی) طے کرکے مقامِ مردِ مومن کو پہنچ جاتا ہے اور پھر اس کی نگاہوں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ وہ ایسی تعلیم کے سخت خلاف ہیں جسے حا صل کرنے کے بعد انسان نہ صرف بے رہرو ہو جائے بلکہ صداقت، عدالت، شجاعت اور امامت کا درس تک فراموش کر بیٹھے اور حالت یہ ہو جائے کہ وہ اپنی تخلیق کا مقصد تک بھلا بیٹھے۔اسی لیے کہتے ہیں: 25

علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

علامہ اقبال ؒ بیک وقت تعلیمِ مغرب کی ضرر رسائیاں بھی ہمارے سامنے لاتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اس طرح ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم مغربی تعلیم کے ہر دو پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد اپنے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار کریں۔علامہؒ، سرسید احمد خاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کی ان کا خیال یہ تھا کہ مذہبی تعلیم چھوڑ کر زمانے کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے کیونکہ دنیوی ترقی اسی طرح میسّر آسکتی ہے۔ان کا خیال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں تعلیم قوم کی بیماریوں کا علاج ہے۔بانگِ درا کی نظم’مسلمان اور تعلیم ِ جدید‘میں کہتے ہیں:26

مرشد کی تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر!
لازم ہے رہرو کے لیے دنیا میں سامانِ سفر

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملّت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر

لیکن جب وہ تعلیمِ مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ:27

رہبر کے ایما سے ہوا تعلیم کا سودا مجھے
واجب ہے صحر ا گرد پر تعمیلِ فرما ن ِخضر

لیکن نگاہِ نکتہ بیں دیکھے زبوں بختی مری
”رفتم کہ خار از پاکشم، محمل نہاں شد از نظر

چنا نچہ اقبال اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جو علم خودی کو بلند کرتا ہے اور سوزِدل سے معمور ہوتا ہے وہی علم قابل ِقدر ہے لیکن صرف علم ہی سے عرفان ذات نہیں ہوتا اور محض علم روحانی اقدار کے بغیر کسی کام کا نہیں۔زندگی میں ایسی تعلیم وتر بیت کارآمد ہے جو عشق اور عقل دونوں کے توازن سے پیدا ہواسی طرح زندگی سدھر سکتی ہے اور انسان مرد کامل کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، اقبال کہتے ہیں:24

زندگی کچھ اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
زندگی سوزِ جگر ہے علم ہے سوز ِ دماغ

اقبال کہتے ہیں کہ صحیح معنو ں میں علم اس وقت علم بنتا ہے جب یقین کے درجے کو پہنچ جاتا ہے اور انسان خودی کے تینوں مراحل (اطاعت ِالٰہی، ضبط ِ نفس اور نیابت ِالٰہی) طے کرکے مقامِ مردِ مومن کو پہنچ جاتا ہے اور پھر اس کی نگاہوں سے تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ وہ ایسی تعلیم کے سخت خلاف ہیں جسے حا صل کرنے کے بعد انسان نہ صرف بے رہرو ہو جائے بلکہ صداقت، عدالت، شجاعت اور امامت کا درس تک فراموش کر بیٹھے اور حالت یہ ہو جائے کہ وہ اپنی تخلیق کا مقصد تک بھلا بیٹھے۔اسی لیے کہتے ہیں: 25

علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے
ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ

علامہ اقبال ؒ بیک وقت تعلیمِ مغرب کی ضرر رسائیاں بھی ہمارے سامنے لاتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کی تلقین بھی کرتے ہیں اس طرح ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم مغربی تعلیم کے ہر دو پہلوؤں سے واقفیت حاصل کرنے کے بعد اپنے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار کریں۔علامہؒ، سرسید احمد خاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کی ان کا خیال یہ تھا کہ مذہبی تعلیم چھوڑ کر زمانے کی تعلیم حاصل کرنی

چاہیے کیونکہ دنیوی ترقی اسی طرح میسّر آسکتی ہے۔ان کا خیال یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں تعلیم قوم کی بیماریوں کا علاج ہے۔بانگِ درا کی نظم’مسلمان اور تعلیم ِ جدید‘میں کہتے ہیں:26

مرشد کی تعلیم تھی اے مسلمِ شوریدہ سر!
لازم ہے رہرو کے لیے دنیا میں سامانِ سفر

اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملّت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر

لیکن جب وہ تعلیمِ مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ:27

رہبر کے ایما سے ہوا تعلیم کا سودا مجھے
واجب ہے صحر ا گرد پر تعمیلِ فرما ن ِخضر
لیکن نگاہِ نکتہ بیں دیکھے زبوں بختی مری
”رفتم کہ خار از پاکشم، محمل نہاں شد از نظر
یک لحظہ غافل گشتم وصد سالہ را ہم دور شد“

علامہ اقبال کے نزدیک مغربی تعلیم کی بنیاد مادہ پرستی پر رکھی گئی ہے اور اس میں روحانیت اور وجدانیت کی نشو و نمااور ترقی کا سامان موجود نہیں ہے۔ اس تعلیم نے ہمیں غلامی پر قانع ہونا سکھایا۔ اپنے اسلاف کے کارنامو ں پر فخر کرنے کی بجائے انگریز ی تہذیب پر ناز کرنا سکھایا اور اس نے دل میں اس بات کو ڈال دیا کہ اگر دولت ہے تو سب کچھ ہے، دولت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ علامہ اقبال صرف اس تعلیم کے خلاف تھے جو مسلمانوں کو مذہب سے بے گانہ کردے۔ وہ چاہتے تھے کہ علوم ِ جدیدہ کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی ضرورحاصل کی جانی چا ہیے اور اس کا اثر اتنا راسخ ہو نا چاہیے کہ مغربی تعلیم ان کے عقائد میں رخنہ نہ ڈال سکے۔ کیونکہ وہ جا ن گئے تھے کہ یورپین مسلمانوں کے دل سے کسی طرح روح محمد نکال دینا چاہتے ہیں، کہتے ہیں:28

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح ِمحمد اس کے جسم سے نکال دو

ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہو ئے انہوں نے ایک تعلیمی پالیسی مرتب کر دی تھی کہ جس پر اگر عمل کرلیا جاتا تو آج ہم ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑے ہو تے، افسوس صد افسوس کہ ان کے خیالاتِ عالیہ سے استفادہ کرنے کی باتیں تو کی گئیں مگر ان پر عمل کرنے کی کوششیں نہیں کی گیئں۔ان کا تعلیمی میدان میں تجربہ بہت وسیع تھا۔ وہ پہلے گورنمنٹ کالج لاہور اور اورینٹل کالج سے منسلک رہے بعد

ازاں ان کا تعلق مختلف یونیورسٹیوں سے بھی رہا1900.ء سے لے کر آخر عمر تک وہ مڈ ل، انٹرنس، ایف۔اے، ایم۔اے اور ایل۔ایل۔بی کے پرچے مرتب کرتے رہے۔ پنجاب، علی گڑھ، ا لہ آباد، ناگ پور اور دہلی یونیورسٹیوں کے ممتحن رہے۔علاوہ ازیں پنجاب یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے ممبر بھی رہے۔

علامہ اقبال نے اپنی اسلامی تعلیم کی اسکیم کا ذکر اجمالاًاپنے ایک خط، جو انہوں نے4 جون1925ء کو صاحب زادہ آفتاب احمد خاں وائس چانسلرعلی گڑھ یو نیورسٹی کے ایک تفصیلی نوٹ کے جواب میں لکھا، میں کیا ہے۔لکھتے ہیں:

یورپ میں اسلام کا سیاسی زوال بد قسمتی سے کہا جاتا ہے ایسے وقت میں رونما ہوا جب مسلم حکماء کو اس حقیقت کا احساس ہونے لگا تھاکہ استخراجی علوم لا یعنی ہیں اور جب وہ استقرائی علوم کی تعمیر کی طرف کسی حد تک مائل ہوچکے تھے، دنیائے اسلام میں تحریکِ ذہنی عملاً اس وقت سے مسدود ہو گئی یورپ نے مسلم حکماء کے غورو فکر کے ثمرات سے بہرہ اندوز ہونا شروع کیا۔ یورپ میں جذبہئ انسانیت کی تحریک بڑی حد تک ان قوتو ں کا نتیجہ تھی جو اسلامی فکر سے بروئے کار آیئں۔29

علامہ اسی مکتوب میں مزید لکھتے ہیں:

ایسے عالموں کا تیار کرناجو اسلامی تاریخ، آرٹ(فنون) اور علم ِتہذیب و تمدن کے مختلف پہلو ؤں پر حاوی ہوں۔“

ایسے عالموں کا پیداکرنا جو اسلا م کے قانونی لٹریچرمیں تحقیق و تد قیق(ریسرچ) کے لیے موزوں ہوں۔۔۔۔ ہمارا قانونی لٹریچرجس کا کافی حصہ ابھی غیر مطبوعہ ہے، بے انتہا ہے۔ میری رائے میں اسے علومِ اسلامیہ کی ایک علیحدہ شاخ قرار دینا چاہیے۔ (قانو ن سے میرا مقصد صرف اس قانون سے ہے جس کا تعلق فقہ سے ہے) صرف انہیں عام اصولو ں کے تحت ہمیں علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی میں علومِ اسلامیہ کی اسکیم مرتب کرنا چاہیے۔30

علامہؒ کی دلی خواہش یہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسا نظام ِتعلیم ترتیب پا جائے کہ جس پر عمل پیرا ہو کرمسلما ن کی خودی بیدار ہو جائے۔ وہ قدیم مدرسہ کے نظام سے قطعی مطمئن نہیں تھے، وہ اپنی مدبرانہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

چناچہ جس قسم کا علمِ کلام اور علمِ دین ازمنہ متوسطہ کے مسلمان کی تسکین ِقلب کے لیے کافی ہو تا تھا، وہ آج تسلی بخش نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور بہت سے مسئلوں کی طرح اس مسئلہ میں بھی سر سید احمد خاں کی دور رس نگاہ کم و بیش پیشین گوئیانہ تھی۔ جیسا کہ آپکو علم ہے انہوں نے اس کی بنیاد زیادہ تر ایک گزرے ہوئے عہد کے فلسفیانہ معتقدا ت و افکارپر رکھی۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں آ پ کے مسلم دینیات کے مجوزہ نصاب سے اتفاق نہیں کر سکتا۔میرے نزدیک قدیم طرز پر مسلم دینیا ت کا شعبہ قائم کرنا بالکل بے سود ہے۔31

علامہ اقبال دینی مدارس کے طلباء کے لیے نصاب مقرر کرنے کے سلسے میں رقم طراز ہیں:

میں چاہتا ہو ں کہ وہ یونیور سٹی انٹر میڈیٹ امتحان پاس کرنے پر مجبور کیے جائیں۔ یہاں وہ سوائے انگریزی کے کوئی دوسری زبان اختیار نہ کر سکیں گے۔دوسرے مضامین میں وہ حسب ِذیل مضامین اختیارکر سکیں گے:

(الف) علوم ِطبعی (ب) ریاضیات (ج) فلسفہ (د) اقتصادیات

انہوں نے نے اپنے فلسفہ ئتعلیم کو تشکیل ِ جدید الہیات اسلامیہ کے خطبہ اول میں جس طرح بیان کیا ہے ملاحظہ ہو:

اگر طاقت اور قوت بصیرت سے محروم ہیں تو اس کا نتیجہ بھی بجزھلاکت اور بیدردی کے اور کچھ نہیں ہو گاہمارے لیے دونوں کا امتزاج ضروری ہے تاکہ عالمِ انسانی روحانی اعتبار سے آگے بڑھ سکے۔32

علامہ اقبال اس بات سے قطعی واقفیت حاصل کر چکے تھے کہ روحانیت کے بغیر مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ ناممکن ہے چنانچہ بال ِ جبریل کی ایک غزل میں اس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:33

دل ِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

مجوزہ افغان یونیورسٹی کے متعلق ایک اخباری بیان میں جو19 اکتوبر1933ء کو شائع ہو ا، میں بھی انہوں نے دینی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، فرماتے ہیں:

شاہِ افغانستان نے ہمیں اس لیے دعوت دی تھی کہ ہم وہاں وزیرِ تعلیم کو کابل میں یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں مشورہ دیں۔۔۔۔۔ میرا اپنا یہ خیال ہے کہ خالص دنیوی تعلیم سے اچھے نتائج پیدا نہیں ہو ئے اور خصوصاً اسلامی ممالک میں مزید برآں کسی طریقہ ئ تعلیم کو قطعی اور آخری نہیں کہا جا سکتا ہر ملک کی ضرویات مختلف ہو تی ہیں اور کسی ملک کے تعلیمی مسائل کے متعلق فیصلہ کرنے میں اس ملک کی خصوصی ضرویات کو خاص طور پر مد ِ نظررکھنا پڑتا ہے۔34

علامہ کی نظم اور نثر پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ وہ مسلمان نوجوانوں میں تین عناصر دیکھنے کے خواہاں ہیں کہ جن کی بدولت ان کی خودی مستحکم ہو سکتی ہے۔وہ عناصر یہ ہیں:

علامہ اسا تذہ کو بتاتے ہیں کہ:35

مقصد ہو اگر تربیتِ لعلِ بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پر تو!
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ، کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو!
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو!

علامہ طالب علموں کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ:36

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحب ِ کتاب نہیں

علامہ اقبال کے افکار سے یہ نتیجہ ناخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہماری تعلیمی پالیسیوں میں سائنیسی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف توجہ زیادہ دی جاتی ہے حا لانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ تسخیر ِ کائنات کی جامع اسلامی اصطلاح کو اختیار کیاجائے جس میں عصری زندگی کے تمام مادی تقاضے بھی شامل ہیں اور معاش کا مسئلہ بھی خود بخود حل ہو جا تا ہے لیکن افسوس کہ ہم ہم نے آج تک اس سے آگے نہیں سوچا کہ ہماری تعلیم کا مقصد ِاولین طلب ِ معاش ہے اور حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے اس طرف واضح الفاظ میں اشارہ فرمادیا تھا:37

عصرِ حاضر ملک الموت ہے تیرا، جس نے
قبض کی روح تری دے کے تجھے فکرِ معاش!
دل لرزتا ہے حریفانہ کشاکش سے ترا
زندگی موت ہے کھو دیتی ہے جب ذوقِ ِ خروش
اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بے گا نہ کیا
جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش!
مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو
خلوتِ کوہ و بیا باں میں وہ اسرار ہیں فاش!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20