“ذکر” کیا ہے؟ اہمیت و افادیت —— ماریہ مہوش

0

ذکر آواز ہے۔ آواز کورس، دھمال میں بھی ہے۔ SoundTherapy MusicTherapy یہ بھی آوازوں کے ذریعے علاج کا طریقہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صوتی شفا یابی کا تعلق قدیم یونان سے ہے۔

جسمانی اور جذباتی صحت اور تندرستی کو بہتر بنانے موسیقی یا صوتی اثرات پیدا کرنے والے آلات کا استعمال ہوتا ہے۔ علاج کرنے والافرد تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ عام خیال بھی موجود ہے کہ موسیقی ذہنی عوارض کو دور کرنے میں بھی کارآمد ہے۔ فوجی دستوں کی آواز، لوگوں میں جوش پیدا کرنا ہو تو آواز، پیداواری کام کی رفتار بڑھانی ہو تو آواز۔ ۔ ۔ ۔ یا تو موسیقی کی صورت میں ہوگی یا بھی نعرے یا دھمال قسم کی۔ یہیں تک نہیں ہر مذہب میں بری روحوں یا روح پہ برے اثرات کو زائل کرنے کے لۓ بھی آوازوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ شفایابی کے لے جن صوتی اثرات کو استعمال کیا جاتا ہے وہ اپکی مدافعتی فنکشنز کو بہتر کرنے اور تناؤ کی سطح کو کم کرنے میں بھی معاون ہے۔ اس ضمن میں کئ تھراپی موجود ہیں جو کہ Sound Therapy یا Music Therapy کہلاتی ہیں۔

1۔ Guided Meditation
2۔ Neurologic Method
3۔ Bony Method
4۔ Brainwave Entrainment

آوازوں سے ہوتا کیا ہے؟

کسی کی آواز اس قدر دلفریب ہوتی ہے کہ سنتے ہی غصہ کافور ہوجاتا ہے اور کسی کی آواز سن کر کان کی لویں تپ جاتی ہیں۔ پرندوں کی آوازیں سکون بخشتی ہیں تو تیز آوازیں ہیجان برپا کرتیں ہیں۔ صوتی شفا یابی کی آوازیں کہاں کہاں مفید ہیں۔

1۔ Anxiety Disorder
2۔ Depression
3۔ Dementia
4۔ Post-traumatic Stress Disorder
5۔ Autism
6۔ Behavioral & Psychiatric Disorder
7۔ Pain Reduction
8۔ Reduce Blood pressure
9۔ Improve Sleep
10۔ Last but not least #Cancer۔

یہ چند مسائل تھے جن کا ذکر کیا۔ آخر الذکر بیماری کا علاج مذہب اسلام میں سورہ رحمان سے ثابت شدہ ہے اور وہ بھی حافظ قاری عبدالباسط کی آواز میں۔

مذہب سے الگ ہوکر دیکھیں تو یہ بھی سورہ رحمان بھی آواز ہی ہے اور عبد الباسط کی آواز کی فریکوئنسی اس علاج میں معاون ہے۔ آواز کی فریکوئنسی آپکے اعصاب پہ اپنے اثرات چھوڑتی ہے۔ کم فریکوئنسی کے ساتھ آپ کے احساسات کو کم بھی کیا جاسکتا ہے اور ابھارا بھی جاسکتا ہے۔
عام طور پہ جن آلات کا استعمال ہوتا ہے ان میں

1۔ Singing Bowles
2۔ Tuning Fork
3۔ Harp
4۔ Drums
ڈھول (drums) یا دف ایک ہی خاندان کے آلات ہیں۔
اور دف کی اسلام صوفی موسیقی میں موجودگی پائ جاتی ہے۔

ذکر تنہائ میں یا محفل میں کورس کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ جسطرح فوجی بوٹوں کی آواز ایک ساؤنڈ بلاک بناتی ہیں اسی طرح صوفی موسیقی ایک وجد طاری کرتی ہے۔ منفی اثرات کا رنگ چھٹتا ہے۔ ایک ہلکا دھیما روشن رنگ سامنے آتا ہے۔

قوالی پہ ایک پوسٹ کی تھی۔ صوفی قوالی بھی ایک سماع باندھتی ہے اور ذکر شاید اس سے زیادہ مضبوط اور سحر انگیز سماع تشکیل دیتا ہے جو آپ کے شعور کے تمام احاطے کو گھیر لیتا ہے۔

یک لفظی ذکر زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ چاہے وہ لفظ اللہ، ہو، اوم، یا کوئ بھی ہوسکتا ہے۔ عیسایت میں ہندومت اور دیگر مذاہب میں ذکر موجود ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20