عوام کی ٹریکنگ سیفٹی —- لالہ صحرائی

0

انتظامی نوعیت کے ابتدائی نظام میں کچھ خامیاں موجود ہوں تو یہ شرمندگی کی بات نہیں ہوتی، کوئی بھی نظام جب قائم ہوتا ہے تو وہ اپنی ابتداء میں پروٹوٹائیپ کونسیپٹ کیساتھ ہی چلتا ہے، پھر جیسے جیسے اس کی انتظامی، قانونی یا آپریشنل خامیاں واضح ہوتی ہیں تو بتدریج ان کا حل نکال کے اسے فول پروف کیا جاتا ہے، یہ ایک مسلسل عمل ہے جس سے ایکوریسی بڑھائی جاتی ہے، پہلے ہی دن سے کسی بھی نظام میں سو فیصد ایکوریسی نہیں لائی جا سکتی۔

اینٹی کار لفٹنگ پولیس نے ابتداء میں ہر روٹ پر وائرلیس سے کنیکٹڈ پہریداری کا نظام مقرر کیا تھا جو سائل کی صرف ایک فون کال پر متحرک ہو جاتا تھا اور پورے صوبے کی راہداریوں پر چوری شدہ گاڑی کے کوائف پہنچ جاتے تھے، اس کے بعد کار چوروں نے کچے کے روٹ استعمال کرنا شروع کر دیئے تو ایفی شینسی کافی حد تک متاثر ہوگئی، اس کریمینل بزنس کو مینویل نظام کیساتھ ہینڈل کرنا اتنا مؤثر نہیں تھا جتنا ٹریکر کی آمد سے ممکن ہوا، ٹریکر کی ابتداء میں بھی گاڑی سے ٹریکر نکال کے پھینک دینا، گاڑی کنٹینر میں بند کرکے لیجانا ہوتا رہا ہے، جب اس کا بھی سدباب ہو گیا تو چوروں نے جیمر کا استعمال شروع کردیا، اس کے توڑ میں ٹریکر کیساتھ اینٹی جیمر بھی فٹ کر دیا گیا تو کار چوری کا بزنس اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

اس حساب سے سیٹلائیٹ ٹریکنگ سسٹم کو پروٹوٹائیپ سے نکل کے ایک فلالیس اور مستحکم نظام میں ڈھلنے کیلئے جہاں پورا ایک عشرہ لگا وہاں وہ تمام اشتہاری کار چور گروہ بھی ٹریکنگ کی زد میں آکے مرتے رہے، نوے فیصد گینگسٹر پولیس مقابلوں میں مارے گئے باقی چھوٹے موٹے تائب ہوگئے کیونکہ کار چوری کرکے ہضم کرجانا ممکن ہی نہیں رہا تھا، اس بات کو بھی اب دس سال گزر چکے ہیں۔

اسی طرح پندرہ سال قبل جب میں نے موبائل سم لی تو دوماہ بعد ایک بندہ میرے کوائف کنفرم کرنے آیا، اس نے بتایا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ایجنسیاں موبائل سموں کو ریگولرائز کرنا چاہ رہی ہیں، یہ بہت اچھا اقدام تھا، میں نے اس کی تعریف بھی کی اور اس کے باس کو پیغام بھی بھیجا کہ اس کام کو فول پروف حد تک لیکر ضرور جائیے گا۔

پھر جو لوگ بے نام کی سمیں لیجاتے تھے ان کا ڈیٹا کہاں سے لیں گے، اس کیلئے شناختی کارڈ کی پابندی لگائی گئی تو لوگوں نے دوسروں کے نام سے سمیں نکلوانا شروع کر دیں، پھر جب اس کا توڑ بائیومیٹرک کی صورت میں نکالا گیا تو یہ دونمبری بھی ختم ہوگئی، اب نہ تو کوئی خواتین کو مس کالیں مار سکتا ہے نہ کوئی کسی کو دھمکی آمیز کال کر سکتا ہے، رہی سہی کسر کال ریکارڈنگ نے نکال دی، اب پہلے کی طرح موبائل فون کا کریمینل استعمال بھی ممکن نہیں رہا، یہ بات ان خواتین سے پوچھئے جنہوں نے دس پندرہ سال قبل فون لیا تھا کہ اس دور میں اور آج کے دور میں رانگ نمبرز سے کتنا سکون ہے، اس نظام کو بھی فول پروف ہوتے ہوئے کم و بیش دس سال ہی لگے تھے۔

پھر دہشت گردی کے دور میں کریمینل لوگوں کا کرائے کے مکانات اور ہوٹلوں میں ٹھہرنا یا چھپنا عام تھا، مگر اب پولیس نے وہاں بھی رئیل ٹائم رپورٹنگ کا نظام قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے تمام مشکوک یا مطلوبہ فہرست کے لوگ ٹریکنگ میں آتے رہتے ہیں۔

اسی طرح جعلی بینکنگ کو بھی بائیومیٹرک نے روک لگا دی ہے، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنڈنگ بھی ڈیجیٹل ٹریکنگ سے ختم ہوگئی ہے، اور کیمرے کی وجہ سے اب ٹریفک وائلیشن بھی نظرانداز نہیں ہوسکتی، لیکن یہ نظام چونکہ ابھی دو تین سال قبل شروع ہوا ہے اسلئے مکمل گروتھ میں پانچ سات سال لگیں گے، تاہم چالان جمع کرا کے اپنے کاغذات چھڑانے میں جو ایک دن ضائع ہوتا تھا وہ اب موقع پر ڈیجیٹل ٹکٹ پر جرمانہ ادا کرنے کی سہولت سے ختم ہوگیا ہے، اس چیز کی وجہ سے بھی اکثر لوگ رشوت دینا بہتر سمجھتے تھے جس کا کافی حد تک سدباب ہو گیا ہے۔

ان ساری تفصیلات سے یہ اعتماد پیدا کرنا مقصود تھا کہ ڈیجیٹل کنٹرول سے ان معاملات پر بخوبی قابو پایا جا سکتا ہے جو طاقتوروں کی بدمعاشی اور عام سماج کی کمزوریوں کے باعث عام حالات میں ممکن نہیں رہتا۔

کمزور سماج کے خلاف جرائم میں طاقتور لوگ سب سے پہلے پولیس پر اثرانداز ہوتے ہیں، پھر میڈیکل رپورٹ، گواہوں اور کرپٹ عدالتی عناصر پر اپنا سکہ جما کے انصاف کا راستہ محدود کر دیتے ہیں، اس کا واحد حل ڈیجیٹل ٹریکنگ کے نظام میں ہے۔

غنڈہ گردی اور استحصالی حالات پر قابو پانے، بالخصوص خواتین اور بچوں کے خلاف مکروہ جرائم اور اقدام قتل جیسی وارداتوں کو روکنے کیلئے ہر فرد کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام اپنانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ اگلے ایک عشرے کے اختتام تک یہ نظام بھی فول پروف ہو چکا ہو، اس نظام میں یا اس جیسے کسی اور نظام کو بنانے میں جتنی دیر کریں گے، سکون آور نتائج کیلئے اتنا ہی زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

کرنا یہ ہوگا کہ ہر بندے کے پاؤں کے انگوٹھے میں ایک ڈیجیٹل ٹریکنگ چِپ لگا دی جائے جس کا انکریپٹڈ ٹریکنگ ریکارڈ، جو تبدیل نہ ہو سکے، نادرا کے پاس ہو، اور جیسے بینکوں کے پاس اکاؤنٹ ہولڈر کے کوائف کنفرم کرنے کیلئے نادرا کا ویریفکیشن کیوسک دستیاب ہوتا ہے، ایسے ہی یہ کیوسک حساس اداروں، پولیس، عدالت اور وکلا کو بھی دستیاب ہو تاکہ کسی ایف۔آئی۔آر میں رپورٹڈ ظالم، مظلوم اور ملزم کی موومنٹس کا ریکارڈ دیکھ سکیں، باقی عوام کا ریکارڈ بیشک کسی پر ظاہر نہ ہو جب تک کہ ان کے خلاف کوئی پولیس رپورٹ نہ درج ہو۔

پھر جب کسی کیساتھ تشدد آمیز حرکت ہو، کسی پر قتل یا اقدام قتل کی اٹیمپٹ کی گئی ہو یا خواتین و بچوں کیساتھ زیادتی کا کیس ہو، یا کوئی بندہ غائب ہو جائے تو اس کی ٹریکنگ رپورٹ نکال لی جائے کہ اسوقت مظلوم کے قریب کونسی آئیڈی موجود تھی، یا وہ خود اسوقت کہاں ہے، اس طرح ان جھوٹے الزامات کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا جہاں ایک قتل میں پورا پورا خاندان صرف اسلئے ملوث کر دیا جاتا ہے کہ ملزمان کی قانونی پیروی کرنے والا کوئی آزاد نہ رہے، پولیس مقابلوں میں مرنے والوں کا بھی پتا چل جائے گا کہ ملزم لڑتا ہوا مرا ہے یا باندھ کے بٹھایا ہوا تھا، زیرتفتیش ہلاکتوں اور بغیر قانونی رپورٹ کے اٹھائے گئے اور مار کے پھینک دیئے گئے کا بھی حساب ہوجائے گا۔

اس صورت میں صرف مظلوم کی شکایت، میڈیکل رپورٹ اور ٹریکنگ ریکارڈ مجرم کو سزا دینے کیلئے کافی ہوگا، نہ گواہیاں، نہ جھوٹی گواہیاں، نہ گواہوں کو دھمکیاں، نہ کسی اور بک بک کا ذریعہ فعال رہے گا، بس سیدھا سیدھا دوٹوک ڈیجیٹل کام ہے جسے ورغلایا نہیں جا سکتا نہ ہی چھپایا جا سکے گا۔

چوری چکاری، ڈکیٹی اور سٹریٹ کرائمز، سب کیسز میں یہی کلیہ کام آئے گا اور آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں، اس نظام کو اگر آج سے شروع کر لیا جائے تو صرف ایک عشرے میں کریٹیکل کرائمز زیرو ہو سکتے ہیں، خصوصاً خواتین اور بچوں کیساتھ زیادتی کے معاملات کلی طور پر ختم کئے جا سکتے ہیں۔

سردست اس نظام میں صرف دو فلاز ہو سکتے ہیں کہ مجرم واردات سے پہلے اپنی چپ نکال دے یا جیمر کا استعمال کرے، تو ان دونوں کا سیدھا سا علاج ہے کہ جو چپ باڈی ہییٹ سے الگ ہو یا ٹریکنگ کے منظر سے غائب ہو اسے فوراً متعلقہ تھانے کو رپورٹ کر دیا جائے کہ پتا کرو اسے کیا مسئلہ ہے، اور اگر اسی وقفے میں اس کے خلاف کوئی کمپلینٹ داخل ہو تو اسے درست سمجھ کے کنویکشن کر دی جائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20