پائلٹس کے چند آخری جملے — لالہ صحرائی

0

تمام فضائی حادثات کا ڈیٹا فلائٹ سیفٹی اور کریش اپڈیٹس کیلئے مخصوص ویب سائٹس پر موجود ہوتا ہے، آج کراچی کے حادثے کی ابتدائی تفصیلات بھی تمام متعلقہ انٹرنیشنل اداروں میں اپڈیٹ ہو چکی ہیں، ایوی ایشن سیفٹی نیٹورک کی ویب پر درج ذیل رپورٹ موجود ہے:

The aircraft was cleared to land on runway 25L. At 14:35 the flight crew radioed that they were going around and requested another ILS approach to runway 25L. The controller instructed the flight to turn left heading 110 and climb to 3000 feet. Four minutes later the flight reported they had “lost engine(s)” and subsequently declared a Mayday. The controller cleared the flight to land with both runways (25L and 25R) available.
The aircraft crashed in a residential area named Model Colony, about 1360 m short of the threshold of runway 25L. The aircraft broke up and a large post-impact fire erupted.

اس رپورٹ میں لینڈنگ پرمیشن تک تو کسی فالٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پائلٹ مینویل لینڈنگ کیلئے تیار تھا لیکن جس رن۔وے پر اترنے کا کہا گیا اس کیلئے اس کی اپروچ درست نہیں تھی، جبھی اسے اپروچ کی ڈگری بتائی گئی، اس صورت میں اسے گھوم کے ہی آنا تھا لیکن گھوم کے آتے ہوئے اس کے انجن میں آگ لگنے کے باعث کنٹرول ختم ہو گیا اور حادثہ پیش آگیا۔

مقامی خبریں متضاد ہیں، ان کے مطابق ایک انجن فیل ہو چکا تھا اور وہیل نہیں کھل رہے تھے تو اس صورت میں بھی اسے گھوم کے ہی آنا تھا تاکہ وہیل کھولنے کیلئے ایک ٹرائی کرنے کا وقت مل جائے یا کریش لینڈنگ کے انتظام کیلئے وقت مل جائے، مگر بدقسمتی سے واپس آتے ہوئے انجن برسٹ ہو گئے۔

جب مینویل لینڈنگ کرنی ہو تو پائلٹ اپنی مرضی کی اپروچ بنا کے آتا ہے لیکن جب اسے آٹولینڈنگ کرانی ہو تو اسے بیمرز کی رینج میں آکے اپنا سسٹم آٹولینڈنگ انسٹرومنٹ کے حوالے کرنا پڑتا ہے، اس سسٹم کو اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پائلٹ جب رن وے کی سیدھ میں آتا ہے تو رن۔وے کی دائیں اور بائیں سائیڈ پر لگے دو لیزر بیم اسے ٹیک۔اوور کرلیتے ہیں، دائیں والا کہتا بائیں طرف جا اور بائیں والا کہتا ہے دائیں طرف جا، اس طرح مسلسل تکرار سے یہ دونوں بیمرز اسے رن۔وے کے سینٹر سے الائنمنٹ کرائے رکھتے ہیں۔

پھر اسی طرح کے دو بیمرز اوپر نیچے لگے ہوتے ہیں، اوپر والا جہاز کو نیچے لاتا جاتا ہے اور نیچے والا اسے اوپر دھکیلتا رہتا ہے لیکن نیچے والی کی طاقت تھوڑی تھوڑی کم ہوتی جاتی ہے اسلئے جہاز ٹیپر اپروچ کرتے ہوئے نیچے آتا جاتا ہے۔

جہاز کے وہیل نہ کھلے ہوں تو کریش لینڈنگ کا بہترین آپشن یہی ہے، اس صورت میں صرف گراؤنڈ ٹچ کا ایک جھٹکا اور باقی کچھ دور تک رگڑ لگ سکتی ہے لیکن اس کے نتائج سنبھالنے کیلئے وہاں ہر قسم کی ریسکیو ٹیمیں موجود ہوتی ہیں۔


دنیا بھر میں مسافر ائیرلائنز، کارگو ائیر لائنز، فوجی ائیر فورسز، ہوابازی سکھانے کے سرکاری و نجی ادارے، صنعتی ادارے، طبقۂ امراء جن کے پاس ایک یا ایک سے زائد چھوٹے بڑے فضائی طیارے ہیں ان سب کی کل رجسٹرڈ تعداد نو ہزار سے کچھ زائد ہے۔

جن اداروں میں طیاروں کی تعداد، نمبر آف فلائینگ آرز اور مسافروں کی تعداد زیادہ ہے ان میں حادثات اور شرح اموات بھی زیادہ ہے۔

حادثاتی اموات کے اعتبار سے روس پہلے نمبر ہے، جس کے فضائی حادثات میں لگ بھگ ساڑھے دس ہزار لوگ جان بحق ہوئے، چند دیگر بڑے ملکوں کا ڈیٹا بھی اسی قسم کا ہے تاہم دس پندرہ ممالک کے بعد یہ شرح اموات سینکڑوں میں آجاتی ہے۔

ابتدائی پچاس بڑی کمپنیوں کے بعد اگلی ایک ہزار کمپنیوں میں حادثاتی اموات کی شرح بیس افراد فی کمپنی کے قریب ہے اس کے بعد والی آٹھ ہزار کمپنیاں یا انفرادی رجسٹرڈ لوگ ایکسیڈنٹ فری تو شائد نہ ہوں لیکن ان میں حادثاتی اموات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔

فضائی حادثات کے چارٹ پر پاکستان کا چوبیسواں نمبر ہے، آج کا حادثہ ملا کے پی۔آئی۔اے کے حادثات کی کل تعداد اٹھارہ ہے اور ان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ سو ستر کے قریب ہوگئی ہے۔

پی۔آئی۔اے دنیا کی طویل ترین فضائی سفری گھنٹوں کا ریکارڈ رکھنے والی ایک بڑی کمپنی ہے جو سالانہ ستر ارب روپے کے قریب بزنس کرتی ہے، قومی ائرلائن کے پاس کل اڑتیس طیارے ہیں جو اندرون ملک بائیس اور بیرونی دنیا کے اٹھائیس ممالک میں اڑتیس انٹرنیشنل روٹس پر فلائیٹس کرتے ہیں۔

پی۔آئی۔اے کو پیش آنے والے حادثات کی شرح باقی ممالک سے کسی طور بھی زیادہ نہیں، ہر مسافر طیارہ بردار فضائی کمپنی کو اسی ریشو سے حادثات پیش آتے ہیں، ہمارے ارد گرد کے ممالک کو بھی کم و بیش اتنے اتنے حادثات پیش آچکے ہیں۔

قومی ائیرلائن کو پیش آنے والے حادثات کی تفصیل اس طرح سے ہے:

1۔ فروری 1956 ۔ گلگت سے اسلام آباد ۔ پائلٹ کی غلطی
2۔ جولائی 1957 ۔ چٹاگانگ سے ڈھاکہ ۔ سی۔فِٹ
3۔ مئی 1958 ۔ کراچی سے دہلی ۔ پائلٹ ایرر+سی۔فِٹ
4۔ مارچ 1965 ۔ پشاور سے چترال ۔ سی۔فٹ
5۔ مئی 1965 ۔ کراچی دہران مصر جنیوا لندن ۔ لو آلٹیٹیوڈ کی وجہ
6۔ اکتوبر 1965 ۔ راولپنڈی اسکردو ۔ وجہ نامعلوم
7۔ اگست 1970 ۔ راولپنڈی لاہور ۔ موسم کی خرابی
8۔ دسمبر 1970 ۔ شمشیرنگر ائیرپورٹ بنگہ دیش ۔ پائلٹ ایرر+ کنٹرول ٹیکنیکل
9۔ دسمبر 1972 ۔ گلگت راولپنڈی ۔ موسم + سی۔فٹ
10۔ نومبر 1979 ۔ جدہ کراچی ۔ جہاز کے اندر آگ لگنے سے
11۔ مارچ 1981 ۔ کراچی پشاور ۔ ہائی جیک کرکے کابل میں ڈسکارڈ ہوا
12۔ اکتوبر 1986 ۔ لاہور پشاور ۔ چھوٹے رن وے پر اترنے کی وجہ سے
13۔ اگست 1989 ۔ گلگت اسلام آباد ۔ منظر سے غائب ہو گیا، سراغ نہیں ملا
14۔ ستمبر 1992 ۔ کراچی کھٹمنڈو ۔ سی۔فٹ
15۔ مئی 1998 ۔ گوادر حیدرآباد ۔ ہائی جیک کرکے حیدرآباد میں ڈسکارڈ ہوا‌
16۔ جولائی 2006 ۔ ملتان لاہور ۔ انجن کی خرابی + پائلٹ کی غلطی
17۔ دسمبر 2016 ۔ چترال اسلام آباد ۔ سی۔فِٹ+زیرتفتیش

سی۔فٹ CFIT اس فلائٹ کو کہتے ہیں جو کسی وجہ سے پہاڑ سے ٹکرا جائے، زمین پر یا پانی میں گر جائے، یہ عموماً پائلٹ کی وہ لاشعوری غلطی ہوتی ہے جس کا ادراک بروقت نہیں ہو پاتا یعنی کم حد نگاہ، ائرپاکٹ کا مسئلہ یا روٹ ڈائریکشن میں کمی بیشی یا کسی ایسی چیز سے جو بظاہر نارمل دکھ رہی ہو لیکن غلط ہو رہی ہو، جس کی وجہ سے ہائیٹ یا ڈائریکشن مینٹین نہ ہو سکے اور جہاز کسی پہاڑی سے ٹکرا جائے یا نیچے گر جائے اسے سی۔فٹ کہتے ہیں، یہ مخفف ہے، کنٹرولڈ فلائٹ ان ٹیرئین یعنی بظاہر جہاز پائلٹ کے کنٹرول میں ہے لیکن کسی آبجیکٹ سے ٹکرا گیا، اگر یہی کام کسی فنی خرابی کی وجہ سے ہو تو اسے Ucift یا ان۔کنٹرولڈ فلائٹ ان ٹیرئین کہتے ہیں۔

سی۔فٹ جیسی غلطی کی سمجھ عموماً اس وقت آتی ہے جب ٹکرانے والے آبجیکٹ سے فاصلہ اتنا کم رہ جائے کہ جہاز کو اوپر اٹھانا یا موڑنا مشکل ہو جائے، مثال کے طور پر جہاز کی اسپیڈ چھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے یعنی دس کلومیٹر فی منٹ اور زمین سے انتہائی اونچائی چھتیس ہزار فٹ یعنی دس کلومیٹر۔

اگر آلٹی میٹر پر ایک منٹ دھیان نہ رہے اور کم حدنگاہ کی وجہ سے پتا نہ چل سکے کہ نوز۔ڈاؤن ہے تو صرف ایک منٹ میں طیارہ زمین سے ٹکرا جائے گا، اگر تیس سیکنڈ بعد زرا نیچے آکے حد نظر کھل بھی جائے اور طیارہ زمین کی طرف جاتا دکھائی دے تو پھر اسے اگلے تیس سیکنڈ میں اوپر نہیں اٹھا سکتے۔

اسی طرح دھند، موسم کی خرابی، ہوائی گردوغبار، بادلوں کے پیکٹس یا کسی بھی وجہ سے پائلٹ سمجھ نہیں پاتا کہ دس کلومیٹر آگے تیس ہزار فٹ بلند پہاڑی ہے جس پر سے گزرنے کیلئے میرا آلٹیٹیوڈ چھتیس ہزار ہونا چاہئے تو اسے مینٹین کرنے میں صرف تیس سیکنڈ کی دیر ٹکر کا باعث بن سکتی ہے۔

دنیا میں اب تک نو ہزار افراد سی۔فٹ حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں، یہ تمام سی۔فٹ عموماً پہاڑیوں سے ٹکرانے پر منتج ہوئے، پچھلے سولہ سال میں دنیا بھر میں لگ بھگ ستائیس سو فضائی حادثات ہو چکے ہیں جن میں تقریباً انیس ہزار افراد جاں بحق ہوئے ہیں، سالانہ شرح فضائی حادثات ایک سو بیس اور شرح اموات بارہ سو افراد سالانہ ہے، معلوم ڈیٹا کے مطابق اب تک کے تمام فضائی حادثات میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

رواں سال میں اب تک دنیا میں ساٹھ کے قریب چھوٹ بڑے فضائی حادثے ہو چکے ہیں جن میں ائیر کینیڈا بھی شامل ہے۔

فضائی حادثات جن وجوہات کی بنیاد پر پیش آتے ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

55% حادثات پائلٹس کی غلطی سے
20% حادثات ٹیکنیکل فالٹس سے
07% حادثات موسم کی خرابی سے
08% سبوتاژ سے اور
10%حادثات متفرق وجوہات کی بنا پر پیش آتے ہیں۔

ان غلطیوں کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہے:

پائلٹ کی غلطیوں میں:
سی۔فٹ، نچلی پرواز کرنا، الٹیٹیوڈ مینٹین نہ کرنا، ڈائریکشن میں غلطی کرنا، لینڈنگ اور بینکنگ میں غلطی کرنا مثلاً فائنل اپروچ میں جلدی کرنا اور رن وے مس کر جانا، لینڈنگ میں دیر کے باعث رن وے کے شروع کی بجائے درمیان میں اترجانا، مقررہ حد سے پہلے طیارہ نیچے لے آنا، لینڈنگ اسپیڈ زیادہ ہونا، غلط رن وے پر اتر جانا، لینڈنگ یا ٹیک۔آف نیویگیشن فالو کرنے میں غلطی کرنا، فضا میں دونوں پائلٹس کی غلطی سے دو طیاروں کا ٹکرا جانا شامل ہے۔

ٹیکنیکل غلطیوں میں:
انجن کا فیل ہونا، آلٹی میٹر یا دیگر ایکوپمنٹ کا فیل ہونا، باڈی، ونگز یا فلیپس میں کریک آنا یا کسی چیز کا ٹوٹ جانا، مینٹیننس کا غیر معیاری ہونا۔

موسم کی خرابی میں:
کم حد نگاہ، بھاری بارش، آسمانی بجلی، تیز ہوا کے جھکھڑ، ہوائی بھگولے یا ایئرپاکٹس ان میں جہاز بیس فٹ اوپر نیچے اچھلتا رہتا ہے، اس میں برفباری اور ہوائی طوفان بھی شامل ہیں۔

سبوتاژ میں:
ہائی جیکنگ، گولی یا میزائل سے گرانا یا جہاز کے اندر دھماکہ خیز مواد کا پھٹنا۔

متفرقات میں:
ائیر ٹریفک کنٹرول کی غلطی، کنٹرول کی غلط کمیونیکیشن، گراونڈ کریو کی غلط نیویگیشن، کارگو کا وزن کسی ایک طرف زیادہ ہونا، کیپیسٹی سے زیادہ وزن لوڈ کرنا، غیر معیاری فیول، سفر کے حساب سے کم فیول، رن وے کی پرابلم، رن وے پر رکاوٹ کھڑی ہونا، پرندے کا ٹکرا جانا یا کسی دوسرے پائلٹ کی غلطی سے اس کا جہاز آ کے ٹکرانا اور جہاز میں کسی وجہ سے آگ کا بھڑک اٹھنا وغیرہ شامل ہیں۔

آخری سفر کا احساس:
موسم کی خرابی یا ائیرپاکٹ ٹربیولینس میں پھنسے ہوئے طیارے کے مسافر شائد یہ محسوس کرتے ہوں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے لیکن عام طور پر مسافروں کو حادثے سے پہلے کسی خطرے کا احساس نہیں ہوتا تاوقت یہ کہ پائلٹ انہیں مخاطب کرکے مشکل وقت کی اطلاع دے اور دعا کیلئے درخواست کرے۔

آخری وقت کا کرب:
جب مسافروں کو پتا چلے کہ ان کی زندگی اب چند لمحوں کی مہمان ہے اس وقت ان کی جذباتی کیفیت کیا ہوگی اس بات کا اندازہ ان جملوں سے لگا لیجئے جو مختلف فضائی حادثات سے پہلے عین آخری وقت میں پائلٹس نے نشر کئے یا ان کے جواب میں اے۔ٹی۔سی نے کہے، یہ جملے بلیک بوکس۔ز میں ریکارڈ شدہ گفت و شنید سے لئے گئے ہیں۔

جولائی 8, 1962، اٹلانٹا ائیر
تمہاری بات سمجھ نہیں سکا پلیز دوبارہ بتاؤ۔

مئی 7, 1964, پیسیفک ائیر لائن
اسکپرز شاٹ، ہمیں شاٹ مارا گیا ہے، میں کوشش کر رہا تھا لیکن…

نومبر 8, 1965، امریکن ائیر لائن
کیا تم نے رن وے اوکے کر دیا ہے، آہ… صاف کہوں، ہم نے وہاں خود کو آئی۔ایل۔ایس کے حوالے کرنا ہے۔
(انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم)

تھائی انٹرنیشنل
میرا تمہارا ریڈار کا رابطہ کٹ گیا ہے۔

ٹرانس ورلڈ ائیرلائین
ناممکن ہے… رن وے سے بہت دور ہوں… یقین ہے کہ… اب کچھ نہیں ہے۔

پیڈماؤنٹ ائیرلائن
اب دیکھو بس… جسٹ واچ اٹ۔

آریانہ افغان ائیرلائن
ہم تو مارے گئے… وی آر فنشڈ۔

ایویئون ائیرویز
فور ٹو ڈیلٹا… گاٹ دی سٹروب لائیٹ ان سائٹ
فلیش لائٹ نظر تو آرہی ہے…

ائیر کینیڈا
مسٹر پیٹ… سوری۔

یونائیٹڈ ائیر لائنز
خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے اور بجتی رہے گی آخر تک۔
ساونڈ آف اسٹک۔شیکر بیگنز اینڈ کنٹینیوز ٹو دی اینڈ آف ریکارڈنگ۔

ایسٹرن ائرلائنز
ہیہہ… وٹس ہیپننگ ہیئر…

پان۔امریکن
لو وہ وقت آگیا… دیکھو اسے… خداغارت کرے اسے وہ حرامزادہ آرہا ہے، دفع دور۔

سودرن ائیرویز
ہم یہاں دفن ہونے جا رہے ہیں۔
وی آر گوئینگ ٹو ڈو اٹ… رائٹ ہیئر…

پیسیفک ویسٹرن ائیر لائنز
ایمرجنسی ہوگئی، کریش ہوگیا، رن وے کے کنارے پہ جل رہے ہیں۔

پیسیفک ویسٹرن ائیر لائنز
مے آئی لو یو۔

الیٹالیا ائیر
اس نے ہمیں غلط اشارہ دیا، ہم سمجھے ہمیں بائیں جانا ہے۔

یونائیٹڈ ائیرلائنز
مے۔ڈے… ہم تو گئے… انجن جل رہے ہیں… ہم نیچے جا رہے ہیں۔

امیریکن ائیر لائنز
دیکھو انجن نے آگ پکڑ لی، فائر ٹینڈرز بھیجو فٹافٹ۔

ویسٹرن ائیر لائنز
چارلی… چارلی… گیٹ۔اٹ۔اپ۔

ائیر نیوزی لینڈ
اصل میں… یہ علامات مجھے تو اچھی نہیں لگ رہیں… تمہیں لگ رہی ہیں؟

سعودی عریبین ائیر لائن
نو نیڈ فار دیٹ، وی آر اوکے، نوپرابلم، نوپرابلم۔

ائیر فلوریڈا
لیری… وی آر گوئینگ ڈاؤن… لیری… آئی نو اٹ۔

کورئین ائر لائین
وٹس ہیپنڈ…؟

ڈیلٹا ائیر لائن
پش اٹ اپ…

جاپان ائیرلائنز
آل ہائیڈرالکس فیئلڈ۔

ڈبلیو۔این۔بی۔سی۔نیوز کوپٹر
ہِٹ دی واٹر… ہِٹ دی واٹر… ہِٹ دی واٹر۔

ویپس ائیر
کیا ہے؟ وہ کیا ہے؟ کوئی پہاڑی نہیں ہے؟

ساوتھ افریکن ائیر
دھواں ہی دھواں ہے اس لئے نیچے جانا پڑ رہا ہے۔

یونائیٹد ائیرلائنز
پتا نہیں کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آرہی۔

ائیرفرانس
اگر کھمبے نظر آگئے تو فکر کی کوئی بات نہیں۔

یونائیٹد ائیرلائنز
اب خدا ہی بچا سکتا ہے۔

اٹلانٹک ائیرلائینز
ایمی… آئی لو یو۔

انڈونیشیا ائیرلائن
آہ… اللہ اکبر۔

چائنہ ائیرلائینز
اوہ مائی گاڈ… اوہ مائی گاڈ۔

ایجپٹ ائیر
ریلائے آن گاڈ… خدا پر بھروسہ رکھو۔

ایرومیکسیکو
اوووہ… یہ نہیں ہو سکتا، یہ نہیں ہو سکتا۔

ڈیلٹا ائیرلائنز
انجن فیل ہو گئے ہیں، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

یونائیٹد ائیرلائنز
جب تک تم آؤگے ہم مرچکے ہوں گے۔

الاسکا ائیرلائنز
آہ… ہیئر وی گو۔

پولش ائیر لائنز
گڈنائیٹ… گڈبائے… وی پیرش۔

سرینم ائیرلائینز
دیٹس اٹ… آئی ایم ڈیڈ۔

حادثے کے بعد کے دکھ صرف ان کے دکھ ہیں جن کے پیارے بچھڑ جاتے ہیں اور اس بات کو شائد ہم بھی کسی حد تک محسوس کر سکتے ہیں لیکن اس احساس کا بہترین نتیجہ انتظامی کمزوریوں پر مکمل قابو پانے سے نکلتا ہے، ورنہ روایتی نوحہ گری کا کوئی فائدہ نہیں۔

اوپر میں نے جس ویب سائٹ سے رپورٹ لی ہے اس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا یہ جہاز 14۔سال پرانا ہے، گو یہ بہت زیادہ پرانا نہیں مگر ہمارے اداروں کی مالی حالت، ان میں رائج نان۔پروفیشنلزم اور جگاڑ کی پالیسی کے پیش نظر یہ برملا کہا جا سکتا ہے کہ اس جہاز کے بیشتر پارٹس وقت مقررہ پر تبدیل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کی مینٹیننس بھی عالمی ایس۔او۔پیز کے مطابق قطعی نہیں ہوئی ہوگی۔

عالمی روٹس پر غیرمعیاری طیاروں کو بھاری جرمانہ بھگتنا پڑتا ہے لیکن مقامی روٹس پر پوچھ گچھ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اسلئے بہتر یہ ہے کہ پی۔آئی۔اے کے لوکل روٹس پر چلنے والے تمام طیاروں کی فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن یا ایاٹا سے منظور شدہ کسی بھی عالمی ٹیکنیکل کمپنی سے ہر سال ڈیپ چیکنگ کروائی جائے، یہ کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے، ورنہ آن۔ایوریج ہر پانچ سال بعد ایک حادثہ بھگتنا پڑے گا، جیسا کہ اب تک کل اٹھارہ میں سے چودہ حادثات لوکل روٹس پر ہو گزرے ہیں، صرف چار حادثے انٹرنیشنل روٹس پر ہوئے، وہ بھی ماضی بعید کی بات ہے، ان سب کی تفصیل اوپر موجود ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20