کیا انسانیت “ذہانت کی انتہا” تک پہنچ چکی ہے؟ — David Robson ترجمہ: وحید مراد

0

مصنف

(ڈیوڈ رابنسن، بی بی فیوچر کےسنئیر جرنلسٹ اور فری لانس رائیٹر ہیں، وہ طب، نفسیات، نیورو سائنس پر برطانیہ اور امریکہ کے مشہور اخبارات اور میگزینز میں لکھتے ہیں اور اس آرٹیکل کا کچھ مواد انکی مشہور کتاب

سے لیا گیا ہے)۔

Has humanity reached ‘peak intelligence’? — By David Robson
(کیا ہمارا IQ ہمیشہ کیلئے اضافے کی طرف گامزن ہو چکا ہے یا ترقی معکوس کی جانب رواں دواں ہے، انسانی ذہانت کے ماضی، حال اور مستقل کے بارے میں تفصیلات جانئے اس مضمون میں)۔ ترجمہ و تلخیص: وحید مراد


آپ نے شاید اس بات پر غور نہیں کیا ہوگا کہ ہم “فکر کے سنہری دور” Intellectual golden age میں رہ رہے ہیں۔ انٹیلی جنس ٹسٹ کی ایجاد سو سال قبل ہوئی تھی اور اس وقت سے لیکر آج تک مسلسل ہمارا آئی کیو IQ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ اور اس ٹسٹ کے مطابق آج کے دور کا ایک معمولی آدمی سوسال پہلے کے ایک انتہائی ذہین آدمی سے بھی زیادہ با صلاحیت تصور کیا جارہا ہے۔ آئی کیو کے اس بڑھتے ہوئے رجحان اور صورتحال کو Flynn Effect کہا جاتا ہے۔ مگر ان فخریہ معلومات سے انسان ابھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو پایا تھا اور اس سے قبل کہ اس لطف و فخر کی سرشاری میں جذب کی کیفیت طاری ہوتی یہ شواہد آنا شروع ہو گئے کہ اب ذہانت کا یہ بڑھتا ہوا رجحان سست روی کا شکار ہو رہا ہے، پھر یہ شواہد بھی آگئے کہ اس میں ترقی معکوس کی جانب سفر شروع ہو گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ فکر کی بلندی کی جس چوٹی پر انسان کو پہنچنا تھا اسے وہ کچھ عرصہ قبل ہی بے خیالی میں چھو چکا ہے اور اب جب ہوش و حواس سنبھلے ہیں تو پتہ چلا ہے کہ فکر کا یہ گراف پستی کی جانب گامزن ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی انسانیت، فکر کے عالی مقام تک پہنچ سکتی ہے؟ اور اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو پھر اس عالی مقام پر پہنچنے کے بعد زوال کی جانب سفر کے کیا معنی ہیں؟ اس طرح کے سوالات کے جوابات کھوجنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں لہذا اس کے جواب کیلئے ایک بار پھر ہمیں اسی قبیل کے لوگوں (سائنسدانوں) کے پاس جانا پڑے گا جس طرح کے لوگوں نے ذہانت کے ٹسٹ ایجاد کئے۔ ان سائنسدانوں کے مطابق، Scans of Fossil Skulls سے پتہ چلتا ہے کہ وہ وقت کہ جب ہمارے آبائو اجداد نے سیدھے کھڑے ہو کر چلنا شروع کیا تھا، اس سے تیس لاکھ سال پہلے پائے جانے والے بندر bipedal apes کا دماغ تقریباً 400 مکعب سینٹی میٹر تھا جو کہ آج کے انسان کے دماغ کا تقریباً ایک تہائی بنتا ہے۔ جدید انسان کو اپنے بڑے دماغ کیلئے ایک بھاری قیمت چکانی پڑی ہے کیونکہ اسکا اکیلا دماغ ہی اسکے جسم کی بیس فیصد توانائی کھا جا تا ہے۔ اس لئے اس بڑے دماغ سے اگر خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہوسکیں تو پھر یہ کس کام کا؟ جدید انسان کے دماغ کا سائز بڑھ جانے کی کئی ممکنہ وجوہات ہیں لیکن ایک اہم تھیوری کے مطابق اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جب انسان نے مل جل کر رہنا شروع کیا تو باہمی معاملات اور فیصلوں کیلئے جس قسم کی سوچ بچار کی ضرورت تھی اسکی ضروریات صرف ایک بڑا دماغ ہی پورا کر سکتا تھا۔ قدیم انسان نے جب بڑے بڑے اجتماعات کی شکل میں رہنا شروع کیا جو کہ شاید جنگلی جانوروں سے تحفظ کی خاطر شروع ہوا تھا لیکن جب انسان نے درختوں پر رہنے کی بجائے زمین پر رہنا شروع کیا تو تحفظ کے سنگین مسائل پیدا ہونے لگے اور ان سے نمٹنے کیلئے انسان نے مل جل رہنا، اپنے وسائل کا اشتراک کرنا، مشترکہ طور پر بچوں کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ جیسے کاموں کا آغاز کیا۔

The Intelligence Trap' Review: How Smart Is Too Smart? - WSJآج کل ہم لوگ اپنے سماجی حلقوں کے حوالے سے پہنچانے جاتے ہیں اس لئےہمارے لئے دوسرے حلقے کے لوگوں کے ساتھ گزارا کرنا قدرے مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ ہر شخص کی شخصیت، اسکی پسند و نا پسند وغیرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور پہلے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گپ شپ کے دوران کس بات کو وہ اچھا سمجھے گا اور کس بات کا برا منا لے گا؟ لیکن قدیم دور میں جب لوگ مل کر شکار وغیرہ کرتے تھے یا اسی طرح کی دیگر سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے تو ان کی سرگرمیاں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ منسلک اورایک دوسرے پر زیادہ منحصر ہوتی تھیں اس لئے انکو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی درکار ہوتی تھی۔ آج کے انسان کیلئے سماجی سمجھ بوجھ اور معاشرتی فہم کی کمی محض شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے لیکن ہمارے آبائو اجداد کیلئے یہ کمی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ قیاس یہ ہے کہ ان فوری قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے علاوہ، بڑے سماجی گروپوں نے اپنے ممبران کو ضرورت کی مختلف چیزیں ایجاد کرنے کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرنے کی اجازت دی ہوگی جس کے نتیجے میں نئی نئی تکنیک، آلات اور مہارتیں ایجاد ہوئی اور ثقافتی ترقی ہوئی۔ اس عمل کیلئے ذہانت کی ترقی اور سیکھنے، سکھانے کے عمل میں بہتری کی ضرورت تھی اور یہ سارا عمل انسان کے دماغ میں بڑھوتری کا باعث بنا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج سے چار لاکھ سال پہلے کےانسان کا دماغ 1200 مکعب سینٹی میٹر تک جا پہنچا تھا جو جدید انسان کے دماغ سے ذرا سا چھوٹا تھا، آج کے جدید انسان کا دماغ 1300 مکعب سینٹی میٹر ہے۔ کچھ غاروں سے ملنے والے آرٹ کے نمونوں سے شواہد ملتے ہیں کہ ستر ہزار سال پہلے کے انسان بھی کائنات اور اپنی ابتدا کے بارے میں سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں بہت کم ماہرین کا استدلال یہ ہے کہ آئی کیو IQ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں ، بہت کم عرصے میں ہونے والے جینیاتی ارتقاء کا نتیجہ ہیں۔

بالآخر، سو سال قبل سائنسدانوں نے پہلی بار کسی بھی انسان کی ذہانت کو ناپنے کا پیمانہ Intelligence Quotient IQایجاد کیا۔ انکی کامیابی کی بنیاد اس حقیقت کے اعتراف پر ہےکہ انسان کی بہت سی علمی صلاحیتیں Cognitive abilities باہم منسلک ہوتی ہیں۔ جیسےآپ کی، شکل و حجم کے تصرف اور پرکھ کی اہلیت (مکانیت، مقامی استدلال Spatial Reasoning and pattern recognition)، کا تعلق آپ کی ریاضی کی صلاحیت اور الفاظ سے متعلق صلاحیت Verbal Power وغیرہ سے ہوتا ہے۔ اسی وجہ سےیہ خیال کیا جاتا ہے کہ آئی کیو IQ، عام ذہانت general intelligence کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک قسم کی بنیادی دماغی طاقت ہے۔ اگرچہ اس آئی کیو IQ ٹسٹ پر تنقید بھی کی جاتی ہے لیکن تحقیق کا ایک وسیع ادارہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس ٹسٹ کے اسکور بہت سارے امور میں آپ کی کارکردگی کے حوالے سے کارآمد اشارے ثابت کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے بارے میں پیشنگوئی کرنے کے معاملے میں، اور یہی وجہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ ٹسٹ اسکولوں، کالجوں میں استعمال کے حوالے سے ہی بنائے گئے تھے۔ لیکن یہ ٹسٹ یہ پیشنگوئی بھی کر سکتے ہیں کہ کسی کام کی جگہ پر، آپ کوئی مہارت کتنا جلدی سیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ کوئی کامل اور حتمی طریقہ کار نہیں ہے کیونکہ آپ کی کامیابی اور صلاحیت پر اثر انداز ہونے والے بہت سارے عوامل ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود یہ ٹسٹ، پیچیدہ معلومات اور مہارتوں کو سیکھنے کے حوالے سے، امیدواران کے درمیان پائے جانے والی صلاحیتوں کے فرق کو واضح طور پر بتا دیتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ آئی کیوIQ میں اضافے کا آغاز بیسویں صدی کےاوائل میں شروع ہوا لیکن ماہرین نفسیات نے اسکا نوٹس لینا، حال ہی میں شروع کیا ہے۔ آئی کیو IQ کا اسکور، معیاری Standardized ہوتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا ٹسٹ لینے کے بعد انکے کل اسکور کو 100 کی اوسط سے مطابقت دی جاتی ہے تاکہ اسکور کی اوسط ہمیشہ 100 میں سے ہی ناپی جا سکے۔ اسکا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف قسم کے ٹسٹ دینے والوں کو ایک ہی معیار پر ناپا جا سکے۔ جب ایک محقق جیمز فلن James Flynn نے گزشتہ صدی کے دوران، ان اسکورز پر نگاہ ڈالی تو اس نے ان میں مستقل طور پر اضافے کا ایک رجحان دیکھا جو ایک صدی میں تقریباً تین پوائنٹس کے مساوی ہے، اور بعد ازاں کچھ ممالک میں یہ رجحان مزید بڑھ کر دس سالوں میں تین پوائنٹس تک دیکھا گیا، اور اس وقت کچھ ممالک میں یہ تیس پوائنٹس کے اضافے تک بھی دیکھا گیا ہے۔ آج بھی فلن کا رجحان Flynn effect موضوع بحث ہے اور اسکی بنیاد، جینیاتی تبدیلی genetic shift کی بجائے متعدد ماحولیاتی عوامل multiple environmental factors بتائی جاتی ہے۔ شاید اس ٹسٹ کا بہترین موازنہ ہمارے قد میں ہونے والی تبدیلی سے متعلق ہے مثال کے طور پر آج ہمارا اوسط قد، انیسویں صدی کےانسان کےاوسط قد سے 11 سینٹی میڑ(5 انچ) بڑا ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے جینز میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے بلکہ یہ اس بات کی نشاہدہی کرتا ہے کہ مجموعی طور پر ہماری صحت میں اضافہ ہوا ہے۔ جسکی تفصیل میں یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ اب ہماری علاج کی سہولتیں بہتر ہوئی ہیں، بچپن میں متعددی بیماریوں کے پھیلائو میں کمی واقع ہوئی ہے، بھرپور غذائیت والی غذائیں میسر ہیں اور یہ سب عوامل ہمارے قد اور دماغ کی کارکردگی کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شاید دماغ میں بڑھوتری کی ایک وجہ ہمارے استعمال کردہ پٹرول میں lead کی مقدار کا کنٹرول کر لیا جانا ہے۔ یعنی جس قدر ہم صاف پٹرول استعمال کر رہے ہیں اسی قدر ہمارے دماغ کی کارکردگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ معلومات تصویر کا مکمل رخ نہیں دکھاتیں کیونکہ ہمارے معاشروں کے فکری ماحول میں بھی اہم اور بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو بچے کی کم عمری میں ہی تجریدی سوچ اور استدلال کی تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل اسکولوں میں بچوں کو اس طرح پڑھایا جاتا ہے کہ وہ ہر چیز کو رٹنے کی بجائے سوچ بچار کا استعمال زیادہ کریں اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف ہماری بڑھتی ہوئی رغبت کے رحجان نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران، ایک معمولی سا کام کرنے کیلئے بھی، ایک شخص کا جس قسم کے مختلف سوفٹ وئیرز، اپلیکیشنز، علامات، اور جوڑ توڑ سے واسطہ پڑتا ہے وہ اس کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔

فلائن اثر Flynn effect کی کوئی بھی وجہ ہو لیکن اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ ہم پہلے ہی آئی کیو IQ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے اختتام تک پہنچ چکے ہیں مثال کے طور پر اگر آپ فن لینڈ، ناروے اور ڈنمارک کے ممالک پر نگاہ ڈالیں تو ایسا لگتا ہےکہ یہ اہم موڑ، نوے کی دہائی میں عبور کیا جا چکا ہے، جسکے بعد سے آئی کیو IQ کی اوسط میں ہر سال مسلسل 0.2 پوائنٹس کی کمی واقع ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے پہنچتے 7 پوائنٹس کی نمایاں کمی پر منتج ہوگا۔ حال ہی میں ان رونما ہونے والے رجحانات کی وضاحت فلائن اثر Flynn effect سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اسکی کچھ امکانی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ اس دہائی میں پڑھائی کی طر ف رغبت میں پچھلی کچھ دہائیوں کی نسبت کمی واقع ہوئی ہے یا کم ازکم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم کی وجہ سے جو مہارتیں پیدا ہوتی ہیں ان میں کسی قدر کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے مثال کے طور پر حال ہی میں آئی کیو IQ ٹسٹوں میں ریاضی میں کمی کے رجحان کو دیکھا گیا ہے اور اوسلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اسکی وجہ یہ ہے بچے معمولی کیلوکیولیشن کیلئے بھی کیلکولیٹر کا استعمال بہت زیادہ کر رہے ہیں اور نتیجتاً انکی زبانی دماغی مہارت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

اب یہ بات تو واضح ہو چکی ہےکہ ہماری ثقافت اور ہمارا تمدن، پر اسرار طریقوں سے ہمارے دماغ کی ایک خاص طرز پر تشکیل کر سکتے ہیں۔ سائنسدان ان رجحانات کی وجوہات تلاش کرتے رہتے ہیں اور آئے روز نئے نئے انکشافات بھی کرتے رہتے ہیں لیکن یہ سوال قابل غور ہے کہ آئی کیو IQ میں آنے والی تبدیلیوں کا معاشرے پر اثرات کے حوالے سے کیا مطلب لیا جائے؟ کیا فلن اثر Flynn effect کو فروغ دینے سے ہمیں کوئی فائدہ ہوا جس کی ہم امید لگائے بیٹھے تھے یا نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ اسی سلسلے میں جرنل آف انٹیلی جنس کے ایک خاص شمارے نے حال ہی میں یہ مخصوص سوال اٹھایا اور اسکے ساتھ اداریہ میں، کارنیل یونیورسٹی کے ایک ماہر نفسیات رابرٹ اسٹرنبرگ نے لکھا “آج کے لوگ پیچیدہ سیلولر فون اور دیگر تکنیکی ایجادات کو استعمال کرنے میں پچھلی صدی کے لوگوں سے بہت آگے ہیں لیکن انکی معاشرتی حیثیت، طرز عمل اور سماجی کردار انکے مقابلے میں بالکل متاثر کن نہیں ہے اگر چہ ان کا آئی کیو IQ کا اشاریہ پچھلی صدی کے لوگوں کی نسبت 30 پوائنس زیادہ دکھا رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ آئی کیو کے ان بڑھتے ہوئے اشاریوں کا ہم کیا کریں کہ ان کے اضافے کے باوجود، اعلیٰ عقل رکھنے والے لوگ دنیا میں پیدا ہونے کسی بھی بڑے مسئلے پر قابو نہیں پاسکے، آمدنیوں میں مسلسل بڑھنے والی عدم مساوات، بڑے پیمانے پر غربت، افلاس، فضائی آلودگی، قدرتی ماحول کی تباہی، تشدد، نشے کی وجہ سےاموات، غرض کسی بھی بڑے مسئلے پر قابو پانے کی کوئی صورت نظرنہیں آرہی ہے۔۔۔۔۔ (اور حال میں کرونا وائرس کی وبا، جس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا ہے، اس سےلاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں، ہزاروں لقمہ اجل بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جوں کا توں ہے، اس کے رکنے، یا کنٹرول ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، اعلیٰ درجے کا آئی کیو IQ رکھنے والے دنیا بھر کے ڈاکٹر اور محقق سر جوڑ کر بیٹھے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ویکسین مارکیٹ میں نہیں لاسکے جسے دنیا کا عام آدمی خرید سکے اور استعمال کرکے اس وبا سے نجات پا سکے، دنیا کے تمام ممالک کی معیشتیں ڈانواڈول ہیں، بے روزگاری کی شرح ا س قدر بڑھ چکی ہے کہ اس سے قبل تاریخ میں ایسی بیروزگاری کبھی دیکھی ہی نہیں گئی، دنیا بھر کے لوگ کئی مہینوں سے گھروں میں محصور ہیں، لوگوں کے پاس بنیادی ضرورت کا سامان ختم ہو چکا ہے، بازار میں ضرورت کی چیزیں، حتیٰ کہ ادویات تک کی قلت ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ دماغ اور آئی کیو IQ رکھنے والوں کے پاس ابھی تک ان مسائل سے نبٹنے کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ مترجم)

ہو سکتا ہے اسٹرنبرگ تھوڑا زیادہ مایوسی کااظہار کر رہا ہو اور اسکی نظر اس پر نہ ہو کہ جدید میڈیکل سائنس اور ادویات نے شرح اموات کو کم کیا ہے، اگر چہ غربت کا خاتمہ نہیں ہو سکا لیکن عالمی سطح پر اس میں کمی ضرور ہوئی ہے، اس نے سائنسی تنکیکی ترقیوں کا ذکر نہیں کیا جن کے بے تحاشہ فوائد حاصل ہوئے ہیں اور یہ یقیناً ذہین افرادی قوت کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ تاہم وہ یہ سوال اٹھانے میں تنہا نہیں ہےکہ فلن اثر Flynn effect ہماری دانشورانہ صلاحیت میں واقعتاً کسی بہتری کا کردار ادا کرتا ہے یا نہیں؟ خود جیمز فلن نے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ شاید کچھ خاص استدلال کی مہارت تک ہی محدود ہے۔ جس طرح کچھ مخصوص قسم کی جسمانی مشقیں اور ورزشیں، کچھ مخصوص پٹھوں کی تشکیل کا کام تو کر سکتی ہیں لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مجموعی طور پر فٹنس میں کچھ زیادہ اضافہ کر سکتی ہیں بالکل اسی طرح ہم کچھ مخصوص تجریدی اور دماغی مشقوں سے کچھ علمی مہارتیں تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس سے تمام علمی مہارتوں کو یکساں طور پر بہتر بنایا جا سکے۔ اور کچھ وہ علمی مہارتیں جن پر اس وقت کم توجہ دی جارہی ہے شاید مستقبل میں وہ دنیا کی بہتری کیلئے زیادہ اہم ثابت ہوں۔ مثلاً تخلیقی صلاحیتوں کو لے لیں، جب اسٹرنبرگ جیسے محققین تخلیقی صلاحیتوں پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف فنکارانہ اظہار کی بات نہیں کرتے بلکہ اس تخلیقی صلاحیت کے پیچھے کارفرما اصل روح اور سوچ کی بات کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپکا آئی کیو IQ کا اشاریہ کتنا بلند ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کسی بڑے مسئلے کا حل کتنی جلدی اور آسانی سے بتا سکتے ہیں، ہر معاملے میں آپکی متبادل سوچ Counterfactual thinking کتنی بڑی ہے، اور بڑے سے بڑے فرضی گورکھ دھندوں hypothetical scenarios میں سے کتنا جلدی آپ باہر آ سکتے ہیں .ذہانت کو یقینی طور پر ہماری تخلیقی صلاحیت بڑھانے میں ہماری مدد کرنی چاہیے لیکن بد قسمتی سےآئی کیو لیول بڑھنے کے کے ساتھ ساتھ ہم اپنی انفرادی تخلیقی سوچ اور صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہوا نہیں دیکھ پا رہے ہیں، فلن اثر Flynn effect جو بھی تیر مارنا چاہے مارتا رہے لیکن اس نے ہم میں سے کسی کو اصل اور نئے طریقوں سے سوچنے کی ترغیب بہرحال نہیں دی۔ پھر یہاں ایک اہم سوال عقلیت Rationality کا بھی ہے کہ آپ ثبوتوں کے پلڑے میں وزن ڈال کر، غیر متعلقہ معلومات کو سائیڈ پر کرکے، کم وقت میں، زیادہ بہتر فیصلے کیسے کر تے ہیں؟ عام طور پر یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ آپ جتنے ذہین ہونگے اتنے عقلمند Rationalist بھی ہونگے لیکن فی الواقعی ایسا نہیں ہوتا۔ اگر چہ آئی کیو IQ کے بڑھتے ہوئے پوائنٹس کا ریاضی، شماریات اور احتمالات Probabilities کو سمجھنے کی مہارتوں سے تعلق ضرور ہوتا ہے اور یہ مہارتیں ریاضیاتی پیشنگوئیاں کرنے اور اندازے لگانے میں مدد فراہم کرتی ہیں لیکن صحیح اور معیاری فیصلہ سازی کے بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں جن کے لئے ان مہارتوں سے کہیں بڑھ کر عقلیت Rationality کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگرہم، گمراہ کن اور علمی تعصبات پر مبنی، وافر مقدار میں پائے جانے والے مواد پر غور کریں تو ایک چیز جسے 95% چربی سے پاک بتایا جاتا ہے وہ ہمیں 5% چربی رکھنے والی چیز سے زیادہ بہتر اور صحتمند نظر آتی ہے حالانکہ دونوں میں فرق ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔ اس رجحان کو تعصب فی التدبیر Framing bias کہا جاتا ہے۔ اب یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ آئی کیو IQ کے بڑھتے ہوئے پوائنٹس اس طرح کی غلطیوں سے بچنے میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتے اسی لئے تو بظاہر بہت ذہین نظر آنے والے افراد بھی اس قسم کی چیزوں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کا آئی کیو IQ رکھنے والے لوگ بھی، معمولی آئ کیو IQ رکھنے والوں کی طرح “تعصب فی التصدیق و توثیق Confirmation bias” سے متاثر ہو کر اسکے اسیر ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہم سیاست وغیرہ جیسے بہت ہی سنجیدہ معاملات پر پر بات کرتے ہیں تو ہمارا، ان اطلاعات پر غور کرنےکا رجحان، صرف ہماری پہلے سے موجود آراء کی حمایت کرتا ہے اور ان حقائق کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ہمارے خیالات سے متصادم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی کاروبار میں ضرورت سے زیادہ معاشی وسائل کو انوسٹ یا خرچ کرنا نقصان کا باعث ہو سکتا ہے اور اس حوالے سے معتدل منصوبہ بندی فائدے کا باعث ہو سکتی ہے، لیکن اعلیٰ درجے کا آئی کیوIQ رکھنے والے جگادریوں سے آپ کبھی یہ توقع مت رکھیں کہ انکے مشورے آپ کو فائدہ پہنچانے اور نقصان سے تحفظ کے حق میں ہونگے، زیادہ امکانات یہی ہیں کہ معاملہ اسکے الٹ ہی ہوگا۔ جیسے برطانیہ اور فرانس پر یہ حقائق واضح ہو جانے کے بعد بھی کہ Concorde Planes منصوبے کی مالی اعانت تجارتی تباہی کا موجب ہو سکتی ہے، پھر بھی ان حکومتوں نے اعلیٰ درجے کا آئی کیورکھنے والے مشیروں کے مشوروں کے مطابق یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح کی بیشمار مثالیں ہیں جن سے حالیہ تاریخ بھری پڑی ہے۔

تمام تہذیبوں کا روائیتی اصول یہ تھا کہ “مستقبل کے بڑے فائدے کی خاطر، حال کے معمولی فائدے کو چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دیا جائے” اور اسی اصول کے تحت، چوری، ہیرا پھیری، جوا، لاٹری، زیادہ منافع کے پیچھے بھاگنا وغیرہ جیسے معاملات کو درست نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان میں وقتی معمولی فائدہ تو حاصل ہوجاتا تھا لیکن مستقبل میں بدنامی کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھانے کا خدشہ ہوتا تھا۔ ان معاملات سے متعلق Temporal discounting ٹسٹ میں، انتہائی ذہین لوگ بھی کامیاب نظر نہیں آتے۔ مذکورہ قسم کے علمی تعصبات کے خلاف مزاحمت کے علاوہ کچھ عمومی قسم کی تنقیدی سوچ کی مہارتیں بھی ہیں جیسے مفروضوں کو چیلنج کرنے کی مہارت، گمشدہ معلومات کی نشاندہی اور نتائج اخذ کرنے سے پہلے واقعات کے بارے مین متبادل وضاحت تلاش کرنے کی صلاحیت وغیرہ۔ متوازن سوچ کیلئے یہ مہارتیں نہایت ضروری ہیں لیکن انکا آئی کیو IQ کے ساتھ کوئی گہرا تعلق نہیں اور ان مہارتوں کو حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی ضروری نہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں رکھنے والے بے شمار لوگوں میں صرف ڈگری رکھنے کی بنا پر تنقیدی سوچ اور تنقیدی مہارت کی کوئی پیش رفت نہیں دیکھی گئی۔ آئی کیو، ڈگریوں اور تنقیدی سوچ کے موہوم تعلق کے پیش نظر، یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ آئی کیو میں اضافہ، ہر قسم کی فیصلہ سازی میں اسی نسبت کے ساتھ معجزاتی تبدیلیوں کے ساتھ نہیں ہوا کرتا۔ تنقیدی سوچ اور عقلیت Rationality میں کمی سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مالی امور میں دھوکہ دہی کیوں ہوتی ہے اور یہ اتنی عام کیوں ہے اور لاکھوں لوگ اپنی صحت کے خطرات موہ لیکر اپنے پیسے کو منشیات پر کیوں برباد کرتے ہیں۔ اور یہ بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ تنقیدی سوچ اور عقلیت Rationality میں کمی، جھوٹی میڈیکل رپورٹیں بنانے، دیگر ادراہ جاتی ناانصافیاں، تیل کا بحران، عالمی مالیاتی بحران، جعلی خبروں کے پھیلائو، پولیٹیکل پولارائزیشن اور کئی دیگر برائیوں کا باعث بنتی ہے۔

Related imageمستقبل میں فلن اثر کے الٹے بہائو Flynn effect Reverse اور آئی کیوIQ میں ممکنہ کمی کو یقینی طور پر ہمارے دماغوں کے بہتر استعمال کے طریقوں کے جائزہ لینے کا سبب بننا چاہیے اور آئی کیو کی کسی بھی مزید کمی کو روکنا بلاشبہ مستقبل کی ہماری ترجیح ہونی چاہیے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی چاہیے کہ ہم دیگر ضروری مہارتوں کو بھی، جنکا آئی کیو سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بہتر بنانے اور پروان چڑھانے کیلئے ایک ٹھوس اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل کریں۔ اب ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کی تنقیدی سوچ سکھائی اور پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اسکے لئے بہت محتاط طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹروں کو انکی پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ، بہترین فیصلہ سازی اور تنقیدی سوچ کے بارے میں بھی پڑھایا اور سکھایا جائے تو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کے دوران وہ ہر وقت اپنے آپ او راپنے ارد گرد کا تنقیدی جائزہ لیتے رہیں گے اور اس طرح بہت سی غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے اور ان گنت جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کی مہارتیں تعلیم کے ابتدائی درجوں میں کیوں نہ سکھائی جائیں؟ Wandi Bruine de Bruin (جو اب لیڈز یونیورسٹی کے بزنس اسکول میں مقیم ہیں) اور انکے ساتھیوں نے ایک تحقیق میں یہ بتایا ہے کہ ہائی اسکول کے بچوں کے تاریخ کے مضمون میں “فیصلہ سازی سے متعلق غلطیوں پر بحث” کو کم از کم ایک باب کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جب تجرباتی طور پر ایسا کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ اس عمل نے نہ صرف ان بچوں میں بعد میں ہونے والے عقلیت کے امتحان Rationality Test میں انکی کارکردگی کو بہتر بنایا بلکہ اس عمل نے تاریخی حقائق کے بارے میں انکے جاننے اور پرکھنے کے عمل کو بھی فروغ دیا۔ کچھ محققین نے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تنقیدی سوچ Critical Thinking کی تعلیم کو حیات نو بخشنے کی کوشش کی ہے اور یہ بہت مثبت قدم ہے، مثال کے طور پر سازشی نظریوں Conspiracy theories کی بحث طلباء کو اچھے استدلال reasoningکے اصول سکھاتی ہے کہ جیسے عام منطقی غلطیوں logical fallaciesکو کیسے پہچانا جائے اور کس طرح ثبوت کو تولا weigh up evidence جائے۔ اس قسم کے اسباق لینے کے بعد طلباء عام طور پر غلط اطلاعات کے بارے میں زیادہ شکوک و شبہات دکھاتے ہیں جن میں جعلی خبریں بھی شامل ہوتی ہیں۔

یہ کامیابیاں اس بات کی طرف ایک چھوٹا سا اشارہ ہیں کہ کیا کچھ کیا جا سکتا ہے، اگر عقلیت Rationality اور تنقیدی سوچ Critical thinking کو بھی اسی قسم کا احترام دیا جائے جو ہم دیگر علمی صلاحیتوں کو دیتے ہیں تو بہت جلد فلن اثر Flynn effect کے ساتھ ساتھ ہم عقلیت Rationality اور دانشمندی Wisdom میں بھی اضافہ ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے آئی کیوIQ اسکور کے گراف میں آنے والی عارضی خمیدگی سے ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، پھر یہ شاید دانشورانہ سنہری دور کے خاتمے کو ظاہر کرنے کی بجائے اسکے آغاز کی نمائندگی کر رہی ہوگی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20