ارطغل: سوال تو بہت ہیں —– خرم شہزاد

0

ارطغل پر کوئی بات کرنے سے پہلے میڈیا کی طرف سے کی جانے والی ذہن سازی کی ایک مثال دینا ضرور پسند کروں گا۔ پچھلے دنوں دفتر میں ایک ساتھی نے پوچھا، علامہ اقبال کا مشہور شعر ہے کہ “کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں”، اس شعر میں کئی کا کیا مطلب ہے؟ ہم نے اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق کچھ جواب دئیے لیکن کوئی بھی جواب جناب کو پسند نہیں آیا۔ تھوڑی دیر بعد بڑے عالمانہ انداز میں بتانے لگے کہ اس شعر میں اصل لفظ ’کئی‘ نہیں بلکہ ’قائی‘ ہے اور علامہ اقبال نے ارطغل کے قائی قبیلے کی مثال دی ہے کہ اگر کوئی قابل ہو تو اسے قائی قبیلے جیسی شان نصیب ہو گی۔ ہم نے پوچھا جناب عالی پچھلے ستر بہتر سال میں تو اس ملک کے کسی سکول کالج یا یونیورسٹی میں کبھی کہیں قائی قبیلے کا ذکر سنا نہ پڑھا اور اگر ابھی بھی یہ ڈرامہ نہ لگتا تو شائد ہم قائی قبیلے سے اتنے ہی بے خبر ہوتے جتنے ریڈ انڈین قبائل سے بے خبر ہیں۔ جناب نے نہ ماننا تھا اس لیے نہ مانے بلکہ پوری شدومد سے اپنی بات پر قائم رہے اور ان کی یہ شدت بتا رہی تھی کہ وہ کم سے کم اپنی میٹرک کی سند پر دو حرف تو بھیج ہی چکے ہوں گے جس کے حصول کے وقت پاکستان میں کوئی قائی قبیلہ متعارف نہیں ہوا تھا۔

سوشل میڈیا سے مستعار ایسی ہی ذہانت اور ذہنیت کی کچھ مثالیں پچھلے دنوں پاکستان میں ارطغل ڈرامہ کے شروع ہونے یا نہ ہونے پر کی جانے بحث میں دیکھنے میں آئی۔ ہر دو فریق میں سے کسی نے بھی یقینا ڈرامہ دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ہو گی لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز اور پوسٹوں کے بعد ایسی عالمانہ اور فاضلانہ گفتگو دیکھنے سننے اور پڑھنے کو ملی کہ اش اش کرنا معمولی بات ہو۔ اسلام پسندوں نے مولوی صاحبان کو بھی ساتھ ملا کر احیائے اسلام اور نجانے کیسے کیسے ناموں اور تحریکوں کا ڈول ڈال دیا، ساتھ ہی مذکورہ ڈرامے کو دیکھنے کے حق میں فتاوی بھی مارکیٹ میں دستیاب ہو گئے، اگر چہ ان کی حیثیت اور حقیقت ایک تحقیق طلب معاملہ ہے۔ دوسری طرف دیسی لبرل، خود ساختہ ماڈرن ملحد، اسلام مخالف اور اسلام دشمن مل کر سامنے آئے اور ان کی ہر منطق ہی نرالی تھی۔ کسی نے تحقیق سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلاں کتاب میں ارطغل کا نام صرف ایک بار آیا ہے اس لیے ایسے کسی شخص کا کوئی وجود ہونا نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی نے مقالہ ہی لکھ مارا کہ ارطغل تو مسلمان تھا ہی نہیں بلکہ اس خاندان کا پہلا شخص جو مسلمان ہوا وہ عثمان تھا جس سے خلافت عثمانیہ شروع ہوئی اور اسی کے جذبہ ایمانی نے فتوحات کا وہ سلسلہ شروع کیا کہ تین براعظموں پر حکومت قائم ہوئی۔ البتہ مقالہ لکھنے والے صاحب کسی اور غیر مسلم ترک کو پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں جس کا نام سلیمان شاہ ہو۔ ایسی ہی عجیب منطقوں اور تاویلوں کا صرف اتنا سا خلاصہ تھا کہ ہمیں کسی غیر ملکی اور غیرمقامی کے نغمے گانے کے بجائے اپنے خطے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور مقامی ہیروز کی تعریف میں رطب اللسان ہونا چاہئے، البتہ ایسے تمام افراد مقامی ہیروز کے نام بتانے سے قاصر ہیں کہ کس مقامی ہیرو کی تعریف اس وقت ضروری ہے۔

جہاں تک ذاتی حیثیت میں ارطغل پر بات کرنا ہے تو مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اس ڈرامے کو دیکھا کر ہم آج کی فلاسفر نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اس وقت ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو سیاسی طور پر صرف اپنی پارٹی کو ہی معصوم اور ہر خطا سے پاک سمجھتی ہے۔ ان لوگوں کی زیادہ توانائیاں جھوٹی وڈیوز اور تصاویر بنانے اور انہیں اپنے درجنوں اکاونٹس سے پھیلانے میں صرف ہوتی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حلیمہ سلطان کی وڈیو روک کر گھنٹوں حلیمہ سلطان کے حسن میں کھوئے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور پھر فرصت ملتے ہیں حلیمہ سلطان کی سیکسی تصاویر تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو شاہینہ کی آنکھوں میں ڈوبنا زیادہ پسند کریں گے بجائے اس کی کوئی بات سننے کے، اور ایسے لوگوں سے ہم توقع رکھیں کہ وہ ارطغل سے کوئی اچھا پیغام لیں گے ایسے ہی ہے جیسے کوئلے سے کھیلنے کے بعد رنگ کے سفید ہونے کی امید کی جائے۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ اس ڈرامے کو دیکھا کر ہم نوجوان نسل کو کیا بتانا چاہ رہے ہیں کہ جب ہمارے جوان کفار سے جنگ کے لیے جاتے تھے تو پیچھے رہ جانے والے لوگ انہی کی مخبریاں کرنے ان سے پہلے کفار کے پاس پہنچ جاتے تھے؟ یاں ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اقتدار کی جنگ ہمارے جذبہ ایمانی پر ہمیشہ حاوی رہی اور اپنی سگے رشتہ دار بھی صرف اقتدار اور حکومت کے لیے اپنوں کے خلاف کفار کا ساتھ دینے کو تیار ملتے تھے؟ یاں پھر یہ بتلانا مقصود ہو کہ جب کافروں کی تلواریں ہماری گردنوں تک پہنچ چکی تھیں تب بھی ہماری خواتین کو اپنی سازشوں سے فرصت نہیں تھی اور ان سازشوں کے نتیجے میں اپنوں کا کس قدر نقصان ہو گا اس سے انہیں کوئی غرض نہ تھی؟ ہو سکتا ہے کہ ہم یہ بتانا چاہ رہے ہوں کہ ہماری عورتوں میں کس قدر بغض، کینہ اور نفرت بھری ہوئی ہے؟ یاں شائد اس بات پر گواہی دینی ہو کہ چار سونے کے سکے اگر کسی سپاہی کے ہاتھ پر رکھ دئیے جائیں تو وہ آنکھیں بند کر کے اپنے سردار کی گردن پر تلوار بھی رکھ سکتا ہے؟ یاں شائد یہ بتانا ہو کہ عام آدمی اقتدار کی ہوس میں ایمان بیچ رہا تھا لیکن سرکاری عہدیدار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دم ہلاتے ہوئے ملیں گے؟ محلوں میں ہونے والی سازشیں تو عام بات ہے لیکن حکمرانوں کی نااہلی کا یہ حال ہو کہ پورا محل دشمنوں سے بھرا ہو اہو اور کسی کو کچھ بھی نظر نہ آتا ہو، کتنے کمال کی صورت حال ہو گی؟ دوسرے سیزن میں تو بات کچھ اور آگے نکل جاتی ہے اور ہمارے تاریخ کے کچھ اور تاریک اوراق سامنے آتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری عورتیں اقتدار کے لیے کسی بھی سردارکے ساتھ سونے کو معیوب نہیں سمجھتی تھیں اور پھر وہی عورتیں اپنے بھائیوں کے لیے عہدوں کا سبب بنتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ایک قبیلہ مشکل میں ہوتا تھا تو کیسے دوسرا قبیلہ ان کو گھٹنے ٹیکنے اور غلام بنانے کے لیے کوشاں رہتا تھا۔ ہم شائد اپنی نوجوان نسل کو یہ بھی بتانے میں کامیاب رہیں کہ اصل لڑائیاں تو حرم سرا اور خیموں میں ہوتیں تھیں، میدانوں میں تو صرف خانہ پری کی جاتی تھی اور یہ بات بھی کہ مہاجرین اور انصار کے وارثوں نے وقت پڑنے پر کیسے ایک دوسرے قبیلے کے خلاف دشمنوں سے ساز باز کرنے اور انہیں حالات کے منہ میں تنہا چھوڑ کر نئی عظیم روایات کی داغ بیل ڈالی۔ ہو سکتا ہے کہ نوجوان نسل کو یہ بھی بتایا جائے کہ ہمارے بزرگوں کو تجارت میں جب بھی کسی نے چار سونے کے سکے زیادہ دینے کی بات کی تو انہوں نے اس تاجر کا حسب نسب جاننے کی چنداں ضرورت محسوس نہ کی اگرچہ وہ تاجر دشمنوں کی طرف سے ہی بھیجے گئے ہوتے تھے۔

آپ بھی سوچیں کہ آخر اس ڈرامے کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو کون سی تاریخ دیکھانا چاہ رہے ہیں؟ اچھی بات تو یہ رہی کہ دیسی لبرل، اسلام مخالف اور اسلام دشمنوں نے اس ڈرامے کو دیکھنا گوارا نہیں کیا ورنہ ان کے سوال تو ہمارے سوالوں سے بھی زیادہ سخت ہوتے۔ ارطغل چل رہا ہے اور پورے زور و شور سے چل رہا ہے، ہم ہر روز کوئی نیا ریکارڈ بھی قائم کر رہے ہیں لیکن بات اتنی سی ہے کہ جس دن حلیمہ سلطان کے حسن اور شاہینہ کی آنکھوں کے سحر سے لوگ باہر نکلیں گے تب پوچھنے کی بات صرف یہ رہ جائے گی کہ ان سارے سوالوں کے جواب کون دے گا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20