وے صورتیں الہی : شیخ زہران —— نجمہ ثاقب

0

1994/95 کا ذکر ہے۔ اسلامی یونیورسٹی ویمن کیمپس کے سبزہ زار میں ایک شخص کو دیکھا۔ اکہرا بدن, سنہری رنگت, کھڑی ناک, چھوٹی داڑھی, قد درمیانہ جو لمبان کی جانب مائل تھا چال میں متانت, آواز میں لوچ بھرا ٹھہراؤ جو اکثر اوقت گھمبیرتا میں بدل جاتا۔ جس گھڑی میری نظر ان پہ پڑی۔ وہ ٹخنوں تک خاکستری رنگ کا ازہری جبہ پہنے سر پہ سپید دستار جمائے, کرسی کے پہلو سے عصا ٹکائے بیٹھے تھے اور ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے سرما کی کنکوی دھوپ میں سگریٹ پھونکے جاتے تھے۔

یہ شیخ عبد الحی احمد سید احمد زہران تھے۔ علم القراءات کے ماہر اور نابغہ روزگار آدمی۔

مصر کے دارلحکومت قاہرہ کے محلہ ملوفیہ میں 1920 کو پیدا ہوئے۔ معہد ازہریہ سے قرآن حفظ کیا۔ اور کلیہ الازھر سے علوم القرآن والحدیث, علوم الفقہ اور لغہ سمیت دیگر علوم شرقیہ میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ مگر اپنی دلچسپی کا اصل محور علوم القراءات اور اس سے متعلقہ مہارتوں کو بنایا۔ شیخ کی علمی ثقاہت کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ صرف مصر ہی نہیں بلکہ تمام عالم عرب کے عظیم محقق اور ماہر علم القراءات سید عامر عثمان ان کے نمایاں اساتذہ میں شامل تھے۔ سید عامر عثمان کی قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ وہ عالمی شہرت یافتہ قراء خصوصا شیخ منشاوی, شیخ عبد الباسط,شیخ خلیل الحصری وغیرہ کے مرتل مصاحف کی نگرانی اور تحقیق پہ مامور تھے اور مذکورہ قراء عظام ان کی منظوری کے بعد ہی ترتیل کے پابند ہوتے تھے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بر محل ہو گا کہ جن آوازوں کے حسن صوت, لہجوں کے اتار چڑھاؤ اور سر ساگر میں بھیگے گھمبیرتا پہ ہم اش اش کر اٹھتے ہیں۔ وہ خدائی عطیہ تو ہیں ہی۔ لیکن ان کی تیاری اور تربیت کے پیچھے برسوں کی غیر معمولی ریاضت اور مشق کار فرما ہے۔ جو علم القراءات اور علم مقامات میں گہری مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ علم قراءات اصل میں لہجوں کے اختلاف کا وہ فن ہے جو ائمہ قراءات کی روایات کے ذریعے ہم تک منتقل ہوا۔
مثلا روایت حفص عن عاصم۔ جو برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں رائج ہے
روایت ورش عن نافع جو مراکش و اندلس وغیرہ میں معروف ہے۔
اور روایت قالون جس کے مطابق لیبیا اور تیونس وغیرہ کے لوگ مصحف کی تلاوت کرتے ہیں۔

اسی طرح علم مقامات آواز کے صعودی ارتفاع اور نزولی کیفیت میں مستور اتار چڑھاؤ کا علم ہے جس میں عین موسیقی کے اصولوں کی طرح چند اصول مرتب کیے جاتے ہیں یہ صوتی مقامات جذبات کے اختلاف کوظاہر کرتے ہیں۔ دوران تلاوت قاری کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل ہونا شدید ریاضت اور مہارت کا متقاضی ہے۔ (احباب شیخ منشاوی اور عبد الباسط کے ہاں اس انتقال کے مظاہرے سے محظوظ ہو سکتے ہیں)۔

اب چونکہ قرآن نازل تو حجاز میں ہوا لیکن پڑھا مصر میں گیا سو شیخ زہران مذکورہ دونوں علوم کے بحر بے کنار تھے۔ جس پہ مہر تصدیق شیخ علی محمد الطباع نے ان کاممتحن بن کے ٹھونک دی۔ جو خود متعدد کتب کے مولف ومصنف اور پورے عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت ہیں۔

شیخ کی خطاطی کا ایک خوبصورت نمونہ

یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب اسلامی یونیورسٹی میں زمن شگفتہ دمن شگفتہ گلاب خنداں اور سمن شگفتہ تھا۔ دارلحکومت کا آسمان نیلا اور زمین ہری تھی۔ دنیا بھر سے بہترین اساتذہ اور علماء کی ٹیم یونیوسٹی کی پہلی لاٹ کے طور پہ اسلام آباد کی زمین پہ اتری۔ شیخ انہی سابقون الاولون کے جھرمٹ میں یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ قراءات کا مضمون یونیورسٹی میں پاؤں پاؤں چل رہا تھا کہ برصغیر پاک وہند کی معروف شخصیت قاری اظہار احمد تھانوی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبے میں تعینات ہوئے۔ پھر تو گویا نور علے نور ہو گیا۔ سونے پہ سہاگہ دونوں کی آپس میں گاڑھی چھننے لگی۔ اپنے مضمون کی ترویج میں دونوں نے خون پسینہ ایک کرنے کا تہیہ کیا اس کوشش پیہم اور جہد مسلسل نے انہیں گھڑی بھر دم نہ لینے دیا۔

اب صورتحال یہ ہے۔
کہ وقت ناوقت محفل جمی ہوئی ہے۔ اصحاب شوق گویا دھرنا دے کے بیٹھ گئے ہیں۔ چائے کا دور چل رہاہے۔ پیالیاں کھنک رہی ہیں۔ خالی جام بھرے جاتے ہیں۔ سگریٹ پہ سگریٹ پھونکے جاتے ہیں۔ ایش ٹرے راکھو راکھ ہے دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے ہیں۔ اور دونوں حضرات دھند کھائے ماحول میں مشکل سے مشکل اور دقیق سے دقیق موضوع چھیڑے بیٹھے ہیں۔ چونکہ بحث چل نکلی ہے۔ لہذا باریک سے باریک اور ادق سے ادق نکتے ڈھونڈ ڈھونڈ کے نکالے جاتے ہیں۔ مسائل کا چڑھتا طوفان ہے دلائل کی بہتی ندیاں ہیں۔ بہاؤ ایسا کہ کوئی سامنے ٹھہرنے نہ پائے موضوعات کی رنگا رنگی ہے مسائل کی گونا گونی اور دلائل کی بوقلمونی ہے۔ دور کی کوڑیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کے لائی جاتی ہیں۔ نہ طبیعت سیر ہوتی ہے۔ نہ تھکاوٹ کا احساس ہے۔ نہ اٹھ کے گھر جانے کا خیال ہے۔

گویا ہاتھ میں جنبش بھی ہے آنکھوں میں ہے دم بھی۔ سو ساغر ومینا کو سامنے سے اٹھانے کا کسے دماغ ہے۔
کچھ وقت مزید بیتا۔ اللہ اللہ کرکے احباب اٹھے اور اپنے اپنے ٹھوڑ ٹھکانے لگے۔
لیکن یہاں اب بھی فرصت میسر نہیں۔
بلکہ اب ایک اور قسم کی گہما گہمی کا آغاز ہے۔ شعبہ عربی اور اصول الدین کے دکاترہ (پی ایچ ڈی ڈاکٹرز) اور سکالرز اپنے اپنےایسے علمی استفسارات کی پوٹلیاں اٹھائے آرہے ہیں۔ جن میں اپنے تئیں وہ جان مار کے آئے ہیں۔ کسی کو فقہ کا کوئی مسئلہ سمجھ میں نہیں آرہا۔ کوئی صرف ونحو کی کسی بند گلی میں جا پھنسا ہے۔ کسی نے بلاغت کے بحر ذخار میں غوطہ لگایا اور اب مثل خورشید دوسری جانب نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے جاتا ہے۔ شیخ ایک ایک کو پکڑے جاتے اور کھینچ کھینچ اس ذہنی مخمصے سے نکالے جاتے ہیں۔

پیرانہ سالی کے باوجود بلا کے پھرتیلے تھے اول تو خلوت نصیب نہ ہوتی۔ اگر کبھی میسر آبھی جاتی تو اسے بھی انجمن بنائے رکھتے۔ انسان نہ سہی پھول پودے ہی سہی۔ ابھی کیاریوں کی صفائی کر رہے ہیں۔ ابھی نلائی ہو رہی ہے۔ کیاری جھاڑ جھنکاڑ سے پاک ہوئی۔ پھول پتوں نے مصفا پانی سے وضو کیا۔ اور نوخیز کونپلیں شیخ کے شیریں لحن پہ جھومنے لگیں۔ اس سے فارغ ہوئے تو قلم کاغذ لے کے بیٹھ گئے۔ اور ورق سادہ پہ اپنے موئے قلم سے خطاطی کے ایسے شہپارے رقم کیے۔ کہ اہل فن دیکھ دیکھ پھڑکا کیے۔

فن کے معاملے کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہ تھے لہذا معیار بھی بے حد اونچا رکھا ہوا تھا۔ لاہور کے مشہور خطاط نفیس شاہ کے علاوہ یہاں کسی کو سرے سے خطاط مانتے ہی نہ تھے۔ شاہ صاحب سے متاثر تھے اور وقتا فوقتا ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔ کسی پہ مہربان ہوتے تو اپنی خطاطی کے نمونے اسے تحفے میں دیتے۔

من موجی آدمی تھے۔ طبیعت میں سادگی اور کمال کا استغناء تھا۔ موج میں ہوتے تو کسی چھوٹے بچے کی فرمائش پہ قراءات سبعہ تلاوت فرما دیتے۔ اور اگر کسی بات پہ مزاج برہم ہو جاتا تو چٹان کی طرح اپنے موقف پہ جم جاتے ایسے کہ حاکم وقت بھی انہیں اپنی جگہ سے ہلا نہ پائے۔

غالبا 1987 کا زمانہ تھا۔ شیخ اپنے تلامذہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ شیخ الجامعہ کا ایلچی آیا۔ اب ذرا ذیل کا مکالمہ ملاحظہ فرمائیے:

یا شیخ! آپ کو صدر جامعہ یاد فرماتے ہیں
شیخ نے مستفسرانہ نگاہ سے اسے دیکھا
صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق تشریف لا رہے ہیں۔ آپ کو تلاوت کی سعادت حاصل کرنا ہوگی۔
شیخ کی نگاہ کا زاویہ ترچھا ہوا۔ منہ پھیر کے دوسری جانب تکنے لگے۔
اب سفیر انتظار میں کھڑا ہے۔ لیکن شیخ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔
اٹھیے یا شیخ۔ آپ کو میرے ساتھ جانا ہوگا
کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ کے تیور دیکھنے والے تھے
صدر پاکستان تشریف لا رہے ہیں
وہ کون ہے؟
صدر پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب جنرل ضیاء الحق صاحب
تو پھر میں کیا کروں؟
آپ میرے ساتھ چلیے۔ دیکھیے۔ یہ صدر جامعہ کا حکم ہے۔ میں آپ کو لینے آیا ہوں
مجھے نہیں جانا (واہ کیا شان بے نیازی ہے)
ایسا کیسے ہو سکتا ہے یاشیخ۔ وہ صدر جامعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صدر مملکت
وہ صدر پاکستان ہے تو میں کیا کروں۔ مجھے نہیں جانا تو نہیں جانا۔ اور سنو وہ صدر مملکت ہے۔ تو میں عالم القراءات ہوں۔ میں ماہر ہوں قراءات مقدسہ کا۔ صدر کی کیا خصوصیت ہے۔ بتاؤ مجھے؟
ایلچی بے بسی سے منہ دیکھے جاتا تھا۔
اور ادھر زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کاسا معاملہ تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس وقت صدر جامعہ تو کیا خود صدر مملکت بھی تشریف لے آئیں تو بھی گل محمد اپنی جگہ سے نہ ہلے گا۔
اس موقعے پہ ان کے دبنگ انداز میں کہے گئے الفاظ سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں
“یہ علم میرے پاس امانت ہے۔ میں ہر خلف وناخلف کے سامنے اس کی تذلیل نہیں کر سکتا”

شیخ بلا کے دیالو آدمی تھے۔ لونڈوں لپاڑوں کا معاملہ خدا جانے۔ ہم طالبات (جنہیں وہ کبھی بیٹیاں کہتے کبھی پوتیاں) کے لیے وہ حاتم طائی تھے۔ کھلانا پلانا اور چھلکانا ان پہ ختم تھا۔ ادھر کلاس کا درمیانی وقفہ آیا۔ ادھر شیخ کو چائے سگریٹ کی طلب ہوئی۔ کینٹین میں آرڈر بھیجا اور مٹھی بھر روپلی کسی ایک لڑکی کے ہاتھ میں تھما دی۔ کہ جاؤ بی بی تم لوگ بھی خلد کے مزے لوٹو۔ چونکہ پوری کلاس “تکلف میں ہے تکلیف سراسر” پہ پختہ ایمان رکھتی تھی۔ لہذا امناو صدقنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم۔۔۔۔۔ سمعنا واطعنا۔

اخلاص کا یہ عالم ہوا کرتا کہ شیخ اپنی فصیح زبان میں سمجھا کر بھیجتے۔
چائے کاڑھا نہ بنوانا۔ اجزائے ترکیبی کو علیحدہ علیحدہ بندھوا کے بھجواؤُ تو خوشتر۔وگرنہ ایک جوش کافی ہے۔ اب کچی پکی عربی سیکھ کے آنے والے جب جوش عقیدت میں کینٹین کے دوارے ہوتے تو مضمون انظرنا سے راعنا میں بدل جاتا۔
کینٹین والیوں کے جی بھر کے لتے لیے جاتے کہ کیسی کنجل چائے بنا کے بھیجتی ہو۔ چار جوش دلواتے کیا جان جاتی ہے؟

اب جس قسم کا گاڑھا جوشاندہ ان کے لیے ممکن ہوتا وہ بنا بھیجتیں۔ شیخ اس چائے سے کیا سلوک کرتے۔ اسے جان کے آپ کیا کریں گے؟ اتنا جان لیجیے کہ یہ قصہ معمولی کم وبیش کے اکثر دہرایا جاتا۔ مگر نہ شیخ کی شفقت میں کبھی کمی آئی نہ جیب کا منہ بند ہوا۔

پڑھانے سکھانے کے ماہر اور حریص تھے۔ یک بار, دوبار, سہ بار اور پھر بار بار بتانے اور سمجھانے پہ تیار رہتے۔ کہا کرتے تھے۔ اگر تمہیں سبق سمجھ میں نہیں آرہا تو اس میں قصور تمہارا نہیں میرا ہے۔ سو اس کی تلافی بھی میں ہی کرونگا۔ میرے پاس پڑھانے کے ایک سو ایک طریقے ہیں۔ اگر ایک طریقہ کامیاب نہ ہوا تو دوسرا پھر تیسرا طریقہ آزماتا جاؤنگا۔

کوئی طالبہ مضمون کی پیچیدگی دیکھ کے پریشان ہوتی تو ہنس دیتے۔ اور کہتے:
علم القراءات میں 99۔99 علوم ایسے ہیں۔ جنہیں تم لوگ چھیڑتے ہی نہیں ہو۔ سو اس قلیل مقدار سے تم لوگوں کا ڈرنا بنتا نہیں ہے۔تجوید کے معاملات میں ادائیگی الفاظ کی درستی اور نکھار پیدا کرنے کے لیے بلبل مصر ام کلثوم کو سننے کا مشورہ دیتے۔

نوٹس ہمیشہ اپنے خرچے پہ فوٹوسٹیٹ کروا کے لاتے اور بغیر جتائے تقسیم کرتے۔ اس ساری تگ ودو کے باوجود اگر کوئی پڑھ کے نہ دیتا تو سخت کبیدہ خاطر ہوتے۔ خصوصا بوائز کیمپس کے ایسے طلبا سے سخت نالاں رہتے جن کا کلاسز سے محض نشستن اور برخاستن کا تعلق رہتا تھا۔ شیخ کے نزدیک ایسے قل اعوذیوں کا مطمع نظر صرف کاغذی ٹکڑے کا حصول ہوتا ہے۔ ظالم نہیں جانتے کہ نیت کے اخلاص اور محنت کی بھٹی میں تپ کے حاصل کیا جانے والا علم عزت بھی دیتا ہے اور دولت بھی۔ خالی مادہ پرست ذہن اس کی قدر کیا جانیں۔ ایسے میں ان کا روئے سخن خود بخود پاکستانی طلباء کی جانب مڑ جاتا۔ جن سے انہیں خصوصی شکایات رہتی تھیں۔ بلکہ دوسرے لفظوں میں وہ ان کے بعض رویوں کی بنیاد پہ ان سے اچھے خاصے مایوس دکھائی دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک زمانے میں شعبہ قراءات میں نئے نئے داخل ہونے والے ایک طالب علم تاج افسر جب ان کی خصوصی توجہ کے طالب ہوے تو شیخ نے انہیں سختی سے انکار کر دیا۔ اب ادھر مسلسل اصرار اور ادھر پیہم انکار۔ نہ تاج افسر پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں نہ شیخ اپنی وضع بدلنے پہ مائل۔ تاج افسر کا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں علم القراءات کا چسکا لگ گیا تھا۔ لہذا انہوں نے مے خانے کا پتہ ہر اس شخص سے پوچھا تھا جس کے نین نشیلے تھے۔ قاری اظہار احمد تھانوی کی معرفت وہ اسلامی یونیورسٹی پہنچے تو سمجھے کہ پیاسے نے کنواں پا لیا۔ جرعہ جرعہ پینا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ اس سمندر سے پیاسے کو محض شبنم مل رہی ہے اور وہ اسی پہ اڑا اڑا پھرتا ہے۔ سو انہوں نے اس بخیلی کو رزاقی میں بدلوانے کا تہیہ کیا اور شیخ کے حضور جا عرضی پیش کی کہ مجھے میرا حصہ بقدرشوق دیجیے نا کہ بقدر جماعت۔

شیخ طلباء کی لاپرواہیوں کے ڈسے ہوئے تھے۔ لہذا صاف انکار کیا اور اسی بہانے سے جوہزار بہانوں پہ بھاری ہے کہہ کے جان چھڑائی۔ کہ جاؤ میاں ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہما شما پہ لٹاتے پھریں۔ طالب علم نے پھر کہا۔ انہوں نے پھر وہی جواب دیا۔

طالب علم نے وقفے سے سوال کیا۔ شیخ نے وقفے سے بھی وہی جواب دیا۔ تکرارچلتی رہی۔ شیخ جیت گئے اور تاج افسر بے نیل ومرام قاری اظہار احمد کے پہلو میں جا بیٹھے۔ قاری صاحب کی عمر زیادہ, صحت کمزور, قوی مضمحل ہو چکے تھے۔ مگر حوصلے کے بلند آدمی تھے۔ طالب علم کی ہمت بندھائی اور لگے پڑھانے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا اگر چند ماہ بعد قاری صاحب کی صحت بالکل ہی گر نہ جاتی۔ اب وہ انگلی پکڑے تاج افسر کو شیخ زہران کے پاس لے آےُ اور پڑھانے کی سفارش کی۔

شیخ کا جواب وہی پرانا تھا۔ انہوں نے قاری صاحب سے کہا۔ آپ کیا ان طلباء کو جانتے نہیں ؟میں ایک عرصے سے ان پہ جان مار رہا ہوں اور یہ میرے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ جیسا لگا بندھا انہیں پڑھایا جاتا ہے انہیں وہی پڑھنے دو۔ زیادہ کی خواہش اتھلے پانیوں جیسی ہے۔ چار دن نہ گزریں گے کہ چڑھتا دریا اترنے لگ جاےُ گا۔ قاری صاحب نے جواب میں جانے کیا کہا کہ اچانک راضی ہوگئے مگر ایک شرط پہ کہ مذکورہ طالب علم عرصہ چھ ماہ میں پورا قرآن بروایت سوسی شیخ کو سناےُ گا۔ تو ہی اس کے بارے میں کچھ سوچا جاےُ گا۔ طالب علم نے شرط قبول کی اور اسی دن سے ایسی کمر کسی کہ چند ہی مہینوں پہ شرط پوری کرکے شیخ کی نظر میں سرخرو ٹھہرے۔ اب شیخ ساےُ کی طرح انہیں ساتھ رکھنے لگے۔ کیمپس میں, گھر میں, بازار میں ہر جگہ انہیں ساتھ لیے لیے پھرتے۔ کام بھی ہوتے جاتے اور تعلیم بھی۔ جب استاد مقدور بھر علم شاگرد کے اندر انڈیل چکا تو ایک روزاپنےگھر میں بڑے اکٹھ کا اہتمام کیا۔ شیخ الجامعہ سمیت دیگر معتبر شخصیات جمع تھیں۔ شیخ نے اپنے شاگرد رشید کا کندھا تھپتھپایا۔ اور انہیں اپنا حقیقی جانشین قرار دیتے ہوےُ کہا۔
بخدا اب میں اطمینان سے واپس جا سکتا ہوں کہ میں نے اپنا نمائندہ یہاں چھوڑ دیاہے۔ بلکہ میں کل کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کے برملا اس بات کااظہار کر سکتا ہوں۔ کہ میں دنیا میں اگر اپنا کوئی قابل ذکر عمل چھوڑ کے آیا ہوں تو وہ تاج افسر ہے۔

ایک طالب علم کے لیے اس سے بڑھ کے اور سند کیا ہو سکتی ہے۔
طبیعت میں جلال کے باوجود شیخ کے اندر ایک خاص قسم کی سادگی اور وضعداری تھی۔ جو کسی حد تک انکساری کی حدوں کو چھوتی تھی۔ ویمن کیمپس میں ایک مرتبہ کلاس رومز کی کمیابی کی وجہ سے انہیں جو جگہ الاٹ کی گئی وہ ایک بوسیدہ گیراج تھا یہ جگہ اپنی ہیئت کذائی کے اعتبار سے شیخ کے شایان شان نہ تھی۔ مگر طالبات گواہ ہیں کہ شیخ نے اس بات کو چنداں اہمیت نہ دی۔ اور وہیں بیٹھ کے لیکچر دینے لگے۔ بعد میں کسی نے انتظامیہ کی توجہ اس جانب دلائی۔ تو کمرہ تبدیل کیا گیا۔

طالبات کبھی کبھی گروپس کی شکل میں ان کے گھر جا دھمکتیں۔ انہیں دیکھ دیکھ نہال ہوےُ جاتے۔ ماکولات ومشروبات کا ڈھیر لگا دیتے۔ باصرار کھلاتے۔ لڑکیاں بھی انہی کی بیٹیاں تھیں لگے ہاتھوں نشست گاہ کا حلیہ ترتیب دے دیتیں۔ کچن دھو دھلا کے چمکا آتیں۔ کمروں کی جھاڑ پونچھ کرتیں اور تھوک کے حساب سے دعائیں لیتیں۔ایک مرتبہ نشست گاہ کی میز پہ شیشے کا بڑا پیالہ دیکھا گیا جس میں رنگ برنگے ننھے ننھے لاتعداد تارے دھرے تھے۔ ایسے ہلکے کہ سانس کی ہوا سے اڑے جائیں۔ ایسے سنہرے اور روپہلے کہ نقل پہ اصل کا گمان ہو۔ طالبات انہیں چھو چھو کے تکنے لگیں۔ شیخ نے بتایا کہ کبھی فارغ بیٹھا ہوں تو سگریٹ کی ڈبیوں اور پنوں کو خاص باریک شکل میں کاٹتا رہتا ہوں۔ دیکھو تو کیسے حسین تارے تخلیق ہوےُ ہیں۔ میری لڑکی کی شادی ہونے والی ہے۔ یہ تارے گھر آےُ مہمانوں کے سروں پہ وارنے کے کام آئیں گے۔

1997وہ سال ہے جس میں شیخ ہمیشہ کے لیے پاکستان سے رخصت ہوگئے۔ کبار اساتذہ کی اکثریت واپسی کے سفر میں تھی۔ کچھ جا چکے تھے کچھ جارہے تھے۔ کہ اب انہیں کبھی لوٹ کے نہ آنا تھا۔ ہم چند طالبات نے اپنے طور پر ویمن کیمپس میں ان کے ساتھ الوداعی نشست رکھی۔ آپ اپنے شاگرد رشید کے ساتھ تشریف لاےُ۔ دال دلیہ چکھا۔ حسب فرمائش دھیمے لہجے میں تلاوت کی۔ سب دلگیر حالت میں یوں چپکے کھڑےتھے جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ۔ آیات آج بھی کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی ہیں۔
*یا ایہا الذین امنوا قولوا قولا سدیدا*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما۔

اسکے بعد انہوں نے ایک مختصر خطاب فرمایا۔ لب لباب جس کا یہ تھا کہ اولادیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک صلبی اور دوسری روحانی۔ جسم فانی ہے اور روح لافانی ہے۔تم میری روحانی اولاد ہو۔ سو میرا اور تمہارا رشتہ لافانی ہے اور رہے گا۔ بولتے بولتے شیخ کی آواز بھرا گئی۔ وہ آبدیدہ ہوگئے اور ہم سب بے آواز رونے لگیں۔
پھر شیخ چلے گئے نہ گل کھلے نہ مے پی گئی اور بہاریں گزرتی رہیں۔

2003۔ یا 2004 میں شیخ کراچی آےُ۔ اسلام آباد آنا پروگرام میں شامل تھا مگر بوجوہ نہ آسکے اور واپس مصر چلے گئے۔ جہاں 2007 میں خالق حقیقی سے جا ملے۔
کل من علیہا فان
ویبقی وجہ ربک
ذوالجلال والاکرام

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20