رام پور سے شادی کا ایک دعوت نامہ —– اظہر عزمی

0

رام پور سے شادی کا ایک دعوت نامہ
جسے لکھنا، پڑھنا ایک کارنامہ

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب کپڑے بنانے کی ویوینگ مشینیں نہ آئیں تھیں اور کپڑے کا سارا کام جولاہوں کے ہاتھ میں تھا۔ قسم قسم کے کپڑے بنتے وہ بھی ایسی کاری گری سے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جاتا۔ حوادثِ زمانہ کہیں یا ترقی، دنیا ہی بدل گئی۔ اسی لئے عید آتی تو ہمارے گھر کی بڑی بوڑھیاں کہیں نہ کہیں یہ محاورہ پٹک دیا کرتیں کہ بنِ جولاہے عید کہاں۔ ذرا بڑے ہوئے تو کچھ اور محاورے کانوں میں پڑے۔

عمر کم تھی لیکن اتنا سمجھ میں آگیا تھا کہ سوت اور کپاس سے کام جولاہوں کو ہوتا ہے۔ یہ ایک انتہائی محنتی، قابلِ تعظیم، سادہ مزاج اور اپنے پیشے سے مخلص برادری ہے۔ اپنے کام میں بہت عرق ریزی اور نفاست سے شب و روز مصروف رہتی ہے۔ کام ریشے سے ہے مگر ریشہ دوانی سے کام نہیں لیتے ہیں۔ ریاست رام پور ہندوستان بھر میں کپاس اور گنّے کی کاشت کے لئے مشہور تھی۔ اس لئے ان کا آب و دانہ یہاں لکھا ہونا لازمی تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں کے مسلم جولاہوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان آبسی۔ اب چاھے وہ یہاں ہوں کہ ہندوستان میں ان کے ہاں مرنے جینے، شادی بیاہ میں رسم و رواج کا چاند پوری آب و تاب سے ضوفشاں ہیں۔ یہ اسے کسی طور گہنانے نہیں دے رہے۔ موقع خوشی کا ہو تو پھر ان کا ہاتھ روکے سے نہیں رکتا۔ خرچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ کپڑے کی بُنت کے ماہر ہیں لیکن اس سے کہیں دلاآویز بُنت لفظوںسے کرتے ہیںاور عام بول چال میں ایسے ایسے ٹانکے لگاتے ہیں کہ پکڑائی نہیں دیتے۔ سوچیں! خوشی کے موقع پر یہ صلاحیت کس طرح عود کر بلکہ کود کر آتی ہو گی۔ مشہور شاعر گلزار ان کی اصل بُنت کے دیوانے ہیں اور ان سے یہ ہنر سیکھنا چاھتے ہیں:

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جولاہے
اکثر تجھ کو دیکھا ہے تانا بنتے
جب بھی کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا
پھر سے باندھ کے
اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں
آگے بننے لگتے ہو
تیرے اس تانے میں لیکن
کوئی بھی ایک گانٹھ گرہ بنتر کی
کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے
میں نے تو ایک بار بنا تھا ایک ہی رشتہ
لیکن اس کی ساری گرہیں
صاف نظر آتی ہیں
میرے یار جولاہے
مجھ کو بھی ترکیب سکھا دے یار جولاہے

مجھے لڑکپن میں محلے میں ان کی ایک میں شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ گرائونڈ میں بڑا سا ٹینٹ لگا۔ شادی دوپہر کی تھی، ہمارا لینا دینا شادی سے بس اتنا تھا کہ کھانے مزے کا مل جائے لیکن دعوتِ شیراز کا تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا۔ کوئی چار، پانچ سو مہمانان ِ گرامی قدر ٹینٹ میں جلوہ افروز تھے اور جہیز رونمائی کی تقریب جاری تھی۔ ایک ایک چیز دینے والے کے نام کے ساتھ ہاتھوں میں اٹھا کر دکھائی جا رہی تھی کہ کس نے کیا دیا۔ بڑی خوشی ہوئی کہ یہ آج بھی اپنی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک ایسی ہی تقریب میں دولھا کو منہ دکھائی میں موٹر سائیکل دینے کا اعلان ہوا ۔ دلھن کا بھائی موٹر سائیکل ــ”جہیز گاہ” میں لارہا تھا ۔ موج میں آکرموٹر سائیکل کی رفتار تیز کی تو وہ ہوا سے باتیں کرتی لوگوں پر چڑھ دوڑی۔ وفورِ جذبات سے ساری خوشی کافور ہوگئی۔ کسی کی آئینتی دیکھی نہ پائینتی اور نہ ہی مقامات ِ وسط، جہاں جگہ دیکھی پہیہ گھوماتا چلا گیا۔ تقریب درہم برہم ہوگئی۔ دم بھر میں صورتِ حال ایسی ہوگئی کہ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں بلّم بھی ہوتا ہے۔ اکثر نے تحمل و برداشت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا لیکن جو تکلیف سہہ نہ پائے وہ ہاتھ چھوڑ (Freehand) ہوگئے اور جو ہاتھ میں آیا موٹر سائیکل والے لمڈے کی طرف لے کر لپکے۔ جس سے اٹھا نہ گیا اسے نے وہیں بیٹھے بیٹھے موٹر سائیکل والے لمڈے کی شان میں وہ وہ “بلوغتی” جملے کہے کہ برادری کے منچلے تو عش عش کر اٹھے لیکن باہر کے لوگ غش غش کر بیٹھے۔ زبان کی آتش فشانی اورشائستہ مزاجی کو جس طرح فی الفور ہاون دستہ میں کوٹا گیا، اس سے اندازہ ہوا کہ یہ “حکیم+انہ” گفتگو بہت کشت اٹھانے کے بعد واردِزبان ہوتی ہے تب کہیں جا کے محفل کشتہِ زعفران بنتی ہے۔

قریب تھا کہ سب تلچھٹ ہوجاتا۔ ایسے میں خاندان کے بڑوں نے لمڈے کو دفع کر کے معاملہ رفع دفع کیا۔ ایک بوڑھے نے ہاتھ گھما کر اپنے جسم کا درد زدہ حصہ سہلانے کی کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے کہا کہ یہ لمڈاتو وہاں تک پہنچ گیا جہاں آج تک مارے اپنے ہاتھ نہ پہنچ پائے۔ ایک جناب نے اِن صاحب سے کہا اب کیا اب لمڈے کی جان لے گا۔ تیں نہیں پہنچا تو کیا ہوا ؟یہ لمڈا تو پہنچا۔ کوئی دوسرا پہنچے تو تجے اس پہ بھی ایتراج ہے۔

جب یہ بات چلی تو مجھے ملتان کے روہتکی صاحبان یاد آگئے۔ ہمارے ایک دوست ملتان کے ہیں۔ جب بھی آتے ہیں سوہن حلوے کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسا توشہ ِ خاص لے آتے ہیں کہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے زیادہ مزہ کس میں ہے۔ توشہِ خاص میں عموماً ملتان کی روہتکی حضرات کی کوئی نہ کوئی گفتنی ہوتی ہے جو اکثر مجمع عام میں ناگفتنی کے خانے میں آتی ہے ۔ کیاکیف آوراور پُر تاثیر گفتگو کرتے ہیں کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ سادہ جملہ بھی اس طرح ادا کرتے ہیں کہ ہم جیسامردم بیزار بھی زندگی آثارہو جاتا ہے ۔ یہ تو زندوں کی بات ہورہی ہے ان کو تو چھوڑیں اگر مردے بھی ان کی گفتگوسن لیں توقبر پھاڑ کر قہقہہ لگا تے اٹھ بیٹھیں۔ روہتک ہر یانہ بھارت میں واقع ہے ۔ ہجرت کے بعد وہاں کی مسلم آبادی پاکستان آبسی۔ ملتان کے بازار میں ان کی کئی دکانیں ہیںجہاں یہ مختلف کاروبارکرتے ہیں۔ جتنا دم باتوں میں ہے اس سے کہیں زیادہ ہاتھوں اور لاتوں میں ہے۔ اگر Viva میں نمبر کم آنے کا خدشہ ہو تو یہ Practical میں پورے نمبر لے اُچکتے ہیں۔ شیریں سخنی اور ملنساری ان پر ختم ہے لیکن اگر خلاف ِ مزاج بات کی تو پھر بہت کچھ ختم ہے۔ مہربان اور قہربان والا معاملہ ہے۔ نظر کرم کو نظر گرم ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ ان کا ایکا مشہور ہے ۔ آپ کسی ایک سے گرمی کھایئے، یہ آ پ سمیت پورے ماحول کو گرما دیں گے۔ وہ آئو بھگت کریں گے کہ جوڑ جوڑ بے جوڑ ہو کر گواہی دے گا۔

ایک مرتبہ ایک کاروباری روہتکی بھائی کو شاعری کا شوق چرا آیا۔ مشاعرے کا اہتمام کیا اور یہی کہا کہ کلام ِآخر انہی کا ہوگا ۔ شعراء آگئے یا پکڑ کر لائے گئے۔ آخر میں صاحبِ صدر کی آمد پر پنڈال جھوم اٹھا۔ ابھی وہ جیب میں غزل ٹٹول ہی رہے تھے کہ شرکاء کھڑے ہوگئے اورمثلِ غزال واہ واہ کی چوکڑیاں بھرنے لگے۔ وہ شعراء جنہوں نے کسی کے بھی شعر کو قابلِ داد نہ سمجھا تھا، سنبھل کر بیٹھ گئے کہ اگر داد نہ دی تو کوئی داد رسی کو نہ آئے گا اور طبیعت گھر تک سنبھالے نہ سنبھلے گی۔ بس آپ ایک شعر سن لیجئے تاکہ آپ کو بقیہ اشعار کا ادراک ہو سکے۔

بھر بھر کے جام ساقی سب کو پلا ریا تھا
اور من نے کہ ریا تھا تیں بار جا کے پی لے

رام پور (بھارت) کے شادی کے جس دعوت نامے نے لکھنے کی تحریک دی، اب چلتے ہیں اس کی طرف، دعوت نامہ کیا ہے؟ اپنائیت، خلوص اور شگفتہ بیانی کے سطر در سطر بے بہا موتی بہادیئے گئے ہیں۔ شادی کایہ دعوت نامہ 1951کا ہے مگر آج بھی ترو تازہ اور تبسم آمد ہے۔ خاصے کی چیز یہ ہے دعوت نامے میں حفظ ِمراتب کا باکمال اور شریک نہ ہونے والوں کابڑا “با عجت” خیال رکھا گیا ہے۔ لفظ بہ لفظ نقل کیا جارہا ہے۔

دعوت نامہ
شروع اللہ کے نام سے، جس نے یہ دن دکھلایا
ہمارے پیارے بھائی نسیر عرف پیٹ جلے اور سرسوں بھابھی کے بڑے لمڈے بسارت نسیر عرف بچھو میاں کا بیاہ
بھائی متین میاں عرف جلے کٹے اور انگارن بھابھی کی لمڈیا
نگینہ بی عرف منی ناگن سے تے پایا ہے۔
برات جمعرات کی سباہ فجر کی نماج کے باد بھائی پیٹ جلے کے گھر سے نکلے گی
اور حجرت ہرے بھرے ساہب کی درگاہ سے سلام کر کے دوپہر پے لے بھائی جلے کٹے کی ڈیوڑھی چڑے گی۔
ساری برادری کو تار روٹی کی داوت ہے۔
بھائی جلے کٹے لمڈیا کی شادی میں اپنا بیل کاٹ کر کھلا ریا ہے۔
مریجوں اور بڈھوں کے لئے بکری کا گوس بھی ہے۔
دولے کی سلامی سوا روپے رکھی ہے۔ برادری والے بھی سلامی لاویں جو ایک آنے سے کم نہ ہو۔ اپنی عجت کی بات ہے
جو برادری والے نہ آویں اور اینٹھ جاویں، وے دو روٹی جیادہ کھاویں اپنے گھر
ہم بھی نہ جاویں گے وِن کے بیاہ میت میں، بھول نہ جانا تار روٹی کھانے آنا
دھاگا گلی، بنیہ محلہ، رام پور

دعوت نامے کا اصل مزہ اونچی آواز میں پڑھنے سے آئے گا۔ سارے سین اور شین ٹھکانے لگ جائیں گے۔ میرے ایک جاننے والے رام پور کے ہیں ۔ ان کو یہ دعوت نامہ دکھایا تو بولے کہ آپ جتنا زور لگا کر پڑھ لیںاس چار آنے کے برابر بھی نہیں جو لکھنے والوں کی زبانی سن کر آئے گا کیونکہ اس میں پڑھنے والا کچھ جگہوں پر بڑے با معنیٰ وقفے لے گا اور آپ تاڑ جائیں گے کہ اس وقفے میں چہرے کے تاثرات اورلبوں کی پھڑپھڑاہٹ کے ذریعے کیا پیغا م دیا گیاہے۔ آپ کہہ اٹھیں گے کہ میں نے یہ جانا کہ یہ بھی تیرے دل میں ہے۔ کہنے لگے کہ اس دعوت نامے کو رقم طراز کر نے کے لئے برادری کے بڑے ایک جگہ نیم دراز ہوئے ہوں گے اور اس دوران “نفس ِ مضمون” پر جو تباہ آزمائی ہوئی ہوگی۔ اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتا ہے کہ جو رام پور یا ہو۔ اس شہ پارے کی تخلیق کے دوران جو باہمی گفت و شنید ہوئی ہو گی اور سطور کاٹتے ہوئے جو “مستور حجاب” جملوں کاتبادلہ ہوا ہوگا، دعوت نامہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ کہنے لگے دعوت نامے میںجن کو آنا ہے ان کو عزت و تکریم کے ساتھ سلامی کی رقم بھی بتا دی گئی ہے تاکہ بعد میں کوئی ٹنٹا کھڑا نہ ہو۔ جو نہیں آرہے ان کے لئے بھی بہت ممدوحانہ اور مشفقانہ انداز اختیار کیا گیا ہے اور لفظوں کے استعمال میں بڑی مشقتانہ احتیاط برتی گئی ہے۔ سوچیں! جب دعوت نامہ لذائذ لفظی سے بھرپور تھا تو شادی میں لذت کام و دہن کا کیا اہتمام ہوا ہوگا۔ (یہ مضمون زبان کی لطافت کے زمرے میں تحریر کیا گیا ہے)۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20