کانٹ کے فلسفہ اخلاق پر ہونے والی تنقید کا جائزہ —— وحید مراد

1

جرمن فلسفی، ایمانوئیل کانٹ Emmanuel Kant افادیت پسندی کا مخالف تھا۔ اسکا ماننا تھا کہ خاص قسم کے اعمال مثلاً قتل، چوری، جھوٹ وغیرہ بالکل ممنوع ہوتے ہیں خواہ یہ اعمال اپنے متبادل اعمال کی نسبت زیادہ راحت اور خوشی کا سامان ہی کیوں نہ بہم پہنچاتے ہوں۔ کانٹ کے ماننے والے جب بھی کوئی عمل کرتے ہیں تو پہلے اپنے آپ سے دو سوال پوچھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ کہ کیا میں اس کام کو خود بھی کرنے کو تیار ہوں جسے دوسروں کیلئے تجویز کر رہا ہوںَ؟ اور دوسرا سوال یہ کہ کیا میرے اعمال دوسروں لوگوں کے اہداف کا بھی احترام کرتے ہیں یا میں صرف دوسرے لوگوں کو اپنے اہداف کیلئے استعمال کرتا ہوں؟ کانٹ ان دونوں سوالات کو ایک دوسرے کے متبادل ہی تصور کرتا تھا۔ کانٹ کے اس اصول کو اگر عام الفاظ میں سمجھا جائے تو اسکا مفہوم یہ ہوگا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ کسی بھی دوسرے شخص کو اپنے کسی مقصد کے حصول کیلئے استعمال نہ کرے۔ Each person must never be treated only as a means to some other end, but must also be treated as an end themselves” ۔ کانٹ Rationality” پر یقین رکھتا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کرہء ارض پر انسان ہی وہ مخلوق ہے جو قوت فیصلہ رکھتی ہے، اور اسکے ہر عمل کا ایک اخلاقی وجوب ہے۔ اور یہی صفت انسان کو اس کائنات کی دیگر اشیاء سے ممتاز کرتی ہے، اس لئے ہمیں اس Rationality کو قدرت کا ایک انمول تحفہ سمجھتے ہوئے بہت سنجیدہ لینا چاہیے اور اسے تمام اخلاقی اصولوں اور اخلاقی مباحث کی بنیاد بنانا چاہیے۔ کانٹ کے نزدیک اس صفت کے بغیریہ کائنات بیکار اور بے مقصد ہوتی Without Rationality, the universe would be waste, in vain, and without purpose”

اسی طرح کانٹ کی اخلاقی تھیوری کے مطابق درست یا غلط اعمال کا دارومدا ر انکے نتائج پر نہیں ہوتا بلکہ ان کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ وہ ہماری ذمہ داری پوری کرتے ہیں یا نہیں۔

کانٹ کے مطابق اخلاقیات کا ایک عظیم اصول ہوتا ہے اور اسے وہ Categorical Imperative کا نام دیتا ہے اور یہی عظیم اخلاقی اصول ہماری ذمہ داریوں کا تعین کرتا ہے۔ یہ ہر صورتحال میں اورہر حوالے سے درست اور قابل عمل ہوتا ہے۔ اور یہ عالمگیراخلاقی اصول ہر انسان کیلئے اخلاقی حکم اوروجوب کا درجہ رکھتا ہے۔ Imperative سے اسکی مراد “حکم” ہے مثلاً ٹیکس ادا کرو، مجھے لاتیں مت مارو، جانوروں کو تلف مت کرو وغیرہ۔ ان Imperatives کے احکامات ہم پر مشروط طور پر لاگو ہوتے ہیں جیسے اگر کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے میڈیسن کا مطالعہ کرنا پڑے گا لیکن بصورت دیگر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر آپ کی ماں حکم سناتی ہے کہ “اگر تمہیں بھوک لگی ہے تو جائو کھانا کھا لو” اب اگر آپ بھوک محسوس نہیں کر رہے ہیں تو اس حکم کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ لیکن Categorical Imperative سے اسکی مراد وہ احکامات ہیں جو غیر مشروط ہوتے ہیں جیسے ” ٹیکس چوری مت کرو” اب اگر آپ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے آپ کا مفاد تو پورا ہو سکتا ہے لیکن آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اخلاقیات اور Categorical Imperative میں کیا تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد Categorical Imperative ہیں کیونکہ اخلاقیات ایک ایسی چیز ہے جو آپ پر حکم لگاتی ہے اور آپ اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے اور نہ ہی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسکا اطلاق آپ پر نہیں ہوتا۔ اب دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ Categorical Imperative کام کیسے کرتے ہیں؟ اسکا جواب یہ ہے کہ اسکی تشکیل تین اصولوں سے ہو سکتی ہے اور کانٹ کے مطابق یہ تینوں اصول، اصل میں ایک ہی ہیں لیکن بعد میں کانٹ کی اس بات کو متنازع بنا دیا گیا کہ یہ تینوں ایک ہیں یا نہیں۔ ان تین اصولوں میں سے پہلا واضح طور پر Categorical Imperative کو ظاہر کرتا ہے ۔ ” صرف اس کہاوت (اصولMaxim) پر عمل کرو جو آفاقی اصول (قانون فطرت )بن سکتا ہو” مثلاً اگر میں اپنا یہ اصول بناتا ہوں کہ ہر سال کم ازکم اتنی خیرات ضرور کروں گا جتنا کہ میں خود کھانے کیلئے استعمال کرتا ہوں۔ دوسرا اصول یہ ہےکہ ” آپ کو خود بھی اس کام کے کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس کو دوسروں کیلئے آپ منع کرتے ہیں” یعنی آپ اپنے لئے استثناء حاصل نہیں کر سکتے۔ مثلاً اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ اپنے وعدے وفا کریں تو آپ کو بھی اپنا وعدہ وفا کرنا پڑیگا۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ “ہر وہ اصول جس پر آپ عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں ایسا ہونا چاہیے کہ ایسی ہی صورتحال میں آپ کی یہ بھی خواہش ہو کہ ہر کوئی اس پر عمل پیرا ہو سکے”

مثال کے طور پر، اگر میں اپنی مطلوبہ چیز کے حصول کیلئے جھوٹ بولنا چاہتا ہوں تو مجھے اس بات کا قائل ہو نا پڑے گاکہ ہر شخص اپنی خواہش کے حصول کیلئے جھوٹ بول سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں ہر کسی کا میرے اوپر سے اعتماد اٹھ جائے گا اور کوئی مجھ پر یقین نہیں کرے گا لہذا پتہ چلا کہ جھوٹ کو عالمگیر اصول نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اسے عالمگیر اصول بنانے سے کوئی کام چل سکتا ہے یعنی اس طرح ہم کوئی مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔ چنانچہ Categorical Imperative کے مطابق جھوٹ بولنا حرام ہے۔ کیونکہ جھوٹ بولنے کا واحد راستہ اپنے لئے استثنیٰ کا حصول ہےاور جب یہ اصول بن گیا کہ ہم اپنے لئے استثنیٰ حاصل نہیں کرسکتے تو پھر ظاہر ہے ہم جھوٹ کیونکر بول سکتے ہیں۔

کانٹ کے فلسفے میں “ایک اچھا شخص بننے” کیلئے جو اخلاقیات اپنا نا ضروری ہے اسکی بنیاد بھی موجود ہے۔ لیکن کانٹ چاہتا ہے کہ اس معاملے کی تطبیق اسکے دیگر نظریات کے ساتھ قائم رہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ “ایک اچھا شخص بننے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟” کے اصول Categorical Imperative سے اخذ ہونے چاہییں۔ اس لئے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ذیل میں جو کچھ کہا جا رہا ہے اسکا تعلق کسی “انسان کو جانچنے سے متعلق” ہے نہ کہ اسکے افعال سے متعلق ہے۔ کیونکہ کسی شخص کے اعمال درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی، وہ اعلیٰ اخلاق کا حامل بھی ہو سکتا اور ہلکے اخلاق کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اخلاق سے گرا ہوا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات بجا ہے کہ ایک شخص کے اعمال اسکے اخلاق کے معیارکا تعین کرتے ہیں لیکن اسکے لئے ہمیں صرف اعمال کو پرکھنے اور جانچنےکی بجائے ذرا زیادہ آگے تک جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں کانٹ کا استدلال یہ ہے کہ ایک شخص کے اچھے یا برے ہونے کا دارومدار، اسکے اعمال کے محرکات (نیت، motivation) پر منحصر ہے نہ کہ اسکے اعمال کے نتائج پر۔ اس motivation سے کانٹ کی مراد وہ بنیادی وجہ (نیت) ہے جو کسی عمل کے انجام پذیر ہونے کی بنیاد بنتی ہے۔ کانٹ کا مزید استدلال یہ ہے کہ ایک شخص اعلیٰ اخلاق کا حامل اس وقت ہو سکتا ہے جب اعلیٰ اخلاق کیلئے motivated ہو یعنی اسکا کہنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی اچھا کام سرانجام دیتا ہے تو اس میں اسکا “آزاد ارادہ اور آزاد فیصلہ” شامل نہیں ہوتا اس لئے اس کام کی کوئی اخلاقی بنیاد اور اخلاقی معیار نہیں ہوتا۔ یعنی کانٹ کے مطابق انسان کا آزاد ارادہ، فیصلہ، نیت اور شعوری کاوش ہی ، ایک معیاری اخلاقی عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں ، محض جبلی محرک اعلیٰ اخلاق کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ اسکو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کریں میری لاٹری نکل آتی ہے اور اب میں سوچتا ہوں کہ اس پیسہ کا کیا کروں؟ اب میرے ذہن میں آتا ہے اسکا استعمال کچھ اس طرح کرنا چاہیے کہ اسکا “بھرپور مزا اور لطف” آجائے، پہلے میرا دھیان دنیا بھر کی سیر کی طرف جاتا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے کہ نہیں شاید یہ رقم کسی خیراتی ادارے کو دینے سے زیادہ لطف آئے گا کیونکہ جب غریب لوگوں کی مدد ہوگی اور وہ خوش ہونگے تو اسکا لطف الگ ہی قسم کا ہوگا چنانچہ میں ساری رقم ایک خیراتی ادارے کو دے دیتا ہوں۔ اب کانٹ کے دلائل کے مطابق میرا یہ عمل کسی اعلیٰ اخلاق کا حامل نہیں ہے کیونکہ میں نے جو کچھ کیا محض لطف اندوز ہونے کیلئے کیا، اس لئے میرا یہ عمل اخلاقی حوالے سے قابل تعریف نہیں ہے کیونکہ اس کے پیچھے، مزے کے حصول کی میری ایک ذاتی خواہش کارفرما ہے۔ یہ تو محض اتفاق ہے کہ خیراتی ادارے والے خوش قسمت تھے جن کے ہاتھ یہ رقم لگ گئی ورنہ اگر مجھے مجرے دیکھنے میں زیادہ لطف محسوس ہوتا تو شاید میں یہ رقم طوائفوں پر لٹا دیتا۔ اس لئے ثابت یہ ہوا کہ کسی عمل میں اخلاقی معیار اور اخلاقی قدر اس وقت تلاش کی جا سکتی ہے جب وہ عمل کسی سوچے سمجھے منصوبے، ارادے، نیت کے اظہار کے تحت ہو اور اسے ایک فرض سمجھ کر ادا کیا گیا ہو۔ اور اس کی ادائیگی کے پیچھے آپکی ذاتی پسند و ناپسند شامل نہ ہو بلکہ اسے آپ فرض عین سمجھ کر کر رہے ہوں۔

اسی طرح کانٹ کی طرف سے اعمال کے نتائج کو زیادہ اہمیت نہ دینے کی وجہ اس مثال سے سمجھی جا سکتی ہے۔ آپ تصور کریں کہ دو دوست رات گئے ایک شراب خانے میں جاتے ہیں اور خوب پیتے ہیں، اسکے بعد دونوں اپنی اپنی گاڑیاں خود چلاتے ہوئے واپس گھروں کو لوٹتے ہیں، واپسی کے سفر کے دوران ایک شخص نشے کی حالت میں ڈرائیونگ تو بہت خراب کرتا ہے لیکن خوش قسمتی سے صحیح سلامت گھر پہنچ جاتا ہے جبکہ دوسرا بد قسمت شخص راستے میں حادثے کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کی گاڑی سے ایک راہگیر ٹکرا کر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں کانٹ کا استدلال یہ ہوگا کہ دونوں شرابیوں کے اعمال کی بنیاد پر تو یہی کہا جائے گا کہ دونوں ایک جیسے برے ہیں، ایک شخص کا خوش قسمتی سے بچ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے شخص سے اچھا ہے، دونوں کی ترجیحات اور نیتیں ایک جیسی ہی تھیں اور دونوں نے ایک دوسرے سے مختلف اعمال انجام دینے کی کوئی سعی بھی نہیں کی۔ اسی مثال سے اچھے اعمال سر انجام دینے والوں کے بارے میں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر دو لوگ یکساں طور پر اچھی نیت اور ارادے سے اچھے اعمال سر انجام دینے کی کوشش کررہے ہوں اوراتفاق سے ایک کے اعمال کے نتائج اچھے نکل آئیں اور دوسرے کے نہ نکلیں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتےکہ ایک شخص تو اعلیٰ اخلاق کا حامل ہے اور دوسرا نہیں بلکہ دونوں اعلیٰ اخلاق کے حامل اشخاص ہیں۔

اوپر جو لاٹری نکلنے کی مثال دی گئی ہے اسے ذرا دوبارہ ذہن میں لائیے اور تصور کیجئے کہ وہ شخص لاٹری والی رقم کسی دور افتادہ گائوں کے ان غریب بچوں کی جانیں بچانےکیلئے دے دیتا ہے جو کئی دنوں سے بھوک و افلاس کا شکار ہیں۔ لیکن جیسےہی یہ خوراک اور امدادی سامان اس گائوں پہنچتا ہے، کچھ ڈاکو اس کی خبر سن کر اس گائوں پر حملہ کر دیتے ہیں اور سارا سامان لوٹ لیتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ گائوں کے تمام بچوں اور دیگر لوگوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ اب اگر آپ غور کریں تو گائوں کے بھوکے بچوں کی مدد کرنے کیلئے سوچے گئے نتائج intended consequences تو درست تھے لیکن عملی طور پر نکلنے والے نتائج actual consequences درست نہیں تھے۔ اب اس صورتحال میں کانٹ کا استدلال یہ نہیں ہے کہ اخلاق جانچتے وقت ہمیں صرف سوچے گئے اچھے نتائج intended consequences پر جانا چاہیے بلکہ اسکا دعویٰ یہ ہے کہ سوچے گئے نتائج اور حقیقی طور پر نکلنے والے نتائج سے قطع نظر، اعلیٰ اخلاق کو اعمال کے پیچھے کارفرما motivation سے جانچا جا نا چاہیے۔ کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوچے گئے نتائج تو درست ہوتے ہیں لیکن ان اعمال کےپیچھے کارفرما motivation میں لالچ اور خود غرضی کا عنصر موجود ہوتا ہے اس صورت میں ان کو اعلیٰ اخلاق کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اعلیٰ اخلاق کا حامل صرف انہی اعمال کو قرار دیا جا سکتا ہے جن کے پیچھے کارفرما motivation درست ہو۔

اوپر دی گئی مثال کے بارے میں ایک محتاط قاری یہ سوچ سکتا ہے کہ چونکہ ایک خودغرض شخص کے intended consequences کا مقصد خوشی اور مزے کا حصول تھا اس لئے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ intended consequences کی اس معاملے میں کوئی اہمیت ہے۔ اوروہ قاری یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ جب کانٹ کا یہ دعویٰ ہے کہ اگر ہمارے ارادے اور نیت میں کوئی خود غرضی اور لالچ ہو توہمارے اعمال اعلیٰ اخلاقی اعمال قرار دئے جانے کے مستحق نہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اپنی خوشی کے بارے میں سوچنا، کانٹ کے نزدیک ایک درست عمل نہیں۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں، قاری کا اس انداز سے سوچنا ایک غلط فہمی ہے، کانٹ وہ کچھ نہیں کہہ رہا ہے جو قاری نے یہاں سمجھا ہے۔ کانٹ نہ مزے اور خوشی کے حصول کے خلاف ہے اور نہ ہی مزے اور خوشی کے حصول کے معاملات کو خود غرضانہ اورغیر اخلاقی قرار دیتا ہے جب تک کہ اس حصول کے دوران کوئی غیر اخلاقی عمل سرزد نہ ہو، ہاں اگر اس خوشی اور مزے کا حصول کسی غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے ہو تو پھر دوسری بات ہے۔ مثلاً اگر آپ کو آئس کریم پسند ہے تو اس سے آپ ضرور لطف اندوز ہوں اس میں اس وقت تک کوئی مضائقہ نہیں جب تک آپ آئس کریم کسی غیر اخلاقی عمل سے حاصل نہیں کرتے۔ یعنی آئس کریم سے لطف اندوز ہونے کا عمل بذاتہ نہ اخلاقی ہے اور نہ غیر اخلاقی بلکہ ایک نیوٹرل عمل ہے۔ اخلاقی اور غیر اخلاقی اعمل کی تمیز تو اس فرض(ڈیوٹی) سے ہوتی ہے جس کی ادائیگی اور عدم ادائیگی سے کوئی عمل اخلاقی یا غیر اخلاقی بنتا ہے۔ بہت سے اعمال جو جائز ہیں اور انکے ساتھ کسی فرض کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کا معاملہ منسلک نہیں ہے وہ سب کانٹ کی نظر میں نیوٹرل اعمال ہیں۔

کانٹ کے فلسفہ اخلاق کا نچوڑ یہ ہے کہ ایک اچھا اور اخلاق کا حامل شخص وہ ہوتا ہے جو اپنا فرض اس لئے ادا کرتا ہے کہ یہ اسکا فر ض ہے۔ اس فرض سے لطف اندو ز ہونا یا نہ ہونا ایک اضافی بات ہے یعنی اگر فرض کی ادائیگی میں لطف نہ بھی آرہا ہو تو بھی اسکی ادائیگی فرض ہے۔ یعنی اچھا شخص وہ ہے جو اچھائی کو اچھائی کے طور پر کرتا ہے۔

اب ہم کانٹ کی مذکورہ تھیوری کے مسائل کی طرف آتے ہیں اور اسکے دئے گئے اصولوں پر ہونے والی تنقید کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسکا آغاز means and ends principal سے کرتے ہیں۔ کانٹ کے نزدیک جو چیز انسان کو اخلاقی وجودMoral being بناتی ہے وہ دراصل اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا نام ہے کہ ہم ایک آزاد اور عقل و شعور کی حامل مخلوق free and rational creature ہیں۔ کسی کو اپنے مقصد یا مقاصد کا ذریعہ سمجھنا گویا اسکے بارے میں اس مذکورہ حقیقت کا اعتراف نہ کرنے کے مترادف ہے۔ اصل میں کانٹ free will کی تعریف اس تصور اور مفروضے کے ساتھ کرتا ہے کہ ہر واقعے کا ایک سبب ہونا ضروری ہے اور اس سبب کو قانون قدرت کے مطابق ہونا چاہیے اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ free will کو قانون قدرت کے مطابق ہونا چاہیے بصورت دیگر free will محض ایک حماقتabsurdity ہوگی۔ کانٹ کے نزدیک بے جان چیزیں ہمیشہ بیرونی وجوہات سے متحرک ہوتی ہیں جبکہ انسان بعض اوقات اندرونی وجوہات کے مطابق کام کرتا ہے اور وہ مخصوص قوانین جن پر آزاد ارادہ free will عمل کرتا ہے وہ اخلاقی قوانین کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ اب یہاں مسئلہ اس وقت الجھ جاتا ہے جب اخلاقی قوانین کو اس کائنات میں جاری و ساری قوانین قدرت کے مساوی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اخلاقی قوانین کی نوعیت، اس کائنات میں موجود قوانین قدرت جیسی نہیں جن کے مطابق کائنات کی تمام اشیاء محو حرکت ہیں۔ اور نہ ہی ہم کانٹ کی تھیوری کو بچانے کی خاطر انہیں متبادل قرار دے سکتے ہیں جس طرح شاید کانٹ چاہتا ہے۔ اور اگر ہم ایسا نہ کریں اور یقیناً نہیں کریں گے کیونکہ کائنات کی دیگر اشیاء تو قوانین قدرت پر عمل کرنے کیلئے پابند ہیں لیکن انسان اس طرح پابند نہیں بلکہ وہ اپنے عمل اور ارادے میں آزاد ہے لہذا ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنا پڑے گا کہ اگر ہم کائنات کی دیگر اشیاء کی طرح قوانین کے پابند کر دئے جائیں تو پھر ہم آزاد مخلوق نہیں کہلاسکیں گے۔ اسی طرح اگر انسان کسی قانون کا پابند ہوتے ہوئے عمل کرے گا تو پھر اسکے غلط اعمال کی ذمہ داری اس پر کیسے ڈالی جاسکتی ہے۔ اگر کانٹ کے اصول کو درست مان لیا جائے تو پھر کسی انسان پر اسکے غلط اعمال کی ذمہ داری اس لئے عائد نہیں ہوگی کہ اسکے اعمال کسی بیرونی قانون کے جبر کا نتیجہ ہونگے۔ اسی طرح جب کانٹ کہتا ہےکہ ہمارا ارادہ ہی ہمارے اعمال کیلئے ایک قانون ہے تو اس سے اسکی مراد اسکے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ ہمیں صرف اس اصول Maxim پر عمل کرنا چاہے جوکہ بذات خود ایک عالمگیر قانون ہے۔ لیکن کانٹ اس سلسلے میں وضاحت نہیں کرتا اس لئے مسئلہ الجھ جاتا ہے۔ اگرا رادہ ہی قانون ہے تو پھر ہمیں کسی اور قانون Maximپر عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے یا کیوں ضرورت پیش آ سکتی ہے؟

اسی طرح کانٹ کی یہ تجویز کہ ہمیں اپنے مقصد means کے حصول کیلئے دوسروں کو بطور وسیلہ ends کے استعمال نہیں کرنا چاہیے ایک مبہم بات ہے اور وہ اسکی وضاحت نہیں کرتا کہ کسی شخص کو بطور وسیلہ end استعمال کرنے کا مطلب اسکے وجود existence کو بطور وسیلہ end استعمال کرنا ہے یا اس سے مراد محض اسکی خوشی happiness کوبطور وسیلہ end استعمال کرنا ہے۔ شاید اس حوالے سے دوسری بات ہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ خوشی کا حصول ہی تو وہ بنیادی چیز ہے جس کے لئے ہم دوسرے لوگوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر اس کو درست مان لیا جائے تو اسکی تطبیق کانٹ کی تھیوری کے ساتھ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ مائل ہونے کی صفت (غرض) inclination کو تو پہلے ہی سراسر نادانی worthless قرار دے چکا ہے۔ اب الجھن اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب ہم کانٹ کے مطابق اخلاقی خوبی moral virtue کو خوشی اور طمانیت happiness سے زیادہ بہتر قرار دیتے ہیں اور اس اخلاقی خوبی کیلئے اپنی خوشی کو قربان کر دینا چاہتے ہیں تو کیا اس اخلاقی خوبی کی خاطر دوسروں کی خوشی کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے؟؟ اب اگر ہم اخلاقی خوبی کی خاطر دوسروں کی خوشی کو قربان ہونے دیں تو اخلاقی خوبی means کہلائے گی اور خوشی end کہلائے گی اور اگر خوشی کی خاطر اخلاقی خوبی کو قربان ہونے دیں تو خوشی means کہلائے اور اخلاقی خوبی end کہلائے گی۔ اب وجود، اخلاقی خوبی اور خوشی میں سے کس کو کس کی خاطر قربان ہونے دیا جائے ایک بہت بڑ ا مخمصہ ہے اور اس سے باہر آنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی طرح کانٹ کہتا ہے کہ دوسرے شخص کے ساتھ کئے گئے وعدے کو توڑنا گویا اسکو ایک end کے طور پر استعمال کرنا ہے اب ظاہر ہے وعدہ توڑنے سے کسی کی جان تو نہیں جاسکتی لہذا وعدہ توڑ کر کسی کو بطور end استعمال کرنے سے مراد یہی ہو سکتی ہے اس وعدے سے وابستہ دوسرےشخص کی خوشی قربان ہو جائے گی۔ لیکن ہر وعدہ توڑنے سے دوسری کی خوشی کا قربان ہونا ہمیشہ ضروری تو نہیں۔ ہو سکتا ہے کبھی وعدہ توڑنے سے دوسری کی خوشی بڑھ جائے یعنی اگر دوسرا شخص وعدے کے وفا ہونی کی صورت میں تنگی محسوس کر رہا ہو اور ٹوٹنے کی صورت میں خوش ہو تو پھر ایسی صورت حال میں تو وعدہ کا وفا ہونا گویا دوسرے شخص کو بطور end استعمال کرنا ہوگا۔ اگر وقت پرقرض ادا نہ کرنا، اس لئے ایک غیر اخلاقی عمل ہے کہ قرض ادا نہ کرنے والا شخص اپنی خوشی کی خاطر دوسرے کو بطور end استعمال کر رہا ہوتا ہے تو پھر اسی دلیل کی بنیاد پر قرض کی وصولی، غیر اخلاقی عمل کیوں نہیں ہے کیونکہ اس طرح بھی تو قرض کا مطالبہ کرنے والا اپنی خوشی کی خاطر، قرض ادا کرنے والے کو بطور end استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر دوسروں کی مدد کرنے سے انکار کرنا گویا اپنی انا کی خاطر دوسروں کی خوشی کو قربان کرنا ہے اور غیر اخلاقی ہے تو کیا جب ہم اپنی مشکل اورضرورت کے باوجود دوسروں کی مدد کررہے ہوتے ہیں تو دوسروں کی مدد کی خاطر اپنی خوشی کو قربان نہیں کر رہے ہوتے؟؟تو کیا اس طرح اپنی خوشی کو دوسروں کیلئے قربان کرنا بھی اتنا ہی غیر اخلاقی نہیں کہلائے گا؟اسی طرح اگر میرے پاس کچھ فاضل رقم ہے اور میں اسے کسی خیراتی کام کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہوں اور خیراتی کاموں کی اقسام اور تعداد بہت زیادہ ہے تو جب میں اسے کسی ایک قسم کیلئے مختص کروں گا تو لازمی طور پر کوئی دوسری قسم کا کام اسکی خاطرقربان ہو جائے گا تو کیا یہ قربانی کانٹ کی تھیوری کے مطابق گویا اسے بطور endکے استعمال کرنا ہی کہلائے گی؟؟ اگر ہم اس مشکل میں پڑ جائیں تو اس طرح تو ہمارے پاس choice ہی ختم ہو جائے گی۔ اور ہم کسی کام پر بھی ایک یقین کے ساتھ کچھ بھی خرچ نہیں کر پائیں گے۔

اسی طرح کانٹ کے خیال میں جھوٹ بولنا ہمیشہ غلط اور غیر اخلاقی ہوتا ہے، اور ہمیں وہی افعال سرانجام دینے چاہیں جو عالمگیر قانون اخلاق کے مطابق ہوں، ہم اگر جھوٹ بولیں گے تو گویا ہم اس اصول پر عمل پیرا ہونگے کہ جھوٹ بولنا جائز ہے۔ یہ اصول آفاقی طور پر نہیں اپنایا جا سکتا کیونکہ اس طرح یہ اصول باہم متضاد و متناقض ہو جائے گا، لوگ ایک دوسرے پر یقین کرنا چھوڑ دیں گے اور جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے ہمیں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اس استدلال میں مسئلہ یہ ہےکہ ہم محض اس اصول کہ “جھوٹ بولنا جائز ہے”کو اپنائے بغیر جھوٹ بول سکتے ہیں اور بجائے اسکے ہم شایدایک ایسے اصول کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں جس کا تعلق مخصوص حالات سے ہوتا ہے جیسے “جھوٹ بولنا اس وقت جائز ہے جب اس سے جان بچ سکتی ہو”۔ یہ اصول تضاد کے بغیر ایک عالمگیر قانون بنایا جا سکتا ہے۔ اور ایسا نہیں ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر یقین کرنا صرف اس وجہ سے چھوڑ دیں کہ انہیں یہ معلوم ہے کہ لوگ جھوٹ بولنے پر جانیں بچائیں گے۔ اور یہ جان بچانے والی صورتحال تو شاذ و نادر ہی پیش آتی ہے اور بصورت دیگر تو لوگ ہر وقت سچ ہی بولیں گے۔ اور اسی طرح انسانی جان لینے کو بھی مخصوص حالات میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً اپنی جان بچانے کیلئے جب اور کوئی وسیلہ میسر نہ ہو تو حملہ آور پر جوابی حملہ کرکے اسکی جان لی جا سکتی ہے اور اس سے مذکورہ اصول پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔

یہ ضروری نہیں کہ کانٹ کے نظریہ کی تشریح اس طرح کی جائے کہ تمام حالات میں جھوٹ بولنا منع قرار دیا جائے (جیسا کہ کانٹ نے خود کیا ہے)۔ کہاوتوں Maxims اور ان سے اخذ ہونے والے عالمگیر قوانین کی تشریح اس انداز سے بھی کی جا سکتی ہے کہ وہ صورتحال کی تمام متعلقہ خصوصیات کی عکاسی کرتی ہو۔ جیسا کہ اوپر قتل اور قاتل کی مثال دی گئی ہے، اگر آپ اس معاملے پر غورکریں اور فرض کریں کہ آپ اس صورتحال سے دوچار ہیں اور آپ اس شخص سے جان بچانے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں جو بصورت دیگر آپ کی جان لینے کے درپے ہے تو لازمی بات ہے کہ آپ اس عالمگیر کہاوت Maxim کہ “ہر کوئی کبھی نہ کبھی ضرور جھوٹ بولتا ہے” کی تشریح اس طرح کریں گے کہ “ہر کوئی کبھی نہ کبھی کسی معصوم جان کو ایک ظالم شکاری سے بچانے کیلئے ضرور جھوٹ بولتا ہے”۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کہاوت Maxim زیادہ قوی ہے اور Categorical Imperative کا امتحان پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے پیچدہ کہاوتوں Maxims پر کانٹ کے نظریہ کا اطلاق کرنا اور پھر اسکا فہم حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح کانٹ جب اخلاقی وجوب کی بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہر انسان پر باہر سے ایک ذمہ داری یا فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہو۔ کانٹ وہ واحد فلسفی نہیں جو اس تصور کو استعمال کرتا ہے اور بھی کئی فلسفیوں نے اسے اپنے انداز سے استعمال کیا ہے۔ موجودہ بحث میں اس کا اطلاق صرف اس حد تک ہے کہ ایک انسان یا غیر ذی روح چیز کے کردار پر اسکا باہر کا ماحول کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ اسکو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے، فرض کریں میں فریزر سے برف کا ایک ٹکڑا نکالتا ہوں، برف کا نقطہ پگھلائو 32 F ہے اور کمرے کا درجہ حرارت 47F ہے۔ اب برف پگھل جاتی ہے تو ہم اس سے کیا سمجھیں کہ برف کے پگھلنے میں کونسا عنصر زیادہ ذمہ دار ہے، برف کی کیمیائی خصویات (اندرونی وجہ) یا کمرے کا درجہ حرارت (بیرونی وجہ)؟ یہ سوال بے معنی ہے کیونکہ کوئی بھی عمل جب کسی خاص ماحول میں سرزد ہوتا ہے تو اس عمل کے اندر پائی جانی والی داخلی خصوصیات اور ماحول کی طرف سے اثر انداز ہونے والے بیرونی عوامل کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کونسے عوامل زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، اندرونی یا بیرونی؟ نہ ہی کسی عمل کے بارے میں حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس پر صرف اندرونی عوامل اثر انداز ہوئے یا صرف بیرونی عوامل اثر انداز ہوئے۔ اور انسان کی طرف سے کسی اخلاقی عمل کو ڈیوٹی سمجھ کر کرنا یا اسے خالصتاً فرض شناسی کے طور پر انجام دینے کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں میں نے کسی قرض چکانا ہے اور اسے ایک ہزار روپے واپس کرتا ہوں کیونکہ میں وعدہ کو پورا کرنے کے فرض پر یقین رکھتا ہوں لیکن بہت سارے دیگر عوامل میں سے میرا، اس یقین کے تحت کیا جانے والا عمل صرف ایک عمل ہوگا جس کو empirical کہا جا سکتا ہے یا اسی مثال کو یوں بیان کر لیں کہ میں کسی غریب آدمی کو ہزار روپے اس لئے دیتا ہوں کہ میں خیرات کرنے کے فرض پر یقین رکھتا ہوں تو اس معاملے میرا عمل صرف ایک سبب ہے، مگر اس غریب شخص، اسکی غربت کے ساتھ دیگر عوامل بھی ہیں جو اس کام میں کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ اب حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ میرے خیرات کرنے کے اس عمل کا حقیقی سبب وہ خاص شخص ہوگا، اسکی غربت ہوگی، میری فرض شناسی ہوگی یا میری کوئی پوشیدہ غرض Inclination ہوگی۔ لہذا یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہوگی کہ میرے اس عمل کا اصل محرک محض فرض شناسی کو قرار دیا جائے، محض میری جبلی، جذباتی، فطری تحریک کو قرار دیا جائے، یا محض اس شخص یا اسکی غربت کو قرار دیا جائے۔ اسی طرح غیر ذی روح اشیاء کے اعمال کو بھی نہ ہی خالصتاً اندرونی وجوہات کی بنا پر اور نہ ہی خالصتاً بیرونی وجوہات کی بنا پر قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہمارے جسم پر باہر (ماحول) کے جبر کو ماننا درست ہے تو ہمارے دماغ کی طرف سے ہمارے اعمال کا جزوی طور پر تعین کسی عقیدے، یقین وغیرہ یا کسی ممکنہ نفسیاتی وجہ کے مقابلے میں کسی طرح بھی کم درجے کا اندرونی جبر نہیں ہے۔ لیکن ہمارے پاس اس امر کو یقین کر لینے کی کوئی معقول دلیل نہیں ہے کہ ہم ضروری طور پر، بیرونی وجوہات کی اثر پذیری کو، اندرونی وجوہات کی اثر پذیری کے برابر تصور کریں۔

کانٹ کی تھیوریز کے کچھ پہلوئوں پر تنقید یا اسکے کچھ مفروضات کے مسترد ہو جانے سے کانٹ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ کانٹ دنیا کے چند بڑے فلاسفہ میں سے ایک تھا اور اسکے فلسفہ اخلاق کے مختلف پہلوئوں پر جس قدر فلاسفہ نے تنقید کی ہے اس سے کہیں زیادہ تعداد میں اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کانٹ سے متاثر ہونے والوں میں سر فہرست کارل مارکس ہیں، کارل مارکس نے اگر چہ کانٹ کے کئی مفروضات کو مسترد کیا لیکن اسکے باوجود اسکے عالمگیریت اور آفاقیت کے بارے میں خیالات کانٹ جیسے ہی ہیں، مارکس نے آزادی اور کمیونسٹ سوسائٹی کا تصور کانٹ سے متاثر ہو کر ہی پیش کیا۔ جرمن فلسفی ہیبر ماس کی theory of discourse ethics کے بارے میں اسکا اپنا دعویٰ ہے کہ وہ کانٹ کے فلسفہ اخلاق کی ایک اصلاح شدہ شکل ہے۔ کارل پاپر نے بھی اپنا فلسفہ اخلاقی، کانٹ کے فلسفہ میں کچھ ترامیم کرکے ہی پیش کیا، جان رالز کی Theory of Justiceبھی کانٹ کے فلسفہ اخلاق سے متاثر ہو کر لکھی گئی، فرانس کے مشہور ماہر نفسیات Jacques Lacan نے تحلیل نفسی کی بنیاد کانٹ کے فلسفہ اخلاق میں ہی تلاش کی، Thomas Nagel بھی فلسفہ اخلاق اور سیاسی فلسفہ میں کانٹ سے ہی متاثر تھا، آج کے دور کے فلاسفہ میں بھی Onora Neill (جان رالز کا شاگرد)، Marcia Baron، Mark Manson اور کئی دیگر فلسفی جو جدید دور کے فلسفہ اخلاق پر کام کر رہے ہیں وہ بھی کانٹ سے متاثر ہیں۔ فریڈرک شیلر نے کانٹ کے فلسفہ اخلاق کے کچھ پہلوئوں پر تنقید کی لیکن بہت سے پہلوئوں کو سراہا، مائیکل فوکالٹ بھی کانٹ پر تنقید کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو Critical Philosophy کی اس روایت کا ہی ایک فرد تسلیم کرتا ہے جسے کانٹ نے قائم کیا۔ جان اسٹورٹ مل بھی کانٹ کے فلسفہ اخلاق کو مسترد نہیں کرتا بس صرف اس حد تک تنقید کرتا ہے کہ کانٹ یہ نہیں سمجھ سکا کہ اخلاقی قوانین جس اخلاقی وجدان سے ثابت ہوتے ہیں اسکی بنیاد افادی قوانین پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔ کانٹ کے فلسفہ اخلاق کو مکمل طور پر مسترد کرنے والے صرف چار فلسفی ہیں جن میں ہیگل، شوپنہاور، نٹشے اور ژاں پال سارتر شامل ہیں۔

حوالہ جات:
1۔ Kantian Ethics: Professor Elizabeth Anscombe (1920-2001)
2۔ Moral Philosophy According to Emmanuel Kant: Emrys Westacott
3۔ A Critique of Kantian Ethics: Michael Huemer

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ایک بہت ہی اچھا مضمون ہے۔ کانٹ کے فلسفہ اخلاق کی باتیں اسلام کے کافی قریب ہیں۔ اس فلسفہ پر تنقیدی دلائیل اپنی جگہ ۔ تاہم مجمون میں موجود باتیں مفید اور مثبت ہیں۔ میری رائے میں انسانی شعور کی بلندی کے باوجود اس میں کچھ کمزور پہلو ہو سکتے ہیں کیونکہ انسانی ذیہن کبھی عقل کل نہیں ہوسکتا۔ اور ایسے ہی عالم گیر سچائیوں میں بھی کہیں کہیں استثنائی پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اور ان استثنا؍ کے باوجود ان کے افادی پہلو میں کمی نہیں ہوتی

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20