وحدت … اور وحدت الوجود! —– ڈاکٹر اظہر وحید

0

دین کلمۂ وحدت پر قائم ہے۔ ایک خدا کے ماننے والے اسِ کائنات میں اُسی کی فرماں روائی تسلیم کرتے ہیں۔ کلمہ ٔ طیبہ‘ کلمہ ٔوحدت ہے… کلمہ ٔ وحدت کے مانی، یزداں اور اہرمن کے قائل نہیں۔ وہ خیر کو یزداں سے اور شر کو اہرمن سے منسوب نہیں کرتے،  وہ کسی دوئی کے قائل نہیں۔ وہ مانتے ہیں… اور پھر ماننے چلے جانے کی برکت سے اُن کے شعور میں ایسی وسعت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ماورائے اسَباب بھی جاننے بھی لگتے ہیں…یعنی اُن کا جاننا اسَباب و علل سے ماورا ہو جاتا ہے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ اسِ کائنا ت میں ایک ہی ذات کا امَر جاری و ساری ہے، خیر اور شر اُسی کی خلقت ہیں، نور اور ظلمت دونوں اُسی کے خلق کردہ عوالم ہیں۔ شر کی پروردہ قوتیں اُسی پروردگار کے اذِن سے نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمِ خلق میں آگ اور پانی ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن ایک ہی خالق کے اذِن کے تحت کبھی پانی آگ کو بجھا دے گا اور کبھی آگ پانی کو بھاپ بنا کر اڑُا دے گی۔ وہ ذات جو فرعون کو طاقت، حکومت اور مہلت دیتی ہے، وہی ذات اُسے نشانِ عبرت بنانے کیلئے انسانوں میں موسیٰ اور دریاؤں میں نیل کو مامور کردیتی ہے۔ فرعون کی طاقت بھی ربِ موسی و ہارون ہی کے اذِن کے تحت ہے۔ کوئی مخلوق اپنے خالق کی قدرت و حکمت کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ خالق ہمہ حال اپنی ہر مخلوق پر محیط ہے۔

ماننے سے جاننے کا عمل مشاہدہ ہے۔ صاحبانِ مشاہدہ… اُولی الالباب… بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت رکھنے والے لوگ … سَر کی آنکھوں کے علاوہ دل کی آنکھوں سے بھی دیکھتے ہیں… وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کے رب نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی… اگر نگاہ ِ حق سے دیکھا جائے تو کچھ بھی باطل نہیں۔ اگر خلق کی نگاہ سے دیکھیں تو حق و باطل کی آویزش دکھائی دیتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اہلِ مشاہدہ اِس کائنات کو مخلوق کی نگاہ سے نہیں بلکہ خالق کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں… تبھی تو پکار اٹھتے ہیں “ربنا ما خلقت ھٰذا باطلا”… حق نے باطل پیدا ہی نہیں کیا۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر دیکھیں، تو بھائی بہنوں میں اختلاف نظر آئے گا، کوئی شریف اور کوئی شرارتی دکھائی دے گا، شریف بمقابلہ شریر بحثیں ہوں گی، دلائل قائم کیے جائیں گے، ماں کی نگاہ سے دیکھیں تو سب اُسی کے ہیں، سارےہی پیارے ہیں،  ماں کی نگاہ رِحمت و ربوبیت میں سب ہی راج دُلارے ہیں… اُس کی آنکھ کے تارے ہیں۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے، مشاہدے کا بیان مشاہدہ نہیں ہوتا۔ وحدت الوجود کے بارے آپؒ کا کہنا تھا وحدت الوجود علم نہیں، مشاہدہ ہے۔ وحدت الوجود کا مشاہدہ کرنا ہر کلمہ گو کا حق ہے۔ ہر کلمہ گو کی ایک قلبی تمنا ہے کہ اُس کا قولی کلمہ بتدریج عملی کلمہ بنے اور پھر مشاہدے کی ایک واردات بنے۔ کلمہ ایک عجب راز ہے، یہ کلمہ گو کے اندر ایسا شعور بیدار کر دیتا ہے، جسے غیر کلمہ گو نہیں پا سکتا۔ شعر و ادَب کی دنیا میں اِس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شعری ذوق سے متصف شعور غالب و ذوق کا ہمنوا ہوجاتا ہے، لیکن کور ذوق، غالب کی غزل سرائی کو احمق کی بڑ سے زیادہ تعبیر نہ کرسکے گا۔ کلامِ مجید میں بتادیا گیا کہ شہید کو مردہ تصور نہ کرو، یہ زندہ ہیں مگر تم اُن کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے … شہید شہادت سے ہے،  شہادت مشاہدے سے ملتی ہے۔ عینی شاہد ہی شہادت دے سکتا ہے۔ سنی سنائی بات کرنے والا کبھی گواہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔ جب تک کوئی عینی شاہد نہ ہو، مقدمہ قائم نہیں ہوتا… معرفت کا مقدمہ بھی عینی شاہدوں پر قائم ہے۔

جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اسِ کے سوا کیا تر ے دیدا ر کی صورت ۔۔۔۔۔۔۔ ( واصفؔ)

مومنین اپنے صاحب کے علم پر یقین کے سبب علم الیقین کی دولت سے بہرہ ور ہوئے، عارفین کے مشاہدے کی آنکھ کھلی تو انہیں عین الیقین سے اپنا حصہ ملا… قلندر صفت کسی باقی باللہ نے خلق کو حق کی آنکھ سے دیکھا تو واصل بحق ہوا۔ درحقیقت علم عین سے شروع ہوتا ہے… اور میم کی صورت میں مکمل ہوتا ہے۔ مراد یہ کہ کسی بھی علم کا اعتبار مشاہدے کے ساتھ ہے،  مشاہدے کے بغیر لائبریریوں سے اُٹھایا گیا علم تنقید کی تلچھٹ تو دے سکتا ہے، تخلیق کا جوہر نہیں۔ تخلیق اوراُس کے مشاہدے کیلئے تخلیق کار کا ہمنوا ہونا لازم ہے۔ اس لیے جو لوگ صاحبانِ مشاہدہ سے تمسک نہیں رکھتے‘ وہ وحدت الوجود کی حقیقت کے شاہد نہیں ہوسکتے۔

جس طرح ادیبوں کے کام اور کلام کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اُن کے اوریجنل کام کو دیکھا جائے، محض نقادوں کے تبصرے پڑھ کر رائے قائم نہ کر لی جائے، اسِی طرح وحدت الوجود کے متعلق جاننے کیلئے ضروری ہے کہ اہلِ معرفت سے براہ راست کلام کیا جائے،  جن کا مشاہدہ ہے انہی سے سنا جائے۔ صاحبانِ معرفت جب علم الیقین کی ریاضت اور عین الیقین کی عبادت سے گزر کر حق الیقین کی وادی میں متمکن ہوتے ہیں تو اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں…اہلِ معرفت پر یقین سے دُور اور اُن کے علم سے محروم لوگ اسِ کےسوا اور کوئی راہ نہیں پاتے کہ اُن پر نقد کریں اور فتاوائے کفر صادر کر دیں۔

وحدت الوجود کے پے در پے مشاہدات کو تاریخ میں پہلی بار قلم بند کرنے کا شرف شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کو حاصل ہوا،  وحدت الوجود کے دَرک کیلئے، یا کم از کم اِس کا علمی ذائقہ چکھنے کیلئے ہمیں شیخِ اکبرؒ کے پاس جانا ہوگا!! اپنے معلوم علم پراندھا دھند بھروسہ کچھ دیر کیلئے چھوڑنا پڑتا ہے …کسی صاحبِ علم پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے… کسی نئے زاویۂ علم سے روشناس ہونے کیلئے!! مشاہدے کیلئے لازم ہے کہ اُس کی آنکھ میں دیکھا جائے یا اُس کی آنکھ سے دیکھا جائے۔

خیر اور شر سے بلند ایک فصیل ہے، جسے مقامِ اَعرا ف کہتے ہیں… اَعرا ف پر متمکن عارفین نے دیکھا کہ دونوں طرف کی قوتیں ایک ہی ذات کے اِذن سے مصروف عمل ہیں… یہ منظردیکھ کر انہوں نے دبے لفظوں میں کہا کہ دونوں فوجیں سرکاری ہیں۔ چت بھی اُس کی پت اُس کی… اُس کا منصوبہ ہر حال میں مکمل ہے۔ کبھی وہ نور کو پردۂ غیب میں لے جاتا ہے اور ظلمت کو نمایاں ہونے کا موقع دیتا ہے، کبھی ظلمت کوسوئے عدم لے جاتاہے اور نور کو مشہود کرتا ہے۔ بہرحال دن اور رات کی طرح انسانوں اور قوموں کے درمیان ایام کا اُلٹ پھیر اُسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ وہ ایک طرف شیر میں گوشت خوری کی سرشت پیدا کرتا اور دوسری طرف آہو کے گوشت پر پوست چڑھاتا ہے۔ وہ ایک ہے… ایک ہی ہے… وہ دوئی سے پاک ہے…اس کے عارف کی نگاہ بھی دوئی سے پاک ہوتی ہے۔ دوئی سے پاک آنکھ خلق میں دوئی نہیں دیکھ پاتی۔ یکسوئی میں محوہونے کے سبب بسا اوقات اُس سے نصا ب کے تقاضے فراموش ہو جاتے ہیں۔ نصاب کے پیمانوں میں تولنے والے اُسے خسارے میں تولتے ہیں، وہ اُس کے بیان کا تجزیہ کرتے ہیں، کہیں غلط گمان کرتے ہیں،  کہیں اپنے گمان میں درست ہوتے ہیں۔

وحدت الوجود کا بیان جب بھی نشر ہوا، خیر والوں کی طرف سے ہوا، نور کے سائبان میں محفوظ لوگوں نے ہی اسے بیان کیا۔ شر کے کیمپ میں پناہ گزیں‘ وحدت الوجود کے شعور کی سرحد سے کوسوں دُور ہیں۔ اسلئے اہلِ نصاب خاطر جمع رکھیں‘ وحدت الوجود کا بیان خیر و شر کو باہم خلط ملط نہیں کرنے کا۔ خالق اور مخلوق کہیں حلول نہیں کرتے۔ وحدت الوجود… بیا نِ توحید ہے۔۔۔۔۔ یہاں حلول، اشتمال، اتصال اور اشترا ک ایسے تصورات کا گذر نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ سب شرک کی ذیل میں آتے ہیں۔ اس تفہیم توحید کو قلمبند کرنے والے شیخِ اکبرؒ بنیادی اصول طے کر دیتے ہیں کہ بندہ، بندہ رہے گا خواہ کتنا بھی عروج کرے، اور رب رب رہے گا، خواہ کتنا ہی نزول کرے۔ وحدت الوجود ہندو ویدانت نہیں،  یہ ’’سب مایا اور فریبِ مایا‘‘ کی را م لیلا نہیں۔ اکبر کے دَور میں جاہلوں نے جب دینِ اکبری ایجاد کرنے کی کوشش کی اور اسلام اور ہندومت کو ملانے کی مہابلی اور بیربلی تدبیریں کی گئیں تو وحدت الوجود کی اصل روح کو بچانے کیلئے حضرت مجدد الف ثانیؒ نے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کر دیا،  وحدت الشہود‘ وحدت الوجود کے نظریے کا مخالف نہیں، بلکہ معاون ہے۔ سورج کی بجائے دھوپ کی بات کی گئی، اور حقیقت اپنے مقام پر قائم رہی !!

اُس ذات نے جب بھی مکالمہ کیا‘ اہلِ نور سے کیا ہے،  شر والوں سے وہ مخاطب ہی نہیں ہوتا۔ شر کے مکین اپنے گمان کی آواز کو حقیقت پر گمان کرتے ہیں۔ ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ اور ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ میں فرق تواہلِ ظاہر بھی جانتے ہیں۔ مومن کی شانِ فراست ہے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے… نور کو نور سے دیکھنے والے کلام اور الہام دونوں سنتے ہیں … اور بالیقین سنتے ہیں… علم الیقین والے کتاب سے پہلے کتاب والےؐ پر یقین رکھتے ہیں… وہ ذات کو بالذات جانتے ہیں،  اُن کی معرفت کا وسیلہ انسان ہے …اور انسان اُس کا نائب ہے،  خلیفہ ہے۔

زندگی اور موت کی تخلیق کی طرح خیر اور شر کی تخلیق بھی انسان ایسی صاحبِ اختیار مخلوق کا ظرف آزمانے کیلئے ہے۔ وحدت الوجود جزا اور سزا کے قانون کو معطل نہیں کرتا۔ اذِن اور امَر میں فرق ہے۔ شر کو اذِن حاصل ہے کہ وہ اسَباب کی دنیا میں خیر کو زیر کر سکتا ہے لیکن اُس نے اپنے اُولی الامر کے ذریعے انسان کو خیرکا راستہ اخِتیار کرنے کا امَر دے رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اُس کے امَر کی تعمیل میں خود کو مصروفِ مجاہدہ کرتا ہے، اور کون کج بحث اپنی گمراہی کو اُس کے اذِن سے منسوب کرکے اطاعت سے راہ ِ فرار اختیار کرتا ہے۔

بہرطور وحدت الوجود کوئی تعلیم نہیں،  کوئی تعلیمی نصاب نہیں،  ترتیب میں آنے والا بیان نہیں،  بلکہ عشقِ حقیقی کے کیف میں ڈوبی ہوئی مشاہدے کی ایک داستان ہے۔ عشق کی طرح اسِ کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے ‘جو تن لاگے، سو تن جانے!!

وحدتالوجود “اللہ نور السمٰوات والارض” کی مشاہداتی تفہیم ہے۔ “لا الٰہ الا اللہ” کی تفہیم مزید “لا مقصود الا اللہ”… اور لا مطلوب … “لا موجود الا اللہ”…!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20