زورآور ہیجان، جذبات اور انا پر قابو پانا آسان نہیں — Mark Manson — وحید مراد

0

WHY IT’S HARD TO GET OVER YOUR OWN FEELINGS — Mark Manson

آپ کے خیال میں جب آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے، کوئی تشویش ہوتی ہے، آپ کسی الجھن کا شکار ہوتے ہیں، گھبراہٹ ہو رہی ہوتی ہے، غصہ آرہا ہوتا ہے یا کسی اندیشے کی وجہ سے بے چین ہوتے ہیں تو یہ حالت بہت سنجیدہ اور اہمیت کی حامل ہوتی ہے یعنی آپ کے خیال میں کسی معاملے کے اہم اور سنجیدہ ہونے کیلئے ضروری ہے کہ سانس اکھڑی ہوئی ہو، چہرہ اترا ہوا ہو اور دل بجھا بجھا سا ہو حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔ یہ سب محض احساسات ہیں، انکے اپنے کوئی معنی نہیں ہوتے، ہم خود ان میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی معنی پہناتے ہیں اور یہ ہم فیصلہ کرتے ہیں کہ کونسی چیز زیادہ سنجیدہ اور اہم ہے اور کونسی کم سنجیدگی کی حامل اور کم اہم ہے۔ عام طور پر ہر شخص اپنی زندگی کا ہر کام دو طرح سے انجام دیتا ہے یا تو اس لئے کہ اس کام کو سر انجام دینا اسے اچھا محسوس ہو رہا ہوتا ہے یا پھر اس لئے کہ اس کا یقین ہوتا ہے کہ جو وہ کر رہا وہ ضرور اچھا یا درست ہی ہوگا۔ بعض اوقات یہ دونوں وجوہات باہم متناسب ہوتی ہیں اور بعض اوقات ان میں کوئی تناسب نہیں ہوتا اور ہم بس یونہی ایک کام کرنے کا سوچ لیتے ہیں کہ چلیں اسی کا مزہ لیتے ہیں جیسے نوجوان یار بیلی راہ چلتے چلتے یونہی طے کر لیتے ہیں کہ آج رات کو ہلہ گلہ ہوگا اور مزے کریں گے۔ نوجوانوں سے ہٹ کر بھی دیگر لوگوں میں مذکورہ دونوں وجوہات متناسب انداز میں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں جیسے ہر کسی کے ساتھ یہ معاملہ اکثر پیش آتا ہے کہ ایک چیز بہت اچھی محسوس نہیں ہور رہی ہوتی لیکن درحقیقت وہ بہت اچھی ہوتی ہے جسے فجر میں اٹھ کر عبادت کرنا، پھر جم جا کر ورزش کرنا، پھر وقت پر دفتر پہنچنا، دفتر سےواپسی پر اماں جان، نانی جان یا دادی جان کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑا ساوقت گزارنا اور انکا حال احوال جانناوغیرہ اور بعض اوقات ایک چیز بہت اچھی محسوس ہو رہی ہوتی ہے لیکن درحقیقت وہ بہت ہی بری ہوتی ہے جیسے تمام اخلاقی جرائم، عموماً ان کا ارتکاب کرنے والے کو وہ اعمال بہت اچھے محسوس ہو رہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسرے فرد، افراد یا سوسائٹی کے خلاف جرائم ہوتے ہیں۔

ہمارے اپنےاحساسات کے مطابق کوئی عمل کرنا بہت آسان ہے، ایک چیز کو محسوس کیا اور بس اسکے مطابق کچھ کر دیا، یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کو اگر کھجلی محسوس ہو رہی ہو اور آپ فوراً کھجا لیں، اسکے ساتھ تکلیف اور بوجھ سے نجات، اور ایک آرام، سکون، عافیت اور چین کا احساس وابستہ ہے۔ اس سے ایک فوری آرام، تسکین اور تشفی کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ یہ احساس جتنا جلدی آتا ہے اس سے زیادہ جلدی چلا جاتا ہے۔ لیکن اسکے برعکس صحیح اور غلط کے مطابق کوئی عمل کرنا نہایت مشکل کام ہے کیونکہ عام طور پر صحیح اور غلط کا تصور واضح ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسکے بارے میں سکون سے کہیں بیٹھ کر سوچنا اور غوروفکر کرنا ہوتا ہے ، نتائج کے حوالے سے متشکک ہونا پڑتا ہے، جذبات کے گھوڑے سے نیچے اتر کر ہر معاملے کی تہہ میں جانا پڑتا ہے۔ بہت مشکل سے ہی سہی مگر جب ہم واقعی کوئی مثبت کام سرانجام دیتے ہیں تو اسکے مثبت نتائج بہت دیرپا ہوتے ہیں اور برسوں تک ہم اپنے قرابت داروں، دوستوں اور ساتھیوں کو ان مثبت کاموں کے بارے میں بتاکر فخراورخوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اچھے اور صحیح کام کرنے سے ہماری خود اعتمادی بڑھتی ہے اورہماری زندگی میں معنویت کا اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا ہمیں اپنے احساسات کی پرواہ کئے بغیر صرف وہی کام کرنے چاہیے جو ہر وقت درست، صحیح اور مناسب کہلا سکیں۔ بظاہر یہ نہایت سادہ سی اصولی بات ہے لیکن حقیقت میں اتنی سادہ اور سہل نہیں کیونکہ ہر قسم کی فیصلہ سازی کا کام ہمارے ذہن اور دماغ کے سپرد ہے اور یہ ہمارے نفس کی پسند و ناپسند کا خیال رکھے بغیر کوئی فیصلہ بھی صادر نہیں کرتا، ہمارے دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ یہ کسی قسم کے ابہام یا غیر یقینی صورتحال کو پسند نہیں کرتا اور اس سلسلے میں کسی قسم کی تکلیف یا ناگواری کو برداشت نہیں کرنا چاہتا چنانچہ یہ تکلیف اور ناگواری سے بچنے کیلئے ہمیں باور کراتا ہے کہ صحیح اور درست کام صرف وہی ہے جو اسکو اور ہمارے نفس کو اچھا لگتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو معلوم ہے آپ کے بڑھتے ہوئے وزن اور بڑھتی ہوئی شوگر کی وجہ سے آپ کو آئس کریم وغیرہ نہیں کھانی چاہیے لیکن ہمارا دماغ اور نفس ہمیں باور کراتے ہیں کہ اتنی شدید گرمی میں پورا دن دفتر میں مغز کھپائی کرکے آئے ہو، اب تو اپنی پسندیدہ چیزوں سے تھوڑی دیر کیلئے لطف اندوز ہونے کا تمہارا حق بنتا ہے۔ آپ بھی کہتے ہیں کہ بات کچھ ٹھیک ہی محسوس ہو رہی ہے اور پھردو چمچ آئس کریم کھا لینے سے کونسی قیامت آ جائے گی، اور یوں دو چمچ سے ہونے والا یہ آغاز، نہایت بے شرمی کے ساتھ، دو پونڈ کے پیک کے چٹ کر جانے پر ہی اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امتحان میں چیٹنگ کرنا اچھی بات نہیں لیکن جب دماغ کہتا ہے کہ سارا سال جو پڑھنا تھا وہ تو تم نے پڑھ ہی لیا ہے اب اگر موقع سے فائدہ اٹھا کر اچھے جوابات نہ لکھے تو نمبر کم بھی آسکتے ہیں اور اسطرح اچھے کالج میں داخلہ ملنا مشکل بھی ہو سکتا ہے لہذا دوست کی بات مان لینے میں ہی اچھائی ہے۔ جو اچھا محسوس ہو رہا ہے وہی صحیح ہے۔ اسی طرح آپ کو ووٹ کی اہمیت اچھی طرح معلوم ہے اورآپ خود ہر ایک کےسامنے تقریریں کر رہے ہوتے ہیں کہ اس برے نظام کو بدلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ سب اچھے لوگ اپنے اچھے نمائندوں کو ووٹ دیں تاکہ نظام تبدیل ہو لیکن الیکشن سے ایک روز قبل آپ رات دیر تک موویز دیکھتے رہتے ہیں اور صبح جلدی اٹھتے ہی نہیں، دوپہر کو جب پولنگ بوتھ پر لمبی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں اس وقت آپ کا دل نہیں چاہتا کہ اتنی لمبی لائن میں لگ کر گھنٹوں انتظار کیا جائے لہذا آپ کا دماغ کہتا ہے کہ ایک میرے ووٹ نہ دینے سے کیا فرق پڑنا ہے لہذا جو دل کہتا ہے وہی اچھا ہے۔ اور اگر آپ بہت سے مواقع پر اسی طرح کرنے کے عادی ہو چکے ہیں تو لازمی بات ہے اب ہر موقع پر آپ کا دماغ کوئی نہ کوئی حیلہ، بہانہ تلاش کر ہی لیتا ہے اور آپ کو اس بات کا قائل کر ہی لیتا ہے کہ جو اچھا محسوس ہو رہا ہے وہی صحیح ہے۔ اور پھر آپ اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ احساسات کی بھی کوئی اہمیت ہوتی ہے اور یہ بھی matter کرتے ہیں۔ اور جب ایک مرتبہ آپ اس مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو پھر یہ سلسلہ یونہی چلتے رہنے کے امکانا ت زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اب آپ اپنے احساسات اور جذبات کے غلام بن چکے ہوتے ہیں۔ اور اپنے تئیں بہت پوتر سمجھتے ہوئے یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں کہ آپ ہی اس کائنات کا مرکز ہیں حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ اب اگر کوئی آپ کی غلطی کی نشاندہی کر دے تو آپ اسکی بات سننا تک سگوارا نہیں کرتے۔ اکثر نوجوان اس مخمصے کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کے بچپنے میں انکے والدین نے انہیں جذبات اور احساسات کے تحفظ کے ساتھ اس طرح پالا پوسا ہوتا ہے اور انکے ہر ارمان کو اس طرح پورا کیا ہوتا ہے کہ انکے لئے، انکے جذبات اور احساسات ایک بت کی مانند بن جاتے ہیں جنکی پرستش سے وہ بقیہ ساری زندگی منہ نہیں موڑ سکتے۔ بدقسمتی سے ان والدین نے ایسا اس لئے کیا ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی اپنی پوری زندگی انہی جذبات اور احساسات کے بتوں کی پوجا میں گزاری ہوتی ہے۔ اور ایسے لوگ اس معاملے میں اتنے حساس ہو جاتے ہیں کہ ایک منٹ کیلئے یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کا بچہ کسی بھی کام میں ذرا سی تکلیف اٹھائے۔ انہیں اس بات کا شعور نہیں ہوتا کہ ایک کامیاب زندگی کے حصول کی جدوجہد میں سیکھنے کے عمل کے دوران کچھ ناکامیوں کا منہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ ناکامیاں مصنوعی طور پر ہی کیوں نہ پیدا کی گئی ہوں۔ جس طرح ہمارا جسم نئے جراثیم سے اس وقت تک نہیں لڑ سکتاجب تک وہ ان سے واقف نہ ہو اور پہلے ان سے ہلکی پھلکی ہزیمت نہ اٹھا چکا ہو، اس ہلکی پھلکی ہزیمت کے دوران ہی ہمارے جسم کے اندر قدرتی طور پر لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے یا پھر ویکسین کےذریعے مصنوعی طور پر یہ صلاحیت پیدا کرنا پڑتی ہے تاکہ ہمارے جسم کا مدافعاتی نظام جراثیم کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت فعال ہو، اسی طرح جذباتی زندگی میں بھی ضروری ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے اور اگر قدرتی طور پر ایسا نہ ہو رہا ہو تو سیکھنے کے عمل کے دوران مصنوعی طور پر اس کا بندوبست کرنا ضروری ہوتا ہے کہ بچے کو مختلف مراحل پر مصنوعی ناکامیوں کا سامنا کرایا جائے تاکہ اس کے اندر مصیبتوں، ناکامیوں اور خراب صورتحال کو سہنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے ایک ناکامی ہوتی ہے۔

اگر جذبات اور احساسات کو کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ آزاد اور خودمختار ہوجاتے ہیں لیکن نہ میرے جذبات و احساسات کا تجربہ آپکو ہو سکتا ہے نہ آپکے جذبات و احساسات کا تجربہ میں کر سکتا ہے، ہر آدمی ان جذبات کا تجربہ خود ہی کرتا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ جذبات اور احساسات کسی بھی معاملے میں کوئی راہنمائی نہیں کر سکتے، آپ کے جذبات آپ کو یہ نہیں بتا سکتے کہ کونسی چیز آپکی ماں کیلئے اچھی ہے، کونسی چیز آپ کے کئیرئیر کیلئے اچھی ہے یا کونسی چیز آپکی پڑوسی کے کتے کیلئے اچھی ہے، نہ ہی وہ ماحول، ملک، ریاست، پارلیمنٹ، قانون، دستور وغیرہ کے بارے میں کسی قسم کی رہنمائی کر سکتے ہیں، آپکے جذبات کو صرف آپ ہی محسوس کر سکتے ہیں اور آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ اس وقت آپ کس کیفیت میں ہیں اور آپ کو کیسا محسوس ہو رہا ہے۔ لیکن آپ کی یہ کیفیت بھی کوئی مستقل نہیں ہوتی، یہ صرف چند لمحوں کیلئے آتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے، یہ کیفیت آپکو اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں کر سکتی کہ ایک دن، ایک ہفتے، ایک مہینے یا ایک سال کے بعد آپ کو کیا کرنا چاہیے، یہ جذبات اور احساسات صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ اس لمحے آپ کو اچھا محسوس ہو رہا ہے یا برا۔ لیکن اس حوالے سے بھی ان کو جانچنے اور ماپنےکا کوئ پیمانہ نہیں ہے، ضروری نہیں کہ جتنا وزن ان کو اس وقت آپ دے رہے ہوں حقیقت میں انکا وہی وزن ہو جیسے کبھی کبھار دوستوں یاروں کے ساتھ گپ شپ اور ہنسی مذاق کے دوران معمولی بات سے نوبت تلخ کلامی اور پھر ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے اور دونوں فریق یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ دوسرے نے انکی feelings کو hurt کیا ہے لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا بعد میں دونوں کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ ان کی غلط فہمی تھی۔ یا کبھی اپنی فیملی کے ساتھ راستے میں کہیں جاتے ہوئے یا کہیں پکنک وغیرہ مناتے ہوئے آپ کے قریب موجود کسی شخص کی معمولی سی بات پر آپ مشتعل ہوجاتے ہیں اور مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں اور اپنی فیملی کے سب افراد کو خواہ مخواہ مشکل میں ڈال دیتے ہیں حالانکہ بعد میں آپ کو خود محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے یہ سب کچھ غلط فہمی کی بنیاد پر کیا تھا اور اچانک آپکی جھوٹی انا بھڑک اٹھی تھی جسکے بہت سنگین نتائج بھی نکل سکتے تھے۔ یقیناً ایسے مواقع کے وقوع پذیر ہونے کے بعد آپ کو خود سے بھی شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ان زور آور، مکروہ جذبات اور ہیجانات سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے؟مگر اس سلسلے میں مشکل یہ ہے کہ آپ جس قدر ان جذبات اور احساسات کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں یہ اسی قدر زیادہ قوت کے ساتھ کسی اورموقع پر آپ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ان کو ختم کرنے کی کوشش بالکل اس شکاری کی مانند ہے جو جنگلی خرگوش یا سیہ (کنڈیالے جانور) کا شکار کرتا ہے، ان جانوروں نے اپنی حفاظت کیلئے زمین میں کئی بل بنا رکھے ہوتے ہیں جب شکاری اپنے کتوں کے ساتھ انکا تعاقب کرتا ہے تو وہ ایک بل سے گھستے ہیں اور کتے اس بل کے باہر کھڑے انکے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن وہ کسی دوسرے بل سے باہر نکل کر اپنی زیادہ محفوظ پناہ گاہ کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔ ان زور آور، جذبات اور ہیجانات پر قابو پانا اس لئے بھی مشکل ہوتا ہے کہ ہم صرف اپنے تجربات کے بارے میں جذبات اور احساسات نہیں رکھتے بلکہ اپنے جذبات کے بارے میں بھی جذبات اور احساسات رکھتے ہیں۔ اور جذبات کے بارے میں پائے جانے والے جذبات کو Meta-feelings کہا جاتا ہے، یہ ہر چیز کو تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان Meta-feelings کا تعلق ان کہانیوں سےہوتا ہے جو ہم اپنے احساسا ت کو ہمارے اپنے بارے میں بتاتے رہتے ہیں، یہ ہمیں ہمارے ہر برے جذبے کا جواز فراہم کرتے ہیں، یہ انتہائی تکلیف دہ مراحل اور درد سے کراہنے کے دوران بھی فخر سے ہمارا سر بلند رکھتے ہیں، یہ بنیادی طور پر ہمارے وہ احساسات ہیں جو ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ کس چیز کا جواز ہے اور کونسی چیز بلا جواز ہے۔ یعنی یہ ہماری طرف سے کسی چیز کی قبولیت یا عدم قبولیت کے بارے میں ایک احساس ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھئے کہ یہ جذبات، “کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے یا کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری ہے” کے بارے میں کسی قسم کی رہنمائی نہیں کرتے۔ یہ صرف مختلف مواقع پر ہماری اندر سے چیرپھاڑ کرتے ہیں۔

ان Meta-feelings کی چار اقسام یا شکلیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم “برے جذبات کے بارے میں برے جذبات” یعنی اپنی بری باتوں سے نفرت کرنا، اپنے آپ کو ضرورت سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنانا، اپنے حوالے سے بے چینی اور اعصابی دبائو محسوس کرنا۔ ان جذبات کے حامل “مثبت مفکرین” ہر وقت اس پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوجائے اور جب کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے تو سر پکڑ کر سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ یہ دراصل ہمارے بڑوں، خاندان اور معاشرے کی طرف سے ہمارے بچپن کے زمانے سے، ہمیں باور کرایا جانا والا خوف ہےکہ ہر غلطی اور گناہ کا انجام جہنم کی آگ ہے۔

دوسری قسم “اچھے جذبات کے بارے میں برے جذبات” یعنی شرمندگی، احساس جرم وغیرہ محسوس کرنا، اپنے آپ کو خوشی کا مستحق نہ سمجھنا، سب کچھ ٹھیک ہوتے ہوئے بھی اچھا محسوس نہ کرنا، ہمیشہ اپنا موازنہ دوسروں سے کرنا کہ وہ کتنے خوش وخرم ہیں۔

تیسری قسم “برے جذبات کےبارے میں اچھےجذبات” یعنی اپنے آپ کو پوتر اور بے عیب سمجھنا، ہر وقت اخلاقی برتری کا احساس رکھنا، بہت سے معاملاات میں اپنے آپ کو مستحق اور دوسروں کو اسکا مستحق نہ سمجھنا، اس قسم کے جذبات لوگوں میں سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں اور اس قسم کے لوگ تکلیف میں بھی رہ کر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں اور عام طور پر اس سماج کو ظالم سماج سمجھتے ہوئے ہر کسی کے کام میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض اولیں سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں شہادت کی موت کی تمنا ہر وقت انکے دل میں جاگزیں ہوتی ہے، یہ عام طور پر ہر سیاستدان، ہر حکومت، ہر فنکار، ہرتاجر اور ہر بڑے آدمی کے خلاف ہوتے ہیں، ہر بے تکی بات پر تھانے، کورٹ، کچہریوں میں پٹیشنیں دائر کرنے کی انہیں عادت ہوتی ہے، معمولی باتوں پر تو تکار سے لیکر احتجاج اورجلائو، گھیرائو اور سر عام مجمعوں میں بڑے لوگوں پر جوتے برسانا انکا مرغوب مشغلہ ہوتا ہے۔

اور چوتھی قسم “اچھے جذبات کے بارے میں اچھے جذبات” یعنی جسے انا یا نرگسیت کہا جاتا ہے۔ اپنے آ پ کو ہر وقت گوشہ عافیت میں رکھنےکی کوشش کرنا، ناکامی یا مسترد ہونے سے نمٹنے کیلئے اپنے آپ کو قابل نہ پانا، تصادم یا ناگواری کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رکھنا اور اس سے دور بھاگنا، خود فریبی کا شکار رہتے ہوئے فرار کا راستہ اختیار کرناوغیرہ۔

آج ہمیں تمام معاشروں میں جن تضادات اور تنازعات کا سامنا ہے وہ سب انہی Meta-feelings کا نتیجہ ہے۔ سیاسی میدان میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں ہوں، مذہبی و فرقہ وارانہ گروہ ہوں، حقوق کی جنگ لڑنے والے قوم پرست اور سول سوسائٹی ہو، یا سوشل اور میڈیا Activists ہوں سب اپنےآپ کو مظلوم اور دوسروںکو ظالم سمجھتے ہیں اور ظالموں سے اپنے حقوق چھیننا اپنا فرض اولیں سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی قیمتی جانوں کو گنوانے کیلئے بھی ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ معاشرے میں تھوڑا پیچھے رہ جانے والوں میں پیدا ہونے والی اس بے چینی اور اضطراب کی شرح میں جب اضافہ ہونے لگتا ہے تو امیر لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے ہمارا شمار ان پیچھے رہ جانے والوں میں نہیں ہوتا لیکن متوسط طبقات کے لوگ اپنے آپ کو کوس رہے ہوتے ہیں کہ ہم بیچ میں کہاں پھنس گئے، ہم ان پیچھے رہ جانے والوں سے، واضح طور پر الگ کیوں نہ ہو سکےجس طرح امیرزادے ان سے واضح طور پر الگ نظر آتے ہیں۔ یہ سب بیانیے خود بخود وجود میں نہیں آجاتے بلکہ ہمارا میڈیا ان سب بیانیوں کی تخلیق کرتا ہےاور ہر طبقے کو سبق دیتا ہے کہ تمہارا کیا بیانیہ ہے اور تم نے اس بیانیے پر کیسے کاربند رہنا ہے اوراگر اس بیانیے پر کاربند نہیں رہو گے تو دوسرا طبقہ تم سے آگے بڑھ کر تمہیں روند دے گا۔ دائیں بازو سے تعلق ظاہر کرنے والے ٹاک شوز کے میزبان خود پرستی کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں، مظلومیت کا رونا روتے ہیں، مایوسی پھیلاتے ہیں اور انجانےاور غیر معقول خوف و خدشات کی عوام میں قبو لیت کواس قدرعام کر دیتے ہیں کہ عام لوگ اس کیفیت کو ایک نشے کی طرح اپنے اوپر طاری کر لیتے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق ظاہر کرنے والے ٹاک شوز کے میزبان بھی خود پسندی، خود پرستی پھیلانے میں کسی طرح پیچھے نہیں ہیں لیکن بس اتنا فرق ہے کہ وہ خوف اور خدشات پھیلانے کی بجائے عقلی تکبر، گھمنڈ اورغرورکی اپیل کرتے ہیں۔ ان کے پاس انہی سطحی جذبات کے جواز کی ہر دلیل عقلی موشگافیوں میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس طبقاتی کشمکش کے درمیان consumer cultureاپنا راستہ بناتا ہے اور آپ کو یہ باور کراتا ہے کہ آپ کے تمام فیصلے “مزے کے حصول” کی خاطر ہونے چاہیں۔ پھر آپ کو ہر مزے enjoyment کے حصول کی خریداری پر مبارکبادیں پیش کی جاتی ہیں اور اسکے ساتھ مزید انعامات اور مراعات دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یعنی میڈیا اور consumer culture ہمارے اندر Meta-feelings کی تیسری قسم کو بے جا طور پر ابھار تا ہے اور ہمارا روائیتی مذہبی طبقہ ہمارے اندر Meta-feelings کی پہلی قسم کو ابھار تا ہے۔

اب ہمیں ان کہانیوں کو سمجھنے کیلئے اس واضح حقیقت اور سچائی کے ادراک کی طرف آنا چاہیے کہ جذبات اور احساسات کا لازمی طور پر کوئی مطلب نہیں ہوتا، ان میں مطلب صرف اسی حد تک پایا جاتا ہے جس حد تک کے مطلب کو واضح کرنے کی آپ انہیں خود اجازت دیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آج میں بہت اداس ہوں تو اس اداسی کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن یہ مجھے طے کرنا ہے کہ ان میں سے کونسی وجوہات اہم ہیں اور کونسی غیر اہم ہیں خواہ وہ میرے کردار کے بارے میں کچھ وضاحت کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں۔ آج کے انسانوں میں یہ ہنر بہت تیزی سے معدوم ہوتا جا رہاہے کہ جذبات اور حقائق کو الگ الگ کیسے کیا جائے؟؟انہیں گڈ مڈ ہونے سے کیسے بچایا جائے؟، محض جذبات اور احساسات کی بنیاد پر بڑے بڑے فیصلے کرنا کا یہ مطلب نہیں کہ یہ واقعی زندگی کے تقاضے ہیں۔ ان جذبات اور احساسات کو غرق کیجئے، ان کی وجہ سے بہت دفعہ آپ کو اچھے کام، برے محسوس ہونے لگتے ہیں، اور برے کام اچھے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ان احساسات سے حقائق بدل نہیں جاتے یہ محض ہمارا رویہ اور احسا س ہوتا ہے جو انکے بارے میں بدلتا رہتا ہے۔ انکا علاج صرف ایک ہی ہے کہ انہیں بھاڑ میں جھونکو۔ انہیں زندگی کے اہم امور اورفیصلوں میں بالکل اہمیت مت دو۔ کوئی بھی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے ان جذبات اور احساسات کو ایک طرف کر دو پھر فیصلہ کرو۔ لیکن ٹھہریے اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ان جذبات اور احساسات کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، انکی اہمیت بالکل ہے، لیکن انکی وہ اہمیت نہیں ہے جو عام طور پر ہم انہیں دیتے ہیں، یہ اس وجہ سے اہم نہیں کہ یہ ہمارے خیال میں اہم ہیں کہ یہ ہمارے بارے میں، ہمارے تعلقات کے بارے میں یا ہماری زندگی کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔ یہ ان چیزوں کے بارے میں کچھ بھی بتانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان سے وابستہ کوئی معنی نہیں ہوتے، کبھی آپ کو کسی اچھی وجہ سے تکلیف محسوس ہوتی ہے اور کبھی بری وجہ سے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے اور کبھی کبھی بلاوجہ بھی کوئی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ تکلیف اورچوٹ بذات خود غیر جانبدار ہوتی ہیں انکی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ اہم بات صرف اتنی سی ہے کہ یہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کن وجوہات کی بنیاد کن حقائق پر مبنی ہے نہ کہ محض جذبات اور احساسات کو آزاد چھوڑنا ہوتا ہے کہ وہ درد اور تکلیف کی بے شمار وجوہات میں سے کسی کو بھی اہمیت دے کر کوئی معنی پہنا دیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہمارے جذبات اور احساسات کسی معمولی، بے وقعت اور غیر حقیقی وجہ کو اہمیت کے معنی پہنا کر ہمیں اندر سےچھیر پھاڑ ڈالیں گے اور بعد میں ہم پر آشکارا ہوگا کہ اسکی حقیقت رائی برابر بھی نہیں تھی۔

ترجمہ و تدوین: وحید مراد

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20