ماضی سے وابستگی یا انحراف : فکر اقبال کے تناظر میں —- محمد طیب عثمانی

0

مجھے وہ دن یاد ہے، جب استاد محترم ڈاکٹر ابراہیم موسی صاحب نے المورد لاہور میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں ایک اہم پہلو بیان کیا کہ ماضی میں تشکیل شدہ روایت کے حوالے سے تین طرح کے روئیے ہیں:
1. ماضی کی روایت سے مکمل وابستگی
2. ماضی کے روایتی تسلسل سے مکمل انحراف
3. ماضی کی روایت میں تسلسل کا مزاج

غامدی صاحب کے حوالے سے ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ ماضی کی روایت سے مکمل انہدام اور نئی روایت کی تخلیق کے قائل ہیں. روایت اور ماضی سے وابستگی کے حوالے سےاستاد محترم نے قطر ورکشاپ میں کھانے کے دورانیے میں یہ بات ہمیں یوں سمجھائی کہ ہم روایت سے بالکل انحراف کے قائل نہیں بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل میں روایت ایک زنجیر کی طرح ہے اور اس کی کڑی سے کڑی جڑی ہے، لہذا روایت اور اپنے ماضی کے انحراف اور عدم ارتقاء سے روایت متزلزل ہو کر اپنے اختتام کو پہنچ کر انسانی زندگی سے غیر متعلق ہو جاتی ہے اور ارتقاء و تشکیل نو روایت کے ماضی کے بناء ممکن نہیں …. اس لیے اپنی روایت اور ماضی کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا. اسی طرح کا مضمون علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خطبات میں بھی ملتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اقبالی فکریات کی اساس ہی یہی ہے، ان کے نزدیک زندگی کی نئی تعبیر اور اس کے ارتقاء کی بنیاد ہی ماضی کے فکری سرمائے سے وابستگی اور اسے سمیٹنے پر ہے، کہتے ہیں:

“Life moves with the weight of its own past on its back” (1)
علامہ اپنے ذاتی رجحان کو بھی ماضی کے ساتھ وابستہ و پیوستہ رکھنے اور قدیم کو ترجیح دینے کے بارے میں ایک خط میں لکھتے ہیں:
“میرے نزدیک اقوام کی زندگی میں قدیم ایک ایسا ہی اہم عنصر ہے جیسا کہ جدید، بلکہ میرا میلان قدیم کی طرف ہے”

(2)   جب تنوع اور ارتقاء جب زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس وقت ضروری امر یہ ہے کہ حیات کے سابقہ سفر کے مراحل بھی سامنے ہونے چاہئیں اور اس کے سامنے کی افادیت اس لیے ہے کہ یہی سابقہ مراحل یعنی ماضی اور ماضی کی روایات و قدار اور فکریات ہی اس کی بڑھتی زندگی کی شناخت ہیں، اس بارے میں آپ کا سمجھنا ہے کہ شناخت کے تناظر میں تسلسل و ارتقاء کا مشکل و حساس کام ہے:

“No people can afford to reject their past entirely; for it is their past that has made their personal identity. And in a society like Islam the problem of a revision of old institutions becomes still more delicate, and the responsibility of the reformer assumes a far more serious aspect.”

(3)  اس ارتقاء میں افکارِ نو ایسی صورت میں ہونے چاہئیں کہ وہ ایک طرف زندگی سے ہم آہنگ ہوں اور دوسری طرف ان کا تعلق اپنی تاریخ، روایات و قدار سے بھی نہ ٹوٹ پائے، بقول علامہ اقبال:

“The task before the modern Muslim is, therefore immense. He has to rethink the whole system of Islam without completely breaking with the past.”

(4)  اس افکار نو کے کام کے لیے علامہ اقبال رحمۃ اللہ کے سامنے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت وہ شخصیت ہے، جسے اس حساس کام کی ضرورت محسوس ہوئی اور جدید و قدیم کے تعلق کی بنا پر افکار نو کا کام جمال الدین افغانی نے کیا، لکھتے ہیں:

“Perhaps the first Muslim who felt the urge of a new spirit in him was Shah Wall Allah of Delhi. The man, however, who fully realized the importance and immensity of the task, and whose deep insight into the inner meaning of the history of Muslim thought and life, combined with a broad vision engendered by his wide experience of men and manners, would have made him a living link between the past and the future, was Jamaluddm Afghani.”

(5)  اس حساس کام کے لیے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے پیٹرن کو سامنے رکھ کر ابتداء کرنا ہو گی اور جمال الدین افغانی کے جدید و قدیم کے اشتراکی پیراڈائم شفٹنگ کے طرز سے قدیم کی روشنی میں آگے بڑھنا ہوگا….

الغرض اس گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ:

1. اقبالی فکر میں تنقید کے طے شدہ اصو ل ہیں.
2. عمومی تنقید نہیں کرتے.
3. تنقید کی وجوہات بیان کرتے ہیں.
4. پیراڈائم شفٹنگ کی پروپوزل بھی دیتے ہیں اور اس کے معیار افراد کا تذکرہ بھی کرتے ہیں.
5. اقبال رحمۃ اللہ علیہ ماضی کی اساس سے منحرف نہیں بلکہ قدامت پسندی پر ہی افکار کی تشکیل نو کی بات سے وابستہ و پیوستہ ہیں.
6. ان کی تنقیدات کو عموما بیان کرنا فکر اقبال سے ناانصافی ہوگی…
7. ماضی کی روایات و اقدار سے انحراف کی صورت میں زندگی کا تسلسل و ارتقاء ناممکن بھی ہے اور ناقابل قبول بھی…

8. قابل عمل اور قابل قبول وہ ارتقاء و افکار نو ہونگے جو اپنی قدیم جڑوں سے وابستہ اور پیوستہ ہونگے…

….. حوالہ جات…….
1. Muhammad Iqbal, Reconstruction of Religious Thoughts in Islam, Stanford University Press, Stanford, California, 2012, P. 167
2.اقبالنامہ، حصہ اول، ص. 148
3. Reconstruction, P. 132
4. Ibid, P. 78
5. Ibid

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20