پنجاب پولیس کلچر کی تبدیلی: حقیقت یا فسانہ ۔۔۔ محمود فیاض پہ کیا بیتی

0

آج تھانے میں کرایہ داری فارم کی تصدیق کروانے کے لیے جانے کا اتفاق ہوا۔ برسوں پہلے اسی تھانے کو دیکھا تھا تو ایک کھنڈر نما عمارت تھی، مگر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ صاف ستھرا استقبالیہ آفس، ایک خوش شکل اور مہذب نوجوان، کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا لوگوں کی درخواستوں پر کام کر رہا تھا۔
۔
میری باری آنے پر انتہائی خوش اخلاقی سے میرا فارم لیا، کیمرہ سے ڈیجیٹل تصویر بنائی، اور تھوڑی دیر میں مسکراتے ہوئے ایک تصدیق شدہ فارم میرے حوالے کر دیا۔ اتنی دیر میں میں نوٹ کر چکا تھا کہ وہ نوجوان باقی آنے والے سائلین سے بھی انتہائی خؤش اخلاقی سے پیش آ رہا تھا، چاہے کوئی پڑھا لکھا تھا، یا انپڑھ، لباس صاف تھا یا میلا، وہ ہر ایک کو بہت عزت دے رہا تھا۔
۔
میں بہت متاثر ہوا، اور دل ہی دل میں نون لیگ کی حکومت کے اچھے کاموں کو سراہنے لگا۔ کہ سارے کام انکے برے نہیں، ہم انکے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں۔ آخر برسوں سے خراب نظام کو ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے۔
۔
میرا ارادہ بنا کہ شہباز شریف کے اس حکیمانہ اقدام کو سراہوں گا کہ اس کی مینیجمنٹ نے کم از کم عام لوگوں کے لیے پولیس کے بنیادی فرائض کو درست کر دیا ہے۔ یہی کام جو پہلے 500 کی رشوت دیکر ہوتا تھا، اب دس منٹ میں انتہائی خوش اسلوبی سے ہو گیا۔
۔
کاغذات لیکر میں مڑنے لگا تو مجھے لگا کہ ایک کاغذ پر مہر نہیں لگی ہوئی، میں نے اس خؤش شکل و خوش گفتار نوجوان سے پوچھا کہ اس پر مہر کیوں نہیں لگی؟ تو اس نے انتہائی ملائمت سے کہا کہ یہ دوسری طرف جاکر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سے لگوا لیں، یہ مہر وہاں سے لگے گی۔
۔
اب جس بندے کا نام اس نے لیا، اس کے نام میں حسینؔ آتا ہے باقی بھی کچھ صوفیانہ سا تھا۔ فرضی نام کرامت گلؔ سمجھ لیں۔ پتہ چلا کہ وہ صاحب نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میں انتظار کرنے پھر استقبالیہ کمرے میں آ گیا۔ اور صاف ستھری دیواروں، کمرے میں لگے اے۔سی، واٹر کولر، آرام دہ کرسیوں اور چمکتی صفائی کو سراہنے لگا۔
۔
نماز ختم ہوئی، لوگ واپس آنا شروع ہوئے، بالاخر ایک باریش صاحب، دیسی لباس میں اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے آئے اور میں نے انکو متعلقہ کمرے میں جاتے دیکھا تو انکے پیچھے ہو لیا۔ ان کا کمرہ دیکھ کر مجھے لگا برسوں پرانا تھانے کا ماحول واپس آ گیا۔ پھٹے پرانے ردی رجسٹر، فائلوں کا ڈھیر، بے ترتیب بکھرے کاغذ، تعفن اور گھٹن، پرانی میز، اور سائل کے بیٹھنے کے لیے پلاسٹک کا سالخوردہ اسٹول۔ خیر میں نے اپنا فارم آگے کیا کہ باقی کام تو ہو چکا اس پر صرف دستخط و مہر لگانا ہے۔ جناب نے بہت پیار سے میرا فارم لیا، اور مجھے تسلی دی کہ کل دس بجے آ جائیے گا۔ اور اپنے ساتھ کھڑے ساتھی کی کمر فیتے سے ناپنے میں مشغول ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد پھر میری جانب توجہ کی تو میں نے کہا کہ یہ کام تو پانچ منٹ کا ہے، آپ نے صرف یہ تسلی کرنا ہے کہ میرا کوئی پولیس ریکارڈ تو نہیں؟ جو کہ نہیں ہے، تو آپ نے تصدیقی مہر لگانا ہے۔
۔
میری بات سن کر کرامت گل نے فورا مجھے بیٹھنے کے اسٹول پیش کیا۔ اور تھوڑا آگے جھک کر میٹھے لہجے میں کہا کہ جناب! اصل میں ہوگا یوں ۔ ۔ ۔ کہ ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ آپ کا وقت بچانے کے لیے وہ فضول اسٹوری نہیں لکھی جو اس نے تصدیق کے پراسیس کے لیے پیش کی۔ میں اس وقت تک سمجھ چکا تھا کہ میں تین دہایئاں پرانے تھانہ سسٹم سے ہی معاملہ کر رہا ہوں۔ میں نے اسکی باقی اسٹوری کاٹتے ہوئے کہا، جناب، آپ کام کردیں، ان لمبے معاملات میں کیا پڑنا ہے، آپ کو مجھے پراسیس کا پتہ ہی ہے۔
۔
اب جیسے ہی اس نے میرا معاملہ فہمی والا لہجہ سنا، اسکا قلم فوراً حرکت میں آگیا، اور میرا فارم پر “منکہ مسمی ” والی عبارت درج ہونا شروع ہو گئی۔ تھوڑی دیر میں میری پولیس کلئرنس درج ہو چکی تھی، مہر لگ چکی تھی، میں نے بٹوئے میں جھانکا اور “ریٹ لسٹ” کے مطابق ادائگی کر دی۔
۔
فارم لیکر جیسے ہی میں نے باہر کا رخ کیا، میرے قدم پھر واپس اس استقبالیہ کمرے کی جانب مڑ گئے۔ خوش دل نوجوان کا میں نے شکریہ ادا کیا۔ اور پوچھا کہ کیا آپ کا محکمہ پولیس سے مختلف ہے؟ اس نے مسکرا کر کہا کہ ہماری جاب پنجاب پولیس ہی میں ہے مگر ہم انفارمییشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کام کر رہے ہیں، ڈیٹا وغیرہ اور دیگر درخواستوں کو ہم نمٹاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے بہت اچھا لگا کہ آپ اتنے اچھے ماحول میں لوگوں کو سہولت دے رہے ہو۔ اس نے بڑی خوش دلی سے میرا ہاتھ ہلایا۔ باہر نکلتے ہوئے میں نے اسکی جانب مسکرا کر کہا، مگر اندر دوسرے کمرے کا ماحول وہی ہے، اس پر خوش دل نوجوان کا قہقہہ مجھے بہت کچھ سمجھا گیا۔
۔
پنجاب میں تھانہ کلچر کی اس تبدیلی پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ کسی پاگل خانے میں بہت سے پاگل غل غپاڑہ کر رہے تھے۔ ڈرن نن ۔ ۔ ۔ ڈھرن ن ن ۔ ۔ ۔ آ جاؤ ، مغلپورہ ، مغلپورہ ، مغلپورہ ۔ ۔ ۔ کسی دیکھنے والے نے دیکھا تو کونے میں ایک خاموش بیٹھے سنجیدہ سے صاحب سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ اس نے کہا کہ یہ سب پاگل ہیں اور مسافروں کو اپنے رکشوں میں بیٹھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ وہ شخص حیران ہوا، اور اس سنجیدہ شخص سے پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ وہ بولا میں تو چائے پینے جا رہا ہوں، مال روڈ پر۔ وہ شخص بولا ، مگر مال روڈ تو بہت دور ہے آپ پیدل کہاں جائیں گے۔ وہ سنجیدہ صاحب بولے، کیون نہیں، آپ بھی چلتے ہیں تو میں اپنا رکشہ اسٹارٹ کر لیتا ہوں، ڈرن ن ن ۔ ۔ ۔ ڈھر ن ن ن۔
۔
پنجاب میں تھانہ کلچر میں تبدیلی بھی مجھے کچھ ایسی ہی لگی۔ جیسے ہی آپ کو اصل پولیس سے واسطہ پڑتا ہے ، وہ اپنا رکشہ اسٹارٹ کر کے آپ کو بتا دیتے ہیں کہ ہمارے اچھے، صاف ستھرے استقبالیہ پر نہ جائیے گا، اصل تو ہم وہی ہیں، جو پچھلی کئی دہائیوں سے تھے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: