مریم نواز غازی —- فرحان کامرانی

0

2008ء میں نے ایم فل میں داخلہ لیا۔ ایک سال میں کورس ورک مکمل ہوا اور میں نے اپنی سپروائزر کا چناؤ کرکے اُنکی اجازت سے اپنی تحقیق کے موضوع کو جامعہ کراچی کے تحقیقی نگران بورڈ میں جمع کروا دیا۔ گو کہ میں نے دوران تعلیم اپنے اساتذہ کی ہمیشہ بہت عزت کی لیکن کبھی مجھے چمچہ گیری نہیں کرنی پڑی۔ اپنے نظریات یا عقائد کو اپنے اساتذہ کی خوشنودی کیلئے بدلنا یا چھپانا نہیں پڑا۔ مگر اب عجیب ہی معاملہ درپیش تھا۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی میں آپ کو اپنی تحقیق پر بھی محنت کرنی پڑتی ہے اور اپنے سپروائزر کو کسی بھی معاملے میں ناراض نہیں کرسکتے۔ میری استانی تو ماشاء اللہ بہت اچھی خاتون تھیں اور انہیں چاپلوسی کی خواہش نہیں تھی مگر ارد گرد دوسرے طلبہ پر جو بیتتی وہ میں دیکھتا تو روح کانپ جاتی۔

خیر تو تب ہم سارے ہی ایم فل کے پریشان طلبہ اپنے اپنے اساتذہ کے ہر جملے پر ’واہ، واہ، واہ، واہ‘ کے نعرے بلند کیا کرتے۔ ہم انکے بغیر پوچھے ہی انہیں بتاتے اور جتاتے رہتے کہ نفسیات کی دنیا میں انکا کتنا عظیم مقام ہے۔ میرے ایک دوست کی سپروائزر صاحبہ نے اُس سے ایک دن انٹرن شپ کی کلاس میں شکوہ کیا کہ کبھی کسی نے انکو نہیں سراہا حالانکہ وہ پاکستان کی پہلی طبی نفسیات کی پوسٹ ڈاک ہیں۔ انکی صلاحیتوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا، کبھی کوئی کیک نہیں لایا، کبھی کوئی ایک گلدستہ نہیں لایا۔ بس یہ سننا تھا کہ میرے دوست نے فوراً کسی طرح پیسوں کا انتظام کرکے کیک منگوایا اور محترمہ کو سرپرائز ٹریٹ دی۔ مگر میڈم اِس بات پر بھی بگڑ گئیں کہ انکو ڈرامہ بازی نہیں پسند۔

چاپلوسی ایک دودھاری تلوار ہے جو کہ چاپلوس کوبھی تباہ کرتی ہے اور اُسے بھی تباہ کرتی ہے جسکی چاپلوسی کی جاتی ہے۔ مگر اس چوپلوسی کی مجبوریوں کی یاد مجھے حال ہی میں ایک ٹوئیٹ دیکھ کر آئی۔

مسلم لیگ نواز کی ایک رہنما نے ایک مزاحیہ ٹوئیٹ فرمایا۔ محترمہ کا نام ہے حنا پروز بٹ اور آپ نے فرمایا، ”میں آجکل ارطغرل دیکھ رہی ہوں اور میں مریم نواز میں ارطغرل سے کافی مماثل قائدانہ صلاحیتیں ہیں۔ انکا خدا پر غیر متزلزل یقین، کبھی ہمت نہ ہارنا، انکا اصولوں پر کھڑا ہونا، چاہے دنیا انکی مخالفت کرے، اور انکی حق و باطل میں تفریق کی اہلیت (ارطغرل سے مماثل ہے)“

میں خود بھی حنا صاحبہ کی ہی طرح ارطغرل غازی کا فین ہوں اور یہ بھی سمجھتا ہوں کہ عثمان بیگ کے والد محترم یقینا اس ڈرامہ سیریل کے کردار سے بدرجہ بہتر ہونگے۔ ظاہر ہے اس دور ابتلاء میں اتنا بڑا خواب دیکھنا اور اپنی اولاد میں منتقل کرنا بڑی بات ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ارطغرل کا موازنہ مریم نواز سے کیوں؟ محترمہ تو آج کے دور کی ایک جمہوری رہنما ہیں اور ارطغرل غازی ملوکیت کے دور کے ایک بہادر سورما تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میدان حرب میں گزاری اور محترمہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سیاست کی۔ انکے جلسے جلوس اور شاہی جلسوں میں تمبو اور قنات کے علاوہ کچھ مماثل نہیں۔ کہاں جفاکش ترک خانہ بدوشوں اور گھڑسواروں کی مجاہدانہ زندگی اور کہاں ڈرائینگ روم کے نرم گدیلے اور ’پجیرو‘ اور ’لینڈ کروزر‘ کی سواریاں۔

پھر اگر صرف مزاح کے رخ سے بھی دیکھئے تو داڑھی والے ارطغرل غازی اور محترمہ مریم نواز میں کچھ مماثل نظر نہیں آتا۔ ہاں وہ اگر حلیمہ سلطان سے مماثل قرار دی جاتیں تو کچھ بات جمتی کہ انکے والد واقعی اب ایک جلاوطن شاہزادے ہیں اور وہ اپنے برادران کو بچانے کیلئے کافی کوشش بھی کرچکی ہیں مگر جب مزاح کی رعائت ہٹے گی تو یہ بات بھی اُن عظیم سلجوق شاہان، الپ ارسلان اور سنجر کی عظیم میراث کی توہین معلوم ہوگی۔

خیر اگر سنجیدگی سے بات کی جائے تو ارطغرل غازی کی جفاکشی اور سخت مشکل زندگی تو ایک طرف رہی، اصولوں کو خاطر کچھ بھی چھوڑنا یا اختیار کرنا بھی مریم نواز کیا نون لیگ کے ہی ’ڈی این اے‘ میں نہیں۔ جب محترمہ اور انکے والد اسٹبلشمنٹ کو تڑی لگا رہے تھے تب انکے چچا ’کردوغلو‘ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرچکے تھے۔ چار دن کی جیل نے مریم نواز اور انکے والد صاحب کے اوسان خطا کردئے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے باہر جانے کا راستہ مانگنا شروع کردیا۔ اس سے قبل بھی محترمہ مریم نواز کے والد صاحب مشرف سے ڈیل کرکے پتلی گلی سے ’نکل لئے‘ تھے۔ آج ساری نون لیگ بڑی بری ذہنی حالت میں ہے اسلئے کہ اس جماعت کا کارکنوں کی جمیع اکثریت کو صرف اور صرف اقتدار کی عادت ہے۔ وہ آج تڑپ رہے ہیں کہ انہیں تھوڑا سا ہی اقتدار کسی بھی بہانے سے مل جائے۔ یہ وہ جماعت ہے جو کہ اقتدار اور اختیار کے دائرے سے باہر ہو تو اسکا حجم آدھا بھی نہیں رہ پاتا۔ اور جو رہ جاتے ہیں (جیسے محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ) تو اس امید پر کہ آج نہیں تو کل ہمیں اقتدار میں تو آنا ہے، چاپلوسی کرلی تو کل کو وزیر لگ سکتے ہیں۔ اسی امید پر اپنے سیاسی مالکوں کی مدح میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ کبھی کوئی اکبر اعظم معلوم ہوتا ہے، کوئی شیر شاہ سوری لگتا ہے، کوئی محمود غزنوی معلوم ہوتا ہے اور کوئی ارطغرل۔

ویسے مجھے بھی اپنی تاریخ میں ایک کردار مریم بی بی کے والد محترم سے ملتا ہوا لگتا ہے۔ وہ کردار ہے شاہ عالم ثانی۔ یادش بخیر طوائف الملوکی کے دور کا یہ کمزور مغل، خود کو شاہِ عالم قرار دیتا تھا مگر اسکی اصل حکومت دلّی سے پالم تک تھی۔ انگریزوں کی مدد سے اپنے نام نہاد اقدار کو بحال کرنے والا یہ حاکم اپنی کتاب عجائب القصص میں کے ابتدائیے میں دعا کرتا ہے ’درست کیجئے یارب میرے امور شہی!‘ لیکن امور شہی درست نہیں ہوتے۔ یہ نظم جب لکھی گئی کہ تب غلام قادر روہیلہ شاہ عالم کو نابینا کرچکا تھا۔ یا پھر علامہ اقبال کی اِس حوالے سے نظم پرھ لیجئے۔ اس میں آپکو مریم نواز بھی ایک موزوں تاریخی کردار میں مل جائیں گی اور باقی نون لیگ کی کیفیت بھی واضح ہوجائے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20