ارطغرل اور انسومنیا کی وباء — عفان مغل

0

میرے عمیق مشاہدے کے مطابق لاک ڈائون کے ان دنوں میں پاکستان میں کرونا کے علاوہ انسومنیا کی بیماری بھی وبا بن کر پھیل چکی ہے۔ ان حالات میں بہتر تو یہی تھا کہ بے خوابی کی شکایت کرنے والے تمام افراد اس لاک ڈائون میں اپنی متاثرہ نیند پوری کرتے لیکن ساتھ ہی ارطغرل کی ڈیجیٹل یلغار نے یہ موقع بھی ہم سے چھین لیا۔ اس ڈیجیٹل حملے نے دو قسم کے لوگوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ایک وہ جو دن رات ایک کرکے دو سو کے قریب اقساط پر مبنی اس سیریز کو دیکھ رہے ہیں اور نیند کو تین جبری طلاقیں دے چکے ہیں۔ دوسرے وہ جو ارطغرل کی ڈیجیٹلائزڈ آمد سے مقامی کلچر کی تباہی دیکھ کر حب الوطنی کے ہاتھوں اتنے حواس باختہ اور پریشان ہوچکے ہیں کہ اپنی نیندیں قربان کر بیٹھے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان دونوں طبقات میں ایک چیز قدرے مماثل ہے۔ دونوں نے سوشل میڈیا پر اس سیریز کے کرداروں کے ذاتی اکائونٹس کھولے، ایک نے انکے کپڑوں کو لیکر تبلیغ اسلام کا عظیم فریضہ سر انجام دیا اور دوسرے نے کم فہم اور سادہ لوح عوام کے سامنے انکشافات کی بھرمار کردی کہ دیکھیے انکا اصل چہرہ۔ انکے اصل کرتوت دیکھیے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ارطغرل میں آپکو اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور ذاتی زندگیوں میں مغربی کلچر کے پروردہ ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کیونکہ اس سے پہلے ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک اداکار جب ایک فلم میں اپنا کوئی کردار نبھاتا ہے تو معاہدے میں اصولی اور اخلاقی طور پر وہ بندش کا شکار ہوجاتا ہے کہ اب وہ ساری زندگی ڈاکو ہی بن کر رہے گا۔ اگر وہ کسی فلم میں امریکہ کے وائٹ ہائوس پر حملہ کرتا ہے تو ساری زندگی واشنگٹن ڈی سی میں حملے کرتے ہی گزار دے گا۔ اور اگر مسکین یا بے گھر دکھایا گیا ہے تو لاکھوں روپیہ آمدن کے باوجود ساری عمر جھگیوں میں ہی گزار دے گا۔ شاید یہ لوگ سوچ رہے تھے کہ ارطغرل ابھی ابھی کہیں سے تلوار لہراتا ہوا گھوڑے پر سوار زرہ بکتر پہنے ہوئے آئے گا اور کسی مقامی دربار پر بیٹھ جائے گا۔ خیر چھوڑیے ہم تاریخ اور حقیقتوں سے ہمیشہ ناواقف ہی رہے ہیں اس لیئے یہ انکشافات بہت ضروری ہوگئے تھے۔ لیکن یہاں مجھے ایک بات کا برملا اقرار کرنے دیجیے۔ ان تمام عقلی اور اعلی فہم دانشورانہ ابحاث کو دیکھ کر میں مقام حیرت پر فائز ہوچکا تھا کہ میری نیندیں بھی حرام ہوچکی تھیں۔ بقول ضمیر جعفری:

خداوند!یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں؟
کہ پیدا ہوگئے ہیں اور حیرانی نہیں جاتی

اور ہو بھی کیوں نہ کہ اب وہ لوگ جو بچپن سے حاتم اور شکتی مان دیکھ دیکھ کر بڑے ہوئے ہیں اور جن کے بچے آج بھی چھوٹا بھیم دیکھ کر پرورش پا رہے ہیں وہ مقامی کلچر اور برآمد شدہ کلچر کی بحث شروع کرکے طنز کے نشتر اٹھا لائیں گے تو سوال تو اٹھے گا کہ بھائی آپکا اپنا کلچر ہے کیا؟ کس کلچر کو اپنا کلیم کرتے ہیں؟ کس کلچر کے چھن جانے پر یوں آگ کا گولہ بن بیٹھے ہو؟برصغیر کے جس کلچر کو آپ کلیم کرتے ہیں وہ تو صدیوں پرانا ہے لیکن آریائی سماج سے جنم لینے والا۔ اس پر تو ہندو مذہبی ثقافت کے نام پر اپنی اجارہ داری جمائے بیٹھے ہیں اور آپکو تو حصے دار بھی نہیں سمجھتے۔ چلیئے کوئی بات نہیں آپ زبردستی گھسنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی مسلہ نہیں۔ ضرور کوشش کریں اور اسکو اپنا کلچر ثابت کرکے چھوڑیں۔ لیکن خدارا اپنے مقامی کلچر کو چھوڑ کر مغرب کی طرز پر ٹی شرٹس، جینز، ٹائی اور ٹکسیڈو چڑھاکر ہمیں درآمد شدہ کلچر کا طعنہ بھی مت دیں۔ اگر آپ اپنے نام کے ساتھ سید، انصاری، بخاری، عباسی، جعفری، مغل، آغا، بیگ اور اس جیسی مزید بہت سی ذاتوں کو بڑے فخر سے جوڑتے ہیں اور پھر بھی ہمیں درآمد شدہ ہیروز کا طعنہ دیتے ہیں تو شاید آپDilemma کا شکار ہیں۔ اب اپنے ناموں کے ساتھ ذاتوں کا خصوصی اضافہ کرکے اپنے ـحملہ آورـ پرکھوں سے تعلق بھی بحال رکھنا چاہتے ہیں اور مقامی سطح پر فٹ ہونے کے لیئے اپنی جڑیں بھی تلاش کرتے ہیںتو صورتحال بڑی پریشان کن ہے کیونکہ اسکو Identity Crisis بھی کہتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ ہم تو بس قلبی اطمینان کے لیئے دعا گو ہیں۔

مزید برآں اگر آپ نے آج تک نیٹ فلیکس پر سارے سیزن چھان مارے ہیں اور Medici, The Crown, Too hot to handle, Toy Boy جیسے دیگر سیزنز نے بھی آج تک کسی کی رگ ِحمیت کو نہیں پھڑکایا اور نہ ہی یہ احساس دلایا کہ یہ تو کلچر ہمارا نہیں ہے لہذا اسکے خلاف پوری شد و مد سے آواز اٹھائی جائے تو پھر یہ معاملہ کسی Complex کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چہ جائیکہ نوے کی دہائی میں بننے والی شان کی فلموں کو آپ اپنا کلچر کلیم کریںکہ جس میں گجربرادری نے بڑی جانفشانی اور غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صائمہ کے دوپٹوں پر جٹوں کی طرف سے ہونے والے لشکری حملے روکے تو ہم اس پر بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ذاتیات پر تو بات کرنا ویسے بھی معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ آگے چلتے ہیں۔

اگر یہ تنقید Nationalist Ideology کی چھتری تلے ہورہی ہے تو 1947 میں آزاد ہونے والے ملک کے پاس ایسا کونسا الہ دین کا چراغ ہے کہ وہ 70 سال کے قلیل عرصہ میں اپنی الگ ثقافت خود سے جنم دے لے؟ظاہر ہے یہ ثقافت وہاں سے ہی مستعار لی جائے گی جہاں سے اس ملک کے وجود میں آنے کا تصور ابھرا۔ اسی تنقید کا ایک اور پہلو سیکولر سٹیٹ کے نظریے کی چھائونی میں بھی نمو پاتا نظر آتاہے کہ مذہب کا تو ریاست سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ تو عرضی اتنی سی ہے کہ زرا عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائیے اور دیکھئے کہ جنگ عظیم اول اور دوئم کے بعد نیشن سٹیٹ اور فرانسیسی انقلاب کے بعد جہاں جہاں سیکولر زم کا تصور ابھرا ان ممالک میں اس کی طرف کیسا طرز عمل روا رکھا جا رہا ہے؟ جرمنی کی موجودہ چانسلر اینگلا مرکل کی جماعت جو پچھلے پندرہ سال سے جرمنی میں حکمران ہے، اسکا مکمل نام “Christian Democratic Union of Germany” ہے۔ امریکہ اگر آج اسرائیل کے ہر ناجائز اور غیر انسانی اقدم کی سرعام اور ڈھٹائی سے حمایت کر رہا ہے تو اسکی وجہ صرف اور صرف مذہب کارڈہے۔ برطانیہ کی چرچ آف انگلینڈ آج بھی سرکاری چرچ کا درجہ رکھتی ہے جس کی سربراہ ملکہ برطانیہ ہے اور یہی مسیحیوں کی روحانی پیشوا بھی مانی جاتی ہے۔ مزید برآں کہ برطانوی شاہی خاندان عرصہ دراز سے مذہبی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور اسکی ترویج کرتا ہے اور انکا اینگلیکن مسیحی ہونا لازمی شرط ہے۔ یہاں جملہ معترضہ کے طور پر آپ کو بس اتنا بتاتا چلوں کہ اسلام اور مسیحیت میں بہت فرق ہے۔ نیشن سٹیٹ کا تصور پہلی دفعہ 1648 کی Treaty of Westphalia کے بعد وجود میں آیا تھا اور یہ اصل میں 30سال کی خون ریز اور طویل جنگ کے بعد مذہب عیسائیت سے بیزاری تھی۔ ریاست اور مذہب کا جو تصور عیسائیت میں پایا جاتا ہے اسلام اسکی مکمل طور پر نفی کرتا ہے۔ اسکے لیئے پاکستان کے مسیحی چیف جسٹس اے آر کارنیلئس کی تحاریر بھی قابل توجہ ہیں جس میں انہوں نے اسلامی شریعت کو پاکستان کے لیئے بہترین سرکاری مذہب قرار دیا تھا۔

اب چونکہ اسلام کو بطور کلچر اپنانے پر بڑا اعتراض کیا جاتا ہے تو اس حوالے سے مختصر گفتگو ہوجائے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں کا کلچر بلا شک و شبہ ہندو دھرم سے آیا ہے۔ ہندو ازم کو بہت سے لوگ یہاں مذہب کے علاوہ بطور ثقافت اپناتے ہیں۔ بہت سے ہندو ایتھیسٹ بھی اسی عمل پر کاربند ہیں۔ 1996 میں ہارورڈ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل افئیرز کے ڈائیریکٹر سیموئل ہنٹنگٹن نے کلیش آف سیویلائزیشنـ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی جس میں سرد جنگ کے بعد کے زمانے کو سیویلائیزیشنز یعنی تہذیبوں کی جنگ قرار دیا گیاتھا۔ گو کہ 9/11 اور خاص طور پر موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اسکا کچھ حصہ قابل متروک خیال کیا جاتا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں جن تہذیبوں کا زکر مصنف نے کیا ان میں اسلام، ہندوازم، چائنیز اور مغربی تہذیب (لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ اور یورپ) شامل ہے۔ اسی طرز پر میکس ویبر کے بھی پانچ میں سے چار مذاہب عیسائیت، اسلام، ہندوازم اور کنفیوشیانزم اپنی اپنی تہذیبوں کو جنم دیتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ جب ہم تہذیب کی بات کرتے ہیں تو اس میں ثقافت ایک چھوٹا سا جزو بن کر رہ جاتی ہے۔ اسلام جب عرب سرزمین سے باہر نکلاتو شمالی افریقہ، مشرق وسطٰی، برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں بہت تیزی سے پھیل گیا۔ اس تمام عرصے میں بہت سے علاقوں کی چھوٹی چھوٹی ثقافتیں اسلامی تہذیب میں گھل مل گئیں۔ اس امتزاج سے زبان و بیان، ادب، آرٹ اور لباس پر سب سے زیادہ اثر ہوا۔ اسی لیئے بہت سی متفرق زبانوں اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد مسیحی یا اسلامی تہذیب کے سائے میں ایک ہوجاتے ہیں اور بہت سے لوگ جن کی بولی، نسل اور خطہ ایک ہی ہے وہ ہندو ہو ں یا مسلمان یا عیسائی، جتنی بھی قربت اختیار کرلیں ایک حد سے زیادہ قریب نہیں ہوسکتے۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ تہذیب ثقافت سے برتر ہوتی ہے۔ پھر چاہے Material Culture ہو یا Non-Material Culture، آپ جس بھی ثقافت کو اپنانا چاہیں آپ اپنا سکتے ہیں لیکن کسی دوسری تہذیب کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے وہ ہمیشہ Sub Culture ہی رہے گا۔

اسی کلیے کو سمجھ کر مغرب اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کو ہر ممکن انداز سے فروغ دے رہا ہے۔ موجودہ حالات میں ویسٹرنائزیشن اور یورو سینٹرک اپروچ کا امریکہ سے لیکر افریقہ اور ایشیا تک غلبہ ہوچکا ہے۔ دکھ اس بات کا ہے کہ مغربیت پر جدیدیت کا لیبل چڑھا کر مادی اور غیر مادی ثقافت کی صورت میں بیچاجا رہاہے اور اس کے سب سے زیادہ خریدار غیر مغربی ممالک ہیں۔ اس سارے تناظر کو بغور دیکھا جا ئے تو ہمیں پتا لگتا ہے کہ اس سے پہلے مغرب صرف نو استعماریت کے ذریعے دوسرے ممالک کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی پر گامزن تھالیکن اب میڈیا کے ذریعے اپنی ثقافت اور تہذیب کو دوسرے ممالک میں داخل کرکے اس سے کہیں زیادہ بہتر انداز سے نظام ہستی چلا رہا ہے۔ میڈیا میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار فلم انڈسٹری خاص طور پر نیٹ فلیکس اور ایچ بی اوفلمزہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نیٹ فلیکس پر ہم جنس پرستی کو یوںدکھایا جانے لگا ہے کہ یہ غیر فطری طرز عمل محض روشن خیالی کے نام پر کسی بھی کلچر میں سرائیت کرجائے اور ان رویوں کو ٹیبو خیال ہی نہ کیا جائے۔ اسی طرح تاریخ کے کسی بھی موضوع پر بنی فلم کہ جن میں یک طرفہ امریکی ورژن دکھایا جاتا ہے وہ ناپختہ ذہنوں پر وہی اثرات چھوڑ رہی ہیں کہ جن کے نتائج ہمیں دانشگردانہ وعظ اورسرگرمیوں کی صورت میں بھگتنے پڑتے ہیں۔ اسرائیلی فلم انڈسٹری کی بات کریں تو یہی کچے ذہن انکی جھوٹ اورفریب خوردہ کہانیوں کو دیکھ کر اسرائیل کے مفت میں وکیل بن بیٹھتے ہیں اور ہمیں اسرائیل سے دوستی روا رکھنے کے بے سروپا بھاشن سنا کر صوتی آلودگی میں مزید اضافہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ (لوگوںکے خیالات، نظریات اور تصورات کو ڈھالنے میں میڈیا کے کردار کو مزید بہتر انداز سے سمجھنے کے لیئے قارئین میڈیا کی Cultivation Theory پڑھ سکتے ہیں۔)

لہذا اس ڈیجیٹل وار کے دور میں جن حضرات کو صرف ارطغرل کا بہت زیادہ پاپولر ہونا انسومنیا میں مبتلا کر رہا ہے ان سے عرض اتنی سی ہے کہ جناب عالی! میدان تو کھلا ہے، جب آپ پر کسی نے مغربی ثقافت کی ثناخوانی اور راتب خوری پر اعتراض نہیں کیا تو آپ کاہے کو اپنی نیندیں حرام کیے بیٹھے ہیںاور غل غپاڑہ مچا رہے ہیں؟جہاں ایک طرف مغربی ثقافت کی یلغار ہے تو دوسری طرف باقی تہذیبوں کو بھی پورا حق ہے کہ وہ اپنے کلچر کا پرچار کریں اور جو پلیٹ فارم بھی میسر ہو وہاں طبع آزمائی ضرور کریں۔ اور اگر یہ آزادی رائے کا اظہار اور ثقافت کا بے ضرر پرچار بھی نیند میں خلل پیدا کرتا ہے تو پھر جلد سے جلد اس کی ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔ اب تو اس دہرے وبائی دور میں، میں بھی فکر مند ہوگیا ہوں کہ کرو نا کے ساتھ ہی اگر اس نئی اٹھنی والی وبا پر مقتدر حلقوں نے خصوصی توجہ نہ دی تو اسکے بہت سے خطرناک نتائج برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں جن میں ایک صوتی آلودگی میں بے پناہ اضافہ سرفہرست ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20