“دانش” کیلئے احمد جاوید صاحب کے مشورے: اک جہان معنی

0

فروری 2019 میں “دانش” کی دوسری سالگرہ کے موقع پر معروف دانشور، شاعر، نقاد، فلسفی، صوفی اور دانش کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ جناب احمد جاوید صاحب شریک ہوئے۔ اس موقع پہ اپنی رسمی اور غیر رسمی گفتگو میں “دانش” کے مشن اور وژن کے بارے میں رہنمائی فرماتے ہوئے کچھ تجاویز اور ہدایات دیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے جو گفتگو فرمائی اسکا خلاصہ، دانش کے قارئین کیلئے پیش کیا جا رہا ہے:

ہندوستان کی سرزمیں پر وجود میں آنے والی ہماری اسلامی تہذیب Indo-Islamic Civilization کو اگر خالص تہذیبی تناظر میں دیکھا جائے تو اس تہذیب کی اصلیت اور حقیقت Actuality میں جس شخصیت کا نمایا ں کردار نظر آتا ہے وہ حضرت شاہ ولی اللہ ہیں۔ اور اگر اس تہذیب کے نظری، فلسفیانہ اور تصوراتی وجود Innate Idealism پر نظر دوڑائیں تو اس میں جس شخصیت کا بنیادی کردار نظر آتا ہے وہ علامہ اقبال ہیں۔ یعنی ہماری تہذیب کے بقا اور وسعت کے نظری پہلو کو، ہمارے یہاں جس شخصیت نے اس کی انتہا پہ پہنچ کر سمجھا اور پھر اپنی اس سمجھ کو ایک مربوط اور عظیم الشان اظہار grand expression بھی دیا وہ علامہ اقبال ہیں۔ اقبال کو یہ مرکزیت centrality کیسے حاصل ہوئی؟ اسکی بہت سے وجوہات اور اسباب ہیں۔ انہوں نے تہذیب کی ذہنی ساخت کو سمجھ کر جو فلسفہ لکھنا تھا وہ لکھا اور وہ اپنی تہذیب سے وفادار فلسفہ ہے۔ اس تہذیب کے اندرونی مکینکس کو پرکشش حالت میں برقرار رکھنے کے لیے اور اس تہذیب کے ان آئیڈیلز کو جنہیں عقل اور قلب دونوں تسلیم کرتے ہیں، محفوظ اور productive بنانے کے لیے انہوں نے یکسو ہو کر شاعری بھی کی۔ ان کی فلسفہ نویسی اور شاعری دراصل ہماری تہذیب کے تمام اندرونی اور بیرونی order کے ساتھ نہ صرف یہ کہ محفوظ رکھنے کی ایک شاندار کوشش ہے بلکہ اسے تاریخ سے پیدا ہو جانے والے نا سازگار حالات میں جاری رکھنے کی بھی ایک نادرکا وش ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کی بڑی بڑی images کے ذریعے ہمیں دیکھنا سکھایا، اقبال نے ہمیں سوچنا سکھایا اپنی فکر اور شاعری کے بہترین عناصر کے ذریعے سے ہمیں فکر اور احساس دونوں کے ساتھ موجود رہنا سکھایا۔ اب اگر آپ “دانش” کے مشن، وژن کی بات کرتے ہیں تو اس کام کو آپ اپنے ذمہ لیں۔ ہم سے ہر شخص جو اپنی اپنی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھانے کی قدرت رکھتا ہو وہ انفرادی طور پر اس پر کام کر سکتا ہے لیکن ”دانش” کو اپنے تمام کاموں میں اس نکتے کو مقصود بنا نا چاہیے۔ تہذیب کی آنکھیں جو بند ہو چکیں تھیں اقبال نے کھولی تھیں۔ ان کھلی ہوئی آنکھوں کو دوبارہ نہ بند ہونے دیں۔ وہ دل جو بے حس ہو چکا تھا جس کو اقبال نے پیدا کیا دل کی اس حاصل شدہ بیداری کو کم نہ ہونے دیں۔ وہ ذہن جسے اقبال نے اپنی تہذیب کے آئیڈیلزم کو rationalize کرنے کے قابل بنادیا۔ اس ذہن کی طاقتوں کو سلب نہ ہونے دیں تو انشااللہ یہ اپنے دور کا وہ کام ہوگا جو کسی دور کی ادبی یا علمی تحریک نےشاید ہی کیا ہوگا۔

اب دوسری بات کہ اس مشن اور وژن کے حوالے سے بنیادی فکر کے تعین کے بعد ان مقاصد کے حصول کیلئے کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیے تو اس سلسلے میں عرض کروں گا کہ میرے خیال میں اس تہذیبی مشن، جس کے مضبوط نمائندے ہمارے یہاں اقبال ہیں، اس کو ایک ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھنا ”دانش” جیسے برقی پرچوں کے وجود میں آنے کا واحد جواز ہونا چاہیے۔ اس جواز کو پورا کرنے کے لیے، اس مقصود کو حاصل کرنے کے لیے یا کم از کم اس مقصود کی طرف بہتر ذہنی اور تخلیقی قوتوں کے ساتھ یکسو رہنے کے لیے، ضروری ہے کہ اس میں ادبیات یعنی فکریات کے ساتھ ساتھ ادبیات کا حصہ Portion بھی مضبوط ہو نا چاہیے اور ادب کے ساتھ ساتھ شاعری، موسیقی پہ کام کروائیں۔ مصوری پہ کام کروائیں۔ art criticism کو لائیں۔ ہماری جو پرانی مصوری کی روایت ہے اس کے کچھ عرفانی، فلسفیانہ اور تہذیبی معانی ہیں۔ فکر اپنی تکمیلی ساخت میں لفظ نہیں رہتی جیومیٹری بن جاتی ہے اس کو بھی سامنے لائیں اور پھر تاریخ اور آئیڈیا کے درمیان تصادم جو پیدا ہو چکا ہے اس میں آئیڈیا کے survival کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے اس کی بھی ایک مربوط اور منظم کوشش کریں۔ انشا اللہ یہ پرچہ نہ صرف یہ کہ عام معیار پہ خصوصی دستاویز بنے گا بلکہ یہ اپنی تہذیبی بازیاب کے عمل میں ایک مئوثر کردار ادا کرے گا جو اسے کرنا چاہیے۔

تیسری بات یہ ہے سوشل میڈیا سے بننے والا ذہن، اس سے بننے والی سائیکی سلب انسانیت اور محروم آدمیت dehumanization کی نمائندہ ہے، یہ انسانیت اور آدمیت humanism کی نمائندہ نہیں ہے۔ مطلب دور جدید کا دبائو خاص طورپر ٹیکنالوجی کا پریشر، آدمی کو ہر سطح زندگی پر dehumanize ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ وہ ہماری humanity میں کسی نئے معانی، کسی نئے احوال کا اضافہ نہیں کر رہا بلکہ وہ انسانیت میں موجود احوال اور نظریات کے خاتمے کو ترقی سے مشروط کر چکا ہے۔ ہمیں اس wave of dehumanism سے بچنا ہے جو ہمیں یہ مجبور کر رہی ہے کہ دنیا میں کامیابی کے لیے اپنے انسا ن ہونے سے تیزی کے ساتھ دست بردار ہوتے چلے جائو۔ یہ اس وقت بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ حسب دستور اس کی بھی نشاندہی کریں۔ اسی طرح مغرب میں جو کام ہوا ہے اس کو غور سے دیکھنا چاہیے.کچھ لوگ ٹیم بنا کے فوکو Michel Foucault وغیرہ کے کام کا ترجمہ کریں۔ وہ کہتا ہے کہ مغرب کا انسان، انسان نہیں بائیو پروڈکٹ ہے Western man is not human, its bio-product، یہ بات اس نے اسی کی دہائی میں کہی اور اب اسکا اظہار واضح طور پر مغرب میں نظر آرہا ہے۔ اسی طرح فوکو Michel Foucault کی کتاب The order of things کے کم ازکم دیباچے کا ترجمہ کریں، یہ بیسویں صدی کی پانچ بڑی کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے، اسی طرح ایک ٹیم بنا کر ہر اس کتاب اور مضمون کا ترجمہ کرنا چاہیے جو ہمارے کام آسکتی ہے۔ اسی طرح Terry Eagelton جنہوں نے After theoryلکھی ہے۔ جو agnostic ہو نے کے باوجود ماڈرن atheism اور روایت پہ بے رحمی سے تنقید کرتا ہے۔ اس تنقید کو دیکھیں۔ وہ کہتا ہے”خدا کا انکار کرنے کے لیے آدمی ہونے کا انکار کرنے پہ مجبور کیا جا رہا ہے”۔ اب آپ سوچیں atheism وغیرہ جیسے یقینی خطرے پر نظر ڈالنے کا یہ طریقہ کیا ہمارے یہاں کہیں موجود ہے؟ مطلب خدا کا انکار کرنے کی pre-qualification کے طور پر ہمیں ہمارے اپنے آدمی ہونے کے انکار پر مجبور کیا جا رہا ہے کیونکہ خدا کا انکار، آدمی ہونے کے انکار کے بغیر، کیا ہی نہیں جا سکتا۔ یہ سب سے بڑے چیلنجز ہیں اور انسانوں میں ہمیشہ ایک جز ایسا ہوتا ہےجو بڑے چیلنجز کی شکل میں زیادہ کام آتا ہے۔ ہمارے یہاں مسئلہ یہ ہے ہم بڑے چیلنجز کو دکان چلانے کی تدبیر کی سطح پہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم حوض میں تیرنے کی مشق رکھتے ہیں اور سونامی کا سامنا ہو گیا تو حوض میں تیرنے کی مشق پر بھروسہ کرکے آگے ڈٹ جاتے ہیں۔ اب اس کا جو نتیجہ نکلے گا ہم بھگت رہے ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے کہ چیزوں کو گہرائی، permanence یا idealization کے تناظر میں دیکھنے کی عادت ڈالنے کے لیے کوئی مضبوط، محکم اور مربوط سنجیدہ اور sacrificing کوشش کی جائے۔ اگر “دانش” اس طرف ہی متوجہ ہوجائے کہ اپنی انسانیت کو، اپنی آدمیت کو اس کی تہذیبی ساخت کے ساتھ، تخلیقی قوت سے اور فکری طاقت سے بھی محفوظ رکھنا ہے تو انشااللہ یہ پر چہ کچھ بڑے تہذیبی نتائج چھوڑنے، مرتب کرنے میں کامیاب ہوگا۔ یہ پرچہ، ہمیں موجود رہنے کے لیے جس ضروری کمک کی ضرورت ہے وہ کمک فراہم کرے گا۔ مطلب مجھے علمی ضرورت اتنی نہیں ہے جتنی میری وجودی احتیاج ہے کہ میں موجود ہونے کے عمل سے خود کو خارج ہوتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں۔ ہم اچھی ٹیم کے ساتھ، اچھے مقاصد کے ساتھ، سنجیدگی سے، صبر سے کام کریں تو ہم rescue کر سکتے ہیں، ہم سےجو موجود ہونے کی سکت آہستہ آہستہ چھنتی جارہی ہے کم ازکم اس چھننے کے عمل سے ہم اپنی تہذیب کو انشااللہ بچا سکتے ہیں۔

آجکل ہم لوگ سنجیدہ موضوعات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہماری زندگی کا span بھی دس گھنٹے کا ہو گیا ہے اور ہماری فکر کا span بھی دس گھنٹے کا ہے۔ زندگی کا دورانیہ دن اور رات سے ناپنے کی عادت نہیں ہونی چاہیے۔ ابدیت کے perspective سے زندگی کی پیمائش کریں فکر کا span بھی بڑھ جائے گا اور زندگی کا بھی۔ یہ جو مذہب میں آخرت کا تصور ہے یہ زندگی کو ابدیت کے تناظر میں دیکھنے کی مشق کروا دیتا ہے بلکہ ذوق پیدا کر دیتا ہے۔ اس ابدی وجود کے ہونے کے احساس اور شعور کو برقرار رکھنا انسان ہونے کی پہلی شرط ہے۔ آج کل میری اورآپ کی پہچانیں کیا رہ گئی ہیں ہم انجینئر، ہم ڈاکٹر، ہم پنجابی، ہم مہاجر۔ ان پہچانوں نے، ان شناختوں نے ہمیں پورے کا پورا جکڑ رکھا ہے۔ جو شناخت مجھے انعام کے طور پہ ملی ہے اس کی میں مسلسل ناقدری کررہا ہوں اس کا مسلسل انکا ر کر رہا ہوں۔ جز کا انکار ہمیشہ کل کے انکا ر پہ end کرتا ہے۔ ہم اجزا کے اقرار کے مرض میں مبتلا ہیں جس سے کُل کا انکار لازم آتا ہے۔

احمد جاوید صاحب کی گفتگو کے اختتام پر کچھ شرکا کی طرف سے سوالات کئے گئے۔ ان میں سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ آجکل انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اوردنیا بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کیا فوائد یا نقصانات ہیں؟ اسکے جواب میں احمد جاوید صاحب نے فرمایا:

میرے خیال میں میڈیا کی اکثر اقسام نے تنہائی کو غیر انسانی بنادیا ہے حالانکہ تنہائی انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تنہائی میں خود کو دیکھنے اور خود کو چھوڑنے دونوں کا موقع ملتا ہے۔ آج تنہائی بالکل meaningless ہوگئی ہے۔ اب آدمی علم انگلیوں سے حاصل کرتا ہے دماغ سے نہیں۔ یہ بڑا مسئلہ ہوگیا ہے۔ میں کم از کم اپنا ذوق بتا دوں دوسرے کا تو نہیں بتا سکتا۔ مجھے جب تک کتاب کا لمس نہ محسوس ہو میں اسکرین پر نہیں پڑھ پاتا۔ اب اس میں رہتے ہوئے ہی کچھ کرنا ہے۔ میں تو زندگی گزار چکا۔ اب ذوق کو بدلنے کی میرے اندر طاقت بھی نہیں رہی اور لگتا ہے ضرورت بھی نہیں رہی۔ میرا معاملہ تو ایسے ہے جیسے Ralph Waldo Emerson ایک بہت بڑ ے امریکی مفکرکا ایک فقرہ ہے جو ہمارے لڑکپن میں بہت مشہور ہوا تھا کہ “میں جب کسی نئی کتاب کا شور سنتا ہوں تو کوئی پرانی کتاب کھول لیتا ہوں”۔

عثمان سہیل نے سوال اٹھایا گیا کہ سوشل میڈیا کا کردار اہم ہے پہلے لوگ کلب میں، کینٹین میں، تھڑے پہ بیٹھ کے، گلی کی نکڑ پہ، کوئی دکان پہ کھڑے ہو کر، گراونڈ یا باغ میں بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے اب یہ تمام حلقے جو الگ الگ تھے وہ سب ایک ہی جگہ پہ آگئے ہیں۔ اس میں موجود بہت سے پڑھے لکھے اور sophisticated لوگ ہیں ان کے ذوق پہ بہت سی چیزیں گراں گزرتی ہیں۔ اگر گراں گزر بھی رہی ہیں تو آپ کو یہ موقع بھی تو ضرور مل گیا ہے آپ عوام سے رابطے میں ہیں۔ پیر مہر علی شاہ نے فتوحات مکیہ تلاش کرنے میں 20 سال لگا دئیے۔ لیکن اب انٹرنیٹ کی موجودگی میں ہر چیز صرف ایک بٹن دبانے کی دوری پر ہے Everything is just one click away۔ اسکے جواب میں احمد جاوید صاحب نے فرمایا کہ یہ جو کہہ رہے ہیں پیر مہر علی شاہ کو “فتوحات مکیہ” حاصل کرنے میں بیس برس لگے ہاں یہ شاید صحیح ہو لیکن ان کو یہ کتاب سمجھنے میں بیس گھنٹے بھی نہیں لگے ہونگے۔ اب ایک کلک میں “فتوحات” توآجاتی ہے لیکن سمجھ میں بیس برس تک نہیں آتی۔

یہ ساری دنیا انسان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جو بھی تبدیلی آتی ہے وہ انسان کے اندر ہونے والی تبدیلی کا عکس ہوتی ہے۔ یعنی ہر بڑا عمل کسی فکر سے پیدا ہوتا ہے۔ آپ تہذیبوں کو ان کی end-product یا end form میں دیکھنے تک محدود نہ رہیں۔ وہ علم بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن end product یا end form جس essence کی تبدیلی اور حرکت سے پیدا ہوتی ہے اس کو بھی سمجھیں۔ وہ لٹریچر ہے۔ وہ خاص طور پہ شاعری، مصوری اور فکشن ہے۔ 

ایک سوال اٹھایا گیا کہ آپ نے “دانش” کیلئے لائحہ عمل کے حوالے سے لٹریچر اور تراجم وغیرہ جیسے کام کو زیادہ اہمیت کیوں دی ہے؟ اسکے جواب میں احمد جاوید صاحب نے فرمایا: میں ایک وضاحت کر دوں شاید زور دینے میں مبالغہ ہوا ہو میں یہ نہیں کہہ رہا کہ لٹریچر کو کسی چیز سے زیادہ فوقیت دی جائے بس لٹریچر کو ایک زیادہ بڑے فورم پر ایک نمائندگی دیں۔ جیسے ایک فلسفی آپ کو یہ تو بتا دے گا کہ نتائج یہ ہیں۔ مقاصد یہ ہیں لیکن ان خارجی نتائج کے جو داخلی اسباب انسان کے اندر ہیں وہ آپ لٹریچر پڑھے بغیر نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ساری دنیا انسان کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں جو بھی تبدیلی آتی ہے وہ انسان کے اندر ہونے والی تبدیلی کا عکس ہوتی ہے۔ یعنی ہر بڑا عمل کسی فکر سے پیدا ہوتا ہے۔ آپ تہذیبوں کو ان کی end-product یا end form میں دیکھنے تک محدود نہ رہیں۔ وہ علم بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن end product یا end form جس essence کی تبدیلی اور حرکت سے پیدا ہوتی ہے اس کو بھی سمجھیں۔ وہ لٹریچر ہے۔ وہ خاص طور پہ شاعری، مصوری اور فکشن ہے۔ مغرب میں پوسٹ ماڈرنزم کی اکثر بنیادیں سینما اور مصوری پر ہیں۔ آرکیٹیکچر، سینما اور مصوری۔ موسیقی پر اتنی نہیں ہے، موسیقی کی روایت جو ہے وہ تبدیلیوں کو سب سے آخر میں قبول کرتی ہے۔ موسیقی میں بہت جان ہے اپنے survivalکی۔ صرف essence کا اصرار کافی نہیں ہے فارم کے بغیر۔ اس طرح صرف فارم کا علم کافی نہیں ہے اس کے essence کے بغیر۔ دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلیں۔ آدمی تقدیر کا پہلا میڈیم ہے، دنیا اسکے رزلٹ کی فارم کا مجموعہ ہے۔ بقول شاعر

حادثہ وہ جو سر کون ومکان ہوتا ہے
سب سے پہلے دل شاعر میں عیاں ہوتا ہے

حادثہ وہ جو ابھی پردہ تقدیر میں ہے
عکس اس کا میرے آئینہ تقریر میں ہے

میں موسیقی کو ضروری سمجھتا ہوں، لیکن کلاسیکل میوزک کو، موجودہ میوزک شور شرابا ہے۔ یہ کسی قاعدے قانون میں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر چیز کا فیصلہ، اس سے پیدا ہونے والے اثر کی روشنی میں ہوتا ہے۔ جیسے میں خان عبدالکریم صاحب کو سنتا ہوں تو مجھے اپنی ذہنی اور روحانی قوتوں میں بیداری تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے وہی آج کے کسی گلوکار کو سننا پڑے تو جو بیداری حاصل ہے وہ خوابناکی کی طرف لے جائے گی۔ میرے ذوق کی limitations ہیں۔ بعض عظمتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ کے ذوق کی پابند نہیں ہوتیں۔ ان کو بڑا ماننا پڑتا ہے چاہے وہ آپ کو اچھی لگیں نہ لگیں، انکی existence کے حوالے سےنہیں ان کے مرتبے کے حوالے سے۔ بہت سے لوگ ہیں جہنیں فرض کیا میر پسند نہیں لیکن وہ اسے ناپسند کرتے ہوئے بھی، جب ان سے پوچھا جائے گا کہ بڑے شاعروں کی لسٹ بنائو تو وہ اس لسٹ میں میر کو ضرور شامل کریں گے۔ اسکی دوسری مثال یہ ہے کہ جیسے اقبال نے حافظ پہ شدید تنقید کی لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا حافظ میرے مربی اور استاد ہیں۔ میں ان کے آگے کچھ بھی نہیں۔ اس آخری سوال کے ساتھ یہ محفل اختتام پذیر ہوئی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20