ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات —- گل رحمان ہمدرد

0

سرمایہ داریت [Capitalism] ایک سیکولر آئڈیالوجی ہے _اس کے علمبرداروں نے گزشتہ چارسو سالوں سےکائنات کا استحصال کیا جسکی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور فضائی آلودگی جیسے سنگین مسائل نے جنم لیا جو دنیا میں مختلف اقسام کی قدرتی آفات اور نت نیۓ بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں _ جس سے گلوب میں انسانی زندگی شدید خطرات سے دوچارہو گئی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے ڈائریکٹر ایرون برنسٹائین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا میں مختلف قسم کے بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے _ جوناتھن پاٹس اور تھامس برکے ایک مشترکہ مقالے میں لکھتے ہیں:

“Climate factors influence the emergence and re_emergence of infectious diseases, in addition to multiple human, biological, and ecological determinants. Climatologists have identified upward trends in global temperature and now estimate an unprecedented rise of 2C by the year 2100. Of major concern is that these changes can affect the introduction and dissemination of many serious infectious diseases”[Global climate change and emerging infectious diseases]

Eco Health Organization جو کہ انسانی صحت پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے والی ایک آرگنائزیشن ہے، اپنی رپورٹ میں لکھتی ہے

“Climate change has a strong potential to play a role in increasing the risk for diseases”

گلوبل چینج ریسرچ پروگرام اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے:

“Climate change effects human health and wellbeing through more extreme weather events and wildfires, decreased air quality, and diseases transmitted by viruses, insects, food,and water” [Report, US Global Change Research Program]

ان خطرات کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار فطرت کا استحصال بدستور جاری رکھے ہوۓ ہیں_ارتکازِسرمایہ کی خاطر سرمایہ دار کائنات کے تمام خزانوں [natural resources]کو آگ لگا کر اپنے پروڈکشن میں اضافہ کرنے میں لگے ہوۓ ہیں جس سے ہمارے ایکو سسٹم [ecosystem]کا فطری توازن [natural balance]برباد ہوگیا ہے _فطری توازن کی یہی بربادی [disaster]جہاں ایک طرف ہولناک زلزلوں، خطرناک سیلابوں اور ہلاکت خیز خشک سالی کا باعث بن رہا ہے وہیں فطرت کا یہی بگاڑ جانوروں، پودوں اور انسانوں میں مختلف اقسام کی نت نئی بیماریوں کا باعث بھی بن رہا ہے _ گویا کہ قران کے لافانی الفاظ میں صورتحال کچھ یوں ہے:

ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض الذی عملوا لعلھم یرجعون

“Disasters have spread throughout the land and sea,because of what the people have committed .He thus lets them taste the consequences of some of their works,that they may return”(Al-Quran 30:41)

سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ہرکاروں کا کمال دیکھیے کہ انسانیت کو اتنی بڑی ابتلا ٕ و مصیبت مبتلا کرنے کے بعد اس نے تنقید کا رخ اپنی طرف موڑنے نہیں دیا۔ نجی گفتگو ہو، مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، کہیں بھی آپ کو اس استحصالی نظام پر کوئی تنقید سننے کو نہیں ملے گی۔ اس کے برعکس قوم کی ذہنی افلاس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ تَخّصُص اور اسپشلاٸزیشن کے اس دور میں سماجی علوم کے ماہرین کو مذہبی علوم کے ماہرین سے یہ مطالبہ کرتے ہوۓ سنا گیا کہ وہ کرونا واٸرس کے علاج کے لٸے ویکسین کیوں نہیں بنا رہے؟ اگر صورتحال یہی رہی تو کل کوٸی نام نہاد ”سماجی مفکر“ اٹھ کر فلسفیوں، شاعروں، ادیبوں، فلم اسٹارز، کرکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، سیاسی و معاشی دانشوروں، صحافیوں اور لٹریچر سے وابستہ لوگوں سے بھی کہیں گے کہ وہ فلاں اور فلاں بیماری کا علاج کیوں دریافت نہیں کر رہے؟ جس ملک کے سماجی علوم کے ماہرین کے ”سماجی شعور“ social consciousness کی سطح اتنی پست ہو وہاں عام لوگوں کی جہالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

دوسری طرف ہمارے مذہبی علمإ نے اپنے طرزعمل سےایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ اس قوم کی روحانی و اخلاقی رہنماٸ کے اہل نہیں ہیں۔ بات بالکل سادہ اور صاف تھی لیکن انہوں نےاپنی فقیہانہ موشگافیوں سے اسے الجھا کر رکھ دیا۔
نبی کریمﷺ کی حیات میں مدینہ میں کبھی کوٸی وبإ نہیں پھیلی تھی کہ جس سے ہم اندازہ لگا سکتے کہ اس طرح کے حالات میں اُن کا طرزعمل کیا تھا۔ گویا کہ اس معاملے میں اسلام ”خاموش“ ہے۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر زمانے کے انسان اپنے اپنے احوال و ظروف کے مطابق خود ہی فیصلہ کریں کہ اُن کو کیا کرنا چاہیۓ۔ گویا یہ مباحات [human choices]کا میدان ہے جو خدا نے قیامت تک تمام انسانوں کے لیۓ کُھلا رکھا ہے۔ البتہ تمام دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی فیصلہ کرتے ہوۓ تین عمومی ہدایات کا لحاظ رکھنا ہوگا

ایک، یہ کہ ”فسٕل اہل ذکر“ یعنی ماہرینِ فن سے راۓ لی جاۓ
دوم، یہ کہ ”امرھم شوری بینھم“ یعنی سماجی سطح پر آپس میں مشورہ کرکے ہی کوٸ قدم اٹھاٶ
سوم، یہ کہ اُولوالإمر یعنی اہلِ اقتدار کے ہدایات پر عمل کرو

کرونا واٸرس اور اسی طرح کی دیگر بیماریوں کے حوالے سے ماہرینِ فن اصل میں ڈاکٹرز صاحبان ہیں جن کی ہدایت ہے کہ ہر قسم کے اجتماعات سے گریز کیا جاۓ، جہاں تک معاشرہ کا تعلق ہے تو معاشرتی سطح پر شورائیت کا حال یہ ہے کہ عوام و خواص میں کونسینسس [CONSENSUS] ڈویلپ ہو چکا ہے کہ ہر قسم کے اجتماعات میں شرکت سے گریز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جبکہ ایران، سعودیہ، ترکی اورپاکستان وغیرہ کے اہلِ اقتدار عوام کو اجتماعات سے گریز کےاحکامات جاری کر چکے ہیں تو کوٸ وجہ نہیں کہ ہم ان کے احکامات کو مسترد کر دیں۔ نبیﷺ کی طرف منسوب ایک روایت سے بھی اس سلسلے میں قیاس کیا جا سکتاہے۔ روایت کے مطابق نبیﷺ نے شدید اندھی کے دن مسجد آنے کے بجاۓ گھروں میں نماز پڑھنے کا حکم دیا اور اس کے لیۓ اذان میں ”صلو فی رحالکم“ اور ”صلو فی بیوتکم“ کے الفاظ داخل کیۓ۔ جب شدید اندھی میں اسلام لوگوں کو مسجد لانے کا قائل نہیں تو شدید وبإ میں مسجد لانے کا قائل کیسے ہو سکتا ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20