کورونا: تازیانہ عبرت یا انسانی کارستانی؟ — مولانا راشد الحق سمیع

0

انقلاباتِ جہاں واعظِ رب ہیں سن لو
ہر تغیر سے صدا آتی ہے فافھم فافھم

٩١١ کے بعد امریکہ نے جس طرح سیاسی دفاعی، ٹیکنالوجی اور عسکری لحاظ سے بزور قوت دنیا کو تبدیل کرادیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنا نیو ورلڈ آرڈر کا ایجنڈا دنیا پر تھوپ دیا اس کا یہ زعم اور برتری کا نشہ اپنی حاصل کردہ معاشی، عسکری اور خصوصاً سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کی بنیاد پر تھااور اسی طرح دیگر بڑی عالمی سیاسی، اقتصادی اور ترقی یافتہ ممالک جیسے مغرب، چین، روس، جاپان اوردیگر چھوٹے بڑے ممالک نے بھی اپنی برق رفتار ترقی اور جدید سائنسی ایجادات کی بنیاد پر پاؤں تکبر وغرور کے باعث آسمان کی جانب کردئیے تھے اور وہ کئی عرصے سے بار بار یہ نام نہاد دعویٰ کررہے تھے کہ ہم نے زمین و آسمان کو اپنے علوم و فنون اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث مسخر کردیا ہے اور کرہ ارض کے بحر وبر کو زیروزبر کرنے کے بعد چاند تاروں، کہکشاؤں سے بڑھ کر اب آسمانوں پر بھی اپنی فتوحات کی کمندیں ڈال دی ہیں اور العیاذ باللہ روسی سائنسدان اور حکام تو یہاں تک بکنے لگے کہ خلاؤں میں تو ہمیں کہیں مسلمانوں کا خدا نظر نہیں آیا، نہ ان کی جنتیں نظر آئیں اورنہ جہنم؟ بالآخر ان کوتاہ بین کفار کو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ سرکش ونافرمان اقوام کی طرح سبق سکھانا ہی تھا، اسی لئے خالق کائنات خدائے لم یزل ولایزال اور وحدہ لا شریک ذات نے ان متکبرین اور زمینی مصنوعی ”خداؤں” کو ایک معمولی نظرنہ آنے والے جرثومہ (وائرس) کے ہاتھوں شکست دے کر بالکل اپاہج و مفلوج کردیا …

غرّہ اوجِ بنائے عالم امکاں نہ ہو اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

اور اب جب تمام دنیا کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود، صفات، قدرت و جبروت اوراپنے مسلط کردہ عذاب سے ان کی اندھی آنکھیں اور بند کان کھول دئیے ہیں اور انہیں مجبور و لاچار کراکر اپنی توحید کا ترانہ یعنی اذانیں ان کے شہر شہر میں جاری کرادی ہیں۔ ع جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

قدرت اور اسلام کا اس سے بڑا معجزہ کیا ہوگا کہ اسپین میں سینکڑوں سال سے بند مساجد میں اذانیں وہاں کے حکام نے ہی دلوا ئیںاور تو اور اسلام دشمن امریکی حکمران ڈونلڈٹرمپ بھی خدا کی لاٹھی پڑنے کے بعد لرز گیا اوراس ”جبار ارض” نے بھی جبارِ آسمان کے سامنے اپنا سر سرنگوں کردیا اور حقیقی شہنشاہ سے مدد کی درخواست کی اور امریکن قوم سے دعاؤں کی اپیل کی کہ اللہ تعالیٰ امریکہ کو اس وباء سے نجات دلائے اور امریکہ کی مدد کرے۔ اٹلی کے وزیراعظم نے بھی روتے ہوئے اللہ سے معافی طلب کی کہ ہم قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتے، ہم اس وبا کے سامنے مکمل بے بس ہوگئے ہیں اور پھر سب سے عجیب تر منظر دنیا کی نگاہوں نے اس وقت دیکھا جب اٹلی کے ایک بہت بڑے تفریحی مقام کے مرکزی چوک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور خصوصاً بے دین، لبرل اور لا مذہب لوگوں نے بھی سڑکوںاور فٹ پاتھوں پر اپنے ماتھے رب العالمین کے سامنے ٹیک دئیے اور رو رو کے اپنی بیچارگی کا اعلان کیا کہ اے اللہ! تو ہی ہمیں بچا لے، ہمارے بچوں اور شہریوں کو اپنے غیظ و غضب سے نجات دلا دے۔

الغرض اللہ تعالیٰ نے تمام سرکش ممالک اور ظالم اور خدافراموش انسانوں سے اس وائرس کے ہاتھوں ناک کی لکیریں کھنچوا دی ہیں اوران کے تکبر سے اکڑی گردنوں کا سریا ایک کمزور سے جرثومے کے باعث پگھل گیا ہے، ان کی ساری سائنس و ٹیکنالوجی اور خصوصاً جدید میڈیکل طب کے بخیے ادھیڑ دیئے گئے، کل تک کلوننگ اور جینٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسان کی تخلیق کرنے والامغرب اورخصوصاً موت کو شکست دینے کے قریب پہنچنے والے سائنسدانوں کے جعلی نعروں کی ساری ڈاکٹری اور ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ گئی۔ اِِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْد

دور حاضر کے معروف مصنف و سائنسدان (ملحد) پروفیسر یوول نوح ہراری کے مطابق اکیسویں صدی یا بائیسویں صدی میں سائنس موت کا علاج دریافت کرے گی جس کی وجہ سے نعوذ باللہ دنیا سے مذہب کا خاتمہ ہوجائے گا مگر کورونا وائرس (Covid-19) نے جدید سائنس کی کئی تحقیقات کو غلط ثابت کردیاکیونکہ قدرت نے یہ ثابت کردیا کہ انسان کی موت کے لامتناہی اسباب ہیں جس سے جدید دنیا ابھی تک ناواقف ہے، کورونا وائرس اس کی زندہ مثال ہے۔ آخر کار سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنا ”رب” ماننے والوں کو حقیقی رب کی قدرتوں اور طاقتوں کی دہلیز پر سرجھکانا ہی پڑگیا۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کوئی زندہ اور جاندار شے بھی نہیں بلکہ بیکٹیریا سے بھی کمتر درجہ میں ہے، اصلاً یہ ایک پروٹین مالیکیول ہے، چونکہ یہ زندہ نہیں ہے اس لئے اسے مارا بھی نہیں جاسکتا بلکہ اسے تحلیل وتباہ کیا جاتا ہے پھر کورونا وائرس جسمانی ساخت کے لحاظ سے بھی بہت کمزور ہے، مگر دیکھئے کہ اس کورونا نے بڑے بڑے طاقتور اور بگڑے ومست کفارکو ازسرنو اللہ تعالیٰ، مذہب اور انسانیت کی طرف گامزن ومتوجہ کردیا ہے اور پھر قدرت کی مسلط کردہ اس مجہول بیماری ”کورونا” نے دنیا کی سماجی، معاشی، اقتصادی اور طبی شعبوں کو تبدیل کرانے کی بنیاد ڈال دی ہے۔

اللہ تعالیٰ جب متکبروں اور سرکش انسانوں کو شکست دینا چاہے تووہ پھر بڑی قوتوں اور فوجوں سے اُسے نہیں مارتا بلکہ نمرود جیسے حکمران کو معمولی سے مچھر سے ختم کرتا ہے اور اکیسویں صدی کے مغرور انسانوں اور ظالم حکمرانوں کو معمولی سے ”وائرس”سے سبق سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس معمولی سے وائرس کے خوف کے ذریعے ساری دنیا میں سناٹا طاری کرادیا ہے، بڑے بڑے شہر، ایئرپورٹس، فیکٹریاں، فوجی بیرکیں، عظیم الشان بازار، لاکھوں میل پر محیط شاہراہیں، الغرض ہر چھوٹی بڑی چیز بند، ہرشے ویران، ہرسو موت کے سائے اور ساری رونقیں و مزے کافور کرادئیے ہیں، آج لبرلز میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر شرمندہ ہیں، ملحد اور لامذہب اللہ تعالیٰ کے وجود کو ماننے پر مجبور، لاس ویگاس کے تمام جوئے خانے اور نائٹ کلب بحکم خداوندی بند، ایمسٹرڈیم اوریورپ بلکہ دنیا بھر کے ریڈ لائٹس ایریاز بند، شراب خانے، زنا کے اڈے، جوئے خانے، نائٹ کلبس بند ہوگئے اور یہاں تک کہ امریکہ میں سودی نظام صفر کرا دیایعنی بند ہونے کے قریب ہوگیا۔ الغرض گناہ اورسرکشی کے سارے ذرائع اللہ تعالیٰ نے کلمہ کُن کے ذریعے بند کرادئیے ہیں۔ الحکم ﷲ

عصر حاضر کی مادہ پرستانہ دنیا سرمایہ دارانہ نظام کے عفریت کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے، ہوس زَر، تن پروری، شکم سیری کا اسیر یورپ اوردنیا بھر کا ساہوکارانہ بیمار نظام پر کورونا کے باعث اب نزع کی کیفیت طاری ہے، یہ جاں بلب مریض بربادی کے گورستان کے دروازوں پر پہنچ گیا ہے، اب اس مردِ بیمار مغرب کو نسخہ شفاء سائنس ومادیت کے زہرآلودہ ساغر جسے اہل مغرب شراب زندگی کے نام سے موسوم کرتے ہیں یعنی کیسے تعفن زدہ ماحول فراہم کرسکتا ہے؟

آج دنیا کو جس نسخہ کیمیائ، آب شفاء اور مسیحا کی ضرورت ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام اور اس کے روحانی وباطنی طہارت و دین فطرت کے نسخے کو اپنانے میں ہی پنہاں ہے، جس کا اعتراف انگلینڈ اور امریکہ کے پروفیسرز، دانشور ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ دیگرمذاہب اور اقوام کے مقابلے میں مسلمانوں کو اس وائرس نے بہت کم متاثر کیا ہے کیونکہ اسلام ظاہری و باطنی طہارت اور حلال و حرام کے فلسفہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسی باعث دنیا بھر میں مسلمانوں کی اموات اور متاثرین کی تعداد ان کے مقابلے میں کم نظر آرہی ہے۔ خدا کی شان دیکھئے کہ کل تک مسلمانوں کے چہروں اور سروں سے نقاب اور برقعہ چھیننے والے اور طنز کرنے والے آج مغرب کی خدابیزار تہذیب اور نام نہاد ننگ دھڑنگ تمدن، حفاظتی لباس، چہرے پر ماسک بلکہ نقاب و دستانے پہننے پر مجبور ہے۔ آج وہ خود کسی سرکس کے جوکر ومزاحیہ کردار بن کر شاہراہوں، ایئرپورٹوں، سوشل میڈیا کے ویڈیوز میں اللہ تعالیٰ کے مسلط کردہ وائرس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوکر مضحکہ خیز حرکتیں کررہے ہیں۔

اَبروباد اور مہ و خورشید، آسمان و زمین سب انسان کی دست بُرد کی تباہ کاریوں، کارخانوں، مشینوں، گاڑیوں کے زہریلے دھوؤں وغیرہ کے باعث گرد آلود ہوچلے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کورونا کے ذریعے سارے عالم کے ماحول کی آلودگی کو بھی ازسرنو حیات وتازگی بخش دی اور اوزون (Ozone Layer) کی تہہ میں جو بہت بڑا شگاف پڑ گیا تھا اس کی بھی رفو گری کرا دی، جس سے کئی خطرناک امراض پھیلنے کا خطرہ تھا۔ اسی طرح مغرب خاندانی منصوبہ بندی کے نظریہ پر کافی عرصہ سے کام کررہا تھا، لاک ڈاؤن کے بعد کئی عالمی اداروں نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ہماری کئی دہائیوں سے جاری خاندانی منصوبہ بندی اس بحران کے باعث ہواؤں میں پرزوں کی طرح اُڑ گئی اور دنیا کی آبادی میں اس طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے سال بعد کروڑوں انسانوں کی آمد متوقع ہے۔

ع تدبیر کند بندہ تقدیرکند خندہ

اسی طرح اس ننھے ”غریب وائرس” نے دنیا بھر میں عالمی اقتصادی بحران بھی کھڑا کردیا ہے، امریکہ، چین، یورپ، روس اور دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوگیا ہے۔ ان کے کئی عظیم الشان مستقبل کے منصوبے ملتوی ہوگئے ہیں، اسٹاک ایکسچینج کریش ہوگئی اور کروڑوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں اور خصوصاً تیل کی عالمی مارکیٹ بدترین بحران سے گزر رہی ہے، تقریباً تین دہائیوں میں آئل انڈسٹری کا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ ایک نظر نہ آنے والے کمزور وائرس کے مقابلے میں سپرپاورز امریکہ چین، سات ایٹمی ممالک، جی ایٹ گروپ، نیٹو افواج، اقوام متحدہ، ڈبلیو ایچ او وغیرہ تمام شکست کھا کر عاجز ہو گئیں ہیں اورڈبلیوایچ او نے تو واضح اعلان کردیا ہے کہ اس کی ویکسین کی تیاری میں برسوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کورونا کے مریضوں اور متاثرین کی اب تک کی تعداد بیالیس لاکھ سے متجاوز جبکہ دولاکھ اسی ہزار سے زائداموات ہوچکی ہیں اور پندرہ لاکھ سے زائد صحت یاب ہوچکے ہیں لیکن اب بھی ہمارے پاکستان اور ایشیاء میں کئی حضرات ایسے سادہ لوح بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو اسے ایک سازش، جھوٹ اور فریب سمجھ رہے ہیں۔ اب ان سادہ لوح لوگوں کی عقل پر ماتم اورافسوس ہی کیا جاسکتا ہے، جو ایک زندہ جاوید حقیقت کو افسانہ سمجھ رہے ہیں۔ بیماری اور وباء اپنی جگہ پر مسلمہ حقیقت ہے البتہ اس میں اختلاف پایا جارہا ہے کہ امریکہ اور آدھی دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ یہ man madeہے یعنی اِسے چین نے لیبارٹری میں بنایا ہے اور چین اوردیگر ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یہ امریکہ، برطانیہ اور خصوصاً اسرائیل کی کارستانی وایجاد ہے جبکہ ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلط کردہ وبائی مرض اور قدرت کی طرف سے تازیانہ عبرت اور ناراضگی کی علامت ہے جسے وقتاً فوقتاسرکش انسانوں کی اصلاح و تنبیہ کی خاطر اللہ کی طرف سے بھیجا جاتا ہے۔ حدیث میں وباء کو مسلمانوں کے لئے رحمت اور کفار کے لئے عذاب قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام میں تمیز نہ کرنا کورونا وائرس کی بنیادی وجہ بنی، اکیسویں صدی کا انسان مقام ِانسانیت سے گر کر ڈرون کے نظریہ ارتقاء کی فریب کاریوں کا شکار بن گیا تھا اور اسی لئے تو یہ بندر، خنزیر، سانپ، چمگاڈر، کتے، چھپکلیاں، الغرض دنیا کی تمام حشرات الارض کو ہڑپ کرنے والا درندہ بن گیا تھا اور تمام حدودوقیود توڑ کرنعرئہ انا الحیوان میں ایک مہذب حیوان ہوں تو اس کا رزلٹ، ہم جنس پرستی، کورونا وائرس، ہیپاٹائٹس، کینسر، ایچ آئی وی اوردیگر مہلک امراض وبے سکونی اور دنیا ومافیہا کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ آج دنیا کی ایسی مہیب اور مکروہ تصویر سامنے نظر آرہی ہے کہ آسمان نے ایسی دنیا کی بدصورتی، خوف و انتشار کی پہلے کبھی نہ دیکھی ہوگی۔ موجودہ بے یقینی، بے چینی، خوف واضطراب، پریشانی اور سراسیمگی کا مداوا اور جبیرہ صرف مذہب اسلام ہی میں ہے اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ۔ فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا

آج مغرب کے سینہ ویراں میں اسلام ہی جان رفتہ لا سکتا ہے، ہم مغرب اوردنیا بھر کے انسانوں سے اب بھی یہ کہتے ہیں کہ اگر مستقبل کی دنیا کو آپ نے وائرسز (بائیولوجیکل وار )اور ایٹمی حملوں سے مزیدبچانا ہے اور مساوات اور امن و آشتی کیساتھ مل جل کر رہنا ہے تو پھر آؤ اسلام کے دامن رحمت وسایہ عافیت کی طرف جوکہ دین فطرت وطہارت کا نسخہ شفا ء ہے، اس کی روشن تہذیب وتمدن اور مسلم معاشرت کی طرف کہ یہی موجودہ دنیا کی وباؤں اور مصیبتوں کا مداوا او رملجا و ماویٰ ہے اور اس مسیحا وروحانی طبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امت کے شفاخانہ پر جہاں پر شفائے کاملہ اور حقیقی پرسکون زندگی کی ہدایت سے لبریز جام اور پیمانہء رُشد ملتے ہیں، جسکی لذت و سرور عارضی نہیں دائمی ہے اورجسکا ذائقہ کڑوا کسیلا نہیں بلکہ شیریں اور خوشبودار ہے اور اسلام کے شجرہ طوبیٰ کی فرحت وشفاء بخش چھاؤں میں آجاؤ تو تمہاری ساری مصیبتیں اور کوفتیں، روحانی و جسمانی بیماریاں دور ہوجائینگی۔ کل تک تو متکبر ٹرمپ نقارہ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ بجایا کرتا تھا، آج اس بڑے جابر و قاہر کی گرجنے والی زبان وبائی دور میں گنگ نظر آرہی ہے، عظمتوں کے مالک خدائے بزرگ و برتر کے سامنے دنیا بھر کے حکمران لرزان و ترسان چپ سادھے نظر آرہے ہیں۔ احکم الحاکمین کی خدائی کے سامنے سب ہیچ ہو گئے ہیں (العظمة ﷲ) فانی طاقت کے گھمنڈ پر نازاں مغربی واسلامی حکمران کروڑوں انسانوں کے امن وسکون کے غارت گران موت کے پنجوں کے خوف سے محلات میں سہمے سہمے نظر آرہے ہیں اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ

آہ ! آج غافل حضرت انسان موت اور وبا کے سامنے کتنا لاچار اور بے بس نظر آرہا ہے، اور وہ زوال وفنا کے دام میں بندھا نظر آرہا ہے، آج اس کی ساری طاقت، شوکت، قوت، رعیت، سیاست، دولت، ثروت وٹیکنالوجی اس کا ساتھ نہیں دے رہی، دنیا کی اس بے ثباتی اور قانون ِ اجل کے بے رحم احتساب سے دنیا بھر کی خدافراموش اقوام اور خصوصاً مسلم ِخوابیدہ کچھ تو عبرت حاصل کرے فَاعْتَبِرُوْا یٰاُولِی الْاَبْصَارِ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20