کلاس روم سے کلاس زوم تک —– عبد اللہ منصور سلیمان

0

کمرہ جماعت کے نظم و نسق (Classroom Management) کی طویل اور صبر آزما تربیتی نشستوں میں بار بار شرکت کرنے کے بعد کبھی کبھی ہمیں یہ خیال آ جاتا تھا کہ اب ہمیں ان “شمعِ علم کے پروانوں” کو قابومیں کرنا اور ان سے کام کروانا آ گیا ہے۔ جب کبھی درس گاہ میں بہت سا کلاس ورک کروانے کے بعد ہوم ورک کا بوجھ مستقبل کے معماروں کے سر پر ڈالتے تو واقعی میں یوں لگتا کہ بہت سا بوجھ خود ہمارے اپنے سر سے اتر گیا ہے کیوں کہ اپنے تدریسی سفر کے دوران بہت سے رفقاء کار کو اسی وجہ سے اس پیشے کوخیر باد کہتے دیکھا کہ ان طلبہ سے کام کروانا مشکل ہے اور اسکول انتظامیہ و سرپرستوں کے بے جا دباؤ کے ہم متحمل نہیں۔ پیرزادہ قاسم کا ایک شعرہم بھی گنگنایا کرتے تھے:

عجب نہیں کہ ہمارے بھی لب ہنسے ہوں کبھی
ہجومِ غم میں بھلا کس کو یاد رہتا ہے

اب اسکول میں انداز تعلیم کچھ یوں ہے کہ بچوں کو ذہنی دباؤ سے دور رکھنے کی شعوری طور پر کوشش کی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نظر آیا کہ پڑھانے والوں کو بھی کچھ آرام آیا۔ الحمدللہ بہت سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے اور بعض بچوں کی صلاحیتوں نے متاثر کیا۔

معمول کے مطابق درس و تدریس کی سرگرمیاں جاری تھیں کہ اچانک میڈیا پر کورونا وائرس کی خبریں گردش کرنے لگیں اور حکومتی اداروں کی طرف سے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا۔ سب کو اپنے گھروں پر رہنا تھا اور اسکول آنے کی اجازت نہ تھی۔ ہمارے ادارے کے اساتذہ کرام نے مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ اب پڑھائی کلاس روم میں ممکن نہیں۔ اب “زوم” پر کلاس ہوگی۔ طبیعت کی جولانی نے اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اپنا کاندھا خود ہی تھپتھپایا کہ اب ریموٹ کنٹرول کا وقت آن پڑا ہے۔ شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے نیا نظام الاوقات بنا ڈالا اور اگلی صبح کلاس زوم میں ہونہار طلبہ کے سامنے حاضری ہوئی۔

وہ جن کی گوش مالی کی ساری رات منصوبہ بندی کی تھی، آئے ہی نہیں۔ ہائے!

خیر جو آئے تھے ان غنیمت جانا گیا اور پڑھانا شروع کیا۔ اچانک شور اٹھا کہ کلاس میں الطاف بھائی آ گئے ہیں۔ “یہ الطاف بھائی کون ہے؟” “یہ الطاف بھائی کون ہے؟” بار بار بچے بولنے لگے۔ ایک لمحے کو خیال آیا کیسا زمانہ آگیا کہ قوم الطاف بھائی کو بھول گئی۔ ناموں کی فہرست دیکھی تو کسی نے الطاف بھائی کے نام سے آئی ڈی بنا رکھی تھی۔ ابھی سرزنش کا ارادہ ہی کیا تھا کہ عمران خان، نواز شریف، خواجہ، چودھری اور پتہ نہیں کون کون آگئے۔ لیکن پھر ہم نے بھی ٹھان لی کہ نام سے کیا ہوتا ہے، “مجھے ان ہی تو بچوں کو پڑھانا ہے”۔

بہر کیف! سبق پڑھایا گیا اور ادھر ادھر کی باتیں بھی چلتی رہیں۔ “ہیں سر؟”، “جی سر؟”، “آپ کی آواز کٹ رہی ہے۔ “، “آخری والی بات سمجھ میں نہیں آئی” وغیرہ جیسی خوش کلامیاں بھی جاری رہیں۔

اتنے میں زینب کی امی آگئیں کہ دو منٹ اس کو گود میں لے لیں، میں ابراہیم کا پیمپر چینج کروا دوں۔ ان کو دانت پیس کر اشارہ کیا کہ میں پاکستانی سیاست کے آفتاب و ماہتاب کے ساتھ تبادلہ خیال میں مصروف ہوں اور تم مجھ سے یہ خدمت لے رہی ہو۔ جھٹ خیال آیا کہ یہ لوگ کون سے اصلی ہیں، قانون نافذ کروانے والے ادارے تو سر پہ کھڑے ہیں۔ اس لیے نظریں جھکا کر زینب کو گود میں بٹھالیا۔ تھوڑی دیر بعد خدیجہ نے آکر پوچھا کہ بابا! مما پوچھ رہی ہیں کہ آپ چائے پئیں گے؟ ہمارے کچھ بولنے سے پہلے ہی اسکرین کے اس پار سے آواز آئی کہ “بابا بھی پئیں گے اور ہم بھی پی لیں گے۔”

زوم پر کلاسز کے دوران بعضے تو پابندی سے حاضرِ خدمت ہوتے رہے اور بعضوں نے آنا جانا لگا رکھا تھا۔ کسی کی آنکھ ہی نہیں کھل پاتی تھی اور کوئی یہ کہہ کر کہ “واش روم سے آیا” نہ معلوم کس وادی میں چلا جاتا۔ کبھی انٹر نیٹ کنکشن ختم تو کبھی ڈیوائس خراب۔ کوئی ایک دن آتا تو اگلے دن غائب اور کوئی اسے فرض کفایہ سمجھتا رہا کہ چلو جب چند نے پڑھ لیا تو ہماری طرف سے بھی کافی۔ فراز نے شاید ان ہی کے بارے میں کہا تھا۔

ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

بہر کیف ! زوم پر آنے والے اور نہ آنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔

محض کتابی علم کے تو ہم شروع سے قائل نہیں۔ اب ذرا کھل کر موقع ملا کہ لگے بندھے فرسودہ طریقوں کو چھوڑ کر کچھ من چاہا پڑھائیں۔ الحمد للہ ہمارے ادارے کے تعلیمی فلسفے میں نہ صر ف اس کی آزادی ہے بل کہ حوصلہ افزائی ہے۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ عمومی آفات کے دنوں میں سیرت طیبہ کے تذکروں میں بہت برکت ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی ؒ کی’ رحمتِ عالمﷺ’ شروع کروا دی۔ زبان و ادب کی چاشنی کے ساتھ سرور دو عالم ﷺکے مبارک احوال کے تذکروں نے سب کے دلوں پر خوب اثر ڈالا۔ یہ تو نہیں معلوم کہ بچے کس حد تک صحیح معنوں میں سمجھ پائے لیکن مجھ ناچیز کو یہی خیال آتا رہا کہ اس مجلس کی برکت سے شاید شفیع اعظم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوجائے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کا شعر ہے:

عجب نہیں تری خاطر سے تیری امت کے
گناہ ہوویں قیامت کو طاعتوں میں شمار
یہ سن کر کہ آپ شفیع گناہ گاراں ہیں
کئے ہیں میں نے اکٹھے گناہوں کے انبار

ایک روز جو میٹنگ روم میں پہنچے تو خود کو اکیلا پایا۔ خیال آیا کہ اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لیے کچھ نہ سہی تو اخبار کا مطالعہ شروع کیے دیتے ہیں۔ اخبار کی ویب سائٹ کھولی اور مستغرقِ مطالعہ ہوئے۔ کچھ دیر بعد ہلکی سی کھنکھارنے کی آواز آئی تو پتہ چلا کہ ایک شاگرد رشید اپنے وجود کا احساس دلا رہے ہیں۔ ابتدائی علیک سلیک کے بعد انہوں نے بھی سوال کر ڈالا کہ سر آپ کیا کر رہے تھے؟ شریف آدمی نے اپنی اسکرین شیئر کرڈالی کہ گردشِ زمانہ کی سن گن لے رہے تھے بس۔ پھر کیا تھاخبریں پڑھنے کا سلسلہ چل نکلا۔ دادا مرحوم بچپن میں اسکول کی وین کے انتظار کے دوران ہم سے اخبار پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔ آج ان کی سنت زندہ کرنے کا موقع ملا۔ اور بھی طلبہ آ گئے اور مختلف موضوعات سے متعلق خبریں پڑھی اور سمجھی گئیں۔ اگلی چند کلاسوں میں یہ سلسلہ جاری رکھا گیا اور اخبار کے مختلف حصوں پر سیر حاصل گفتگو رہی۔ اندازہ ہو رہا تھا کہ حاضرینِ محفل اپنے اپنے مقام پر اس سرگرمی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

ایک سعادت مند نے دورانِ سبق یہ انکشاف کیا کہ وہ ہاشم ندیم کا ناول “عبد اللہ” پڑھ رہے ہیں۔ جلد اول ختم ہو چکی ہے اور جلد دوم کا مطالعہ جاری ہے۔ ناول نگاری پر بات نکلی اور دور تلک گئی۔ گوگل استاد بھی سامنے ہی تھے تو ان سے بھی مدد لی گئی۔ اردو کے مشہور اور متداول ناولوں کی ایک مختصر فہرست سامنے آ گئی اور کچھ بچوں نے اسی کلاس میں پی ڈی ایف فائل سے مطالعہ شروع کردیا۔ اس کے بعد کے کچھ اسباق ناول کی بعض اصناف اور کچھ ناول نگاروں کے اندازِ تحریر پر بھی ہوئے اور پاکیزہ اور بامقصد ادب کے حوالے سے باتیں ہوئیں۔ اللہ کرے کچھ معیاری اور ہماری اخلاقی روایتوں سے مناسبت رکھنے والے ناول ان برخورداروں کے ہاتھ لگ جائیں جن کی تعداد اب خاصی کم ہوتی جارہی ہے۔ ناول ادب سے عاری نظر آتے ہیں اور فلموں کے اسکرپٹ زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔

چوں کہ اسلامیات کی تدریس کا شرف بھی ہمیں ہی حاصل ہے اس لیے وہاں بھی مختلف قسم کی چیزوں کو مشق ستم بنائے رکھا۔ ہم سبق پڑھاتے جاتے اور ایک اقبال مند اس کو گوگل ڈاکس پر محفوظ کرتے جاتے۔ او لیولز اسلامیات کے موضوعات سے متعلق کچھ معاصر ائمہ و خطبا کی انگریزی میں ویڈیوز جمع ہوگئیں اور ان کو دیکھ طلبہ نوٹس بناتے۔ اس دوران سابقہ امتحانی پرچہ جات بھی حل کرنے کی مشق جاری رہی۔ طلبہ سوالات حل کرتے اور ان کی تصاویر لے کر بذریعہ ای میل بھیج دیتے۔

اس دوران سب سے زیادہ فائدہ ان بچوں نے اٹھایا جن میں خود سے پڑھنے کی طلب تھی۔ اپنے کاموں کی ذمہ داری خود لینا اور ان کو احسن طریقے سے کرنا وہ وصف ہے جو اب ناپید ہوتا جارہا ہے۔ وقت گذاری کے لیے اسکول آ جانا جسمانی حاضری تو لگوا سکتا ہے اور شاید کوئی کاغذی پرزہ بھی میسر ہوجائے لیکن قلب و ذہن کو علم و حکمت سے آشنا نہیں کروا سکتا۔ خدا کرے کہ اسلاف کا وہ ذوقِ تعلیم و تعلم ہمیں بھی نصیب ہو جائے جس نے ان کی دنیا و آخرت سنوار دی تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20