حضرت شاہ ہمدان ؒ : ایک مختصر جائزہ —- محمد یسین کمبے

0

کوہ و دریا و غروب آفتاب من خدا را دیدم آنجا بی حجاب
کشمیر کی فطری اور طبعی خوبصورتی کی توصیف صرف حکیم الامت علامہ اقبالؒ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ فارسی زبان و ادب سے وابستہ گان اور دلبستہ گان شعراء نے کشمیر کی خوبصورتی اور زیبایی کی بڑے آب وتاب کے ساتھ تعریف کی ہے اور اسطرح سے علم پروری اور ادب دوستی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ عہد قدیم سے ہی اس حسین وادی کی سرسبزی وشادابی اور لازوال حسن و جمال کو دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں گونا گون ممالک سے یہاں سیاح آتے ہے بقول پروفیسر سید امیر حسین عابدی ’’جب کو ئی فارسی زبان وادیبات کا طالب علم یہاں آتا ہے تو اس سرزمین کو ایک نئے زوایہ سے دیکھتا ہے‘‘۔۱؎۔

کشمیر کی تعریف سبحان رای بٹالوی نے اپنی کتاب میں یوں کی ہے۔

’’کشمیر عجیب دلگشا خطئہ ہے۔ اسے سے آسمانی قلوے کے اندر ایک سدا بہار باغ کہیے تو بجا ہے اور اگر گوشہ نشین عارفوں کا خلل عشرت کدہ تصور کیجئے تو روا ہے۔ پانی خوشگوار، آبجوؤں کی روانی، آبشاروں کے زمزے اور گلزاروں کے شگفتگی کے عالم بیاں سے باہر ہے‘‘۔ ۲؎

اوشا شرما نے اپنی کتاب میں کشمیر کی توصیف یوں کی ہے

“The natural beauties, the glorious climate and other attractions of the Kashmir valley have received such extravagant praise on the past that the newcomer is apt to picture to himself a paradise on earth” 3

دراصل چشمہائے خوشگوار، سبز ہائے لطافت آثار سے پر وادی کشمیر اور اسکی آب ہوا اس خطہ کے معشوقوں کی خوبصورتی اور شکل و شمائل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں عرفی شیرازی نے کہا تھا۔ ہر سوختہ جانی کی بہ کشمیر در آیدگرمرغ کباب است با بال وپرآئدمی آید و می سوزد ازین رشک کہ کشمیرچوں یافت کہ آید بہ کجا براثر آید۔ ۴؎

عہد جہانگیر کے معروف ترین قصیدہ گو اور ملک الشعراء طالب آملیؔ کشمیر کی تعریف میں یوں رطب السان ہے۔
فیض پیالہ بخشید آب وھوای کشمیراز خشت خم نہادن گویا بنای کشمیر کشمیر میستانم از حق بجای جنتام نمی ستانم جنت بجای کشمیرہر کس پُر تماشا کردند خوش فضایرضوان فضای جنت طالب فضای کشمیر ۵؎

ظاہری حسن و جمال کے ساتھ ساتھ قدرت نے یہاں کے لوگوں کی علم پروری، ادب شناسی اور معنوی فیوض سے مالامال کیا ہے۔ وادی کشمیر میں عقبری وباکمال شاعر اودب، صوفیائے کرام، متقی اولیاء اوکابر رشی جنم لیتے رہے اور انہوں نے اہل دل اہل یقین حضرات کی ہدایت اور رہنمائی کی خاطر عوام الناس کے لئے اپنی زندگی وقف رکھی تھی۔ جتنے بھی غیر ملکی خدا دوست سالک، رشی و صوفی وارد کشمیر ہوئے ان میں سے کسی نے بھی لوگوں پر اتنا اثر ڈالا کہ حضرت شاہ ہمدانؒ کی شخصیت نے ڈالا ہے۔

حضرت امیر کبیرؒ، سید السادات، جامع الکمالات، ولایت پناہ، معمار تقدیر، علی ثانی، شاہ ہمدانؒ، خاندان نبوت کے علم وعرفان کا یہ روشن ستارہ مطلع ہدایت پر ۱۲ رجب، ۷۱۴ ہجری کو ایران کے مشہور شہر ہمدان میں طلوع ہوا۔ ۶؎

کشمیر کے مشہور و معروف نویسندہ، شاعر و عالم شیخ العقوب صرفی نے اشار کی صورت میں ’ہمدان‘ کو یوں ذکر کیا ہے۔ این ہمدانی ہمہ دانی دہدمعرفت سہ نہانی دہداز ہمدان نورولی آمد پدیدعاقبت آن نور بہ ختلان رسید ۷؎

آپ بہ یک وقت ایک عالم، برجستہ مبلغ، پرہیز گار صوفی، متقی رہبر اور اعلیٰ پایہ کے ادیب تھے۔ بنا برین آپ روحانی مرتبت کے پیشوار بھی تھے۔ آپ کے والد بزرگوار سید شہاب الدین بھہ ہمدان کے حاکم اعلیٰ تھے اور محاصرین نے آپکے علم وفضل اور زہد و تقوایٰ کی بہت تعریف کی ہے۔ حضرت سید نے پوری زندگی اسلام کی بقا اور اسکی نشر واشاعت کے لئے وقف رکھی۔ ان کی مساعی جمیل اور فیوض کا نتیجہ ہے کہ کشمیر میں اسلام کا ٹمٹماتا ہوا چراغ بجھنے کے بجائے جگمگاتے ہوئے سورج کی طرح منور اور روشن ہوا۔ شاہ ہمدانؒ کی کشمیر آنے سے پہلے ہی ترکستان کے سید زادے شیخ شہاب الدین سہروردی کے شاگر حضرت بلال ؒ المعروف بلبل شاہؒ کے ہاتھوں رینچن شاہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد کشمیر میں نہ صرف مسلم حکومت قائم ہوی بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور لسانی نظام میں بھی اسلامی عناصر کا غلبہ دن بہ دن بڑھتا جاتا رہا۔ رینچن شاہ شاہ میری سلطنت کا پہلا حکمران گزرا ہے اور اس طرح سے وہ ۷۲۵ میں کشمیر کا پہلا حکمران بن گیا۔ ۸؎ اور صدر الدین کے نام سے مشہور ہوئے اس کے ساتھ ہی امیروں، وزیروں اور دیگر اشخاص بھی اسلام کے دائیرے میں آگے۔ یہاں تک کہ تیرہویں صدی عیسوی کے اواخر تک خطۂ کشمیر کے تہذیب وتمدن میں زبردست تنزول آیا تھا۔ رینچن شاہ کے دور میں فارسی نظم ونثر اور دیگر علوم وفنون کے ساتھ مساجد و خانقا ہیں بھی تعمیر ہوئی ان میں ایک خانقاہ سرینگر میں دریائے جہلم کے کنارے تعمیر ہوئی جو بلبل لنگر کے نام سے آج بھی موجود ہے۔ رینچن شاہ نے دو سال اور سات مہینے حکومت کی اور آخر کار ۷۲۸؁ھ بمطابق ۱۳۲۷؁ میلادی اس دنیا ی فانی سے دار البقا کی طرف چلے گئے۔ ۹؎

حضرت شاہ ہمدانؒ نے کشمیر آنے سے پہلے اپنے حضرت سید تاج الدینؒ اور سید حسین سمنانیؒ کو کشمیر کے حاالات دریافت کرنے کی غرض سے بیجھا تھا۔ تاکہ وہ یہاں کے حالات و واقعات سے حضرت سید کو باخبر کرے۔ مورخ غلام محمد صوفی اس بارے میں یوںرقم طراز ہے۔

“It appears that the two brothers Taj-ud-din and Syed Hussan. Wers sent to Kashmir by Syed Ali Hamadani ؎probably to Survey the field for propagation of Islam……10

حضرت بلبل شاہؒ کی تشریف آوری کے بعد بہت سارے صوفیائے کرام کشمیر تشریف لائے ہے۔ مگر اُن میں سے نوابغ، اہم ترین او بزرگ ترین حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانؒ تھے۔ حضرت سید کے مقدس ہاتھوں سے تمام وادی کشمیر کے لوگوں نے دین مبین اسلام کے دایرے میں داخل ہوگئے اور اس حسین اور صوفیائے کرام کی وادی میں ظلمت اور جہالت کا مکمل طور پر خاتمہ کیا۔ غرض آپ کی آمد نے وادی کشمیر کفر کے ظلمت اور اندھیرے سے نکل کر نور منور کیا۔ یہ آپ کا ہمارے پر عظیم احسان ہے جس کو ہم رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے۔ حضرت سید پہلی بار۱۳۷۲؁ء میں خطۂ کشمیر میں وارد ہوئے ۱۱؎۔ یہ تاریخی واقعہ سلطان شہاب الدین کے دور میں ہوا۔ پہلی بار حضرت سید نے کشمیر میں چار سال تک قیام کیا اور اس کے بعد حج بیت اللہ شریف کی زیارت کے ارادے سے واپس تشریف لے گئے۔ غرض آپ کی تشریف آوری کے ساتھ ہی اسلامی عقاید اور فارسی زبان وتمدن ایران کی بنیاد ڈالی اور مجموعی طور پر وادی کشمیر میں اسلام پھلنے لگا۔ شھاب الدین کے دور میں بھی کشمیر میں گوناگون مساجدو مدارس معرض وجود میں آئے اور علم وادب کا کافی ترقی ملی۔ شھاب دین نہ صرف بادشاہ فاتح تھے بلکہ علم دوست ادب نواز اور دین دار بھی تھے۔ ۱۲؎

حضرت سید ۷۸۱؁ھ کے اوایل میں دوسری بار ہمراہ بہ سات سو سادات وارد کشمیر ہوکر تازگی بخشی ہے۔ یہ واقع سلطان قطب الدین کے دور میں پیش آیا اور حضرت سید کے ساتھ جو سادات کرام کشمیر تشریف لائے انھوں نے کشمیر کے مختلف اور دور دور افتاد علاقوں سے لوگوں کو دائرہ اسلام میں لایا۔ ان مبلغین کی مادری زبان فارسی تھی گرچہ انھوں نے عربی زبان میں قرآن و احادیث کی تعلیم لوگوں کو دی ہیں لیکن ساتھ ساتھ مادری بول چال کا بھی خاص اثر رہا ہے۔

حضرت سید کے ساتھ جو سادات آئے تھے اُن میں کچھ نے یہاں پر مستقل سکونت اختیار کی جن کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ سید محمد مدنی، سید محمد حصار شادمانی، سید فخر الدین، سید حسین، سید زیرک، سید علی اکبر، سید کمال وغیرہ وغیرہ ہے۔ تمام سادات حضرت شاہ ہمدانؒ کے نقش قدم پر دینی خدمات بخوبی احسن انجام دیتے رہے اور اپنی پوری زندگی رشد و ہدایت میں بسر کی ہے۔ ۱۳؎

حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ تیسری بار ۷۸۵؁ھ میں وارد کشمیر ہوئے اور ایک سال یہاں پر قیام کیا اور بعد میں مناسک حج کی غرض مکہ تشریف لے گئے لیکن چھے دن کے بعد یعنی ذی الحجہ ۷۸۶؁ھ کو دنیای فانی سے کوچ کر گئے اور حقیقیت ابدی سے جا ملے۔ شیخ محمد سرای جو حضرت سید کے صلحا و بلغای میں سے تھا حضرت سید کی وفات ایک تاریخی قطعہ نظرانہ عقیدت پیش کیا ملاحظہ ہو۔

مفخر عارفان شاہ ہمدانؒ کز دمش باغِ معرفت بشگفت مظہر نورِ حق کہ رویش را عاقب از جہانیان بنہفت عقل تاریخ سال ر حلت او سید ما علی ثانی گفت ۱۴؎

حضرت شاہ ہمدان ایک بلند مرتبہ زاہد، ادیب، داعی، معمارِ تقدیر، مفکر دین اسلام، صوفی و عارف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین قلم کار بھی گزرے ہے۔ انہوں نے اسلام کی آبیا ری کے ساتھ ساتھ علومِ سیاست و معاشرت، اقتصاد و انتظام کی بہتری کے لئے کارھای نمایاں بھی انجام دیتے رہے۔ آپ فارسی اور عربی زبان کے بڑے استاد تھے۔ انہوں نے نہ صرف اسلامی علوم میں کمال حاصل کیا تھا بلکہ اپنے زمانے کے بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ قادر الکلام مصنف بھی تھے۔ حضرت سید نے کئی کتابیں اور رسالے فارسی و عربی زبان میں بطور یاد گار چھوڑے ہے۔ بیشتر سارے فارسی زبان میں ہے۔ وہ نہ صرف آٹھویں صدی ہجری کے صفہ اول کے نمایاں ترین روحانی بزرگ اور مصلح ازم تھے بلکہ وہ جامع شخصیت کے مالک تھے۔ جہاں انہوں نے اپنی تصانیف میں شریعت، طریقت، معرفت، حقیقت کے دقیق طرین مسائل زیر بحث لاکر انہیں عام فہم بنایا۔ وہاں انہوں نے حکومت، سیاست، معاشیات، اخلاقیات، فلسفہ، تصوف، عرفان اور دیگر علوم کو بھی زینت بخشی۔ وہ بیک وقت مرشد کامل تھے اور دینوی رہنماں بھی، مقرر بھی، ادیب بھی، مفسر بھی، محدث بھی، شاعر بھی اور مضمون نویس بھی اور وہی ایک لامثال خطوط نگار بھی۔ غرض ان کی زندگی کے کس کس پہلو کو اُجاگر کیا جائے۔ اُجاگر کر کے بھی تشنگی باقع رہ جاتی ہے۔

جہاں وہ اپنے وقت کے سب سے اعلیٰ محد شریعت محمدِﷺ کے سب سے بڑے علم بردار اور حقیقی معنوں میں اسلامی انقلاب برپا کر نے والے، وہی وہ ساتھ ساتھ مطلعِ روحانیت پر چمکتے ستارے اور صاحبِ اسرار بھی، جہاں وہ ایک ہمہ گیرمنتظم وہی تنہائی کا دلدادہ بھی۔ ایک محطاط اندازے کے مطابق حضرت امیر ؒ نے عربی اور فارسی میں کُل ۱۴۰ کُتبہ و رسائل تصنیف فرمائی اس کے علاوہ حضرت امیرؒ نے مختلف لوگوں کو خطوط بھی روانہ فرمائے جو اب کتابی صورت میں چھپ چکے ہے اور اپنے انداز میں بھی بے مثال ہے اور خطوط میں بھی اہم مسائل کو زیر بحث لایا ہے۔ غرض یہ کہ آپ کی تصانیف و تالیفات ہر فن اور ہر باب مین خاص کر معرفت اور حقیقیت کے رازوں اور بھیدوں میں مشہور و معروف ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ حضرت سیدؒ نے سہ بار دنیاں کے گرد سفر کی سعوبتیںاختیار کی اور بلا اتفاق تمام مورخین تین بار انہوں نے وادی گُل پوش کو اپنے تشریف آوری سے منسور فرمایا۔ میں ایک بار پھر یہ ذاتی رائے دہراووں گا کہ ان کو تعلیمات کا اِس سے ذیادہ کیا اثر ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کُفر و شرک اور دیگر برائیوں میں پھنسے ہوئے بندگان ِ باری تعالیٰ کو نکالا اور انہیں فرزندانِ توحید شامل فرما کر اسے شعاعوں سے مُنور فرمایا جو عرب سے نکل کر پوری دنیاں کو مُنور کرنے کے لئے رحمت اللعالمین کی صورت میں تشریف فرما ہوا۔ ہاں یہ بات ہے کہ اس کے علاوہ بھی حضرت امیرؒ کے تعلیمات کا اثر یہ رہا ہے کہ جہاں بھی گئے وہاں اخلاقِ حُسنہ کی تعلیم دیتے رہے اور اس کا اثر لوگ قبول کرتے رہے۔ کشمیر میں لباس کی تبدیلی بھی عام طور پر بھی آپ کی طرف منسوب ہے۔ پشمینہ تجارت کی شروعات بھی آپ کی طرف منسوب ہے۔

آپ جہاں جہاں بھی گئے دعوتِ حق دیتے رہے۔ اور وہاں لوگوں کے اعمال و اخلاق معشیت اور کاروبار میں بہتری پیدا کرنے کے لئے انہیں کار آمد مشورے دیتے رہے۔ آج کل پوری دنیاں میں کشمیر اپنی دستِ کاری کی وجہ سے مشہور ہے اور یہ آپ کی ہی منصوبہ بند تعلیمات کا نتیجہ ہے اور آپ کی ہی نظرِ عنایت سے یہ وادی گُل پوش ایرانِ صغیر کا درجہ حاصل کر سخی۔  حق تو یہ ہے کہ یہ بات میرے علم و قلم سے باہر ہے کہ میں اس بے مثال بحر علم و عمل، عشق و عرفان کے پیکر کے بارے میں کچھ لکھ سکوں۔ آخر پر میں علامہ اقبال لاہوری کے اشعارِ زیر سے اپنا مقالہ اختتام کرتا ہوں۔  سید ا لسادات سالارِ عجم دستِ او معمار تقدیر اُمم تا غزالیؒ درس اللہ ہو گرِفت ذِکر و فکر از دود مان او گرفت مُرشد آن خطہ مینو نظیر مرد درویش و سلاطین رامُشیر آفریدآن مرد ایران صغیر با ہنر ہائے غریب و دلپذیر خِطہ را آن شاہ دریا آستین داد عِلم و صنعت و تہذہب و دین یک نگاہ او کشد صد گِرہ خیز و ترش را بدل راہے بدَہ۱۵؎

حوالہ جات و کتابیات
ا)۔ دانش، مجلہ بخشِ فارسی دانش گاہِ کشمیر، سال۱۹۹۲۔ ص۴۳ ۲)۔ خلاصتہ التواریخ از سبحان رای بٹالوی، مترجم، ڈاکٹر ناظر حسین زیدی۔ ص ۱۲۸۳)۔ History of Jammy Kashmir & Ladakh by Usha Sharma, Radha Publications Darya Gunj New Delhi – 2001, P No 135  ۴)۔ کُلیات عُرفی شیرازی، از عرفی، بھائی گوروداس کُتب خانہ امرتسر، پنجاب، زیر ایکسشن نمبر۔ ۲۶۰۲۹۵)۔ کشمیر میں فارسی ادب کی تعریف از عبدالقادر سروری، ناشر شیخ محمد عثمان اینڈ سنز۲۰۱۲۔ ص۱۰۲۶)۔ تاریخ حسن، از حسن شاہ کھویھامی، ناشر سازمان تحقیق و اشاعت جامو و کشمیر، سال ۱۳۰۵؁ھ، ص ۱۱۷)۔ مسلک الاخیار، از۔ حضرت شیخ یعقوب صرفی، نسخہ خطی، کتاب خانہ مرکزی علامہ اقبال دانشگاہ کشمیر شماہ ۱۳۔ ۸)۔ تایخ حسن، کھویھامی، مترجم عابد گلزار، ناشر الحیات پرٹوگرافرس سرینگر ۲۰۱۳؁ء۔ ج۔ دوم۔ ص۔ ۳۹)۔ رینچن سے رنجیت تک، از ڈاکٹر منور مسعودی، سال اشاعت ۱۹۹۳۔ ناشر، انڈین پرٹنگ پریس ڈل گیٹ سرینگر۔ ص۔ ۱۶۔ ۱۰)۔ Islamic Culture in Kashmir, by G.M.D Sofi, 2nd Edition 2017-18, Light a nd Life Publications Jammu. P. 35۱۱)۔ مفصل تاریخ و تحریک کشمیر۔ شبنم قیوم، جلد۔ اول، سیٹی بک سینٹرز بڈشاہ چوک سرینگر ۲۰۱۵؁ء۔ ص۔ ۱۷۔ ۱۲)۔ The History of Kashmir, PMK Bamzai, Gulshan Books Srinagar, Vol. 2. P. 317۱۳)۔ تاریخ حسن، پیر غلام حسن شاہ کھویھامی۔ ص۔ ۶۷۱۴)۔ واقعات کشمیر، خواجہ محمد ازم دید مری، مترجم پروفیسر شمس الدین احمد، نازیہ پرینٹرز دہلی۔ ۲۰۰۱، ص۔ ۳۷۱۵)۔ کلیات اقبال (حصہ جاوید نامہ) چاپ اول، سال ۱۹۶۲؁ میلادی، ناشر، کتب خانہ نظیریہ اردو بازر دہلی۔ ص۔ ۱۴۶۔
Mohmad Yaseen KambayResearch Scholar (CCAS)University of Kashmir
email:kambayyaseen786@gmail.com

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20