ریٹائرمنٹ کی عمر اور کرسی کی محبت —- اے خالق سرگانہ

0

یوں تو فرنیچر ہر گھر کی ضرورت ہے اور گھر کی خوبصورتی اور کمفرٹ میں اضافہ کرتا ہے لیکن فرنیچر کا ایک آئٹم ایسا ہے جس کی محبت عالمگیر ہے وہ ہے کرسی۔ کرسی یوں تو فرنیچر کا چھوٹا سا آئٹم ہے اور زیادہ آرام دہ بھی نہیں ہوتا تھا اگرچہ اب آرام دہ کرسیاں بھی آ گئی ہیں بلکہ کرسی کے اتنے ڈیزائن آ گئے ہیں کہ ہر گریڈ کے حساب سے کرسی دستیاب ہے۔ کرسی کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک دفعہ آدمی اس پر بیٹھ جائے پھر وہ کسی صورت میں اُٹھنا نہیں چاہتا ہاں اگر بڑھاپے اور کمر درد کی وجہ سے بیٹھا نہ جا سکے تو کوئی بات نہیں ایسی کرسیاں آگئی ہیں جن پر آپ لیٹ بھی سکتے ہیں۔ دستخطوں کیلئے آپ کو پشت سیدھی کرنا پڑے گی۔ بہرحال آدمی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اس کے سامنے اُس کی کرسی پر بیٹھ جائے۔ کرسی کیلئے تاریخ میں جنگیں بھی ہوئیں، قتل و غارت ہوئی خیر یہ تو پرانی باتیں ہیں لیکن آج کے مہذب دور میں بھی قتل نہ سہی سردھڑ کی بازی تو لگ جاتی ہے۔ دشمنیاں بن جاتی ہیں، سازشیں ہوتی ہیں اور بڑا کچھ دائو پر لگ جاتا ہے۔ بات بہت دور تک پہنچتی ہے۔

بڑی کرسی کیلئے تو کیا کچھ نہیں ہوا پھانسی تک نوبت جا پہنچی یہ تو تاریخ ہے ضمیروں کے سودے ہوئے۔ مفادات کی خریدوفروخت ہوئی، بڑے بڑے جھوٹ بولے گئے لیکن کرسی بڑی ظالم ہے کسی سے وفا نہیں کرتی پھر بھی لوگ اس پر مرے جا تے ہیں۔ اس میں تھوڑے سے عرصے کے لئے بھی جھولا جھولنا اتنا مزہ دیتا ہے کہ انسان سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ یادش بخیر محترمہ بینظیر بھٹو اکثر تسبیح ہاتھ میں رکھتی تھیں، دشمنوں نے اُڑائی ہوئی تھی کہ وہ تسبیح پر کرسی کرسی کا ورد کرتی ہیں۔ بڑی کرسی کی قیمت بھی بڑی دینی پڑتی ہے لیکن چھوٹی سے چھوٹی کرسی کا بھی اپنا مزہ ہے کرسی پر بیٹھنے کیلئے ساٹھ سال کی عمر تو بہت تھوڑی لگتی ہے اُسی وقت تو مزہ آنے لگتا ہے اور ادھر سے ریٹائرمنٹ کا پروانہ آ جاتا ہے۔ خیر عقلمند لوگوں نے اپنے لئے ہی نہیں آنے والوں کیلئے بھی کچھ اضافی کرسیوں کا انتظام کر رکھا ہوتا ہے۔ کرسی ہونی چاہئے، جگہ یا عہدہ بدلنے پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر کسی حکومت کو ہدایت دیتا تو وہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا 75 کر دیتی لیکن موجودہ حکومت کی تو شاید مت ماری گئی ہے کہ وہ عمر کی حد گھٹا کر 58 سال کرنے کا سوچ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا ظلم ہے جسے کرسی نشین قیامت تک معاف نہیں کریں گے ویسے بھی کرسی نشین تو اپنے ساتھ جھوٹی موٹی کھلواڑ پر اُس حکومت اور اُس کے سربراہ کو مرتے دم تک معاف نہیں کرتے کیونکہ کرسی کا استحکام ہی تو اُن کی دکھتی رگ ہوتی ہے وہ بھلا کرسی کو ہلانے والے کو کیسے معاف کر سکتے ہیں۔ روایت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چین میں ہمارے ایک سفیر جو اتفاق سے جنرل تھے بار بار ملازمت میں توسیع مانگ رہے تھے جب فائل بھٹو نے دیکھی تو انہوں نے آخر ی توسیع دیتے ہوئے لکھا “Let him die in the chair” انہوں نے تو شاید طنز کا مظاہرہ کیا تھالیکن انہیں کیا پتہ کہ کرسی میں تو مرنے کا بھی مزہ اور ہے۔ (بھٹو فیملی کا ذکر محض اتفاقاً ہے کوئی اور مطلب نہ نکالا جائے۔)

کہتے ہیں محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے اِن دونوں چیزوں کا کرسی سے گہرا تعلق ہے، کرسی سے محبت تو کوئی راز نہیں اور پھر اس پہلی اور آخری محبت کیلئے جنگیں تو لڑنی پڑتی ہیں۔ ہمارے ہاں اگر فوجی حکمران آ جاتے ہیںتو اُن سے کرسی چھڑوانے میں کم از کم دس سال لگ جاتے ہیں البتہ سویلین حکمران کو ہم پانچ سال سے پہلے ہی چلتا کرتے ہیں۔ کوشش یہی ہوتی ہے کہ جلدازجلد کرسی سے الگ کر دیا جائے کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے کرسی سے اُن کی محبت گہری ہوتی جاتی ہے لہٰذا وقت سے پہلے یہ کام کرنے میں کرسی نشین ہی کا بھلا ہے کیونکہ اس طرح اُسے کرسی کی بے وفائی اور ناپائیداری کا احساس رہتا ہے اور جدائی کے وقت صدمہ زیادہ شدید نہیں ہوتا۔ بہرحال بہت سے تو اس صورتحال سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور اپنے لئے مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ بیوقوفی میں یہی سمجھتے ہیں کہ صرف وہی ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں آجکل بھی کرسی نشین اور اُن کے حامیوں کا یہی خیال ہے کہ وہی آخری اُمید ہیں اس کے بعد خدانخواستہ گھپ اندھیرا ہے۔ خیر قوم کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے ہمارے پاس گھپ اندھیرے کی صورت میں متبادل انتظام کی سہولت بھی موجود ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20