دنیا کا پڑوس، افسردہ چراغ اور شعلہ سامانئِ دل — عزیز ابن الحسن

0

(احمد جاوید کی غزلیں: ایک تأثر)

اس شاعری کو پڑھتے ہوئے سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس انداز کی شاعری میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کچھ رہا بھی نہیں، ایسی بلند سخنی کی تلاش میں کہیں اور جانے کی جا بھی نہیں۔۔۔

عسکری، سلیم احمد اور احمد جاوید ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں مگر اس پیڑھی تک آتے آتے رنگِ چمن کچھ جدا ہوا ہے۔ مختلف کلاسیکی اسالیب کو برتنے کا رجحان ان کے ہاں شروع ہی سے موجود ہے۔ غزل میں روزمرہ کی سطح پر آنے، بول چال کا لب و لہجہ لانے لفظ و خیال کی رعایتوں اور نسبتوں سے بات بنانے معاملہ اور محاورہ بندی کے ساتھ سنجیدہ بات کو بھی اک ذرا مزیداری و چونچال پن کے ساتھ ادا کرنے کا جو مشورہ عسکری صاحب نے سلیم احمد کو دیا تھا اسپر احمد جاوید نے بھی خوب عمل کیا ہے۔ سلیم احمد نے انہیں نثر کے مختلف آسالیب آزمانے کا مشورہ دیا تھا مگر یہ نثر میں یہ کام کرنے کے بجائے (کاش کہ وہ اپنی نثر میں بھی یہ کرتے تو ان کی گفتگوؤں و تحریروں کی سلاست، ترسیل و تاثیر کا آج ایک عجب رنگ ہوتا!) انہوں نے یہ ہنر صرف اپنی شاعری میں آزمایا ہے۔

اساتذہ کی زمینوں سے خوب خوب استفادہ کیا۔ ابتدا میں سہل و سہولت والا رنگِ میر آزمایا، اس سے نکلے تو سودا آتش مصحفی اور غالب کی طرف گئے وہاں سے پھر فارسی اساتذہ کی طرف۔ مگر دیوانِ شمس نے انہیں پوری طرح طرح اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی معتدبہ غزلوں پر رنگِ مولوی (مولویت نہیں⁦☺️⁩) بھی خاصا چوکھا ہے۔ اردو میں اس رنگ کی شاعری نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ مولائے روم کی سی شورانگیزی، سرشاری، وفور، مواجی، غواصی، انجذاب و کشش اور حرکت و انفجار، غنائیت و نغمگی، خاک میں کوندتی ماورا کی بجلیاں ان بجلیوں میں آبِ بقا کی خنک شیریں تاثیر، حاضر کی ناکافگی، اتھاہ غیب سے دلبستگی کھلی آنکھ کے بجائے دیدۂ دل سے نظارگی کی جو کیفیات انہوں نے پیدا کیں اور مضمون آفرینی کے جو گل بوٹے انہوں نے سجائے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے!

ان کی اس رنگ شاعری کا ایک مستقل مضمون ہی غیاب ک سے دلبستگی اور ان دیکھے کی دیکھے ہوئے پر فوقیت ہے۔ نادیدنی کو ورائے دید حواس سے تجربہ کرنا اور آنکھ کے بجائے بینائی سے پہلے کے مناظر اور دید سے آگے نادید کی لامتناہیت کی آرزو ان کے ہاں نئے ڈھنگ سے آتی ہے۔ ان کے ہاں وصل کی تمنا تو ہے مگر ہجر کوئی آزار نہیں۔ فراق انکے ہاں غیاب ہی کا ایک تسلسل ہے۔ یہ اگر جبر ہے تو اس جبر کو خوشگواری میں بدل کر آزاد محسوس کرنے کی سرمستی اور جبر کو تقدیری جان کر اس سے بہجت و انبساط کشید کرنے کی زائد تر کیفیات کا خوب بیان ہے ان غزلوں میں۔ اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایسا ہے احمد جاوید کی شاعری میں جو انہیں ان کے معاصر قبیلے میں ایک منفرد شاعر بناتا ہے۔

بات صرف مضمون آفرینی تک محدود نہیں بلکہ ان مضامین کے وسیلے اس شعری کائنات میں افقی توسیع و عمودی ترفیع کا عمل جاری رہتا ہے تو دوسری طرف، چونکہ اس میں آشوبِ ذات سے پیدا ہونے والی بددلی اور کبیدہ خاطری نہیں ہے اس لئے، اس کی مجموعی فضا میں یاسیت اور افسردگی کا دور دور تک گزر نہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سرخوشی، سیرچشمی، سرمستی، سرشاری، وفور اور کیف آفرینی کے خوشگوار تأثر اور آفاق در آفاق پھیلے اجلے منظروں والی ایسی شاعری آج کے ماحول میں کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتی تو غلط نہ ہوگا۔ لاریب یہ شاعری ایک ایسے شاداب جزیرے کی شاعری ہے جس کے اکثر مناظر رضا و تسلیم کے صد ہزار رنگوں میں نہائے ہوئے ہیں۔ اس جزیرے کا تنہا باسی شاعر خود ہے۔ کسی اور کو اس نور سماں، زرنگار و زرافشاں جزیرے میں پر مارنے کی مجال تک نہیں!

مگر یہ سب کہنے کے باوجود بہت سے مسائل نکات و سوالات ایسے بھی ہیں کہ جنہیں راقم بیان کرنے کا حوصلہ و اہلیت نہیں پاتا خود میں۔ مثلا دیکھنے کی بات یہ بھی ہے جو عسکری نے سلیم احمد کی کچھ خاص طرح کی ان غزلوں کے بارے میں کہی جو انہوں نے اپنے تئیں روایتی رنگ میں کہی تھیں اور طلبِ داد کے خیال سے عسکری کو پیش کیں۔ عسکری نے ادھر سے چکھ کر بس ہوں ہاں کے علاوہ کوئی ردعمل نہ دیا۔ سلیم احمد کو حیرت ہوئی۔ کہا کہ آپ ہی تو روایتی رنگ کی شاعری کی بات کیا کرتے تھے۔ عسکری بولے ہاں ہاں ٹھیک ہے مگر تمہاری غزلیں روایتی زمینوں میں ضرور ہیں مگر روایتی نہیں ہیں صرف الفاظ روایتی ہیں روایتی انداز کی شاعری کے لیے روایتی دنیا اور ماحول بھی چاہیے جو اس شاعری میں نہیں ہے۔ سلیم احمد اس پر بس ڈھیر ہوگئے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے پورا ایک مضمون لکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہاں اب روایتی شاعری ممکن نہیں رہ گئ کیونکہ وہ کائنات وہ معاشرہ وہ روایتی ماحول غارت ہو چکا ہے۔ وہ روایتی کائنات کہاں گئی اور اس ماحول کو کن اسباب نے غارت کیا سلیم احمد کی تحریریں اس مسئلے سے بھری پڑی ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ روایتی ادب روایت کے خارجی اسالیب دہراتے رہنے سے نہیں پیدا ہوتا۔ بقول عسکری ہمارے ہاں جو نام نہاد روایتی غزل کہی جاتی ہے وہ صرف پرانے اسالیب کی غزل ہے اس میں صرف چھلکا ہی چھلکا ہے روایتی معنی کا مغز غائب ہے۔ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اب تو اس کا شعور بھی سوائے چند ایک کے کہیں باقی نہیں رہ گیا۔ وہ لوگ بھی اگر اس مسئلے پر بات کریں تو سوائے دقیانوسی اور سنکی کے لیبل لگوانے کے کوئی داد نہ پائیں گے صرف دیوانے کہلائیں گے۔ تاہم یہ دیوانگی اور سودائی پن اپنی جگہ بڑی قابلِ قدر شے ہے۔ مگر موجودہ ادبی و فکری ماحول میں اس کی قیمت کوئی نہیں۔

ہر قدر ہر تصور اپنے نظام اقدار کے اندر معتبر ہے۔ اب جبکہ وہ نظام اقدار ہی بے توقیر ہوتا جارہا ہے تو یہ تصورات و اقدار کسی کی شخصی کائنات کا حصہ تو ہوسکتے ہیں مگر آج کی سب کی جانی پہچانی کائنات میں وہ ایک اجنبی کہکشاں کی طرح نظر آتے ہیں۔

موجودہ ادبی ماحول میں اپنی درجہ بالا انفرادیت کی وجہ سے مختلف ہونے کی وجہ سے، اور کچھ ظاہری فنی اسباب و لفظ و بیان پر کلاسیکی گرفت کی بنیاد پر، احمد جاوید کی ماورائے فنی محسوسات والی شاعری پر ادھر ادھر سے کچھ داد بھی مل جائے گی مگر یہ شاعری فنی اور فکری اعتبار سے جس نظام اقدار کا حصہ ہے اور جو ذہنی کائنات اسے جنم دے رہی ہے اس سے اجنبیت کی وجہ سے اس نظم اقدار کو اپنی فکر و احساس کا جز بنانے، اس کائنات میں رہنے والے کا ہمسایہ ہونے اور ان خیالات سے ہم آہنگی اختیار کرنے پر بالعموم ان کا کوئی قاری راضی نہیں ہوگا کیوں کہ اس کے لئے ترقی کے موجودہ معیار یعنی مغربی تصورِ حقیقت کو چھوڑ کر، انفرادی سطح پر ہی نہیں بلکہ من حیث المجموع، پرانی مشرقی کائنات کی طرف لوٹنا پڑتا ہے مگر یہ وہ بات ہے کہ جس کا تقاضہ آتے ہی، جسے سنتے ہی، چاروں طرف سے بھوت حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

احمد جاوید اسی پرانی، اور بحالاتِ موجودہ، ایک اجنبی ہوتی کائنات کے باسی ہیں۔ اپنی مختلف اور منفرد شاعری پر تو وہ اقبال ہی کی طرح داد پاتے ہیں لیکن یہ شاعری جس دنیا کی طرف “بلاتی” ہے اس دنیا کی طرف بلاوے کا مقدر وہی ردعمل ہے جس کا اظہار جدیدذہن اقبال کے لئے کیا کرتا ہے، حالانکہ اقبال کے ہاں تو مغرب سے کنارہ کشی کرنے کی تلقین بھی نہیں جو عسکری یا سلیم احمد کے ہاں ہے۔

یہ “بلانے” کا لفظ میں نے برسبیل نقصِ عجز استعمال کرلیا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہر اھم شاعری کی طرح احمد جاوید کی شاعری بھی بظاہر “مبلغانہ” انداز کا کوئی “تقاضا” نہیں کرتی مگر یہ شاعری ممکن اسی کائنات میں ہے جس کی علمیات تمام درجات وجود اور مراتب فطرت کو حقیقت عالیہ کی نشانی باور کراتی ہے، جسمیں رہنے والے انسان اپنے مالک کے سامنے پورے وجود اور شعور کے ساتھ سر تسلیم خم کرتے ہیں اور جس کے فنکار مستند ترین عارفانہ واردات کو بہترین ادبی اسلوب میں انتہائی تازہ کاری اور کیفیت انگیز ہنرمندی کے ساتھ اظہار دینے پر قدرت بھی رکھتے ہوں۔

اس کائنات کی شہریت پانے کی شرائط پورا کرنا تو خیر دور کی بات، آج تو شاید اس کا شعور رکھنے، اسے ماننے اور قبول کرنے کو بھی کم ہی لوگ تیار ہوں گے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب بھی کوئی نظری طور پر اس کائنات میں داخل ہونے کی شرائط کا اظہار یا ان نفسی و فکری موانع کا بیان کرتا ہے جن کی وجہ سے آج کا انسان “روحانی الذہن کائنات” کا بطیبِ خاطر اور بہ سکینتِ قلب باسی بن سکنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا جارہا ہے تو جدید ذہن کی طرف سے اسے اقبال ہی طرح کھلی معاندت سے سابقہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ذہنی کائنات دن بدن معدوم سے معدوم تر ہوتی جا رہی ہے۔

کوئی شاعر روایتی اقدار و کائنات والی لفظیات تو اپنی شاعری میں آج بھی استعمال کر سکتا ہے مگر اس کائنات کی روحانی واردات و تجربے کے بغیر جب بھی یہ لفظیات استعمال کی جاتی ہیں تو content (مظروف) سے خالی برتنوں کی طرح وہ الفاظ و تراکیب ٹن ٹن بجتی نظر آتی ہیں۔ مگر احمد جاوید کے ہاں عموماً اور پچھلے بیس تیس برس کی شاعری میں خصوصاً ایسا نہیں ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی غیر روایتی فکری و شعری فضا میں ظاہر کی سطح چیر کر باطن سی نکلتی اور باطن میں اترتی ماورائی واردات کی لمس آشنائی والی یہ شاعری منفرد لفظ و خیال کی حامل ہے اور وفور و جذب کے اعتبار سے کلی طور ان چھوئی، خالص اور زرناب کی طرح بےبہا، نادر اور یگانہ ہے۔

آج کے بالکل مختلف ذائقے کے عادی، مگر روایتی شعری ذوق سے آشنا قاری کے لیے اس میں ایک ظاہری کشش ضرور ہے اور، اگر وہ آرزوئے ازل کا لذت چشیدہ بھی ہے، تو وہ افسردہ دلی کے ساتھ اس کی طرف لپک بھی محسوس کرتا ہے مگر کبھی سیکولر مزاج کے پیدا کردہ بگاڑ کے سبب اور گاہے نفسی خواہشات کے ابتلا کی وجہ سے بڑھاپے میں یوگا کے آسن قبول نہ کرنے والے جسم کی طرح وہ روایتی کائنات کو بطیب خاطر قبول نہیں کر پاتا۔ یہ معاملات چونکہ اب شخصی نہیں رہے بلکہ ہمہ گیر وبا کی آج کی علمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں اسلئے پرانی کائنات بشمول اپنے نظام اقدار کے دن بدن سکڑتی جا رہی ہے اس میں جنم لینے والے روایتی شعروادب کے امکانات بھی ختم ہوتے جا رہے ہیں

خارج میں چونکہ ہمارے تہذیبی، علمی اور ذہنی قویٰ اس کائنات کے شعور سے بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں اس لیے ایسی شاعری بھی عمومی طور پر اب ممکن نہیں رہی۔ اب یہ کچھ ایسے مخصوص قلب و ذہن والے لوگوں ہی سے ممکن ہے جو اپنے گرد ایک مضبوط حصار قائم کریں اصحاب کہف کی طرح ایک “ذہنی کہف” میں جا بسیں اور ایک خاص معنی میں منقطع از حاضر و موجود اور واصل بہ دنیائے باطن ہوچکے ہوں۔ گردوپیش سے پوری طرح باخبر بھی ہوں مگر اپنے بطون کو سیکولر دیدبان کی زہرناکیوں سے محفوظ کرکے بہترین علمی وسائل سے آراستہ ہوکر روایتی کائنات کو اپنے اندر زندہ رکھنے کا ہنر بھی جانتے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ اس کائنات کے اعلی ترین فنی و اقداری اظہار کے نمائندوں کے پیدا کردہ سرمایہ ادب و عرفان کو اپنے شعور کا زندہ تجربہ بناکر معاصر شعری و ہیئتی اسالیب اظہار پر دسترس کا لوہا بھی منوا چکے ہوں۔

مگر یہ افقی اور عمودی جہت کی یہ یک جائی اب دنیا میں شاذ شاذ ہی ہے اور الشاذ کلمعدوم، کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ، پرانا کلیہ ہے۔

آئیے اپنے پرانے سوال کی پھر طرف لوٹے ہیں۔ عسکری صاحب نئے ادبی تجربات سے بے اطمینانی اور کڑھن کا اظہار ایک تو اس لیے کیا کرتے تھے کہ ان کے خیال میں کسی خاص شخص یا گروہ کا کوئی تجربہ وقتی اثر انگیزی تو کرتا ہے لیکن ایک رجحان کی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔ کسی کا اکلوتا تجربہ مزید تجربات کی راہ ہموار نہیں کرتا۔ وہ کہتے تھے ادبی اور فکری دنیا میں مزید راہیں کھلنے کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے۔ ادبی سرگرمی تنہا آدمی کی سرگرمی نہیں ہوتی میرے اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ میرے گردوپیش کا ماحول ایک خاص ذہنی سطح پر پہنچ کر اچھا لکھ رہا ہو۔ یعنی زبان، اسالیبِ بیان ہیئت کے تجربے اور مسائل و موضوعات کا تنوع جتنا بلند اور معیاری ہوگا وہ دوسرے لکھنے والے کو بھی بہتر لکھنے پر مائل رکھے گا۔ پائیدار ادبی سرگرمی بننے کے لئے یہ دوطرفہ عمل ضروری ہے ورنہ کوئی ایک آدمی ایک خاص سطح و انداز کا ادبی تجربہ تخلیق کرکے تھوڑی دیر کے بعد ہانپ جاتا ہے۔ ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی بڑی موج، ہلچل کوئی تلاطم نہ پیدا ہو تو ادب میں سڑاند پیدا ہوجاتی ہے۔

یاد رہے کہ عسکری صاحب جن نئے تجربات کی ضرورت کی بات کرتے تھے وہ محض گردوپیش کے حاضر و موجود موضوعات، اظہار اور اسالیب ہی کے تجربے نہیں تھے بلکہ روایتی تصور کائنات کے طرز احساس کے شعور کو زندہ کرنے کے بھی تھے۔ مگر ان کے ذہن میں مسائل اور تصورات کی جو دنیا تھی اپنے گردوپیش کی ادبی صورتحال اور ادیبوں کے مسائل و موضوعات کو وہ ان سے اتنا لاتعلق پاتے تھے کہ آہستہ آہستہ انہیں محسوس ہونے لگا کہ ہمارے ادیب دانشور اور جدید پڑھا لکھا طبقہ اپنے ملی مسائل و موضوعات اور اپنے کلاسیکی ادبی تصورات کو تشکیل دینے والے تہذیبی و ثقافتی عناصر کے شعور سے بالکل بیگانہ و تہی ہوچکا ہے۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں انہوں نے سلیم احمد کی “روایتی شاعری” کو ناقبول کرتے ہوئے سے کہا تھا کہ روایتی شاعری اور ادب جس معاشرے میں پیدا ہوسکتے تھے وہ معاشرہ اب ختم ہوچکا ہے!

سوال ہے کہ اپنے شاگرد سلیم احمد کے شاگرد احمد جاوید کی شاعری کو اگر آج عسکری صاحب دیکھتے تو کیا اسے روایتی شاعری مان لیتے؟

عسکری کی تنک طبعی کے پیش نظر اس کا جواب کچھ مشکل ہے۔ تاہم ایک خاص پہلو سے، میرا خیال ہے کہ، وہ اس شاعری پر توجہ کرنے پر ضرور مائل ہوجاتے، کیوں اس شاعری میں کچھ عناصر ایسے ضرور ہیں جو عسکری صاحب کے متصورہ “روایتی” معاشرے کا کوئی فرد ہی پیدا کرسکتا تھا۔ عسکری صاحب کے مزاج کی عمومی ہمہ گیری اور، صدیوں پر محیط عناصر کو بیک آن گرفت میں لیکر ان کے متضاد اور مماثل پہلوؤں کو ترکیبی کٹھالی میں ڈھال کر ان کے دوررس اطلاقات و عواقب کو دیکھتی، انکی تنقیدی نظر اس شاعری کے بارے میں اس کی فنی جمالیات اور ماورائے فنی معاملات (جو ان کی تنقید کا نادر سروکار تھا) کی بناپر سلیم احمد سے کہے اپنے کلیے میں استثناء پیدا کرلیتی۔ لیکن احمد جاوید کی “روایتی شاعری” کیلیے چونکہ رویوں کے عمودی خطوط پر ترفع، بلندگیری، غنا، بےہمگی و باہمگی، درویشی بےنیازی، فقر، سیرچشمی کے عمومی رجحان بننے کا کوئی امکان نہیں اور افقی سطح پر کلاسیکی فنی جمالیات اور عارفانہ روایت کے عظیم الشان ادبی ورثے کو زندہ تجربے میں ڈھالنے کا اب سامان نہیں ہے اس لیے عسکری کا عمومی کلیہ، احمد جاوید جیسی استثنائی و جزیرائی شاعری کے باوجود، ثابت ہی رہتا ہے۔ یاد رہے کہ فنی، موضوعاتی اور رویہ جاتی سطح پر ایسی رفعت آشنا و نشاط رنگ شاعری کے کسی عمومی رجحان میں نہ ڈھل پانے کی یہ بات ہم اس شاعری کے کسی نقص کی بنا پر نہیں بلکہ ادبی معاشرے میں اس روایت کی بیچارگی کے بانجھ پن کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔

ثمرداری کا انحصار محض بیچ کی زرخیزی پر نہیں ہوتا بلکہ ز مین کی صلاحیتِ بارآوری اور آب و ہوا کی سازگاری پر بھی اس کا بہت بڑا مدار ہے۔ اسی بنا پر ہم نے احمد جاوید کی شاعری کو ایک زرنگار جزیرے کی شاعری کہا ہے۔ اس جزیرے سے چلنے والی ہوائیں دور دراز زمینوں پر بسنے والوں تک پہنچتی تو ضرور ہیں مگر ان کے اور جزیرے کے شہری کے مابین ایک غرائب المثل سمندر ہمیشہ حائل رہتا ہے۔

یہاں ہم ایک تھوڑی سی غیر متعلق بات کرکے یہ مضمون ختم کرتے ہیں۔ عسکری صاحب نے جب “پاکستانی ادب” کی بات چھیڑی تھی تو مخالفین نے دو طرح کے اعتراضات کیے تھے۔ ایک تو کہ ادب کو پاکستانی اور غیر پاکستانی میں تقسیم کرنا ہی غلط ہے۔ حالانکہ یہ اعتراض کرنے والے اس وقت بھی روسی ادب، جرمن ادب، فرانسیسی ادب، بلکہ ایک ہی زبان، انگریزی، میں لکھے جانے والے امریکی انگلستانی اور آرسستانی ادب کی تفریق بھی نہایت شدت سے قائل تھے⁦۔☺️⁩

دوسرے، ذرا کم شدت پسند، طبقے کا کہنا تھا کہ عسکری صاحب پاکستانی ادب کی بات تو بہت کرتے ہیں مگر نظری طور پر باتیں کرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ “پاکستانی ادب” پیدا کرکے دکھائیں۔ گویا آپکو انڈے کی غذایت و افادیت پر بات کرنے کا حق بھی صرف اسی صورت میں ہے جب آپ انڈا دے کر بھی دیکھا سکیں۔

ایسے میں احمد جاوید کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے روایتی ادب کی ضرورت پر نہ تو تقریریں کیں ہیں اور نہ مقالے لکھے ہیں بلکہ سیدھے سبھاؤ روایتی شاعری کے نمونے پیدا کرکے دکھادئیے ہیں۔

لہذا کم سے کم ان معترضین کے لیے اب ہچر مچر کی کوئی گنجائش نہیں جو کہا کرتے تھے کہ پہلے نمونہ پیدا کرکے دکھاؤ۔ لہذا حضرات آئیے، ہمت کیجئے۔ معاشرے کے موجودہ ادبی بحرالکاہل میں میں، ایک جزیرے جتنی ہی سہی، “روایتی شاعری” کا ایک نمونہ تو دکھا ہی دیا گیا ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر

گو پیر ہوئی شاعری سودا کی جوانوں
تم سے نہ کھنچے گی یہ کماں سخت کڑی ہے

آخر میں احمد جاوید کی دو چار غزلیں

اچھی گزر رہی ہے دل خود کفیل سے
لنگر سے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے

دنیا کا کوئی داغ مرے دل کو کیا لگے
مانگا نہ اک درم بھی کبھی اس بخیل سے

کیا بوریا نشیں کو ہوس تاج و تخت کی
کیا خاک آشنا کو غرض اسپ و فیل سے

اک شخص بادشاہ تو اک شخص ہے وزیر
گویا نہیں ہیں دونوں ہماری قبیل سے

دنیا مرے پڑوس میں آباد ہے مگر
میری دعا سلام نہیں اس ذلیل سے

۔۔۔۔۔۔۔

چاک کرتے ہیں گریباں اس فراوانی سے ہم
روز خلعت پاتے ہیں دربار عریانی سے ہم

منتخب کرتے ہیں میدان شکست اپنے لیے
خاک پر گرتے ہیں لیکن اوج سلطانی سے ہم

ہاں میاں دنیا کی چم خم خوب ہے اپنی جگہ
اک ذرا گھبرا گئے ہیں دل کی ویرانی سے ہم

ضعف ہے حد سے زیادہ لیکن اس کے باوجود
زندگی سے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں آسانی سے ہم

دولت دنیا کہاں رکھیں جگہ بھی ہو کہیں
بھر چکے ہیں اپنا گھر بے ساز و سامانی سے ہم

عقل والو خیر جانے دو نہیں سمجھوگے تم
جس جگہ پہنچے ہیں راہ چاک دامانی سے ہم

کاروبار زندگی سے جی چراتے ہیں سبھی
جیسے درویشی سے تم مثلاً جہاں بانی سے ہم

۔۔۔۔۔۔

تھا جانب دل صبح دم وہ خوش خرام آیا ہوا
آدھا قدم سوئے گریز اور نیم گام آیا ہوا

رقص اور پا کوبی کروں لازم ہے مجذوبی کروں
دیکھو تو ہے میرا صنم میرا امام آیا ہوا

دریائے درویشی کے بیچ طوفان بے خویشی کے بیچ
وہ گوہر سیراب وہ صاحب مقام آیا ہوا

اے دل بتا اے چشم کہہ یہ روئے دل بر ہی تو ہے
یا ماہ چرخ ہفت میں بالائے بام آیا ہوا

ہے ذرہ ذرہ پر صدا اہلا و سہلاً مرحبا
کیا سر زمین دل پہ ہے وہ آج شام آیا ہوا

تجھ پر پڑی یہ کی چھوٹ اے چشم حیراں کچھ تو پھوٹ
کیا حد بینائی میں ہے وہ غیب فام آیا ہوا

لرزاں ہے دل میں راز سا شعلہ قدیم آوام سا
یا لالۂ خاموش پر رنگ دوام آیا ہوا

ہے موسم دیوانگی پھر چاک ایجاد مری
لوٹا رہے ہیں پہلے کا خیاط کام آیا ہوا

میری طرف سے اے عزیز دل میں نہ رکھنا کوئی چیز
پھرتے بھی دیکھا ہے کہیں صاحب غلام آیا ہوا

خورشید سامانی تری اور ذرہ دامانی مری
ہے عجوبہ دیکھنے ہر خاص و عام آیا ہوا

اک گرداڑی صحرا سمیت اک موج اٹھی دریا سمیت
دنیائے خاک و آب میں تھا کوئی شام آیا ہوا

یک عمر رفتاری کے ساتھ یک ماہ سیاری کے ساتھ
یک چرخ دواری کے ساتھ گردش میں جام آیا ہوا

صد‌ چشم بیداری کے ساتھ صد سینہ سرشاری کے ساتھ
سو سو طرح شہباز دل ہے زیر دام آیا ہوا

۔۔۔۔۔

ہرگز نہ راہ پائی فردا و دی نے دل پر
رہتی ہے ایک حالت بارہ مہینے دل پر

سکتے میں ہیں مہ و مہر دریا پڑے ہیں بے بحر
ہے سخت غیر موزوں دنیا زمین دل پر

شعلہ چراغ میں ہے سودا دماغ میں ہے
ثابت قدم ہوں اب تک دین مبین دل پر

یا ایہا المجاذیب ہے بسکہ زیر ترتیب
مجموعۃ الفتاویٰ قول متین دل پر

لکھ لو یہ میری رائے کیا کیا ستم نہ ڈھائے
کل دل نے آدمی پر آج آدمی نے دل پر

یہ رنج نا کشیدہ یہ جیب نادریدہ
اے عشق رحم ہاں رحم ان تارکین دل پر

مانو یہ گھر نہ چھوڑو دنیا کو دیکھتے ہو
جو کچھ گزر چکی ہے اس نا مکین دل پر

اک سر ہے نا کشودہ اک قول نا شنودہ
اک نغمہ نا سرودہ طرز نوین دل پر

پڑتا ہے جستہ جستہ مدھم سا اور شکستہ
اک ماہ نیلمیں کا پرتو نگین دل پر

سو بار ادھر سے گزرا وہ آتشیں چمن سا
اک برگ گل نہ رکھا دست یمین دل پر

خوں بستہ چشم حیراں پیوستہ لعن گرداں
بے دید بلکہ بے درد بلکہ کمینے دل پر

طوفان اٹھا رکھا تھا آنکھوں نے واہ وا کا
اس کی نظر نہیں تھی کل آفرین دل پر

رنگین تو بہت ہے دنیا مگر مہاشے
دھبے سے پڑ گئے ہیں کچھ آستین دل پر

وہ ماہ نازنیں ہے یا سرو آتشیں ہے
یا فتنۂ قیامت برپا زمین دل پر

سب نا ملامتوں کو سب بے کرامتوں کو
سب سر سلامتوں کو لانا ہے دین دل پر

جاویدؔ کو دکھا کر کہتا ہے سب سے دلبر
اودھم مچا رکھا تھا ان بھائی جی نے دل پر

۔۔۔۔۔

آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں
کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں

بحرِ بلا ہے موج پر، قہر قضا ہے اوج پر
ہیں کاہ تانا مستعد، تانا گریزانی کریں

آئی ہے رات ایسی دنی، ہے ہر چراغ افسردنی
اے دل بیا! اے دل بیا! کچھ شعلہ سامانی کریں

ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشتِ دل کا وفور
پہلے یہ شہر و دشت و در تکمیلِ ویرانی کریں

اے عاشقاں! اے عاشقاں!! آیا ہے امرِ ناگہاں
جو لوگ ہیں نظارہ جوُ وہ مشق حیرانی کریں

وہ شمع ہے در طاقِ دل روشن ہیں سب آفاقِ دل
افتادگانِ خاک اٹھو افلاک گردانی کریں

ہے بسکہ تیغ اس کی رواں، کم یاب ہیں ناکشتگاں
سب سرفروشوں سے کہو چندے فراوانی کریں

اک ناصحانہ عرض ہے دریاؤں پر یہ فرض ہے
دل کی طرح ہر لہر میں تجدیدِ طغیانی کریں

ایسے گھروں میں اہلِ دل رہتے نہیں ہیں مستقل
تبدیل یہ دیوار و در اسلوبِ ویرانی کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20