مولاناابوالکلام آزاد کی تحریریں: نقد ونظرکی کسوٹی پر (حصہ 2)

0
  • 26
    Shares

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعہ کیلیے انکا تجزیہ انسانی سطح پر کیا جانا اسلیے ضروری ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا دوسرا مضمون ہے، ہر دو دن بعد ہم اس سلسلہ کی اگلی قسط شائع کرتے رہیں گے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے، اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا حصہ:۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانا ابوالکلام آزاد کےکچھ خاندانی حالات

مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے اسلاف اور خاندان کے مفصل حالات اپنی کتاب ”تزکرہ“ اور ”آزاد کی کہانی“ میں مفصل اور مختصراً اپنی کتاب ”آزادی ہند“ کے پہلے باب میں بیان کردیئے ہیں۔ یہ احوال وبیانات یا تو باہم متعارض ہیں یا پھران کی تصدیق تاریخ و سوانح کی مستند کتب سے نہیں ہوتی اوربعض صورتوں میں تودوسرے ماخذ مولانا کے بیان کی تکذیب کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات بتا دینا بھی ضروری ہے کہ ایسی تنقید وتحقیق کی چھاننی میں آنے والی مولانا آزاد کی ہی واحد شخصیت نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس طرح کی تحقیقات جید علماء، نامور مورخوں، فاضل فقہاء، قابلِ قدرمحدثین، سوانح نگاروں غرض ہرلکھنے والے کے متعلق کی گئیں۔ کتابوں، مقامات، ماہ وسال، خاندانی شجروں، سیروسیاحت کے حالات اور سوانحی خاکوں میں موجودغلط نسبتوں کی تحقیق ہر دورمیں ہو تی رہی ہے۔ کتابوں میں مندرج واقعات اور افراد کے احوال کو کھنگالا جاتا رہا ہے۔ تو پھر مولانا ابوالکلام آزاد ہی کے بیان کردہ سوانح و احوال کی تحقیق کیوں ”اعجوبہ“ قرار دی جائے۔ تحقیق کا جواب تحقیق سے اور دلیلوں کا مقابلہ دلیلوں سے کیا جانا چاہیے۔ مولانا آزاد کے کسی معترض کے اعتراض کا معترضہ جملہ صرف اور صرف کسی مستند حوالے پیش کرکے ہی رد کیا جانا چاہیے۔

مولانا منورالدین

مولانا منورالدین مولانا آزاد کے والد مولانا خیرالدین کے نانا تھے۔ مولانا آزاد نے ان کی نسبت “تذکرہ” میں لکھا۔ “والد مرحوم کے نانا رکن المدرسین مولانا منورالدین اپنےعہد کے مشاہیر اساتذہِؑ علم و درس اور اصحابِ طریقت و سلوک میں سے تھے۔ ان کا شمار حضرت عبدالعزیز کے اجل تلامذہ میں تھا۔ وہ سلطنتِ مغلیہ کے آخری ”رکن المدرسین“ تھے۔ ان کے شاگردوں اور مریدوں میں ایسے اربابِ کمال ہوئے۔ جو اپنے عہد کے ممتاز بزرگوں میں شمار کئے گئے“۔ پھر ”آزادی ہند“ میں ان کی نسبت لکھا۔ ”میرے والد کے نانا مولانا منورالدین تھے۔ وہ مغلیہ دور کے ”رکن المدرسین“ کا خطاب پانے والے آخری لوگوں میں سے تھے۔ یہ منصب شاہجہاں کے زمانے میں وضع کیا گیا تھا۔ اس عہدے کا موازنہ آج کے ڈائریکٹر تعلیمات کے عہدے سے کیا جاسکتا ہے۔

”میرے دادا کا جب انتقال ہوا تو اسوقت میرے والد مولاناخیرالدین بہت کم عمر تھے۔ اسلیئے میرے والدکی پرورش ان کےنانا نے کی۔ غدر سے دو برس پہلے ہندوستان کی صورتِ حال سے دلبرداشتہ ہو کر مولانا منورالدین نے مکہ معظمہ کو ہجرت کا فیصلہ کرلیا۔ وہ بھوپال پہنچے تو نواب سکندرجہاں بیگم نے انہیں روک لیا۔ وہ ابھی بھوپال ہی میں تھے کہ غدرکا ہنگامہ شروع ہوگیا۔ پھر دوبرس تک وہاں سے نکل نہ سکے۔ اس کےبعد وہ بمبئی گئے لیکن مکہ معظمہ نہیں پہنچ سکے کیونکہ بمبئی ہی میں ان کاانتقال ہوگیا“۔ پھر ”آزاد کی کہانی“ میں مولانا منورالدین کے حالات کافی تفصیل سےدرج ہیں۔ ہم یہاں صرف ان حصوں کودرج کریں گے جن پراشکالات پیدا ہوتے ہیں اور جو حقیقت سے زیادہ افسانوی رنگ لیے ہوۓ ہیں مولانا فرماتےہیں“۔ مولانا منورالدین نے ابتدائی تعلیم علمائے لاہور سے حاصل کی۔ 15 یا 16 سال کی عمر میں گھر سے نکلے دہلی پہنچے اور شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کے حلقہِ درس میں داخل ہو گئے۔ ان کےہم درس مولوی رشید الدین، مولوی برہان الدین، مولانا اسماعیل شہید، شاہ احمد سعید اور مولانا شاہ احمد سعید اور مولانا محمد وجہیہ وغیرہ تھے اور ہر جماعت شاہ صاحب کے اولین حلقہِ تلامذہ کی تھی۔

”تکمیل کے بعد خود اپناحلقہِ درس قائم کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اتنا مشہور ہوگیا کہ بنگال اور دوسرے اطراف ہند سےطلبہ آکرفیض یاب ہونے لگے۔ ان کے مشاہیر تلامذہ میں “مولانا سدید الدین” جن کی اعانت سےلارڈ ہسٹینگز نے مدرسہ عالیہ کلکتہ قائم کیا اور یہ اس کے پہلے پرنسپل ہوئے۔ “مولوی محبوب علی” جو غدر سے پہلے دلی کے مشہورعالم تھے۔ “مولوی فضل امام” جو مولوی فضل حق خیرآبادی کے والد تھے۔ “مولوی فضل رسول بدایونی” اور ”مولوی محمدعلی” صاحب کشاف اصطلاحات الفنون شامل ہیں۔” یہاں پہلا سوال تویہ پیداہوتاہےکہ مولانا منور الدین لاہور سے آئے تھے۔ وہ دہلی میں غریب الدیار تھے تو انہوں نے کیسے اور کس جگہ دہلی میں اپناحلقہِ درس قائم کیاتھا۔ پھر جب ”تذکرہ“ کے بیان کردہ اس اجمال کہ “انکے شاگردوں اور مریدوں میں ایسے ارباب کمال ہوئے جو اپنے عہد کے ممتاز بزرگوں میں شمار کیے گئے” کی تفصیل “آزادی کی کہانی” میں مندرجہ بالا ناموں کے اظہار سے ہوتی ہے تو پھر عجیب صورتِ حال کا سامنا ہوتا ہے۔ جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ان اصحاب میں سےکوئی بھی مولانا منورالدین کا شاگرد نہیں تھا۔ ان تمام اصحاب کے تذکرے مختلف کتب میں موجود ہیں مگر ان کے اساتذہ میں مولانا منورالدین نام کا کوئی عالم موجود ہی نہیں۔ بلکہ مولانا فضل امام تو مولانا منورالدین سے عمر میں بھی بڑے تھے۔ جس دود کی دہلی کا یہاں ذکر ہورہا ہے اسوقت دہلی میں دو مدرسے اپنے خاص علوم کی وجہ سے معروف تھے۔ منقولات میں شاہ عبدالعزیز کا مدرسہ اور معقولات میں مولانا فضل امام کا۔ وہ عالم جو مولانا منورالدین کے استاد کے ہم عصر ہوں وہ ان کے (مولانا منورالدین کے) شاگرد کیسے ہوسکتے ہیں۔ “آزادکی کہانی” میں آگے بیان کیا جاتا ہے۔ “بالآخر جب ان کی (مولانا منورالدین کی) شہرت بہت ہوئی اور علم کے علاوہ سلوک و طریقت میں بھی مشہور ہوئے تو شاہ عالم ثانی کے عہد میں ان کومغلیہ سلطنت کا ”رکن المدرسین“ بنایا گیا۔ سلطنتِ مغلیہ میں علمِ پیشوائی کے چار سب سے بڑے خطاب تھے جو حکومت کی جانب سے دیے جاتے تھے۔ (1) ”ملک العلماء“ سب سے بڑے عالم کو دیا جاتا تھا۔ (2)”نقیب الاولیاء“ صوفی صاحبِ طریقت کو، (3) ”ملک الاطباء“ شاہی طبیب کو اور (4) ”رکن المدرسین“ سب سے بڑے صاحب درس و تلامیذ عالم کو۔ یہ صرف خطاب ہی نہ تھے بلکہ ان کے ساتھ بہت بڑے منصب بھی وابستہ تھے ۔ تمام علماء کا دربار سے تعلق ملک العلماء کے توسط سے ہوتا تھا۔ تمام اصحابِ طریقت کا نقیب الاولیاء کے ذریعہ سے، تمام اطباء کا ملک الاطباء کے ذریعہ اور اسی طرح تمام اصحابِ درس و تعلیم کارکن المدرسین کے ذریعہ۔ ”رکن ا لمدرسین“ اس عہد میں ایک طرح کی وزارتِ تعلیم تھی۔“

یہاں پہنچ کر میں اپنے قارئین کو روک کر ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی ہرکتاب اور بیان میں اپنے والد کے نانا مولانا منور الدین کو مغلیہ عہد کا آخری ”رکن الدرسین“ بتایا ہے تو کیا ”رکن المدریسین“ نام کا کوئی عہدہ یا خطاب واقعی میں تھا بھی جو حکومت کی طرف سے دیا جاتا تھا ۔ مغلیہ دور پر لکھی گئی کوئی کتاب اٹھا لیجیے آئین اکبری، مآثرالامراء، مآثرِ جہانگیری، شاہجہاں نامہ پڑھ ڈالیے کہیں بھی اس نام کے عہدے کا ذکر نہیں ملے گا اور نہ ہی باقی تین عہدوں ”ملک العلماء“، ”تقیب الاولیاء“ اور ”ملک الاطباء“ کا کوئی حوالہ کہیں نظر آتا ہے۔ مغلیہ عہد کے معروف خطاب اور عہدے ”مخدوم الملک“، قاضی القضاۃ“ اور “صدر الصدور“ وغیرہ آپ کوعام کتابوں میں نظر آجائیں گے مگر کہیں نظر نہیں آتے تو مولانا آزاد کے بیان کردہ مذکورہ بالاچار عہدے یا خطاب۔

ذرا آگے چل کر ’’آزاد کی کہانی” میں بیان کیا جاتا ہے‘‘ مولانا محمداسماعیل شہید،مولانا منورا لدین کےہم درس تھے۔ شاہ عبد العزیز کے انتقال کے بعد جب انہوں نے ’’تقویت الایمان‘‘ لکھا اور اسکے مسلک کا ملک میں چرچا ہوا توتمام علماء میں ہلچل پڑگئی۔ ان کے دور میں سب سے زیاد ہ سرگرمی بلکہ سربراہی مولانا منورالدین نے دکھائی۔ متعد د کتابیں لکھیں اور 1248ھ والا مشہور مباحثہ جامع مسجدکیا۔ ایک طرف مولانا اسماعیل اور مولانا عبدالحئی تھے اور دوسری طرف مولانامنور الدین اور تمام علمائے دہلی۔ اس معاملےمیں مولانا فضل امام خیرآبادی اور دیگر علماء ان کے (مولانا منورالدین کے) شریک و معاون تھے۔ چنانچہ ان کی ایک تصنیف خاص مسئلہ “امتناعِ نظیر” پر ہے۔” یہاں پہنچ کر پھر چند سوال جنم لیتے ہیں۔

جامع مسجد کےجس مشہور مباحثے کا مولانا نے ذکر کیا ہے اس کی روداد مولانا فضل رسول بدایونی کی مرتب کردہ چھپی ہوئی موجود ہے۔ اور یہ مولانا فضل رسول بدایونی وہ ہیں جنہیں مولانا آزاد نے مولانا منور الدین کا شاگرد بتلا یاہے۔ مگر اس روداد میں کہیں بھی کسی مولانا منور الدین نام کے عالم کاذکرنہیں۔ حیرت ہوتی ہے یہ کیسا شاگرد ہے جو مناظرے کے صدرِ مجلس اور اپنے استاد کا کہیں نام تک بھی نہیں لیتا۔ پھر بتایا گیا ہے کہ مولانا شاہ اسماعیل کے رد میں ساری سرگرمی مولانا منورالدین کی سربراہی میں ہوئی اور انہوں نے اس حوالے سے متعد د کتابیں لکھیں۔ مگرنہ توعلماءکےکسی تذکرے میں اورنہ سوانح کی کسی کتاب میں مولانا منور الدین کا کہیں ذکر ہے۔ اور نہ ہی مولانا منور الدین نام کے کسی عالم کی کتاب کا کہیں حوالہ ملتا ہے۔ مولانا منور الدین کے شاگرد کی کتاب اس مسئلے پر ’’امتناعِ نظیر‘‘ کےنام سے آج بھی موجود ہے مگر نہیں ملتی تو مولانا منور الدین کی کوئی کتاب۔

ذر اآگے چل کر ’’آزاد کی کہانی ‘‘ میں بیان ملتا ہے۔

“غدرسے پہلےجب مولانا منور الدین ہندوستان کے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے نواسے (مولانا آزاد کے والد) کو ساتھ لے کر حجاز کے لیے روانہ ہوئے۔ جب بھوپال پہنچے تو نواب سکندر جہاں بیگم کا زمانہ تھا وہ ان کا ذکر پہلے سے سُن چکی تھیں۔ انہوں نے نہایت اصرار کے ساتھ کہا کہ چند دن بھوپال میں قیام فرمائیں۔ بیگم صدقِ دل سے مولانا کے ہاتھ پر بیعت ہوئی اور توبہ کی۔ عیش ونشاط کے محل کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔

“قیامِ  بھوپال کے زمانے میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ نواب جہانگیر خان جو نواب سکندر جہاں بیگم سے غایت درجہ وابستہ تھا جب مولانا کے ہاتھ پرتائب ہونے کی وجہ سےبیگم کی نظرِالتفات سے محروم ہو گیا تو اس سےسخت حسد و رنج پیدا ہوا۔ اس نے مولانا کو زہر دینا چاہا۔ ایک مرتبہ جب بیگم اور متعد د امراء کھانے میں شریک تھے تو اس نے ایک قاب اٹھا کر مولانا کے سامنے رکھ دی۔ اسی میں درحقیقت زہر تھا۔ مولانا کو کسی طرح معلوم ہو گیا اور انہوں نے وہ قاب اٹھا کر نواب جہانگیرخاں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا یہ آپ کے کھانے کی چیز ہے۔ نواب پر اس کا ازحد اثر ہوا اور اسے مولانا کی کرامت تصور کیا۔ قدموں پر گر کر توبہ کی۔ پھر یہ حالت ہوئی کہ جوتیاں اٹھا کر پالکی کے ساتھ دوڑتا تھا۔” ‘‘

ایک طرف یہ بیانات ہیں اور دوسری طرف آپ تاریخِ بھوپال پرکتابیں پڑھ لیجئےکہیں بھی اس قسم کے واقعے کا ذکر نہیں ملے گا۔ نواب سکندر جہاں بیگم کے کسی تذکرے میں اس کا ذکر نہیں۔ یہاں تک کہ نواب جہانگیر خاں اسوقت جن سالوں کا یہ واقعہ بتایا جاتا ہے اس دنیا میں موجود ہی نہ تھا۔

مولانا مزید فرماتے ہیں۔ “ایک سال بعد مولانا بھوپال سے بمبئی عازم ہوئے مگر یہاں پہنچتے ہی بیمار ہوگئے اور اس سال بھی حجازنہ جاسکے۔ اس قیام کی وجہ سے ان کا اثرصوبہ بمبئی، کاٹھیاوار اور گجرات میں پھیل گیا اور ہزاروں آدمی بیعت ہوئے۔ یہاں دو سال قیام رہا۔ تیسرے سال مکہ معظمہ پہنچے اورپانچ سال میں پانچ حج کر کے وہیں انتقال کیا” ۔‘

یہاں مولانا فرما رہے ہیں مولانا منور الدین تیسرے سال مکہ معظمہ پہنچے اور پانچ سال میں پانچ حج کر کے وہیں انتقال کیا جبکہ “آزاد ی ہند” میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے لکھا تھا کہ ان کا انتقال بمبئی میں ہوگیا تھا۔ اب اس میں سے کس بات کو درست مانا جائے۔ مولانا منور الدین کا انتقال بمبئی میں ہوا تھا یا مکہ معظمہ میں پانچ حج کرنے کے بعد مکہ معظمہ میں ہی ۔

پھر دیکھنے کی بات یہ بھی ہےکہ مولانا منور الدین نام کی دہلی میں کوئی ایسی شخصیت گذری بھی ہے جس کی یہ امتیازی خصوصیات ہوں۔ جو شاہ عبدالعزیز کا شاگرد ہو،جس کے درس میں سینکڑوں طلباء جوق درجوق آئے ہوں۔ جو “ڈولے” کی رسم پر بادشاہ سے ٹکر لے، جو دربار میں شیعوں کے رسوخ پر بہادر شاہ کی سرزنش کرے اور جو وہابیت کے خلاف ہندوستان میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ شاہ عبد الرحیم کے مدرسے کو بحال کر کے وہاں مفتی صدرالدین آرزہ کا تقرر کرائے۔ ایسی عظیم شخصیت کے احوال کے لیے حیاتِ عزیزی، تذکرہ علماء ہند، اس دور کے فتویٰ یہاں تک کہ “آثارالصنادید” ہی کودیکھ لیجئے۔ دہلی میں ہر عالم یہاں تک کہ کم سےکم مشہور عالم کاتذکرہ بھی مل جائے گا۔ اسی مفتی صدر الدین آزردہ کا تذکرہ وہ انتہائی والہانہ تو ہےہی مگر ان اصحاب کا تذکرہ بھی موجود ہے جنہیں مولانا منورالدین کا شاگرد بتایا گیا ہے مگر نہیں ملتا تو مولانا منورالدین کا تذکرہ۔ آخر ان تذکرہ نگاروں کومولانا موصوف ہی سےایسی کیا کد ہوگئی تھی جو انہوں نے صرف مولانا منورالدین کے ذکر اور کارناموں کے بیان سے پہلو تہی کی۔ ان سوالات کے جواب اگر مولانا کے مریدوں کےپاس ہوں تو ہماری تصیحح و تشفی کرا دیں۔

یہاں ایک خاص بات کی بھی وضاحت کردوں کہ “آزادکی کہانی “اور “آزاد ی ہند” میں بہت سےافرادکےنام غلط لکھے ملتے ہیں۔ بعض واقعات کی تاریخیں درست نہیں اورکہیں کتابوں کاانتساب غلط بیان ہوگیاہے۔ مثلاً ’’امتناعِ نظیر‘‘ مولانا فضل امام خیرآبادی کی بتائی گئی حالانکہ یہ ان کےبیٹے مولانا فضل حق خیرآبادی کی کتاب ہے۔ میں نےاس طرح کی چیزوں پرکوئی تنقید نہیں کی۔ چندماہ قبل جب فیس بک پرمولاناکےبعض متضادبیانات پوسٹ کیے تھے اور ان کا جواب ابوالکلامیوں سے چاہا تھا تو ایک صاحب یہ کہہ کر بھاگ گئےکہ ان سوالوں کے جوابات مولانا غلام رسول مہر دے چکےہیں۔ ایسے ابوالکلامیوں سے عرض ہے کہ غلام رسول مہر صاحب نے اپنے تین چار مضامین میں مولانا پر اعتراضات کے جو جوابات دیئے تھےوہ میرے پاس موجود ہیں ۔ان جوابات کاتعلق اسی طرح سنین کے اختلاف، ناموں اور کتابوں کےانتساب اور واقعات کے سالوں میں فرق سے ہے۔ میں نے جو سوالات اس سلسلہِ مضامین میں اٹھائے ہیں، غلام رسول مہر نےایسی کسی سوال کا جواب نہیں دیا نہ ہی اسوقت اتنے سوالات اٹھائے جا چکے تھے جو میں نے اٹھاۓ ۔ لٰہذا مولانا مہر صاحب کی طرف سے ان کے جوابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

قارئین کرام یہ سب باتیں نہ تو مولانا آزاد کی ذات پر تنقید کہی جاسکتی ہیں اور نہ ہی ان کے ذریعے مولانا کے کیریکٹر پر کیچڑاچھالا گیا ہے ۔ یہ سب سوال تو مولانا کی اپنی تحریروں نے پیدا کیے ہیں ۔ اگر مولانا آزاد ایک جگہ لکھیں کہ مولانا منورالدین حجاز جاتے ہوۓ بمبئی میں انتقال کرگئے ۔ اور دوسری اس سے مختلف بیان لکھ دیں کہ وہ مکہ معظمہ پہنچے اور پانچ سال میں پانچ حج کرکے وہیں فوت ہوۓ ، تو یہ تضاد ہم نے نہیں مولانا نے پیدا کیا ہے۔ اگر مولانا فرمائیں کہ مولانا منورالدین مغلیہ عہد کے آخری رکن المدرسین تھے جبکہ تحقیق سے پتا چلے کہ اس نام کا کوئی عہدہ یا خطاب تھا ہی نہیں ۔ اگر مولانا فرمائیں کہ شاہ اسماعیل شہید کے مقابلے میں جامع مسجد کے مشہور مناظرے میں مولانا منورالدین تمام علماۓ دہلی کے سردار تھے جبکہ تاریخ کی کتابوں سے ایسا کوئی ثبوت نہ ملے ۔ اگر مولانا فرمائیں کہ فلاں فلاں علماء مولانا منورالدین کے شاگرد تھے ، دوسری طرف تاریخ و سوانح کی کتب اس سے انکاری ہوں۔ اگر مولانا فرمائیں کہ مولانا منورالدین دہلی کی ایسی نادرِ روزگار شخصیت تھے جن کے درس میں سینکڑوں طلباء موجود ہوتے تھے مگر ہندوستان کے کسی تذکرے میں ان کا نام ہی نہ ملے ۔ تو پھر قصور کس کا۔

آخری بات کے طور پر عرض ہے میں یہ کہتاہوں مولانا آزاد کی عظمت ان کے اسلاف کے کارناموں کی وجہ سےنہیں بلکہ انکی ذاتی علمیت اورقابلیت کی وجہ سےتھی اور ہے۔ مگرجب مولانا نے خود اپنے اسلاف کے کارنامے پیش کیے جن میں بیحد مبالغہ آرائی اور غیر ضروری افسانہ طرازی پائی جاتی ہے اور جو نقد و احتساب کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے تو اس کےذمہ داربھی خود مولانا ہی ہیں۔ اب یہ باتیں بیان بھی کی جائیں گی اور ان پر نقد وتبصرہ بھی ہوگا ۔ اس قسم کے نقد سے نہ تو تاریخ میں پہلے کوئی محفوظ رہا ہے اور نہ ہی مولانا کو الگ رکھا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہل حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: