سوشل میڈیا، مکالمہ، رواداری اور فیس بک فرینڈ: دانش ٹی وی پہ مذاکرہ

0

کیا سوشل میڈیا پہ مکالمہ سے رواداری کو فروغ دیا جاسکتا ہے؟
فیس بک فرینڈز اور حقیقی دوست: فرق، توقعات اور کردار

آج کل پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا یکسانیت اور بوریت کا شکار ہے، ریٹنگ اور اشہار بازی کی دوڑ نے ٹی وی چینلز کے معیارکو تباہ کر دیا ہے، تمام ٹی وی شوز میں سنسنی، تعصب، جانبداری، جذباتیت، سطحیت، اور گھسے پٹے سیاسی موضوعات پر چند روائیتی سیاستدانوں کے ساتھ گفتگو کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، اس لئے پاکستان کے پڑھے لکھے حلقوں نے ٹی وی کے بجائے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ اس صورتحال میں کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر “دانش ٹی وی” کا آغاز ہوتا ہے اور اسکا لائیو شو، صرف چند ہفتوں میں سوشل میڈیا کا مقبول پروگرام بن جاتا ہے، اسکی بنیادی وجہ وہ موضوعات ہیں جن پر الیکٹرانک میڈیا میں کبھی گفتگو نہیں ہوتی اور وہ شرکاء گفتگو ہیں جو ہماری قوم کا اثاثہ ہیں، لوگ انہیں دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں، لیکن الیکٹرانک میڈیا انہیں اپنے پروگراموں میں کبھی مدعو نہیں کرتا۔

گزشتہ رات “دانش ٹی وی” کا لائیو شو، اس کا ایک سپر ہٹ پروگرام تھا جس کے شرکاء گفتگو شاہد اعوان (Host Danish TV)، حسن نقوی صاحب (ایڈورٹائزنگ، پروڈکشن سے وابستہ، سوشل میڈیا بلاگر)، عثمان سہیل صاحب (متنوع مشاغل کے حامل اور دانش سے وابستہ ہیں، سوشل میڈیا کی جانی پہچانی شخصیت ہیں) اور میڈم روبینہ شاہین (درس و تدریس کے پس منظر کے ساتھ مختلف ممالک میں ٹیچر ٹریننگ کا تجربہ، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں)۔ ان شرکاء گفتگو کے ساتھ ہزاروں افراد نے اس پروگرام کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ لائیو دیکھا، لائیک کیا، اور اس پر تبصرے کئے۔ تمام قارئین کے تبصروں کو تو یہاں کوریج نہیں دی جا سکتی ہیں لیکن ان میں سے کچھ نمایاں افراد کے اہم تبصروں پر ضرور گفتگو ہوگی۔

پروگرام کے آغاز میں جب حسن نقوی صاحب سے سوال کیا گیا کہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا نے ان لوگوں کو بھی اظہار کا موقع فراہم کر دیا ہے جنہوں نے اس سے قبل اپنے گھر اور چند دوستوں کی محفل کے سوا کہیں اپنے اندر کا اظہار نہیں کیا تھا چنانچہ سوشل میڈیا کی مقبولیت اور اس میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو وہ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

اسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ رواداری دو چیزوں پر قائم ہوتی ہے ان میں سے ایک تو بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے دوسرا بقائے باہمی کے فلسفہ کو سامنےرکھنا ضروری ہے، اگر ان کا شعور نہ ہو تو کسی بھی سماج میں روداری کو قائم نہیں کیا جا سکتا، میڈیا اور سوشل میڈیا چونکہ سماج کے مختلف طبقوں کے اظہار کے بڑے چینلز ہیں اس لئے اس شعور کے بغیر ان پر بھی رواداری کو قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ انسانی حقوق کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ہم سب انسان ہیں، ہمارے کچھ بشری اور فطری تقاضے ہیں اور سب لوگوں کو یہ تقاضے پورے ہونے کی ضمانت ملنی چاہیے اور سب کو آزادی ملنی چاہیے کہ وہ آزاد ماحول میں فطری انداز سے یہ تقاضے پورے کر سکیں۔ ان تقاضوں میں آزادی اظہار رائے سب سے اہم ہیں، اگر ہمیں اسکا شعور نہیں ہوگا تو ہم سماج کو کچھ نہیں دے سکیں گے۔ دوسری چیز بقائے باہمی ہے۔ میں اسکو ایک مثال سےبیان کرتا ہوں، فرض کریں ہم دو دوست ہیں اور ہم گھر سے دور کہیں کام کرتے ہیں اور ہمیں ایک کمرے میں رہنا پڑتا ہے تو اسکے صرف یہ ضروری نہیں کہ ہم ایک دوسرے کی ظاہری پسند و ناپسند سے واقف ہوں بلکہ اسکے لئے ایک اور چیز بھی ہے جس پر ہمیں توجہ دینا ضروری ہوگی اور وہ ہم دو افراد کا “مزاج” ہے، اب فرض کریں ایک شخص کو جلدی اور اندھیرے میں سونے کی عادت ہے، دوسرے کو رات گئے تک لائٹیں آن رکھ کر جاگنے کی عادت ہے تو ظاہر ہے مزاج کے اس فرق کے ساتھ باہمی چپقلش سے بچنے کیلئے ان دونوں افراد کو آپس میں ایک نظم بنانا پڑے گا اور سمجھوتہ کرنا پڑے گا اور ان دو چیزوں کے بغیر یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کے مختلف مزاج کو برداشت کر سکیں۔ جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے اسکی کچھ چیزیں تو بہت مثبت ہیں جیسے ہر شخص کے پا س مائیک ہے اور وہ جب اور جو بولنا چاہے بول سکتا ہے، مجھے بطور ایک آرٹسٹ اگر اظہار چاہے تو اب مجھے ٹی وی چینلز اور پروڈیوسرز کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں، اسی طرح اگر آپ کچھ لکھ سکتے ہیں تو آپ کو بہت بھاگ دوڑ کی ضرورت نہیں، آپ جب چاہیں لکھیں اور اسے پوسٹ کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب لوگوں کی ٹریننگ نہیں ہوتی، انہیں اس میڈیا کے بنیادی قواعد و ضوابط کا معلوم نہیں ہوتا تو آپس میں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیا جاتا اور معمولی باتوں پر آپس میں لڑائی ہو جاتی ہے لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کو ان باتوں کا جب شعور آجاتا ہے تو پھر برداشت کرنے کا سلیقہ بھی آ ہی جاتا ہے۔

اسی سوال کے جواب میں عثمان سہیل صاحب نے کہا کہ سوشل میڈیا سے قبل یہ ہوتا تھا کہ ہم گھر میں گفتگو کرتے تھے، خاندان کے لوگ کہیں بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے، یار دوست کسی تھڑے پر بیٹھ کر یا ریستوران میں بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے یا کسی سمینار، کانفرنس وغیرہ میں گفتگو ہوتی تھی اور ہر جگہ کوئی نہ کوئی منتظم اور بڑا آدمی ضرور موجود ہوتا تھا جو نئے لوگوں کو اس فورم کے آداب کے بارے میں بتاتا تھا لیکن اب نہ صرف ایک صوبے، ملک کے مختلف پس منظر کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگ ایک میڈیا پر جمع ہیں، سب کے پس منظر اور کلچرز مختلف ہیں اس لئے ان کے لئے ایسے آداب بنانا جن سے سب کو اتفاق ہو ممکن ہی نہیں، میں نے پاکستان کے علاوہ، انڈیا، یورپ اور امریکہ میں بھی دیکھا ہے وہاں پر بھی لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف اسی قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں جیسے ہم کرتے ہیں بلکہ شاید ہم سے زیادہ ہلکی اور سطحی زبان استعمال کرتے ہیں، تو اس سوشل میڈیا کا اثر ہمارے کارپوریٹ کلچر پر پڑا ہے، آج آپ کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے دفتر میں کام کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہاں پر بڑے بڑے عہدیدار، خواتین اور جونئیرز کا لحاظ رکھے بغیر کس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ صرف مرد حضرات تک محدود نہیں، اب خواتین بھی ان سے پیچھے نہیں آجکل اگر آپ خواتین افسران یا ورکرز کی گفتگو سن لیں تو آپ کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جائے گا تو اس میڈیا کیلئے کسی قسم کے آداب بنانا ممکن ہی نہیں ہے نہ صرف ہمارے یہاں بلکہ پوری دنیا میں ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی آداب بنیں تو وہ آہستہ آہستہ فطری انداز سے ہی بنیں گے، زبردستی لوگوں کو کسی ضابطے کا پابند بنانا ممکن نہیں۔

اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے میڈم روبینہ شاہین نے کہا کہ ظاہر ہے اس میڈیا نے جب سب کو بولنے اور اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تو خواتین بھی اپنے آپ کو اسی طرح آزادی سے express کریں گی جس طرح مرد آزادی سے express کرتے ہیں اور یہ حق نہ صرف خواتین کو بلکہ بچوں کو بھی ملنا چاہیے، یہ جو ہم آجکل کے بچوں پر الزام لگا دیتے ہیں کہ یہ بد تمیز ہیں تو ہمیں آج کے دور کے لحاظ سے تمیز اور بد تمیزی کو redefine کرنا پڑے گا، ہم جب بچے کو توجہ سے نہیں سنتے، اسکی بات کو اہمیت نہیں دے، اسکے خیالات کو سننے کے روادار نہیں ہوتے تو ظاہر ہے بڑا ہو کر وہ ہماری بات سننے کا روادار نہیں ہوتا اور پھر ہمیں وہ بد تمیزی نظر آتی ہے۔ جہاں تک سوشل میڈیا کی بات ہے تو یہاں پر freedom to select سب سے اہم اور دلچسپ چیز ہے، عام زندگی میں آپ کو یہ اختیار ذرا کم ہوتا ہے کہ آپ کس کی قربت میں رہیں اور کس کی قربت کو ناممکن بنا دیں لیکن اس میڈیا پر آپ کو یہ اختیار ہے، اس لئے یہاں ہمیں دوسرے سے شکایت کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ اگر کوئی میری تصویر پر کمنٹس کر رہا ہے جو مجھے پسند نہیں تو اسے یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ ظاہر ہے میں نے دیا ہے، اگر مجھے اسکے یہ کمنٹس دیکھنا اور پڑھنا گوارا نہیں تو پھر مجھے اسکی قربت کیوں گوارا ہے اسکے لئے ہمارے پاس بےشمار آپشنز موجود ہیں، ہم کسی کو بھی استعمال کرکے دوسرے شخص کو روک سکتے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو سوچے سمجھے منصوبے سے سکھانا ممکن نہیں ہوتا، انہیں برداشت کرنا چاہیے اور فطرت کے حوالے کر دینا چاہیے، وہ اپنے تجربے سے خود سیکھ لیں گے، بظاہر ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ تہیہ کرکے آئے ہیں کہ انہوں نے یہاں کچھ نہیں سیکھنا لیکن ایسا نہیں ہوتا یہاں ہر کوئی کچھ نہ کچھ ضرور سیکھ رہا ہوتا ہے جیسے ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ سیکھا ہے ایسے ہی دوسرے لوگ بھی سیکھ رہے ہیں۔

CID and social media | Center for Intercultural Dialogueجہاں تک خواتین کی بدتمیزی کے حوالے سے عثمان سہیل صاحب نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے تو اس سلسلے میں تو یہی کہوں گی کہ ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ کسی خاتون یا کسی مرد نے بدتمیزی کی؟ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک انسان نے بدتمیزی کی اور ظاہر ہے جب ایک انسان بدتمیزی کرتا ہے تو وہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے اسکی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اگر خواتین نے اپنی زندگی کے بڑے حصے میں اپنے گھر میں کسی کی بدتمیزیاں برداشت کیں ہیں، کسی کی جلی کٹی باتیں سنی ہیں تو جب اسکو اظہار کا موقع ملے گا تو وہ بھی اسی طرح کی زبان میں گفتگو کریں گی مگر پھر بھی آپ کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ اگر تعداد کے لحاظ سے موازنہ کریں تو بدتمیزی خواتین کم اور مرد حضرات زیادہ کرتے ہیں۔ سب شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا اور عثمان سہیل صاحب نے اسکے جواب میں کہا کہ ہم سوشل میڈیا اور عام میڈیا کے تقابل سے مرد و زن کے تقابل کی طرف آگئے دوبارہ اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کوئی ایسا فورم نہیں ہے جس پر کوئی علمی، ادبی اور تحقیقی باتیں ہوتی ہوں سوائے اس کے کہ آپ کوئی ایسا گروپ یا فورم جوائن کر لیں جہاں سب اسی قسم کے لوگ ہوں۔ اسی طرح یہ کوئی باقاعدہ بزنس فورم بھی نہیں ہے، بزنس میٹنگ میں بھی بعض اوقات گفتگو آپے سے باہر ہو جاتی ہے اور میٹنگز معطل کرنا پڑتی ہیں لیکن بزنس میں اہم چیز لوگوں کی ایک مشترکہ ضرورت ہے، اور یہ ضرورت سب کو دوبارہ ایک دوسرے کے قریب لے آتی ہے اور اس ضرورت کی خاطر ایک دوسر ے کی رائے کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں لیکن سوشل میڈیا تو ایک آزاد فورم ہے یہاں جس کے دل میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے اور میرے خیال پر اس پر کوئی پابندی نہیں لگنی چاہیے لوگوں کو آزادی کے ساتھ اظہار کرنے کا موقع دینا چاہیے آہستہ آہستہ خود ہی شائستگی آ ہی جائے گی۔

شاہد اعوان صاحب نے اگلا سوال یہ اٹھایا کہ کیا ہم سوشل میڈیا سے کچھ سیکھ رہے ہیں؟ یا واقعی ہمارے لئے کچھ سیکھنے کے مواقع پیدا ہوئے جن کو ہمیں مثبت انداز سے استعمال کرنا چاہیےَ؟ اسکے جواب میں حسن نقوی صاحب نے کہا کہ ہاں ہم بالکل سیکھ رہے ہیں، ہر شخص خواہ وہ کسی بھی عمر یا پس منظر یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہ کچھ نہ کچھ تو ضرور سیکھ رہا ہے، اس سلسلے میں انہوں نے ایک تجویز پیش کی کہ سوشل میڈیا میں موجود کچھ موثر فورمز اور گروپس وغیرہ کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے حوالے سے اور سوشل میڈیا اخلاقیات کے حوالے سے ٹرینڈز چلائیں، کچھ ہفتوں تک تمام لوگوں کو اس بات کی آگاہی دیں کہ اس میڈیا پر ایک دوسرے کو کیسے برداشت کرنا ہے، انہوں نے اس بات کوتسلیم کیا کہ ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ خواہ وہ مذہبی پس منظر کے ہوں یا لبرل ہوں کہیں نہ کہیں اعتدال کا دامن چھوڑ کر جذباتی ہو جاتے ہیں، لبرل لوگ عام طور پر مذہبی شعائر یا مذہبی شخصیات کے تقدس کا خیال نہیں رکھتے، حساس موضوعات کا بہت خیال رکھنا چاہیے کیونکہ عام طور پر عدم برداشت انہی حساس نوعیت کے موضوعات کے حوالے سے شروع ہوتی ہے، انہوں نے مذہبی طبقات سے گزارش کی کہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اندر برداشت کو بڑھائیں کیونکہ انکی ذمہ داری زیادہ ہے وہ ایسے معاملات کے محافظ تصور کئے جاتے ہیں جن کے ساتھ تقدس کا عنصر وابستہ ہے لیکن لبرلز کو بھی انہوں نے مشورہ دیا کہ انہیں بھی چاہیے کہ حساس موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے تقدس کا خیال رکھیں اور اسے پامال نہ کریں۔ روبینہ شاہین صاحبہ نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ضروری ہے کہ جو بھی شخص بدتمیزی کر رہا ہے اس سے کم از کم عوام زبان میں Rationality ڈیمانڈ کی جائے مثلاً اس سے پوچھا جائے کہ آپ بدتمیزی کی وجہ بتائیں؟ یا اگر کسی نے بدتمیزی والے کمنٹس کئے ہیں تو ہم سب کو چاہیے کہ ہم بھی اس کمنٹس کے ساتھ ایک نوٹ لکھیں کہ آپ نے یہ بد تمیزی کی ہے اور اسکی وجوہات بیان کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں میں بھی resistance ہے اور پھر آئندہ وہ خیال کرتے ہیں۔ اسکے جواب میں عثمان سہیل صاحب نے کہا کہ اخلاقیات کے درس دینے سے یا تلقین کرنے سے ےلوگ اخلاقیات نہیں سیکھتے، اسکے لئے ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانی پڑتی ہے، جب ہم تحمل، برداشت اور اعتدال کا مظاہر ہ کرتے ہیں تو دوسرے لوگ آہستہ آہستہ اس کا اثر لیتے ہیں کیونکہ یہ تحمل اور برداشت ایک لہر کی طرح ایک ذہن سے اٹھتی ہے اور دوسروں کو متاثر کرتی چلی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انکی پوسٹوں پر بدتمیزی کے کمنٹس کرنے والوں کو وہ کبھی کچھ نہیں کہتے بلکہ اس طرح سے ہینڈل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ انکے مثبت رویے سے سیکھ کر شائستگی کو اپنائیں اور اس میں انہیں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس معاملے میں روبینہ شاہین صاحبہ کو اختلاف رہا لیکن حسن نقوی صاحب نے عثمان سہیل صاحب سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ بدتمیزی کرنے والے attention seekers ہوتے ہیں اور انکا علاج صرف یہ ہے کہ آپ انہیں نظر انداز کریں، ظاہر ہے وہ آپ کو مشتعل کرکے اپنی سطح پر لانا چاہتے ہیں اور اگر آپ بھی مشتعل ہو گئے تو یہ انکی کامیابی کہلائے گی لہذا ہمیں مشتعل ہونے کے بجائے برداشت کرنا چاہیے اس طرح دیگر لوگوں پر اسکا اچھا اثر پڑتا ہے اور وہ اس اشتعال دلانے والے کو ضرور آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور وہ اپنی ناقدری محسوس کرتے ہوئے خود ہی سائیڈ لائن ہوجاتا ہے ہاں مگر اس معاملے میں جو بہت ڈھٹائی سے کام لے رہے ہوں تو پھر ان کو بلاک وغیرہ کرنے کا آپ کا حق بنتا ہے۔ عثمان سہیل صاحب نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اخلاقیات کی اصطلاح بہت اضافی اصطلاح ہے اور عام طور پر ہر شخص اسے اپنی اپنی نفسیات کے تناظر میں دیکھتا اور استعمال کرتاہے، ہم جو چیز اپنے لئے درست سمجھتے ہیں وہی چیز دوسرے کیلئے غلط سمجھتے ہیں مثلاً بہت سے لوگ دوسروں کو اخلاقیات کے درس دیتے ہوئے فرما رہے ہوتے ہیں کہ آپ نے یہ بدتمیزی کی ہے اور اخلاقیات سے گری ہوئی بات کی ہے لیکن انکی فیس بک وال پر جا کردیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ خود کیا کچھ نہیں کر رہے۔ اسی طرح کچھ لوگ دوسرں کو طنزیہ انداز میں علم سے بے بہرہ ہونا باور کرا رہے ہوتے ہیں اور اپنے کتابی علم کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں یہ کہاں کی اخلاقیات ہے۔

شاہد اعوان صاحب نے اپنے سابقہ سوال کو ایک بار پھر شرکاء گفتگو سے ذرا مختلف انداز میں دریافت کیا کہ کیا واقعی ہم سوشل میڈیا سے کچھ سیکھ سکتے ہیں یا اس کو ایک مکالمے یا رواداری کے فروغ وغیرہ کیلئے استعمال کر سکتے ہیں؟ اور اگر کر سکتے ہیں تو کیسے؟

اسکے جواب میں حسن نقوی صاحب نے کہا کہ ہاں ایسا بالکل ہو سکتا ہے مگر اسکے لئے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے اپنے کیا میلانات و رجحانات ہیں اگر ہمارا علمی رجحان ہے تو پھر ہمیں سوشل میڈیا پر علمی فورمز پر جانا چاہیے، اگر ہمارا تحقیقی یا سائنسی رجحان ہے تو اسکے لئے ہمیں تحقیقی اور سائنسی گروپس جوائن کرنے چاہیے لیکن ایسی صورت میں ہمیں سیاسی اور عام گپ شپ کے فورمز سے دور رہنا چاہیے کیونکہ وہاں تو سطحی زبان اور سطحی موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے اور وہاں گروہی، متعصبانہ رجحانات ہوتے ہیں اور وہ اسی کی طرف بڑھاوا بھی دے رہے ہوتے ہیں۔ اس موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے روبینہ شاہین صاحبہ نے اپنی پہلی والی تجویز کو ایک بار پھر دہرایا کہ کسی کی بدتمیزی کو کنٹرول کرنے کیلئے شائستگی کے ساتھ مزاحمت بہت ضروری ہے، اس سلسلے میں آپ کا چھوٹا سا نوٹ بہت کام کی چیز ہوتی ہے اس لئے کوئی نہ کوئی ضرور سیکھ رہا ہوتا ہے لہذا خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس نکتہ نظر سے اختلاف کیا کہ کچھ لوگ دوسروں پر خواہ مخواہ “لنڈے کا لبرل” یا “سستا دانشور” وغیرہ کا لیبل لگاتے ہیں اور ایک اچھی چیز بتانے والے کی ناقدری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام زندگی میں بھی ہر کام میں کوئی سنئیر ہوتا ہے اور کوئی جونئیر ہوتا ہے، ہر سنئیر ہمیشہ اپنے جونئیر کو بتاتا ہے کہ اس کام کو کرنے کے کیا قواعد و ضوابط ہیں اور سب لوگ اسی طرح سے سیکھتے ہیں، اب اگر کوئی سنئیر کسی جونئیر کو ایک اچھی چیز بتا رہا ہے تو اس پر لیبل لگا کر ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اس طرح تو ہم سیکھنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اور دوسری کی فیس بک وال پر جا کر اسے مختلف قسم کے مضحکہ خیز القابات سے نوازنا یا اپنے مریدوں کے ذریعے اسکی ذات پر کیچڑ اچھالنا کسی بھی درست نہیں ہو سکتا لہذا اسی حرکتیں کرنے والوں کیلئے ایک چھوٹا سا نوٹ چھوڑنا ضروری ہے۔ اب عثمان سہہیل صاحب نے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کی کہ وہ صرف مخصوص جگادری دانشوروں کی بات کر رہے تھے جو ہر کسی پر یہ رعب جھاڑ رہے ہوتے ہیں کہ میں نے تو کانٹ، ہیگل اور ولیم جیمز کو پڑھا ہے لیکن تمہیں ان کے فلسفے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں، تمہیں اگر میرے ساتھ بات کرنی ہے تو پہلے انکی کتابیں پڑھو، یہ سب اخلاقیات سے گری ہو ئی بات ہے کیونکہ اگر کسی شخص نے بہت سی کتابیں نہیں پڑھ رکھیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اسکے دماغ میں کوئی نیا یا اچھوتا خیال آ ہی نہیں سکتا، بہت سے لوگ اس دنیا میں ایسے موجود ہیں جو سرے سے پڑھے لکھے ہی نہیں ہیں لیکن پھر بھی انکے پاس کئی نادرideas موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس سلسلے میں عمومی بات نہیں کی تھی اور عمومی طور پر انہوں نے روبینہ شاہین صاحبہ کے نکتہ نظر سے اتفاق کیا، حسن نقوی صاحب نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ ہمیں liberty صرف وہاں لینی چاہیے جہاں دوسروں سے ہماری understanding ہو۔ اگر دوسرے لوگ ہمارےہمارے ہم مزاج نہیں ہیں تو پھر ہمیں اپنا رویہ بہت محتاط رکھنا چاہیے اور formal گفتگو تک ہی محدود رہنا چاہیے۔

اسکے بعد میزبان نے پروگرام کے عنوان کے آخری حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ہمارے حقیقی دوستوں اور فیس بک وغیرہ کے دوستوں میں کیا فرق ہے؟ اور کیا انکو واقعی اس طرح کے دوستوں میں شمار کیا جا سکتا ہے یا ان سے ہم وہ توقعات وابستہ کر سکتے ہیں جس طرح حقیقی زندگی میں ہم اپنے دوستوں سے توقعات رکھتے ہیں؟

روبینہ شاہین صاحب نے اسکے جواب میں کہا کہ میری حقیقی زندگی میں بھی ہمارے تمام دوست ایک جیسے نہیں ہوتے، نہ سب پر ایک طرح سے اعتماد کیا جا سکتا ہے، نہ ہم سب سے ایک طرح سے frank ہو سکتے ہیں، نہ ہی سب سے ہمارا ملنا جلنا ایک طرح سے ہو سکتا ہے اور نہ ہی سب سے ایک جیسی توقعات کی جا سکتی ہیں لیکن فیس بک فرینڈز اور فالورز تو ایک بالکل ہی مختلف قسم کی چیز ہے۔ اس میں تو بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے بارے میں آپ پوری زندگی کے دوران صحیح معنوں میں کچھ بھی نہیں جان سکتے، یہ دوستی تو صرف دوسرے شخص کو “اس بات کی جازت دینا ہے کہ آپ میرا پوسٹ کیا گیا مواد دیکھ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں، اس پر کچھ تبصرہ کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ” اس سے زیادہ یہ دوستی کچھ بھی نہیں یہاں یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ میں نے آپکی پوسٹ کو لائک کیا ہے تو آپ بھی میری پوسٹ کو ضرور لائیک کریں، میں آپ کو فالو کرتی ہوں تو آپ بھی مجھے ضرور فالو کریں، میں نے آپ کی پوسٹ پر تبصرہ کیا ہے تو آپ بھی میری پوسٹ پر ضرور تبصرہ کریں۔ ہمیں فیس بک پر دوستی کرنے سے پہلے یہ سب باتیں اپنے اپنے ذہن میں ضرور رکھنا چاہیں اور ایک دوسرے سے وہ توقعات بالکل نہیں رکھنی چاہیں تو ہم حقیقی زندگی میں اپنے بعض بہت قریبی دوستوں سے رکھتے ہیں۔ حسن نقوی صاحب نے اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے لوگ عام طور پر اپنی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہیں اور لوگوں کی عام طور پر دو طرح کی ضروریات ہوتی ہیں، ایک وہ لوگ جنکی ضرورت صرف وقت گزاری یا تفریح طبع ہوتی ہے وہ عام طور پر اپنی حقیقی زندگی کے دوستوں اور جاننے والوں کو ہی فیس بک فرینڈز کے طور پر شامل کرتے ہیں اور اگر انکی لسٹ میں کچھ باہر سے اضافہ بھی ہوجائے تو اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ تھوڑا بہت وقت گزار تے ہوئے گپ شپ کر لیتے ہیں لیکن دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس دوسروں کو دینے کیلئے کچھ ہوتا ہے یا جو اس منصوبے کے ساتھ سوشل میڈیا پر آتے ہیں کہ وہ اپنے نظریات یا ایجنڈا لوگوں تک پہنچائیں انہیں پبلک اور audience چاہیے ہوتی ہے اور وہ ہر قسم کے لوگوں کو اپنی فرینڈز لسٹ میں شامل کرتے ہیں لہذا انکو زیادہ حوصلہ مند بھی ہونا چاہیے اور ان میں قوت برداشت بھی زیادہ ہونی چاہیے۔

اسی سوال کے ایک پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عثمان سہیل صاحب سے پوچھا گیا کہ ہمیں فیس بک فرینڈز سے کس قسم کی توقعات رکھنی چاہییں اور کس قسم کی توقعات نہیں رکھنی چاہیں اور کس قسم کی توقعات سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے؟ اسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ بگاڑ کا سبب زیادہ تر وہ دانشور بنتے ہیں جن کو اپنے نظریات کو دوسروں پر تھوپنے کا بہت شوق ہوتا ہے لیکن انکا اپنا فکری سازو سامان بہت مختصر ہوتا ہے اور زیادہ تر وہ چند اخباری کالموں تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اب انکی خواہش ہوتی ہے کہ انکے سوشل میڈیا فرینڈز انکی ہر الٹی سیدھی پوسٹ پر واہ واہ کریں کیونکہ ان کے دماغ پر سلیبرٹی بننے کا شوق سوار ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا یہ شوق پورا ہو سکتا ہے لیکن جب لوگ انکی اس توقع پر پورا نہیں اترتے تو وہ بہت بھونڈے انداز سے react کرتے ہیں جس سے بدتمیزی اور غیر شائستگی کی ایک لہر اٹھتی ہے اور اس میڈیا سے منسلک بہت سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس کے بعد میزبان نے اسی سوال کو ایک مخصوص زاویے سے روبینہ شاہین صاحبہ سے پوچھا کہ وہ خواتین جو سوشل میڈیا کو استعمال کرتی ہیں اور ان مرد حضرات کو اپنی فرینڈز لسٹ میں شامل کرتی ہیں جن کو سرے سے جانتی ہی نہیں، انہیں سلسلے میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں، انکا کیا ردعمل ہوتا ہے یا اس سلسلے میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟

اسکے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیکھیں سوشل میڈیا اپلیکیشنز آپ کو استعمال سے پہلے بہت سے اختیارات دیتی ہیں اور آپ کو اس میڈیا پر جانے سے پہلے ان اختیارات کا علم ہونا چاہیے اور جس کو ان کا علم ہوتا ہے اسے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہوتی کیونکہ اگر کوئی آپ کو ناشائستہ میسیجز بھیج رہا ہے یا غلط قسم کے کمنٹس کر رہا ہے تو آپ کے پاس کئے آپشنز موجود ہیں، اسے ان فالو کریں، اسکے نمبر کو بلاک کر دیں اسے ان فرینڈ کر دیں، اسکے اخلاق سے گری ہوئی زبان کی کمپلین کریں۔ لیکن اس میں سوشل میڈیا کا کوئی قصور نہیں ہے اور اسے مورد الزام بھی نہیں ٹھہرانا چاہیے یہ ہمارا اپنا قصور ہے کہ ہمیں یہی نہیں معلوم کہ ہمارا comfort- zone کیا ہے اور اسے کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو بلاک کیا جاتا ہے یا ان فرینڈ کیا جاتا ہے انہیں اس سلسلے میں رونے دھونے کی بجائے اپنے رویے اور کردار پر توجہ دینی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ بار بار انکے ساتھ یہ صورتحال کیوں پیش آرہی ہے اور انہیں دوسروں سے شکایت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کچھ خواتین، خواتین ہونے کا edge لیتے ہوئے تو ہر قسم کے کمنٹس دینے اور ہر قسم کی زبان استعمال کرنے کو enjoy کر رہی ہوتی ہیں لیکن جب اسی صورتحال کا خود سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر انکا رونا دھونا شروع ہوجاتا ہے لیکن وہ یہ نہیں سوچتیں کہ اسکی وجہ تو ہم سب کا unjust behavior ہے۔ ہمیں میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو والا معاملہ نہیں اپنانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ ہم نے خود کہاں hair line کراس کی ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکل پیش آرہی ہے اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے comfort- zone میں رہیں تو اسکے لئے پہلے ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی لانی چاہیے۔ کچھ خواتین اس سلسلے میں بہت بھولی اور عقل عامہ سے تہی دامن ہوتی ہیں، جب کسی مرد کے ساتھ کسی معاملے میں انکی بحث ہوجاتی ہے تو دیگر مرد حضرات جب اس خاتون کا ساتھ دیکر اس مرد کو برا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں تو وہ سمجھتی ہے کہ وہ واقعی اسکا ساتھ دے رہے ہیں لیکن اسکے جانے کے بعد وہ اسی خاتون پر غلط زبان میں تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ آپکا unjust behavior کبھی بھی لوگوں کی حقیقی حمایت حاصل نہیں کر سکتا۔ آخر میں شرکاء گفتگو نے سوشل میڈیا کے users کو پیغام دیتے ہوئے کہا آزادی اظہار صرف اپنے خیالات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ اس میں آپ کے یہ حقوق بھی شامل ہیں کہ آپ کس کو، کب، کتنا سننا چاہتے ہیں اور کس کو، کب اور کتنا نہیں سننا چاہتے لہذا اگر اس سلسلے میں کوئی شخص اپنی آزادی کے آپشنز استعمال کرتے ہوئے آپ کو ان فرینڈ، بلاک کرتا ہے تو وہ اسکا حق ہے اور اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ اسکے علاوہ کہا گیا کہ آپ کو اپنے خیالات کے اظہار کی تو آزادی ہے کہ جو چاہیں خیالات پیش کریں لیکن آپ کو اس بات کی آزادی نہیں کہ دوسروں پر اپنے خیالات زبردستی تھوپیں، اسکے ساتھ ساتھ برداشت اور تحمل پر زور دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ آپ اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس سے آپ کے ضمیر کو مطمئن ہونا چاہیے۔

اس پروگرام میں شرکاء گفتگو کی طرف سامعین کی نمائندگی کرتے ہوئے عثمان سہیل صاحب کو انکی سوشل میڈیا پر مقبولیت، تجربات اور خیالات کی روشنی میں “سوشل میڈیا سلیبرٹی” کے ٹائیٹل سے نوازا گیا، لیکن وہ اپنی انکساری میں اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے رہے۔  آخرمیں شاہد اعوان صاحب نے اس پروگرام کو لائک کرنے، اس پر تبصرہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا، سب لوگوں کے نام کا ذکر کرنا ممکن نہیں تھا لیکن کچھ نمایاں خواتین و حضرات کا نام کے ساتھ شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس پروگرام پر تفصیل کے ساتھ تبصرے کئے۔ ان خواتین و حضرات میں عاصم اللہ بخش، سلمان عابد، مرزا بشارت، انعام الرحمن، عبداللہ عابد، وسیم عباس، عاثم شہزاد، خالد رسول، رقیہ اکبر چوہدری، فارغ جہلوی، عترت عاثم شہزاد، صلاح الدین درویش، سید زکی، تہمینہ شاہین، لال بیگ، قاسم یعقوب، فرحانہ نوید، سعدیہ علی، انور احمد، اسد ربانی، منصور ندیم، راشد حمزہ اور بے شمار دیگر لوگ شامل ہیں۔

اس مذاکرہ کی مکمل وڈیو اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے:

https://www.youtube.com/watch?v=g-XZ-bUGct8&list=PLvzc52aibuJ-mT-Uod81sPS_TF2vBDVyP&index=10&t=4374s

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20